نام ول تگگکب ٤2ول ض کل
گے گے ا ے
تفہ تی 0004 5۳“
یل کو جوا کین
5800م 1توو:5/عہ:7/نمضط
تد ور نکتل وٹ حاضت لگرتے گر لۓ
تحت پیل میم جوا نکر
×حوزوا8/:8ص
ےک پچ 1وی رد
ہے مہ
کے تی
(۸٥۱۷۱٥٢.
جمله حقوق بحق مؤلف محفوظ ہیں
جزضوته جزاضصوت جحنصضصوت
امکزاب ٭ہ.٭---.٭٭٭ فضال امیرماومہ ٹف او اف نکا حاسہ
تایف ٭..ے مححبصد لق ضیاپأتقمندی تادری
طاے مہ 400
اغاعے اڑل ٭ہ٭ہ۔---ہ٭٭٭ 2007ء
کم 0
کبوزیکی ...ہہ عزیکپوزگ ٹرلا ہور 042-7236056
مار مونے 86ے چو ہر یعبدالجیہادری
ترک ٭ہ٭۔۔-۔*٭*٭٭ چوبرر یج ممتاز ام قادری
_۔سس
جت ٭ہہ۔--ہم تو 7
۰۔_۔۔جہ
ملنے کا پتہ
- . ہے جے سے
۱ قادری رضو یکتب خاش نل روڈلا ہور
0333-4383766--118.042-7213575ع11
(۸۸۷۱۱۳۱٥۱.
ہے
اب کے
بابا رآ ن وحد یٹ اورمقاما تکابہ تنلگ
یق رآن وحد یٹ ےکیوں تارج ےیوںل؟
حا حرف
صفا تا بالش کات رآ یا نے
اما ن'گاباھا نگ لے
۱ صحاہ رایت کےتارے ہیں
صھا شی اورعاد ہیں
کفراوض قکا ام کس
صا یک1 منئی جنیکق
دد بات می فرقی کے پاو جووسب با تی ہیں
امت یں سب سے راو دمح ہیں
خرس لی صھالی کے برا نیش ہکا
اخخلافات حا ہہ رایت سے نان تھے
دوفو ںگروۓلمان تھا نے سےکافرتہہو گے
سب ھا تی جت می ریس ددرہوجامی گا
کی مسا نکوسھا لی ےکینیس ہوسا
(۸٥۱۴۱٥٢.
زاتی نول وصد سے پاک اورایک دوسرے پہھہریالن یں
3
صحالی سے عداو تتضور پاپ سے عدرادرت ہے
“حا سے لے دا نے کافر
خظم تسا برا پھاکہنائع
صحا کو برا کین داااضقی
ماما ککتالف کے سا تھھاٹھنا یماح
محب تسا ریحبت رسول پچ کے بب سے سے
ا نسحا سے رای اورسھا اش سے راضی
باب٢ امیرمداو ہے یی کے تی فضاتل
سی ففیلت
قولاسلام
بثارت یافت او را لعمران تے
شرف حایت
اتآ ن اور پادیی وم ہدرگ سے
فقہ اوریتر تے
کیا جب وتی ادرم رم راز تھے
مسا لکامقام ومرجہ(امیرمتادیہ تل تضور پلٹگاکے برادزسھتی میں )
امت سب سےیم ہیں
خداورسول پچ کےکیوب ہیں
دوفو ںکا دگوکی ایک اورا تا ف قاع شعن مہ تھا
ححفرتملی لد ادرای رمماو یہ خی کیم اورخار یڑ سے
روداومناظرم
امام من لہ نے کے بعد وس تک رک اب با شش یکیوں؟
جنا بت نکرکین نذ رانے لیے ر سے
(۸۸٥۱۴۱٥.
5
روز قیاصت فو رای چادرش شآتیں گے
فضیلت مم شش فکرنے دا ن کو گ گ کا طوق پچہنایاجا ےگا
مرش دوز غ کےککقوں می سےای کے
لعف تکرنے وا لگا ددزش یکوں ےاستنتا لہوگا
ححفرت ام رمجادیہ دک برا کین ان ےکوامام مناناترام
حدی ٹک ردایت اور پک عدالت وشظاہت
اتا سنت اوراطاعت سول ولا
اہیت اطمار ےگقیرت +جبت
ترکات رسول ولا سےگقیرت
آ پک کرامات
باب٣ مفنقدات الس اورنظ ریا ت اکابر
باب٣ اعتراضات دمطائ نکا گجزبیاورجواباٹ
اعدراض! مابہآ پیل ٹس مبربان تھ تو لڑائیا ںکیوں ہومیں-
ام لڑنے والوں میس ایک ضرور باعل پر ہوتا ہل پھر جا بے امیر
معاویرکیوں ہاضل پیل ۓ؟
جواپ ۔ یس وا ما رو اوک ہو میا
احعتراض ٣آ پ کے ہیں دوفو ںگردہاسلام پر تھے اورٹ اب پانے
وا لےیچھی؟ رمق لی نکامگنا مس پر ے؟
جواپ س00 07
اعتراض ٣ ) مم مودددی ) خر ت تما رج با رمند یی
شبادت کے جوانے ےن
جواب
۴ ٤
۲۶
وو
3۳
6
اعتراض ٣ (ظم نم ورررل)عدا لت مھا ہیں مودود یکا
عا محد شیناورعلا ۓے امت ےاخلاف
جواب : 7.8
اعتراض۵ 2 کیک اسلام یس ملوکیت
جائ زی لآ پ عفرت امیرمحاد یکا بادشاہ ہونا بی فضائل یل کر
کرت ہیںکیوں؟
اعتراٛض٦ یز کی ناسزدگیکیوں؟ اس کےعلم تم کا با رکناہ امیر
معادی کو ںیل ؟
مرائت وک ا کف اچس اوت
اعتراضے 00 دہ لہ پہ
خر تییطرزشل کےا ریا اکن ۱
جواب 6۳9 ۶9
اعتراضص۸ خرت ایر معاویہ حلہ پر ز ری غلیفہ
ہونےکالمن
جواب 6 مو وو
اعتراض۹ "۳ اظیار مان ےک آ تالق 4 پابندگی کا
طس
ڈوآپ سس 0007 ا ا ا
اعتراض*۱ کیم ۳پئوقرف ا
قاپ میسحدت .“0
(۸۸٥۱۴۱٥۲.
۲۹۰
2
ہے ا غعتراض١۱ (ز من مودووبی) کافر اورملما نکی ورات ۳۲۸
کاچ نون بد لےکاشمی
۹ے اب تاس سم امت :
۸۰ اععراض۳ (ز من مودودی) معاہ رکی دی تکی تجد بی کا 00
۳۲۸
۸۱ ج اپ .سس 000 07
۲ اعتراض٣! ( ط۴س مودوری) حضرت لی ان یکرم اید ۳۵۳
وجہہ برسب یت مرن ےکاطمن
۸۳ جاب - ا کا کت 77 + + اھ
۳ اعتراض۵ا (علمی مودودی )بت لیا یز یارکاطم ین ۳
۵ اب 0۰877 یہو
۳٢ اعتراض۹؟ا (رل مودددی ) خضرت تر بن عدی کل ٦
کالمی
ع۸ اب 9
۸۸ تایات تق
۴ ٤
نزراقتماب
دہ اتی ا کاو کو جوانان جنت کے سردار فو رس الا برا ایام
ٹرییت طر یت شی حخاوت وشباعت' اق ال صفاء اکب دش مصطنی٠ 1
پا منی نوردید سیدوز ہر حضرت ام را جن اہام١ سی سج مان
کی یہ نہیں تضو ری اکرم لچ نے سیداوردسلا نگروہوں میس جح اکروائۓے
والافر مایا" جنوں نے اس پشگو یکو پودافرمابااور برضاورقیت را کے بورحضرے
امھ رمعادہ لک ےکی می خطافت سے دتقبردارہوکر ا نکوامی ال اشن لیف ای"
ش نکی ایت واتام میس وقت کے تام مھا ہکرام اورتاین عظام شی ام
نے س لیک مکیا اوج نکی برکت سے پپادگی اصت ا تفاقی داتھادکی دوات ے بالا
مال ہوکر رت امیر معاویہ لک امارت یع ایک ریم لت موی کی
خدمت افرس و اط رج حتزت رسول می کے فردفر بد برددد مان سادات"' تو
فو و کات ای حضرت پیرسیدش فا تال شاء صاحب دامت برکاآم العالیر
ز یبآ ستانہ عالی لا مام تسین عابد گا و دستیداں شریف کے وسیلہ ےلطورنزر
خلا ما نشی لک ن ےکی سحادت عاص٥ لکرجاے_
مانوں کےدڈشی گر ہوں می کے دن اق ایت داجاغض
اپنے تی نکی بات قدئی اورام تکاااقی واتماددکیےک رج یآ پکوخڑٹی ہوئی
تھی۔ چخامید کہا کی نکیا یکا بھی سندقولیت سے رفرازہوگی-
شاہاں یج بگرہنوازنرگدارا
پازلٹل
محرصد لق شیا نختمندیی قادری
۲ًٔ و٤
-
حضور ھی اکر رسو ل طف سلی ار تواٹی علیہ دیلم کےقرابت دا برادر
میتی کا ہب وی اشن اسرارالہی قب جج شی مھاپی اور بشارت یافتدجکران
امی را ون حفرت امیر معاویہ ری الد عنہ جن کے فضائل شی لکن ےکی
سنحادت عاصل ہودگی ےکی حدم ت اق شل-
گرقبول ارز ےعزشرف
یازل
حرصد لق خی تشمندی قادری
(۸۷۸٥۱۷۱٥٢.
۰ و٤
رج
بسم الله الرحمٰز الرحیم
تحمدہ ونصلی ونسلم علی رسول الکریم
اج بے
ایھراتے
ك
انراز عیاں گچ بہت حوغ یں سے
ای ھکہ تیرے دل میں ان جاۓ مرکا بات
اتارک وتھائ یکابڑااتسان ہواکرال نے اپ سب سےمتاز کر اور
حیوب پمطظم رسول ناب اح لی تفر تہئمصفی علیہ لق وھ وکوہارابادک در ببر
کرمبجوٹ فر مایا ۔آ پکوقام امیا و رس لیب السلام ےل لکیاس بکاسروراور
سردا ہنایااورآ پک یلت ہےےآ پک اص تکوسابقہقام امتوں پرفضیلت د بر7 کی
خطاغر مادکی فرمایا:
تشم حا جح للا دا مراں۔ ۷۰"
زج رم پپترہوان سب امتول مم جولوگوں ینک ہر میں ۔
(کنزال یمان )
ا ںآ یمقدس کے مطابق تضور کی سارک امت خیرالاع رقرار پائی جک
یکر یمہ کے اون اور براورا ستعخاطب اور مصد اق جنہمیں ال تھا یٰ سب ےکہت مر
اور“ ززفربار ہے حضور نی اکرم پڈچگاکاد یداد با اكمال پانے والےآپ کےعھاہرگرام
(۸٥۱۷۱٥٢.
12
نشی اشنم ہیں انی ںتضسور کی مصاحبت ورفا وق تکااعزازحاصل ہوا حور ے
فیضامحبت اورزاوبوت سے فیضیاب ہو در کاو وت سے برا و راس کلم
وھ بیت پا اددعقام دمرجب یں سار امت پرسیقت لے مع حخْورسردرعالم بقلا
نے فرمایا:
اَكرمُوا اَصُحَابیٰ فِلهُمْ َارَكُمْ ( کک اب ما تب اطز)
ںہ ے“حا با عز تک کیو دوچ ارے بت نا ہیںا۔-
الاورالشہ کے رسول ول نے صھا ہکرام شی الڈ رھ مکو بک یکرامت اور
بی خطا فرباک یک رئیش سارک امت ے انل اور تر ریا۔ لت اعلام ےگا
عقلمت اوراسلا مکی شوکت یل سے بلند ہو گی ۔سحاِ وونغوں ققدسی ہیں ج نہیں اور
ای نے خماصص اپ عحیو بکرم متضو ری اکرم چلافاکی صحبت ومعی تکیلئ پیندفرمایااور
ا نکا محاوان دمددگار بای شی مث امام احد این جم ری رم اللرعلیرنے خطیب سے
جفرت الس دکی روای تکردوعد نیش لکی ہے حضور پالنے فرمایا:
الله اخْتَارَيی وَاخَْارَلِی اَصْحَاب وَاخْتَارَلِیْبِنْهُمْأسْهَارَا
زَانصَار۔(اسرع گر یں
ترجمہ یک اللتھالی نے جج پیندف مایا اورمیرے لع میرےاصحاب پپند
رما چان ٹیل ےم رے سال او رمدردگار ہنا ئے-
مور فان سھا گرا مکیشرف سحابیت ےکی نوازا ایل اہی کیہ اور
پابرکت عحبت مس رک ا نکا ہیی و بانی تکیف مایا اودعلم دعرفان سےآراستہ
کم ک ےئ دن اود امم تکی ہرایت ودرا جمائی یہ مامورفمادیا حما گرا ممکوتضور چا
کیصحبت ومعی تکیل ختب فرما نا دہ ہادئی ہین پا سے براو راس تیم وق بیت
او ٹیش نبوت حاص٥ لک یں نقیغاللتعا یکا بہت بڑااصان ہے مر ای:
ےی ےہ 0
لقَذ مٌَ الله لی المُویييْنَإِذ بکت فِيْهم رَمُوَل ین الفيهِمْ
۰ "٤
13
ا عَلَيْهمْ اریہ َبرَكيهمموَلمهُم اب وَلْسَِکُمۂ ٢ زان
ک زی شاپ وی :سس
تھ ہم یگ ال کا بڑا اسان ہہواصلمافوں پرکان می انیس میس ے
ایک رسول چا جوان پا لکیآیجیں پڑت ہے اورانجیش پا ککرتا سے
ورای سکاب ومک تھا ے اورووھ وراں ے پ ےگ گی
مل جھے۔( کاو یان)
اب غوثل قصت اور بلند بت “ھا کرام شی ا ہعتم نہیں اہ توالی نے
اپ ےکمال کریم سے اپچنے رسو لکرم نی اکرم پا کی مصاحبت ونصرت اورد بی کی
ات واشاع کیل پہندفر ما نہوں نے مال ہا ںآراکواپیآنگھوں ے پار
ارہ ککھا اورسی عالمصتاب اور اد ۓ والا آخیاب جن کے ولو کو براو رات مور
کرتاوراھالو ںکجازگی با را مامالا نیا ءعلیہ ہم اتی والیا ء نے نکی براو
راس تیم وت میت ےکندن ہنا اورٹیچس نبوت درسالت سے فیضیاب فر رانا
پا 00 ث اورخلویل ووفا کے پیر بنا یا ہکی پیا ذگیء دفا شھاری اور جاشارق
لاح پوکرانہوں نے القراوراں کے سول لی رشا جوئی یس بج رح کی ںکھ ار
گچھوڑ ےاورشب وروز اپآ او موی جناب رسول اللہ پلڑگاکی معیت ومواونت ٹش
گزارے۔غزوات شی حص لیا غخون تیر ےشن ا سلا مک یآ بیار کی ۔طرح طرح
کی مصاعب ومشکلا تم حفا خلت دی نکافربیضہ انام د ےکر چاردانگ عالم یش
اسلامکافور یلا یا وہای تکی تی رڑشن ہومی اورد نیا کے گوشگوش اسلام
کےنور سےمنور ہوگیا۔آ ر عکوئی خطہاییا نل جہاں اسلام نہ پیا ہواو رام تس کا
کوگی فردواں موجودتہ ہو۔ امت مسل ہکا ہرفردصحا ہکرام شی ال نٹ مکا ا نکی دبتی
ند مات پممندن امان ہے۔ اللہ تھی نے یں جودین عطا فر مایا تضوراکرم چا
سے بذد یدسا ہکرام شی ال شیہم عطا فایا۔ اس لے حرات صھا یھی اونتٹ مک
(۸٥۸۷۱٥٢۱.
14
ممنون احمان اورش گار ہوتا بہت ضرورگ ہے۔ مہرب تھال کی شک رگ ار یکا 2
ان نط یی ے-(مَن لم يَنْکْر اي كْ يَتْکْر اللہ نی ہاوگ ں پھر
گز ا ریس و وا کاکھ یشک رگز اڑیں )
رق کے صا کرام رشی ایہم دین اسلام ہت پیل راوئی اکن
ہیں جناب رسول اللہ اور امت کے درمیان واسیلہ ہیں ۔ال تال نے اع کے
اعزاز واکرام می مت درظر ہن آیات :ازل فرما یں انی اپئی رضاوظ شور یکا
نیش د مال پدادمطافرايا(رَضی اللّهُعَنهُم وَرَصُوْاعَنهُ 7ب۔+٠)
اور جناب رسول الد ہلان ان کے بنا رفاکئل بیان فر ما ے تصواحفرت الوگر
صد لی ینتک رفاردقی لہ نقرت عثان ذول نون یہ رٹ انی
کہ اورنحخرت امیرموادیہ یل دغیرہم کے فضائل کے فک رک انچ اکردئی تو ری
اکرم چان تصر فک ت دشدت کے ساد اپنے پیارےمحا ہکرام شی ال نتم
کےفضائل ومن قب اوراوص ف وکمالا تکو ین "راگ ات اعت ںکوا نکی میم و
ری مرن کاحل بھی دیاف ایز
اَكرمُوا اَصخابی الم ارم (سل و بحاتقب اطج)
تر سی می یج نٹب کے
اب ضس نےحضو کک ”لا لها اللَهُمحَمَد رَسُوُل ال“ پڑھا
سے۔جیسلان ہاور کےدل شش ایمان ےو وت ضرورالل کے رسول اکا ام
مان گگا صا کرام یی اٹہ مکیعمزت وکراصت او رمقیت وحب تکودل میں لہ
ور ےج دورا نک ینیم پنکریم الہ ےگا لین دخ جورسول اونہ پچ اعم لے کے
بیدبھی صا کرام زی انڈیشت مک ایم مکی کا کا رکر ےت کیسا ام لااو رکیسا ئل
کا یمان اوراس کے باوجودو ہک مگواورمسلمان ہونے پراصراریج یکرت ہو حیف ہے
اس کی چالت وسفاہت کہا ےق رآن وحدی کی مخالشت اور اپ ایا نکی
۲ًٔ "و٤
15
ٰ بھ اد یک بھی پروائئی وہ مھا گرا میقم وگ ری مکرنے سے اس ق گر یذاں سے
کہ جناب رسول الل لاج نکا دہ ام یکہلاتا ہک نافرمای سےگھ یں ڈرتا۔
عالائک حا ہرگ رام یشی ازڈشتہ مک یلظیم وگریم کے مگ رکی اس ریش سے ا لک ناخ مال ی
اور بیےابھائی ہی نما ہرہولی ہے خودسحاکرا مکی عزت وکظمت میس پھر یی لآ:-
کیوگکلہ جب الشداورا کا رسول چلاسحا گرا مکی خد ما تک ےج اورا نکیتخریف
فرمار سے ہیں کو اور تیج کر ےن انی سکیافرق پڑت ے؟
پھ حا ہکرام یش اںڈپیتہ یلیم وگریح ندکرنے والابھی انشردرسول اکا
| افران۶ سی تج اکراٹ تتائرک وتھالی نے فرمیا:
وی يعُص الهوَرَمَرْل رََکتة عُتزدايْدِلہنرا حَاِدا
فیْھام وَلَُ عَذَبٌ نیت ں٣۴۳(
ترجہ :اور جوالشداوراسں کےرسو لکی ناف رما کرےاورا ںک یکل عدول
سے بڑھ جاے ادا ےآگ میں داق لکر ےگا نس میں پھیشہ رہ ےگا
اوراا ںکلے نوار کاعاب ہے۔(کنزالایمان)
.شی نکی مک تیم ری سوا کی شان اق رس مل سب دش مبھی روا
کتا ہے اور زان لع بھی درا زکرتا کے ا کی شقاوت اور بش میں سے کک
یت ےا نے از ال درسول پلک ظا تک اورا تی عاقت با وی نے
پیل دانے نافرمان بھی زیاددر ے اخیام سے دو چار ہوگا ۔ایی ان رقین اشک
ارمت ےووراوراحت یکا کے جتاب ول خداانے رای
ِا 0 امم الین يسُمُوَْ اصْعَاہیٰ َفُْلْا لن اللہ لی
شَرکُمْ ۔ ( کو چا ب ہنا تب اصیت)
ترم: جب تم یں دیھوجومی رے ا بی برا کے ہیں تدکوقھار یثر
پاش احت-
۷ “٤
16
مَنْ سب اَصَخَابیٰ پیْ فليهلَْتة الله وَلْمَِكة وَلَّسِ امم
(نکھوباتامامر پا خر از لک ب یراہ بوازطرا ال)
ہجمہ: جح نے مییرے اصحا بکوگا لی دگی اس پرالدتعالی ادف شتتوں اور
قامآرمیو ںکیاعنت ے۔
ال میں شی نمی سک ا یما نکی جیا یحبت رسول )ہے اور سے یحبت
حاصل ہو دو کا من ہے لین یں دقت تک عاصلیی مکی جب کک نہر
اس چیا را لح سےعحبت نررھے جس سےحضور پلقانے عحب تفر مائی یا تےآپ
پاپ ےکوئی رت اوتشلق حاصل ہو۔ وہ ابلییت ا ہار ہوں یا صيا کرام انم
ان سب سےحیت ہن ضروری ہے۔ جتابامامالاغیا ری بک ریا نےف رز
مَنْ اح 50 اَحَبًّ الْقرْانَ وَمَنْ احَبً الَْرْانَ ایی وَکنْ
اَحَيِّی اَحَبّ آصخابیٰ۔(شرم لق ۳ہ۸)
تج : جوالل ےگ تگرنا ہے دو رآئن سے مب تکرتا ہوگا اور جو رآن
ےمحب تکرا ہہوگادہ بے ےعحب کرجا ہوگا اور جھ جج ےعحب تکرتا گا دہ
میرے ساب ےعحب تکر ہوگا- ۱
گویاج ٹف کوسھا کرام ےتیل اس کے ول می جناب رسول ابق
بل کی بھی حب نیس اوررنس کے دل میں عحبت رسول ( وم نہد دہ ایان ھی ے
حر وم ہوتاہے۔شجورحدی ٹپ اک ما حظہہو۔فرمایا:
لین اذ احَدُكُمْ حنٔی اَمُوْو اب اِليه مِنْ ولیہ ریہ
وَالَاسٍ معن( اک کاب الا یمان )
تزرج م مس ےکویٹس اس وق تک م نیس ہوکتاج بکک مس
اسے اک ہے والد بن ا یکی اولا اور سپ لوگوں ے زیاد ہجوب تد
چاآں۔
(۸۸٥۱۴۱٥.
17
اب بش شرف عحابیتکا اترام تک رےاو ری ععالیٰ ےحبت نر کے
دی بت رسول (پ) ےکردم موکرنو دا یمان سے پاھدعو یا ے ےجو ایر
1 کےرسول پلک ک ےکی صحاپیا عبت رک کی ججائے اس سے ڑشحی اورعراوت ر کے
وورفض وم دکا منظا ہر کے ا لک ایان اوراسلا مکون غایت کرےگا؟ ک
تر نکر نایب نیب لوگو ںکوکافرکچتا ہے ۔فرمایا:
لِغیٔظ يهم الْكفار رق
رم :کان ےکافروں کول یچلیں ۔(ک زایا
نی صھا ہکرام ریضی ایت مکو دسر دک ےک رصر فکاف لوک بی جلتے ہیں اور
صرف دیفس ودک اظمہارکر تے ہیں-
امام بای جحضرتجیددالف ما یل فرماتے ہیں:
”الل تھاٹی نے ا سآ یت مس صحابہ سے نارائش رہئے والو ںک وکا کہا
ہے( کو بات دفتردد آرددح الکو ب ِم٣۳)
اب حفرت امیرمعاویہ یج وتضور پا ک ےکی ابی اورکاب ری 1ے
ےبض ہیں جتبنفس ویر مارک رام یی الڈ ہم سےمحعبت رت کا کو کرے اور
کی ےک رسب مھا ہکرام یی اٹہ مکی محبت مسلمان ہلا زم .نیس ینف کی محبت سب
صحا .کی عحیت کے مترارف ہے۔ اہن اصرف امب رمعاد یی ( لئ ) کی مخ لشت ے سب
صحا یک مخالفت لاز مک ںآن ۔اں لے نرکودہ پالم گآ یہک بی یل ج اص ۃکفار بیان
: ہوا ےر فففض مواوبہ می ہش ا کی زدی نی ںآ تاذ یخودف ری کے سوا یھ
یں اوداہ شس کے پا اپنے ال وئی یشدت می کو لی یں ۔
یقت یی ےکی ایک عحا یک زشنی سب کاہشی ؛ایک ےش سب
۱ ے نف اورای ککاانکارس بکاا تار ے و اشن ق رن فو یکفرے پرکزہیں
سکا۔/ہزااس کےدل یں اگر خداکا خوف کی بائی سے اوردہ روز قیامت پ
(۸٥۱۷٥٢.
18
ایا نکھی رکتا سذ ا سکیل ضس محادیہ سے تا عب ہو جانا کہتضردرئی ہے-امام
ر پالی ححخرت ولف خا نخان پیل الیےلوگو ںکانقطہنظربیا نکر تے ہیں اور پرخود
اکا جو اب د نے ہوم فرمات ہیں:
”اگ رسحا کرام پکت جن یکرنے وال ےلاک بیکچی ںک ہب می
صا بکرا مکی متابعت ( روک )کر تے ہیں اود بیضرددی نین ںکتا مکی
متا بحت د پبرو یکر میں بارس بکی متابعتیمکن بیٹش ےکیوکل بہت
سے مسائل یس صپھا کرام مکی آئیں یں آراءتلف اور قافن ہیں اور
الگ شرب رت یں۔
۱ ا کا جواب ؟ ید تے ہی ںکیٹنخ کی متالعت اس وتسود
مند ہی ہے کس کے ساتھ جن دوصر۔ رے سا ہرکرا مک انگار تہ ہو-
بس کےا ڑکاری صورت می لپن دوسرو ںکی متا بح تکاو جو رشمورں
ہوسکتا..... اصول میں تسا صحا۔کرا مکی متابعت ضروری ہے اور ا کا
آپیں می اصول کے اندرکوگی اختلاف ن تھا ا نکا آئی ں کا اخلاف
صرف فروراے' علق رکتا تر ا ورہن جوف ش ھا می عیب ماما ےِ
س بک متابعت جوم ہے“ ( بات لا مر مال او لوب ر۸۰)
”نی زق رآن وحد یٹ کے اکا شرع ج گمکک پچ ہیں کحابہ
را مکیانخل وروات اور واہیط ے یچ میں ج ما ہراممطون
یں ےت ا نکونفتل وروای بھی مطحوں رہوگ اورا ظا شری کی
نفل وروایت چند سا کے س ات تنسو نیس جم ہتمام صحابہ عداللت٠
صدرق اوخ وین ی برا ہیں بی سی ایک عحالی یع وکیب دین
میں لان وع حلیمکر ےزم ہے ۔(بحویات :ف زا لک یر ۸)
”اورضا لی کی جو بات ذ جن یس ہولی چا بے بی ےکرنفلض
(۸۸٥۱۴۱٥.
19
صحا کا نار لکاا ار ہے جناب تی رالیش علیہ الصلو والسلا مکی صحبتکی
فقیات یں سب حعفرات مشترک ہیں اورسحی تک فقیات گر سب
ضا دمالات سے فاکی اور بلنعد ہے۔امی متا حضرت اولی قرف لہ
جوخیرالما ین ہیں خورعلی الو 7 والسلام کے صھالی کےادفی مر سے
”کچھ نیس ہچ کے بر صحب تکی فضیل تکاکوئی بھی مقابلنٹٹل
17 72 کیونکہرا ن کا ایمان' عبت اورخنزول وگ یکی بات ےتہودیی هو پکا
ہےاورایھا نکا یت ا کرام (ریشی ال تھم )کے بعد یکیھی تعیب
نی اور مال ایمان پپحقز ہد تے ہیں اعما لکاکھالی ایمان کےکمال
کے مطاای کے کوبت فا لوب بر٥ہ)
مفرقرآن جناب مطتی اد یار خا نضٹھی رد الل علی قرآ نکریم سے
شحث اڈ لسن کٹ لمُوْہ الْمرْصلیْنَ اوران کےماتھ چنددگر
آیات مقد سفق لکرتے ہو کے ہیں کہ
” یی ےقوم عادہت تمودہقوم لوط اورقو م دح نے صرف اپنے اپنے ایک
رو لکی گز بک اور رپ تعالٰیٰ نے فرمایاکہ انہوں نے سادے
رسولو ںکا اکا کیا سے ای رح ایک صا یکا انکار یا للمیت اطمار ٹل
سے ایک ہنریگ سے م رجا ی تمام صا کرام اور سمارے اہلعیت کا انار
ہے“ .(امیرمعادی لاب رظ )٣۳٣٥
ہز تضوراکرم لا کے ہرسحالی کت وحفقرت رھنااوزا قشمد
ریم بچالا نا لازم ہے ودتدایما نکی خزئیں ۔ کی یک معالی سے بدحقیدکی رھنا افش
وحدکا ظا ہ رءکرن اورخود سخ نظیا کی بنا رشکوک وشی ات ھی اکرمسلمانو ںکو
مگ وکرنااسلام کےکسی خی رخواءکانیں بلمہ بدخواہ دش ن کا ام ہے۔ دشمنا ند نات
ا نگمرا ادنگ ریا تکااصل سب بعم خداوندی:
(۸٥۱۷۱٥۲.۰0
20
ال۱۶ )٠۰٠۱
اورارشاووگل:
”موا السَوَاءَ الَعْكَمَ ان ص+) فی الَارِ“۔ع
( مو یاب ااعصام۔ ابی اج )
سے بے پروائیاورسواوپئضم ا ہمت سے روگ ردان ے۔
ان سویں برخقید یکا من شآ کل پچ بد من لگا ہے اورمک ری ناک محابہ
ہی سکیت رآن دحدرمثٹ کےاہظاممکودگل ےکی ما تے یں غلطسلط روایات اد کی
ٹر تنظظریات ا نکاکل اغاش ہیں ان کے نز یک اللہ کے رسول وا نعل و
نس تکیکوئی قد ردق تی او شرف صحابی تکی پچ وفضیل ت نی . ہا ںلنخل محابہ
ےق پون نکیلئ مھت اہی یکوآڑ بتا 7 یں اوداپتیط رن دوسرے لوگو ںکوگی
جناب رسول اللہ ہلچقا کے متبول صا ہکرام سے دورکرد جن چاتتے ہیں-
اسے عالات شیں اع لج پہ یرام رواجب ہوجاتا ےک مقامات صحابہ کے
رز کی میداو نگل م یں حر بین شان میا خصو اشک رین فضئل امیرمحاویے
یی جن یس سےکئی ایک سقیت کےکھیس مم ںبھی دھوکا دی اور اہ لتق یکو ورناتے
ہیں سفر یو ںکوظا رر دو دلوگو ںکویص را یتم سے روش سس کر ہیں اور یا تام
اپتی طرف ےک کرت بلمہا کے پیارےحبوب دا ےل یوب چم سب کے
آ قادمولی جناب رسول اللہ لالانے ا لعل مکوخو دی فر مایا ہے۔لاحظہہوحد ث پاک:
ِا ظهَرّتِ اليْسْیْ او قالَ لیذ ع رسب اَصَحَابیْ قَلبْظْهرَ الیم
0 ت جمہ:اورال٣ کی ر یکو مض مھا ملوسب لکراورآ یش یں پیٹ ت جانا تال یمان )
جؿ ترجہ بڑ گر وکی رو یکر دکوکہ چھ(اسی سے ) الگ ہواوردہ الک ہی دوز جغ ٹل
ڈالا جاۓگا-
۰ً و٤
یر یو یعاد یہ ور جک جج ےت یکو سرت ہاو و ا
ٴ
ِ
ا
ِلَمۂ ملع يك تل نل رََيِکد وش
امن لا نَقبَل اللَهعَدل ولا لَرَس۔ "
( بات . مر بای زا لحتو بف ر۲۵۱ صواع نحرق ارد ۳م )
1س جب فے اور بوکس اہ رہوجاتمیں اورمیرے اصحا بکوگالیال
دی جا نیت ال مکوچا ےک اپےعلمکو ظا رکرے بی جل نے اییادگیا
اس پرانشراورڈرشتوں اورتا وو ںک یلت ہے۔ا تھا اںکا 711 ر۲-
ال قبول دفراےۓ“۔
ا عدیث پاک کے مطابق ال لعل مکا ىد اور اخلاقی فربیضہ ےک
مقامات “حا ہہ کےجف کیل ابع مکو ا ہرک یں ۔ دشمنان صعاہکی فرع تک می اود
سب پڑت مکرنے والو ںکا نا علق بنرکرومیں۔ بافو مخرت ای رموادے مات ر×ل
اللہ پلک کے ایک قرابت داز براد رھت ءکا حب وگ ء اشن اسرارالی قب وم میم
صحالی امام مایق مایا من علیہ السلام کے معتداوریشمول ان کےتا مھا و تاجن
کے متفقہ ام رلڑنی ام رالمونشن ہہوۓ اوراحاد یٹ پاک می جن کے بے شار
ففضا ل بھی بیان ہوے“ کے مقامات ودرجا تکوث رآن وعدی ٹک رش شی یان
کرت ہوۓ ان کے مخائشین کے اعتراضا ت کا الہک ی کہ ىہ جات پا حٹ
رضاے فی ادریا عشکرضاۓ خراے۔
مہرے و قلعت مرو مت قفھردودمان سادات اکم فیوش و رکا تج
طمریقت, رم رشرہیٹ نو رگا نقوٹأش لامانی حضورقبلہ عالم چیرسی رخ ہف اتال شا,
صاحب داصت برک انم الحالیہ(ز یب جھادۂ لا انی و ربرست الم لا ای )نے بجھ
ایز ےفگرفر بیکرت امب رموادہ لہ فضیلت جم دارداحاد یٹ مارک
کردو۔ ینہ گا ارشا کر تے ہوۓ چچنداحاد یٹ مپارکی کی اورنجی ںآیات
ق ریہ سے عز نکر کے ایک ضمو نآ پک خدمت مم شی کردیا آپ نے شرف
(۸٥۱۷٥۱.
22
قولیت ےمشرف فرمایا۔اب مکود٭حد یٹ پاگ کے یی نظ را یکوڈھ ر ےتخبیل
سے شا کیاجاراے_
قائ فور یہ بات ہ ےک ادتقا ی نس یچھی داع کے فیس کیک کیا
ہے اور کی“ رن وحد یث ےرجور رن کا کرو
ان مرحم بی خی ولَرکرهُالی الله مل رمارد)
رج پچراگرم میں ابا تکا ھکڑ ا ےت اے ایڈراوررسول ےتور
رجو خگرو۔( گزاووان)
گویا ہہ بات نھاعت بی اہم ہ ےکیکوئی بھی قتازع ظریہ یا عقیرہ ہواے
ترآن وعدی ٹک رن مد یکھاجا ۓگا اود ھم نے اک یکا التزا مکیا ہے اورش رآن و
حدیث بت یکوگور نایا ے۔ پیت رآئن دحدیث سے مقامات “حا راد ارام رمواو یی
لم جوا ہکرام یس تہایت دی منظلو خنصیت ہیں کا متقام دم رتراو انل ومنا تپ
نل سے یئ ہیں ۔ بعدازاں اہسقّت کے مضتقدات اور اکا برامت کنظریات بین
نے گے ہیں اورسب ےآ خرج اپنے ایکٹشی سن کےعلم کے مطاب مس نام ہاو
میں مت اوران وعرت امت کے اعتراضات تصوصاآ اتا مورورگی
صاح بکاطرف سے خلافت وطوکیت کش وارد کے جانے وا نے ہطائگن ک٤ رن
دعد ی ٹکی رڑشفی جس جوابات د ہے گے ہیں۔ انشا ءا دشا تمان ساب اوران امم
محادہہ کےفری بآ شکاراہوں گےصرایط سم دامع ہوگااوراتماداصت ک ےکی خواہوں
کے نین ٹھنٹرے ہوں گے۔ اس میں ہیں را میم کیا ہرات اودق بک تق
شید ہیے والا ہے پذراا ےمنظور ہوا ہرایتضرورل جاۓ گی۔
وَمَنْيٌشَأيَجْعلهُ عَلی صِرَاط تدم ۔۳) :
رم :اور سے چا سید تھے راستۃ ڈ ال دے۔(کزالیمان)
نہ ہو ومیں ومیریی زوال عم د ال ے ۰
اید مرد من سے خغدا کے راز داتوں مل
۰ًٔ و٤
23
دعا ہے الشد رب الھزت قام صا کرام نشی نہ تحصوب ا حرت ایر
محاوہ یلد کےتضوراس با ںحقیرت اورالن کے مقامات ددرجات کے میان ٹل
: اس اد یکوشیش کواتی بارگاہ اقرں میں قیول ومتظورفرماۓ اورتضور بھ یکریم درم
روف ورتیم علی اصل وا سم اپتی شفاعت سس رفرازفرمادیی-
1 اشن الم نین بے مارڈا لگا صاب جھ سے ہجرمکوذ تفوودرگز رورکار سے
مک بارگا پش لال نشیس لا خی
حرصر لیا تتنبیری تارری
۹
۱
ٰ۱
ا
(۸٥۱۷۱٥٢۱.
(۸٥۱۷۱٥٢.
27
ق رآنوعد یث ادرمقاما کاب و
ٴ ٹیہ رآن دعدیث ےکیوں تارج ےکیوںیں؟
ا انمافوں می ڈائی اورگری الا فک ہو ایک عقیقت ہے ور تکفرداسلام
اورنفاتی دایران کے بننکڑے مرا شتے اورقلف نرا ہب اورفرتے ند بن ۔الل تھا
نے لوگو ںکیگکریی دعدت اور ہدایت ورا ما ایل اپنے رسو لکرم یی مبحوٹ
ا قرمایا اور رآ نکر مبھی ناز لکیا۔ جوایمان لایا ارچ پیرد کی ای نے ہداعت پالی
اورکامیاب وکامران ہوااودج٘س نے اکا رکیایا ناف مال کیادہ رایت ےدوراورنا کام
دنامرادیرہا-
یہتار نل ھت بکرنے والے مونشژ نبھی انسان ہی ہیں _ ا نکابجھی ڈائی و
ری کٹرور یں ےتقوتا ہوتا ضروری"' یس برا نکا مو بھوتع موجودزہہوۓے 7
صورت میں تفقیقت عال سے بے جردہنا اورغی ر مدق معلوما تکی ون پر واقیات
مرج بکردیتا یا ذائیٰ جذبات سے مغلوب ہوک تاکن سے چم پٹ یکر جات اورک
شحصیت کے پارے میں ”خلا ف جع یقت ذائی نظ ریت کوجار رن کا حصہ یناد ابی
پیر از تا نی _ بای جماعت اسلائی مولا نا مودددبی صاحب“ جنہوں ن یح
اتی روایات کا سہاران کراپ کاب 'خلافت وملوکیت نمی و وی کت ہیں
ن رتا کے مواملہ می اگ رکوئ یفخ روایات کے مو کی
دو شرائط لگاۓے جواحکام شرتی کے معا مہ مد ٹین نے لگاکی میں ت
اسلائی مرن کا ۹۰ فیصدیء بلنہ اس سےبھی زائد حصہ ددیا بردکر:ا
(۸٥۱۷۱٥٢.
28
ہگ (خلات ولوکیت نے *احاشے)
پزا مونش نکی ذزانی آراءاوروریائو کۓ جانے کے داکن ای غیرتق
ات بدگانی اورنزا جع کا سیب ق ہی ںی اسلائی مقر ےکی نیاوی یوین و
٠ن کےعلادا نک یکوئی حیثیت بیی ۔ ٹہ ا نکی لد چی دی سارک راہی ے-
الدتقالی نےقرآنکری میں فمیا:
ان مع کمن فی الازض بيو عن سِل ال .دن
بِهرْنَإِلَ ال وَِنْ هُمإلا يَخرَصَوٌَْ(ندم۔١٠)
تجمہ:اور(اے ضنن وا نے )اگ رتو اطع تکر ےاکٹرلوگو کی جوز مین
میس میں لوہ کچ کا دی گے الک راہ سے ووتیں ےو یکرۓے
حا ۓےگمان کے اورنییں دوگ یت لات ہیں .۔( خی ءالترآن )
ہمان ہیں اوریسلمان انشرورسول گر ماما ہے نان رآن وحد یٹ پہ
ایھان رکھتا ہے نکر موررخ درا کیاکی ہوئی جار ا کتلیناتدبالی کات اور
ایھا نکی جیا دش رآن وعد بی ہیں سی انسا نکی مرج بکردہوئی تار خی از اجب
ا ما نکی نیاداورتھلیمات اسلا کاخ اور ما مت مآ دعدےیٹ ہیں ت2 چھرکوئ یھی
ما ہو اک بھی اتتلائی من ہو ڈملکن یی ت ت رآ دحدیث تیکوھائمل رہے
گی بُخھینظریات پیل ای جار کیں۔اشقالّ ن خی نظریا تکا چردلے
رو ککرق ران وحد یٹ ا کی یدک اکا ام دیا سے فرایا:
٤ور ےہ عوؤدود ید ری عاوی د روہ ہوہے
ھا ا انل اِلیکم من رکم وَلا تتبعوا من دُوْنه اَوَياء_
(مرف٤)
٭۰جت- یروگ کردا کا ئ ز لاگیا ہےکھہہادتی یر فتمارے دب
کیطرف ے اورے جیا کردانٹ کچھ وڑکردو۔ ےوتوں گا۔
گوباقرآن وحد بی ٹکوتھوڑکر انال خیالا ت ونظریات اگر چ مار“
(۸۸٥۱۴۱٥.
29
کے:ام سے ہوں' کی پروی جا یل اورقرآنن وعد یٹ کےخلا فکی حا کاکوئی
قٍِ و لکرباورستگیں .یگ وت یبھی متاز می اکوئ بھی دبٹی اختلاف ال تما یٰ
نے ران وحد بث تی سے رجو رن ےکاعلم دیا ہ ےت کہا رج غکوایما نکی
اث وروی پھ یھ ریا پاہے سے فری:
ان تار فی شی وقَرکرهی الله ارول ِن کم
موہ باللِرَلرزْم الُابجر: ذَاِكَ خَيروََحْسَنْتاوِيٍ_
رت ۵۹)
ترجہ: پچ راگرقم کی با تکا ڑا ا ےو رے الد ورسول کےتور
رجو ںکرواگزالشداودقیامت پرایمان رسکھتے ہو ہبتر ہے اور کا انجام
سب سےاھا۔ (کزالامان)
لپن اکوئی بھی تتاز غ ہو با یبھی سے میس اتلاف اور ڑا ہوتز سلران
ِ کیل ا ےق رآن وحد یٹ پ یش کرنالازم ہے تاکہاس کے جیا غلط ہون ےکا فیملہ
ہو نے اگ رق ان وحد بیث ا کی ندال کم می تو اے درس ت لی مکرلیا جا اور
اتد یدک ت2 اس ردکردیاجاۓ تم نک ری نے تصرف ا مر 12 این
فرمائی ہے بسن خات کا مد دای سایاے_(دَالِكَ خَيْر وَاحْسَنْ تَأوبد
07 ہے اود ا کا اخجام سب سے اپچھا ۲ اب اگ رکوئی سم خداوندی کے
مطابقی اپےنظریاتء جوا نگ تارینی روایات سے ا کر کے یں :کی
ٰ اصلاں کیل قرآن وحد ی ےکی طرف خودرجو ای ںکرح' دوگ خراورسول ؛لٹاکا
اطاعتگز اراو سیا مرا نت جم کن سکوزاص ا سکم قداوندی یرف سم جکیا
جائۓےا اگردوکھی رجوغ ضر ے اق رآئن وعد بیث کے ہجاے ملطسلط تا ری روایات
اوراپئی ڈئی اضعا تکودرست شلی مکرانے پراصصرا کر ےت کون ا سے سلمان کہ
۴ لیے یں
وَرِهّا یل لم تََالز الی ا اَل الله لی الرَسُرْلِ رب
۶ "٤
30
الْمفْقِْنَ بَمثَوْحَ عَنَكَ صُنُوْةا۔ مہ
تم :اود ج بکہاجاۓ انی ںک۔آ وا لکنا بکی طرف جواتارکی ہے
نے اوررسو لکیطر ف3 دیکھو گے کنا فنّقم سے ربرڑ یج یں
روروا لی اکر ہوۓ۔
زم نے لن تا رینی روایا تکوخلسل طکہا ہے ودودی صا حبتنے انیں
کوٹیٹفقی ادرخی مایق اردیا ہے ۔کھھت ہیں :
”ناس می فح کی سک جار کے معاللے مس چان ین ء
اخاداو تن کا وہ اہتمام کیل ہوا ہے جواعاد یٹ کے معالے می پایا
جاجاۓے'(ظانےوطریے+٤۲-س)
مودودگی صاحب دو ےمقام سی سوال کےجواب مر فر مات ہیں 71
”اگ رپ اس تارق کو باورکرتے ہیں تق یلرک پکیشد ول ار
لق لغ قرآنء دای اسلام مزع نخو ںک یی پاورا نیتم زیت
کےتماماشرات پرخا مھ دنا پڑ ےئ اور لی مکنا ہوگاکیا پاگز
تن انسا نکی ۳۳ سال لغ ہدایت ے جو جماعحت تارہوئ یش ی اود ا کی
فیادت میں ضس جماعت نے بددواعداود ا اب وشن کے صے ہر
کر کے اسلامکا ناو نیاٹس بلنرکیا تھا اس کے اخلاقق+اس کے خیالات
اس کے مقاص اس کے ارادےء ال کی خواہشمات اورائس کے طورط یق
دیاب ۶ں ےز رج یملف نہ جے'.(ر ا رسال دص ازل یہد )
من مقام رت ہ ےکستا 0ا ات تق کے باوجودمودددیی صا بگم
قداوندی: قَرُكُوْهإلَی الله وَالزصولِ۔(اض ٥٥٦. )یکو پرد اہی کرت اوری
تاریی دا ےکوق ران وحد میٹ پرن کہ کے اسے پکنا ض رود یقن س بت جلخودان
کے مطابقی پیل ےکوی چان ان او شی ب ینس ہوئی ۔ اوس ! مو نا نے مطلب
۰ًٔ و٤
31
: مار یکیلیےصرف جوالےدنیاضروری مھا عالائمہ جب تار نخان کےنز دی کتقق
اودرمعار یکین جوانے ہوں ماتہہو ںکیاف رق پڑےگا. خرا نکامواوۃ خی تق دی
رگا یی جب مارینی واقجات وروایا تکیصحم ت کا لقن ہی نہیں ت کوئی ان دے
پ یچ ےک ران حوالو ںان کر نے سے مق کیا ہے؟ کے ہیں
”جو تارینی مواداس بجٹ می یک یاگیا ہے د جار الام
کی مفند تی نکماوں سے ماخوذ ہے۔ جتے واقعات میس نےنقل سے
ہیں ان کے پارے پیورے ا نے در کرد ہے خیں اودکوئ ایل بات
ھی بلاحوالہ یا نی کی ہے۔ اصحا یم خوداص لکتابوں ے مقابلہ
گر کے دک سکتے ہیں (خات روک ۳ف۲۱۹)
انشاءالل ہم بییھی چائمز ٹیش گ ےک ہانوں نے جارنی حوالوں می کس قرر
: حذفداضاذےکام لیا ہے اورٹی دیاختداری برثی ے یبال و و انسویں ا پا تکا
ےک یجس تارغ فو دق اتے ہیں اوج تار +۹ فیصد ےزائ نر تصدریا
1 ہررکردمینے کے لاک پت ہیں ا یکن ون لکرد نے ہیں ۔ت رآ ندعدی ٹاچھوڑ
کراىی خی ڑققق جارں کواٹ یت کاخور نائے ہوئے ہیں ادرقرآن وحدی ٹک
ہجاۓ بندکال ین نکی پیردگی یش مصروف ہیں۔(اتفقراز)
اب رما یی ا نک کاب خلافت دطوکیت سکا پش موادی خیرنقق
اور تا اع اخاد ےک کیا حثیت دوگئی۔انوں نے ددیا جرد کے جانے کے لاکن
ریش سے جو پھورطب دیاش تھا اپنے ذو کیاکی نکیل ےتضو ری اکرم پا
کے ق ری صنات “حا ہکرام افو سیرنا عثان ذوالنور ین اورسیدناامی رمعادی رق
اکا لن رشع کے بطو ھا راستعا لکیا_ امت میس پچھوٹ ڈا لے وا نآرق
بازوں میش نا مکمایااورملرافوں سے الک راستہ اخقا رک کے نے ف رق ماحتت
اعلائی کے پا یٹھہرے۔
(۸٥۱۷۱٥٢.
32
ورضراعہ“ کا وا ہر خوشفوری عطا قرمایا یر کو
گی ماف مایا جتھوں نے سار ےکا ساراد ین الش کے رسول پگ سے حاص لک کے
امت کک ؟ٹایا۔ج نکی تطابت دعداا تک کی محر ٹ کک نےگ فی سکیا با میش
بج تقیرے بالات جانا ہے۔اماماصدائ جج رگ یڈنی رم اللعلیفرماتے ہیں :
”صا کر مکیلے بجی ظ رکانی ےکہانلدتھاٹی نے ان کے
ارے می ںگواہی دئی ہےکددہ بت نلوگ ہیں فرما جا ےہ نتم خی
اق وَج لاس٠ تم پبترین لوک ہو جولوگوں کے نائ کے پا
کے مے بھ۔ ال خطا بک یل می نے والے سب سے پیل کی
وگ ہیں اسی طر یکری وق نے بھی تن علیہ حدیثٹ مل ان کے
پارے می لگوای دی ہ ےک ری مدکی پچت ربکت اصدکی ہے اراس مقام
سے بک رکوگی متقام فی سک ال تھی اپنے نکی محب تک وجہ سے ان
سےرائی ہیا زا تھا فرا:اے''محمد رسول الله
والذین معه اشدآء علی الکفار رحمآء بیٹھم“ رصولالشہ
پقڈ ادرآپ کے مھا گرا مکفار پ جخت اورپ یش ایک دوسرے پررتم
کرنے وائے ہیں ریہ ”فو الو من الْكَجِرننَ
بی َالَذِيْنَ اب ابَعوْهُمب اِخْمَان ری الله عنم وَرَصُوا
0ي مہاجہ ین وانصارشش ےسا ون الا ولون اوروولوگ تچتہوں
نے اسان کے سات ا نکی پیرو یکی ہے ال تا لی ان سے راصی ہوگیا
ہےاورو داش سے داش ہیں ۔آپ ا نآیات پرفو رکم یت آپ ان
تما فی باقوں بات حاص لکرمیں گے جورافضیی ں ن ےگ کر ان
کےسرھوبی یں ما لان ہد ان قام باتوں سے برک ہیں-
صحابکرا مد تیاں ہیں ج نہیں الشتھای ے”رضی اعم
۱ و٤
33
صحا رئش انم کے بارے مس اپنے اعتةا میں اد انف سکا
شا حر کے ےگھی ایقا بک یی اورائشہ سے پناہ چا ہیں ۔ جو باتیں ان
لوکوں نے صھا کی طرف ملسو بک ہیں دہ خماتدسا تجھوٹ ہیں- ان
بان ںکیکوئی ارسی سندموجوڈٹوی جس کے رجا محروف و شچورہوں وہ
قذ صرف ان لوگو ں کا مجھوٹ ہت ؛چچمل اور خدا تال کیب دافزاء
ہے یں ہوا و اورحصیعیت کے با حث ہی با کوچ کر غلط با کو
انقیارکرنے ے بے (الصواع اھر قرارد فی۳ ۵۵_۵)
امام بیسف بین اساشل چھانی ررمتۃ الشدعلرحضرت تقاضی عیاض مکی رم
ال لیر قکتاب الفاء فلکت ہیں:
”حا ہکرام رضوان ایڈشہم انی نکی عمزت ول تی اوران کے
ساتھ رن لوک دراصسل نی اکرم ولاگکی عزت وق قیراورآپ کے ساتھ
صن لوک ہے۔ اس عرح صحا کرام شی الڈ نت مکی شتائی ءا نکی
اقتراداتارغء ا نکی مم دصیف ا نکیل دعاۓ مخفرت ان ے
اتی اخافات ےصر فنظراور ان کے شٹوں ےفض دعراوتی
تقیقت مم ستضور ہلل کےمقو کی اداشی ہے۔ اس لے ضردری ہ ےک
ال تار من کیا بے سرد پا ضا ات اور جال راو یو لک روایات ےاجتاب
کیاجاے اورگراو را فی ں او رکتاغ بد ں ےکیتع فلت انقیاری
جاۓ اورصحابِکرا مکی طرف طسوب واقیات وفش نکی دہ تاویلات اور
شبت ہللا کے جا میں کون شا نا مھا کا می تقاضاے“_
(ککالات اواب رسول ارد وت جم الا سالیب الد بی ٹفل ساروا قا لی ۷)
تبرت س ےک مودودیی صاحب نیم القرآں“ کےم ےی رقرآن
کین کے ہپاوجو وق رآنی تر بیات اور داوندکی اعکامات پرایھا نیٹ رت او رجا
۴ ٗ ٤
34
'رام پراکترا اضا تکرتے جات ہیں عالاکہ جٹ انشرورسول ہکا فیملہ نہ مانے
وولو مین بی نی رتا - ایمان دالو ںکا درہبراور را نما کے مین سکم ے ۔ من
ہونے کی وریہ ےکرقرآن وعد یٹ کے ول تی مکرے فرآن
ریم میس اتارک وتھا لی نے فرمایا:
)زا گاؤ زی ولا ُژَِٰوِِقا ققی الله َو ار ان
کر ليم ره نایم د وَمَیْيَعْصِ الله ورَسُولَاقَقڈ
ضل 09080 ئ4
تج :نکی مو مردکو میق پنچتا ہے اود سی موک ن کور تکو جب
فیصلرف مارےاللرتعا لی اورا سکارسول شی معامل کات پچ ری ںکوئی اخقیار
ہواپے اس معالرش اورجوتافر مال یکرتا ہے الڈداوداس کے رسو لوہ
کھ یگ ریم چنا موا ( یتآ ن)
۲ وَرتَك لا ملع لی بُعَكُمزْھ ما مَِرَيِتهمْ
تم لاَجدوا ِی الفَيهِم عَرََا يك قب و نلند
(شاء۔۵٦)
ت جمہ:ت2 اےحبوب !تمہارے ر بک لاحم دومسلمان نہ ہوں گے جب
تک اپ آہیں کے ٹھکڑے می ںتھہیں اکم نہ ہنا میں پھر ج چ کم
راپ دوں مال سےرکاوٹ ضپا یسوی مان کات
. (کنزالبان)
۳ )الما کان قَوْلَ رك دَعُوْا لی الله رَرَسُزْلہ ليحْكُم
بَیْتهُم ان بَقولوا سَیغتا وَاكهتا “ وَأوليَكَ مُمْالمفِلْحْرَْ_
(ااور_۵۱)
تج :ملمانو ںکی بات نے کی ہے جب الطدادد رو لکی رف ہلا ۓے
(۸۸٥۱۴۱٥.
5و
ایک سول ؛ن میس فیصلفریاۓ عو کر میں چم نے ستااو رکم مانا
ادریجی لوک مراوو یج ۔(کزویان)٠
اب اگر الد تھا یکی آو ںکو مانتا اور اکم خداون یک ونلی مکرنا مولان
مودودگی صاحب کے مدرم نئیں تھا فو مکیاکہہ کت ہیں اتی اوران کے
و رسول ڈللق نے صحا ہکرام کے بے ار فضائل مان کے ہیں۔ ان پرتقی دکرنے اور
لن وش انشانہجنانے سےددکاے تی لآندہصفحات میں د گی ے_
آ یہاںصرف چنداحاد یٹ مبارکملا نظفر اتیں۔
امام این ری رم ال علیہ نے بحوالہطبرالی ۔ وم اود این کر نے
عدمذ با لٴُْۂْاللاظ×-
ت00 2
همْ عَفكۂ اللَهفی ال لاجر هك ِْمْ
تَعَلی اللهُِنه ون تَعَلی اللّهيِنهيَزْيِك إِنْ بَخُلَهٌ
(دنص سن گر تسلیم)
تر جہ: می رےححا بر سسرال اود معاون٘ینغ کے بارے بل مھ تا خلت
میں رکھو۔سوجٹس نے ان کے بارے میل ھی تفاظت می رکھا اے الد
تقمالی دنیااورآخرت میس حفائلت مشش ر ےگا اورہ٘ نے میرک ان کے
پارے یس تفاقت نکی وہای کی رععت ے دور ہوگیااور جوال تھا لگا
رصت سے دورہواتھر یب ہےانتھای ای سے مواغذ وکھرے۔
مکل شریف میں جوا لت نرکیم روا ت مو جود سے فرای:
٣ )الله لی اَصْعابیٔ لا تَخذُرُْم عَرَّضَا۔
(مککو وی بی تب ٣ن
ترجہ میرے اش محاب کےتی میں الد تعالی سے ڈر یں اپے تی رکا
(۸٥۱۷٥۲.۰0
36
شائت تا_
مو ش ریف اورتر خدکی ش لیٹس ایک روا یت لوں سے ترمایا:
۳ رَأيِمُمْ الّويْنَيسَمُوْيَ َصعابیٰ قَقُولوْالَنَةللّ َلی
شِ مکل ہہت تب اف مت نرک اواب الناتب)
رم جب تم نٹ دیکھو جوم رے “ھا کہ برا سکتے ہیں ات ذکہوتہارےثر
پراللیانت-
رت امام ر بای ہرد الف خالی لہ ن ےت بات ش ریف میں ہوال رای
اوران عدگی دداعاد یث یو لأئ١ل فرمائیٍں_
۳إا کر اصعابیٰ قائیِگوْا۔
جع :جب مر ے “ھا رکا ذک رکیاجا ۓل زبانکوروگو-
ا افراز اک اَجْرَءهُمم عَلّی اصخاییٰ۔
( عبات وف او لو بفب٥)
رم میرںی امت مٹش سے بدن ین دو لوگ ہیں جو میرے اصحاب پہ
دیریں۔
د بے جناب رسول الد پان اپنے فا شارادرجاش حا کرام ری اٹ
شھم کے بارے میس اپتی زبافو ںکو رون ےکا عفر ماا او صا ہکرام مکو برا چھلا کی
والوں اوران لن وش کے تی یرسمانے والو ںکو بدترین امت او قیفر ایا۔ اس
کے پاو ود موا نا مودودگی جوقرآن وعد یی ٹکا بہت بڑا عالم او ملک اسلا مک ہلا تے
ر جے گی مت وہر تھے کت ہیں:
سے اس با تک بھی ضرور تس وی نی ہوئی کر نو
ارگ مات ہوں_ ا نک مھ یی خاللیوں کا انا کروں۔ لیپ بت
کر کے ا نکو چپاوں۔ یا غیرمتقول حاویلی ںکرکے ا نکو خابت
(۸۸٥۱۷۱٥.
37
کروں“' (خاقت روک ٢ ۔س)
لوس ححفرات اس موا ملہ ٹس بہزرال قاع مکی جن یکرت ہی ںکہ
”مسا کرام شہ کے بارے میں صرف وہی روایا تقو لکر بی کے جو
ا نکی شان کے مطائی ہوں اور ہراس با تکو رو دی گے ےان
پرتر فآ تا خواو دی حد یٹ بی واردمول موے؟ان لنش
جا اکمحدشن ولف رین اورفقبا یش ےکس نے قح ہکلیہ میا نکیا
ہے او رکون عحرث یامفس یافقہ ہے جس نے بھی ال کی رد کا
کے“( خلافت ولک )٣۰۵
یہاں سب سے پ یلین ہم یہ پوچییں م ےک ای روا یی جن سے مھا ہکرام
یضی او ]ٹہ مکیحظمت دشمان پ رت فآ ت ہ ان سے جنا مودووی صاح بکوکیوں
دی ے؟ ان کے کی سے ان ےکس نین کی دشاخت اورکس وو یکین
ہوئی ے؟ ورای با و ںکا کرک کے مھا کرام پراخت راف تا مکر نے می ابسخت د
جماعت اور *۔لان مودودی ٹل ری اختلاف ہے اور بات ٹل اختلاف
ہوجاۓے ا ےق رآن وعد یٹ پر کر کےئ اور فا وکا فیص کیا جانا ضردری ہے۔ ہم
ایے الزامات در اور یکر ن ےکی عمافحت ق رآن وحدیث سے چیہ ای مان
کہ چچے ہیں کن بی جومودودگی صاحب تن ےکا رت روایات میں موجودالیی
تاب اعت را با تکوردکرنا ورس ت نیس اورلسی حرث یامفس یافقیہہ نے بیقا عر ٤ک
ٹپ یھی سکیا ذ یمودودی صاحب نے فلطکہا۔ ال کیا وج یا تا نکی جہالت اور بے
ھی سے ۔ کے ہیں می یس جا تا انہوں نےمتما نت کی اط رجات بو یھت
وٹ بولا ۔آ ہے ہم قاع کل یح ین میں ےلیم مور شار حم سلم عطرت
اام یبن شرف نو وی رم علیہ کالفا ا می کر تے میک کیا ددایت
یس اگ رکوئی حقائل اعترائ بات واردجوجاۓ شس سے مقام سحابہ بر ف1د
(۸٥۱۷۱٥٢.۰0
38
اس ےکی دو رک یی گے۔اما فو وی رم ال لیف ماتے ہیں:
قال العلماء الاحادیث الواردۃ التی فی ظاھرھا دخل علی
صحابی یجب تاویلھا قالوا ولا یقع فی روایات الثقات الاما
یمکن تاویلہ۔(شرن سل مکناب اف ال باب نذا لگ بے بجلرہ٣۸ءء)
ترجمہ:علاء کچ ہی ںکرشن اعادیٹ شس بظاہ کی صحالی پ7 فآ ہو
ا کی تاویل داجب ہے اورعلاء کے ہی کہ روایات م سکوئی لی
بامتئیں ہے کی ماوبل شہو کے۔
مودودگی صاح بت رآئ وحد کا عا لم اوراسلامکامف رکہلا نے کے پاوچود
کی ایک مد ٹف یافقیصہ کے :ام سے بھی نا ہرکرر ہے تے اورتا دی سے
انگارکرر ہے تھے جیما مد ین ححفرت اما فو وی نے تال الما کر تادیا
کرای ای ےک عل ہیں جتا یکوداجبکہہدہے ہیں۔
اب لور وضاحت دی ےئ سس مکناب الجہادداسیر جا یکم ا سے
حدیثموجود ےکر حخرت ععباس لہ نے ام رالم وین طعطر تک رفا روق اد ے
حر تی نشی یی کے تا قںکیا:
”اس بی وَبَيْنَ هد الگاؤب از ایر الْکَائی“۔
(زئ مل بل صد)
تمہ میرے اوران لبچھو ئے ؛پجم۷ دجو کے باز مائن کے درممیان فیصلہ
روچ
مد پیل حضرت اما فو وگی رت لیا کشر مرف ماتے ہیں
تھ جمہ: قاضصی عیائ ن کہا مار زی رت اللہ لی ہکا قول ےک
عد ی کہ مر الفاظ کے ا ہری طور بر محخرت عباس نہ کے شایان شاان
نیس اورجخرتمی حنلزہ ای سے بہت جلند مرحبہ ہی کہ ان یس الن
(۸۸٥۱۶۱٥۲.
39
اوصاف شی سےئجنل ہوں چچہجا ئک یسب (اوصاف ان شش ہوں)
اگ ےم صرف نی اکرم دخ رمم ایام الام یمعمت ہل
نین حعرا تا برکرام چو کے سات تس ننین رکنے اوران سےتام
اوصاف رذ یا نٹ یکرن ےکا ہی عم دیامگیا اور جب اس عدی ٹک
اوبلی کےمارے رات بد ہو چاتحیں گے ہم اس کے ویو ںکوگھوٹا
قراردےد سی کے نیزفرما کرای سجب سےٹتق لمح رخین نے اپ ےك
سے برالفاظ نا لگگیادیۓے-
( سکم شر نودی جلداصفہ تاب الہادولس با بی ی)
سبحان الا کیاشمان ہے صھاہرگرا مکی اورکیاقام ہے سحا گرا مکاکیکوگی
جج روای بھی ا نکی عم تک روح نمی ںکریتی _ ا نکی حظمت ق رآن بیا نکرتا
ہے۔حدیث پاک میا ن/ نأ ہے۔اہناکوئی ایی حد یث جوصحا کرام رشی الڈٹج مکی
٦ا عفمت وشان کےخلاف ہوا کا تاد لک جائ ےگ ىا اسے درد ردیا جات ےگا۔امام
و وی اور ضر تم ضی عیاض کے علادہ در علا مکی نر ات ا لک وضا ح کس
کائیں۔ْ
اوراما فو یکی شر مم کے حوالہ سے مشکوت باب منا قب صظ سے
عاشی..٣ پہ یوں مرقوم ہے۔ یہاں صرف 7 جم شی نکیا جار ہا سے اصل عبات
مضنتقرات ا ہس قت کے باب یں ملا حرف بامیں۔د بے
”شرب سکم میس(ا ما و وی نے )ف مایا خوب جان لوک حابہ
کا مو برا پھاکہنا رام ہے اور ہت بگی بے حیائی ہے ادر ہا رانھ ہب
اوج پورکانم ہب ہہ ےک( مھا یکو برا چھلا کی )ا سکوکوڑے ماارے
چائیں اوتض مالک 2 کت میں ا لکیا جا ےگا خسف دد
من تخت حاشرر< و وی شر ح مل لص ۳۰۰٣ با ٹریم سب نسحا بی لنٹ م)
(۸٥۱۷۱٥٢.
40
اور د یئ امام أححد شین حقرت شاو وی ال محرث دبلوگی رمع اشطے .
الد کے میان یف مات ہیں۔ یہا ںبھی صرف ت جم کیا جات ہے_ ال"
عبارت مضتقدات اللسقّت بی یں دنگھیں للا جظ ہو :
”اود ہم ما رکرامکا ج بجی ذک رک یں خی ری کے اتد ہونا
جاپیے دو سب ہمارے دی بیچوا اود تتطرا ہیں ان می کسی کے سار
بتقی دی رگنا اورا نک کی بات ٹن نک :ایال بر پھ اکنا سب تام
ہے کم پواجب ہ ےکپ انی یم وگریم مالاتے رہیں“۔ لت ای
مفرق ان مل نامح خی بش حلوائی رخ ال علیففقل فرماتے ہیں -
”شر فقہ ہز رککھا ےکحضود بکرم پڈالاکے جرسحالی
ک تکرہخہایت ادب واتزام س کیا جا خواہ ایس الع جعخرا ےکا
کوئی اکام پپند نی ہو ۔کیوگان کے اشنا فات اجہتچادی تے ا
نے حفرت امام ان پل رح اللر علیہ سے پو چا
تعظرات صعابہ کے جنگ وجدال کےمتحلقآ پکیا فراۓ یں۔آپ
نےفرایا”ِلٰك اه قذ عَلَی لھا مَا کُحبَتْ وَلَكُم ئا
یتم وَلَاتْسْتلُونَ ححعا کالْوا مو 6 بیامتتی ج پیلگزر
گان کےکاما نکی ےنم ان کے لیس و چھا جا ےگا 7
قاشی ٹا ءال انی رع ال علیہ نےتخی می می سککھا ے
کاصعحاب رسول ام کے تمام عادل ادرمتصف تھے۔ اگ لی ےکوی
لٹ +وئی بھی تذ اللتھالی نے آکیس محا فکرد یا تھا۔ وہ ای اور عاصی
مدرے تٌے۔ ووتاب اور خفوررتھے نصویش قرآلی اور از امادرےثٰ
اا نک لمت کےگواہ یں (لتا امام زم العاو س۸۷۸۵ ۰۳)
معلوم ہو ہےم ولا مودودٹی نے حر شین ومفس رین اورفتہا کا ام تل
۰ًٔ و٤
41
تق نع کےطور پلیا ے ور قداتہوں نصب سے الگ راس اخقیارکیا ےاور
اکرئیں دای علاء وع شی نکا اترام پوت اپتی ڈیڑ ھا ءن فک سحبدرا نگ نہ بنا تے_
ہم نےکئی حح شی نک یآ راء یڑ لکردئی ہی ںک موا ہکرام ریضی اںڈ مکی عقمت دشا ن
کےخلا فکوگی اعترائ سی عدریث ش لبھی وارد ہو مد شی نک راس تا وب لک کے
اے وو رکرتا واجب جائتۓے یل اوران سب سے الک راست ڈیا لیے وا لے مودودگی
ا صاحب ای یکوئی ضرورت: سد نی کرت پھرد کین دوفر مات ہیں :
نے ا با تکیبھی ضرور تنسو کی ہو مجن وش
مرگ جاتاہول ان یکل کی فاطیو ں کا ہکا رکروں۔ لیپ پو تک ے
اناپ وں یا غیرمقولماویٹی سکرکےا نکوؤ خاب تکروں“_
(خلافی گے ٣ض۰٣)
افسوں مورورگی صا ح بکوت رآ دجر ی ٹکاکلی اترام نی ںکرد گاب
کرام شی ایت مک لیم وک رکم ہل میں دوقو بک خود جج ھت ہیں الرامات عاکد
کرتے لے جاتے ہیں ۔تیسرے خلیۂ راشدرسیدن عثان ذوالنور بین حول کے بارے
میں تھایت بےادل یکا مظاہرہکر تے ہو کے ہیں کہ
”حضرت عثان یی دکی پا یکاہ لو اش فی تھ'ادرخل کم
بہرعال فلط جے خواو دی نکیا ۔ ان لکوخو اہن اہک اشن سازیوں سے
سج حا رن ک کش لکرنا نل وانصا فک تقاضا ہے اور دن یکا
بیمطالہ ےکی صحا کش کی نہماتا جائے'۔( ات ریت )۷١
مودوگی صاح بک جسارت دیس ےک ہتسرے غلیفہ راخر سینا خّان
والنور بن ملندشن کے پارے میں جناب رسول الد ہلگ نے قرما اک وہ فتتوں بس
بھی ہدایت پرہوں کے بگم یگ فریا۔”غَلِیْكُمْ بسُيِیْ وس الْعْلَقَاءِ
الرَاحْدِیْنَ الْمَهَییْی“۔ ]یم پمیر یا او دم رے پرابیت یافت غلنغا داش بی نکی
(۸٥۱۴۱3٢.
42
سن کی پابندی ضروری ے کٹل زبان درز یکرد ہے ہیں۔ وو جنہیں حور
علی اص والسلام نے پادکی دمہدی فرماا'أٹھی برع نکر ہے ہیں اور تر ت نز ال
بات پہ ہ ےک کودہ الا اعاد یٹ مارک یکا عم ہونے کے جاو جو دکہسد ہے ہیں یی دی نکا
مطالبہ یی کی سحا کیم یکوعی سہمانا جائے مو ری مول نا مودودی دن
کی کوک ہیں؟ ارے نا متا مطکران اسلام !اللہ ورسول پلقا کے ارشادات مارک
ات آن دحدیث اکا نام دع ہے کور اعادیے مارک پھر یھ شای ہیں ۱
اتانس ہو جا ےکرد ی نشھہیں اس جرات اوردد دہ ٹوٹی سے رتا ہے یانییں۔ہاں ٰ
اگرآپ ارشارقراو ”مم الْكم میقم لاجم (دقر ۸ تن
بہر ےگ گے اند ھھےت پھر وہ نے وال ےیل“ ۔ کے مصداقی ہو چے ہیں آپ
سے ور اد ہک تی ۔د بین اسلام نے آ پکواس بدڈہالی سے دہکا ے-
آپ ض رکیل اورآغرتکاخوف ندکھ یآ پک متی۔ 7
اور چہا کک مرن کے اعتراضا کا بات بے ا لکی عقیقت جانۓ
کی دی ےگ الا مت جقرت شاو ولی اللہ رتمت اللہ علی اہ بی لف اعتزاضات
کے جوابات دتے ہو فرماتے ہیں۔
”ان اختزاضوں مں سے (جوحضرت عثا نفنی یہ پر سے
جات ہیں ایک میس ےکی آپ نے صا برکوقلومت سےمزد لگر کے بی
یہ کےلو جوانو ںکوج نکوسجقت اسلا مکا شرف حاصصل نہ تھا مامو ریا
خلا آپ نے بصرہ سے ابو مو یکو مرو کر کے عمبداشہ بن ای عاھ رکو
مفررکیا اور مر سےجمرد بن ھا لکومعنزو لک کے مبداوش جن ای صر کو
عائل مق رگیا-
اس اکا لک جواب مہ ہ ےک زل ونص بکوخدا نے غلیفکی
را پریچھوڈڑدیا ہے ۔خلیفکو چا ےک مسلمافو ںکی اصلاح اور اسلا مکی
:
۱
۰ و٤
43
ٹھر بتک یچک رکرےاورا اسیو رونشس سے جوراۓ پا ہو1 پل لکرے
اکر ا لکی راۓ درست ہوگی ے ال لکو گنا خابت ہوگا او اگ ا کی
بائے نے خطا کی ن2 اس لکوانیکٹو اب ہوگا۔ ربمون رسول خداباے
حد تا کت گیا ہے۔ او رآنحضرت پل مصلح تکی وج سےبمھی ای ککو
مز یکر کے دوسر ےکومتقر دکرد ہے جی ان لٹ الصار ے
نا نکسحد ین عیادو سے ایک بات پر جوا نکی ز بان ےئگ لگٹھی نے
ران کے ےق بن سع دکودے دیا_ اور یی مصسلح تکی وج ے
مفضو لکومقررکر تے لی اک اس کو داش رکیاا کیا تہاجر بی کون
کا مات ب تقر رآپ ن ےآ نع ری کی تھا۔ ای رس س|خیین نے بھی
اپنے ز مان خلافت می سکیااورحخرت عثان کے بددیی ال لی شی اوڈنت مم
اور دنر فطا بھی بییشہ اس دستور پگ لکرتے ر ہے۔ انا حضرت
زوالنورین بھی اس محالطہ میس باز پیںنمیس ہویتق۔ اگ رآپ نے
مصلوت ام یٹ سےسیتو جوا نکوما موداورکن رسید مھا یکوستزو لکردیا
ہو۔ نمائ سک ران مشالوں میں مج نکوممت رین ٹن کر تے ہیں تو جال (خور
ولک ) کے بحدآ پک اصایت رائے رون رش نکی طر نمایاں ہوجانی
ےکیوککہ رای کک زل ونصب سے انس یشک رکا ختلاف ر کرت مظور
تھا بای تۓ اشی کان کرنا لیکن ہوانےنفسانی نےمت شی نکی نگاہوں
کواندھاکردیا ہے" (وزفۃ ال ارددد عف۹ ے٣)
”وو ری رتس د جا ات جنکوائلج رن تق اق لکرتے
ہیں لا بیت الما یں اسرا فک تا یا ولک نا نا و خیب رہ۔ گان ڈل
ےگحض الیل دروغ ( جھوٹ ) او رف وروغ سے نے ہو ہیں
اس لے ا نکش لکر کے ہم اپے اوقا تک ز یز ضا اک نیس چا ہے“
(۸٥۱۷۱٥٢.
44
(ازل اض روم ۸۸۱)
سیدنا عثان ذوالنوربین لہ سے یت انسا نکوئی نا (اجہتنادی با خی مر
احتبادکیا)سرزدہوگگ یکیو اتال پٹ کا ہے۔ دو خلیۂ راشد ہیں امت
کیل ا نکی ستت پگ لک لا زم ہے۔اورای شی اتک نونجرک ھی سے اور ود
فتوں کے درمیا ن بھی ہدابیت پر ہی تھے۔ چنداعاد یٹ مپا رک ملح فرب ” شسں۔شا
وی ال رٹ د یلد رحمت ال علیٹئقل فرماۓ وژں_
”حخرتعثانکنی و نے موم الدار (ماصرہ کے دن )یش
میا نکیاکررسول خدادلققا نے لوگو ںکی طرف دج ےک کہا کو ن ننس ان
لوکوں ( جیش لسر )کو سامان دیتا ہے خداا کوٹ رے۔ میں نے
سب ومن دی ہا ںت کی یکودی ہار کی دی لوگوں کہا
اں۔ بعد بیث احف ؛ن تی اور ابو بدالرتن اور ایویسلمہ من عبرالرقٰی
ونیم سے مردئی ہے یف ط لی اس کے بفارکی وت ری یس اورشن
نمائی و یرہ یش ڈذکو ہیں مبدالشکن این خیاب سے اس قص ریس مردی
ےکنا ہویںی ن ےکمایٹش نے رسول خمداچڈ کو د یلما ۔آپمنجرے از
رہے تھ اورفبار ہے ےمان جھپھ اس کے بعک بی ان کول
تر نیل او بد الکن ب نرہ سے اک قش مدکی ہ ےک رسول غدا
نے دوم رم فرمایاکخثا نآ رع کے بعد جھ چک ریس اا نکو ھتان نہ
با کا تر فان ا کے کیا '9(ازد۔ ا رود ددم ے٣م)
”جاب جن عطلی سے مروئی ےک انہوں ن ےکہارسول خداپاا
نے ضرتعثان سےفر مایا اےعثان !” خدان شہیں بش دیاج یتم
نے پیل ہکیا اور جو بعد می سکرو گے اور چوغم نے پچ اک ارکیا اور جوم نے ظاہر
سکیا اور جھ چھھ تا مت تک ہونے والا ےا سکو یٹوٹ نے اپ ےم
(۸۸٥۱۴۱٥.
45
جیا نکیا ورہن خرف یبد ن ےی ا لکینخ کیا ہےاورانہوں
نے اتااورزیادڈ کیا وَمَا کان وَعَا ہو گازن سجن جو ہو چکا
ہے او جس رہ ہو والا ے (ازقی اق اردد روم فر۳۹٣۔۳۰م)
نز ہم نکحب نے خطیہش بیا نکیاک ہاگ رسول خدایڈ
سے میں نے شس ہوتافطدکھٹرے ہوک نہ میا نکرتا۔آپ ہلپلان کش لکا
ذک کیا اود بیال نکیاکہدہ یہت دق نز دی کآنے وانے ہیں ۔ اس مل
ای کآ دی چادر سے مد لیے ہو للا آپ لٹا نے فر مایا اس دقت سے
براہت پر ہوگا' یس اھک راس کے پا لگیا۔ دوعثان جن عفان ے-
مس رسول اللہ ولالاکی طرف موم ہوااور پچ بچھا یی ؟ آپ نے ف رما اکہ
ات مھکیانے اک ححد یی کوک ک ےہا اعد یہ روگ
(ازت خعا اردوددم“فح ۳۴۱ .تر نکی اواب المنا تب )
”عبدالن من نے اپے والد سے طول قص مرن لکیا
ج ےکی بن عاطب تن کھا۔ می سکیڑر ہوا کہا رالم ومن (حضرت
لی طل) میس ھ ینہ جانے والا ہوں۔ لوگ ھ سے عثان لن دکی بامت
ددیاف تک میں گے یں ان کےےحقی می سک یاکہوں ۔ مھ ین عاطب کچ
ہی سک ہعمار بن یا راورھ بن ال بک نا خوش ہو ے ۔حعق تک یکرم الد
دچہرنے دوفوں ےکہا۔اے مار !ا ےھر !تم عنان کےقن میس کچ ہو
کا ہوں نے اپ ںکی پا صدار کی اور بی ط رح عکوص تک ا ورقم نے
ان سے بدل لیا سے اورنقرجب عاکم عادل کے پا جا کے ووتہادا
فیصلہکر ےگا۔ ھ رکہا۔ اے مھ من عاطب جبغ یش چا اورلوگ
عثا نکی یا مم سے دد اخ تکم ین کہناکہرخد یحم ددان لوگوں بش
سے تھے نکی بیعفت ےک ”الذین آمنوا ٹم اتقوا وآمنوا ٹم
۷ “٤
46
اتقوا واحسنوا والله یحب المحسین ٥ وعلی الله
فلیتو کل المزمنون“۔ مجح وولوک جھا یمان لا ے پچ رپ ہیزگار کی
جرابماان لائے جھر بی زگار کی اود اضا نکیا اور خدا اما نکھمرتۓے
دالو ںکودوست رکھتا سے اورمونو ںکوقدای پربگرد سک رناچا ہے
(از مع اق ارووروم/لں۴۷۳)
لن نموم مودودی صاحب نے محقرت شاہ وکیا حرث دہلوئی رم
ال علی لی پڑھاے پان ساورا کان نف جا تکوکی د یھا ہے یا ایا ران
ےل مھ بھی اہک یرک سای کر یتین ای رن ود ےکی
ص رم ہدیا تل ہومیں اورقدی علا ۓے دی نکیھر بحات پیندآ میں اورشاید کی
ہگ کانہوں نے بقول نود درد ے جانے کے لان فلا سلط تی ردیا تک
7 قرآآن وحد یٹ پ تپ دی ادراللادرال کے رسول بل کےاعاما تککوئ روا
1 ۔ عالائکہم کن ق رآان وعد یت کے بت نے پہایان رکتا سے کرقرآن ر
عدثکاقالف کات اون اتآ دعدیث ےم لیے ہ
خدادرسول پل پر ایمان لان کا تقاضنا گی با ے۔الشردرسول پچ کے فیملوںکو
نی ن ےپ را یادہ بے ایمان بی مر ےگا۔
ی ںکوئی بھی اختلاف ہواورکوئی بھی نزا.] ہذاس کے کی یا خلط ہون ےکا
یملق رآن دعدیٹ ے ہوگا'اور ہردوردایت اورنظریہجوق ران دعد یٹ کےخلاف
ابت ہوجاۓ اسےدکردیا جا ےگا ۔کیون ہاگ رق رآن وعد یٹ کےخلا ف سی تا ری
ان پراتتادکرل گیا ای ےق رآئن ودب کی سذ یب لاز مآ ۓگ اورایا نکا
خمامہ یو جا گا گیا مؤ نکیلهق رآن وعد یٹ کےٹیصلو ںکوتارینی روایات پت چا
دنا ازم ے۔ الہ اگ جار قرآن و عد ی کی تا تی کر ےق پگھرکوئی نزاع اور
اخ تلاف ب یی لہا یقول ے اور 7 آن دصدیث سے رجو ںخکرانے ےمقصوبچی
(۸۸٥۱۴۱٥.
أ
47
ٰ ھی ے۔
مفسرق رن حعضرت علام اوال سنا تس دشا تما درگ محمت ال علیف مات ہ[ں:
”اص لعقیرمگ 4 سے کب سے مقد مق رآ نک ریم ماما
ج پا ہے۔ااس کے خلاف جس قد باتں ہوں ا نکی طرف التفات یئل
ج جائ یں ۔ چم رعد یت وی پگل ضریری ہے گرا کے خلا فکوئی
ارح دی ہو روک ال ۃ قراد پالی ہے۔اس کے بعد جوتا ر5 اور
ملح الے ہیں ش نکوقرآآن وحد یٹ کے مق بمہ میں ما نۓ ےنت
اخبارق رآ اورفرمان حجیب رعالٰ ازم تآ وا کا جاحاے'۔ -
(اورا )ص۲۹۳ گ
صحاپاتریف
۲ ضر ت لام ہا رہن طرازہیں:
ضَجبِ الٍَىٌ صَلّی اللہ علیہ وَمَلَمَ آورَاهُمِنَ
وط مِنْ اَصحابہ“۔
( ہخا ری ۵۱٥۱ با بخضال اصحاب ای و )
تزجں: جس ملمان نے تضور نی اکرم ولاک محبت اخقیارکی یا آ پکو
دریکھا ود ہآ پک مال ے۔
اوزعاف الب بیث علامہ ای نتج رحسقلا یٰ رحمۃ ال علیفرماتے ہیں:
یا و ار ںہ رر گے
''مُوَمَیْلیٔ اَی صَلی الله عله وَعلی الہ وَصَحٍْ وَمَلَمَ
ومن یه وَمَاتَ عَلی الْإسْلَام الخ“ شر خی شکرس رقگل+دا)
جھہ:(عھاپی دہ ہوتا ےکس نے ضور خی اکرم ول سے عاللت
ایانم طا تک ہواودا سلام راد ت ول ×۔
(۸٥۱۷۱٥٢.
48
رن جنابپ شقی اما انی بدایٹی رم ال علیذرماتے ہیں:
”صحالی دو خوش فحی ب موی ہیں جتجول نے ایھان و شکی
حاات ٹ تضورسید عالم ”چاو ای کرد ھا سج ورکیصحیتنعیب
ہوئی را نکوا یمان پرنا تیگ تعیب ہوا“( رمتا وی یا ای نیل۰
ایعلر مض رت رن مول :اعم بی بش عوائی سکتے ہیں:
”مھا ہنی خخصیت سے جس نے دولت ایمان حاصم لکی
او مور نیک رکم پل کی بارگا ہٹس حاض ہوک شرف زیارت حاص٦ لکی پھر
آ نرک اس ایھان دایقان پرائَم مد ا“ (اتارالامیآنمالماریل::)
لمد یضر تام رمعادییہ لہ سال تحرف رفاظط ےصاد قآن
ےاوریتقیاً آتے پ تاب رسول اللہ ےیل القد رای ینا اق ر٦ ناومدیعٹ
نے عحایت کے جس قد رفا جیان فرماے ہیں" دو سب کے س بآ پکو ماگل
ہیں ۔ق رآآن دحد یٹ نٹ واردہونے وا نل فضائ لال اح اط م ئا ہزم
ان بیس ےم فضال پر رشن ڈالے ہیں ذوقی وشوق سے ما فا گے 'انشاء
الایمان تا ز٠× جاۓگا_
صذا تاب ال کات رآن یا نکرتاے
اتال قرآ نکر یش اپ حجی بکرم علیہ ااصلو الیم کےمھا کرام
خل کا صفات مان ناج ہے دس
یو کے رھ
مُحَمَد رَسُوْلَ الله لہ ۔ وَليَْ َقَيڈا علی لکفرِرَعَناة
نهُمتَرهُم رك سج تسین ال ررِمْرَن
سِیْعَا٣ُم فی وَجوههميِ او السُجُوّدِ + قَالِكَ مَنَلّهمفِی
الورَاے وَعتلْمْ پی انیل عج گززُع حرج شَطُتَه قازرَۂ
۴ و٤
ِ
٠
49
اف قَاسَْوٰی عَلی سُوْق يقَجبُ از راع ندم
لْکُثرَ ء وَعَدالل لین امَنوا وَعَملوا الطٌلتِ مِنَهُمْ
مَغَفْرَۃً وا 7 را عَظِيْهَا راع ٴ)
ھجم محھ اش کے رسول ہیں اوران کے سا وا ےکافروں پت یں
اورآ یں می رم و ل نا و یجھےگارکو عکر تے یرے می کر تے ال کا
ففل ورناعا جات سا نکیاطامت ان کے پچروں یش ےکروں ت
نان سے با نکیا صقت تر یت مج ہے اورا نکی عفت اگل مِں
یے ایک کی اس نے اپناپٹھا گالا راس طافت دکی پچلرد ہز ہوگی پھر
اپہاق ہسی یگڑی مو کسمانو ںکیھلگتی ےج ا۔اناےگکافرول
کے دو لپچھیں الد نے وعد ەکیاان سے جوان یش ایان اورا کا موں
دالے یں" شش اور بڑےٹ اب کا۔( نزالیان)
در ثڈلی ل امام ای ن جرگ رت اللعلیرفرماتے ہیں:
ظ بای تج ائیم مطاب تل ےڑا ان نا پور کی _
”محمد رسول اللیٴ ہجو د کوائ کرنے والا الد
تی کے اس قول میا نکاگیاے۔خُوَلَِی ارْسَل رَسُرْلَُ
پاْھُڈی وَدیٰ الحَقِ ِبْهرَة لی الین کل دوگٹی باللِٰ
شیا“ ا قول می سو لکرم پلک متاح ری فکاکئی ہے پھرآپ
کےامحا بک حرف ا رقول لی شے٤۔:”وَلَبنَ تعةایلاءُ
عَلی١ یی ار رَحَمَاء يك“ لی اکک را تھالی نے ضر ایا:فسورت
ای الله موم یم تذل لی المؤمنین اعزہ علی
الکافرین یجاعدون فی سبیل ۵ك ولا یخافون لومة لائم
ذالك فضل الله یوتی من یشآء والله واسع علیم“۔
(۸٥۱۷۱٥٢۱.
50
ال تال فربانا ہےا نکا ھت اور فا رکیل سے اوران
انا شی ءھ بای اود ھا جم ون نکیلے بے برا نک تم ری میس
فر ماج ےکردوانتھا نی ےل ورہعت اور کی رضامندی ےتصول
کیل الا اور بٹئی امیر کے راتھ بن ت اعمال بچالاتے ہیں اوران
کےا مال صا کے افخلائ ک ےآ ران کے چردں پرنایال ہیں یہاں
ت کک ہج شیا نے ا نکاطرف دیکھاان کے سک نک عمات رایت
نے اسے تر نکردیا۔ مقر ت امام ما لُک ہف مات ہیں:
شھے یھی ہ ےک جب میسائوں نے شام کے ہے کرنے
وال مھا برکودیکھا ق انہوں نت ےکہا خدایاشم!حواریوں کےمعخلی جر
ایل کپ یں بین سے بب ہی اوران اکاہہ بات بالکل کے
کیوکگ را امت گھ برا رتصوصا سحا برا مکا کن می بڑیکظرے
کے ساجح دکیا گیا ہے۔ یی کہ ال تھاٹی نے اس ایت میں فرمایا:
”ذّالك مثلھم فی التورا ة وہثلھم فی الانجیل“ ؿان ے
اوسافکا کر رات مس ہے اورائیل ملا ن کا ذک راس رح ےک
یی ےق اناگ بھا ثکالقی ہے پھر اسے مضبوط بنا ہے رود موا ہوکر
ان بوجاتا اور ہونۓے والنےکواپتی شرت وقوت اور۱٢ع مظرے
جب ڈال دییا ہے۔ ای رع رسو لکری پا کے اصحاب ہیں
لٰ انہوں نے رسول' 0ئ مدکی اورا نکی دوک اور
مرح گا بھاکھتی کے ساتح ہوا ہے اسی طرم صحابکرا مآپ کے ساتھ
رےتا اک کفارا نکوو 7 کک رغیظ وغضب ش٦ یت
ا لآ یت ے ماما لکن روافل کےکف رکا مفجوم اخ کیا
ہے جھآپ گی ایک ردایت شس بیان ہواہےکیوکہ یلوگ صا ہہ ےےفحض
(۸۸٥۱۴۱٥.
51
رکتے ہیں (ححخرت امام ما لک ٤ف مات ہی ںکیونک ابا نلوگو ںکوقصہ
ولا تے ہیں اور یش ےا فص دلامیں دءکافغر ہے۔ میایک ابچھاماغذ ے
جح سی شہار تآمت کے نا ہری الفاظط ےق ہے۔حعفرت امام شافق
نےبھی روافأ کےکف ری آپ سے اتا کیا ہے۔ ای طرع ائ کا
ایک جماعح تھی ١اس ما می سآپ سےتطق سے“۔
(افص راع ن حر تاررؤل۹۵٦-٦۹٥)
۱ ایام پپسف بن اسائیل ٹچھائی رق ال علیہ دنکرفو (۹) آیات مقدس کے
سادا ںآییدکر یئ کرت ہو نے فرماتے ہیں : ۱
”وا ر ےکر حقرت الوکرصد بب رفاروق معثان ٹن گل
لتفٹی بفلیاورزیی ری ا نتم یقن ا نآیات مقدس کے معماد یق ٹش
شال ہیں ۔حضرت ما شرشی اللرخنہائھی ا نآیات کےگوم مل دائل
ہو ںکیونکہ یصرف مر دصحا ہکرام بی یچ کی ۔ ای ط رع صحفرت
امیر موادرراو رن تع بن الحامل یی ایڈتماشگی با شبران ا کٹرآیات
سےمغ مم ومصداق میں شال ہیں جوسابشین اون کے ساتجھ نما
ٹیں لان برای ےکہ جب بادشاو اپ رحیت کے سا اکر دوک
ریا نکرےاور الا بت ظا ہرکر ےق وہ ری تقو لکن ےکا ہجاۓ
زرا روہ ےحےخخفض وعدا وت ر کے اورا نکی خرمت زبا نکھو گی“
ای مہو ایک اس طرزگل سے پادشا ہی خوشوری کے ہز وارہوں
کے یاتاراشی کے؟ بلاشیہ ریلاگ بادشاہ کے قروفضپ اورنا رانشی کن
دار ہوں ے اور یمالک بات سے جس میک ینف رو تلم جک تیں
بسک
پچ اس کی ان لیکو ںکی ات کا جوش ھا ملق (اللر
(۸٥۱۷٥۱.۰0
-2
تھالیٰ کی اس جات مم حالف تکر ے اکددہاپے پاکپاز ہنرو ںکا
تحریف ف راتا ہے انی پرواجہ رضاعط ارتا ےکیائکن ےک( مواز
الال تا ی ان سے داش ہونے اورا نکیتت ری فکرنے می پٹ پر
دا ( کنل ) پل رفیصل ہکان ےحبت رکف چا ہے بانفرت و
عداو تیلہا لک ار وماان ے راضی بھوئے اورا نکومژاوا راطق و
کر مہ ران ےکا مر اعلان ٹر اچ ہے اورکیا ان علض وعراو یکو
جیا عائملی ہ ےک۔الن پا لن امم تک ت رآ تم ریف ننے کے بعدیی ان
کیاشان ش زان ددازیاےلام۹٭ى٭ہ
تال یکا صحا ہکرام شی الم سے راشھی بہونا اود ا نکی
مر دا ءکرن ابدالا یدک کلام شی قرآ نکی میں عابت ہو چکا
ہے ادر اللہ کےکظا موی کلام مضفسورغ تی کرس اس اعلان ربضا کے
وقت ال تعاٹی سے یہ بات گی زی یک مھا ہکرام سے ستقبل می ںکن
ا عمال واقوا لک صدور ہہو نے دالا تھا۔ اس کے باوجود ا کا ان رے
رائشی بہوتا اوران ےت می تو یل لمات فربانا اس با تکی دی ہے
کہ بارگادالی ںا نکابڈامقام ہے۔ اس لے چم پرلازم ہ کال کی
رضا اور ھب دشا شش ال تا یکی اطاعح تکر بی اوراعقا رگا ںر
بارش ان ےکوئ یگ یکوتاہی صادد ہو ہوفو وہ اڈ تا کی دع
ربعت ومففرت مم ںآ گی ہے دہ اس پرگ رط ت نال فر ما ےگا یا ای
کوتا کی تاو یکر کے ا اہر سے پھیرکر ا ککاکوئی ہل مل شک رتا
جا ہے بجی علاۓ اہسقتلکا بمیش سے دتیرہ رہ ہے اور ا کی جار
یا اکرم ا کے اس ارشادکرائی بھی ہوثی ہے ۔آپ ڈلانے ابلل
0 یی اک ۲چ سفات می دا دوک اوردیرعلاء ےق لکر چے پر ٠
۷۴ً “٤
53
بدرر کےےقی میں فرایا:
وا بَِبْكَ لکل الله وَالَكعَ علی اي بَذرِفَكنَ لم ارْ
تھ:کی ںیاپ ھاشعاٰ نے ال بدد وی ڈگاوکرم فرمائی اور
ان سےارشادف مایا ےا بدراتم جو چا ہوکرو ھی بش پکاہوں-
سی بات بت دق ےک ہحفرت ااوبکرہ ضر کرو تضررتں
لی راو رتعفرت ز ہیر خی ہر دکی ا ب ہیں اور دای لوگ ہیںششن سےائل
فخکوعراوت ے۔
یىی فضال حفرت ما فی لہ (آ پکھی ال بدرش
خائل ہیں) کے ہیں“ لا انہوں نے خزة توک کے موق پمیشل
حسم تکی تیاری شش سمات سو( ے) اونف مخ سامان د پالان دتة
اورایک ارد ینار بارگاورسالت میں یی کے نی ارم پلچگانے خوٹی
سےالن د ینارو ںکواپچھا لیکرفرمیا:
”عَقَرَاللُلَكَ) عُتْمَا“۔
ترجہ :عمان !اتا یہاری مففرتفراچکاے-
رف رمایا:
رج کے بعدعثان سے جو لبھی صادرہوگا اس ےی ںکوئی
خ رڈ پچ گا ین اتال الس پرگرف تن فرماےگا۔ ہے
دوسرری طرف او تی کے اطف وکرم اوراتعام واصا نکی
ےکراٹیو کا تصو ری ج سکی یق تکا اظہارزبان ونم ےکمکن
ںا نے سحاپرکرام رضوان انڈن“ہم سے راشی ہو ن ےکا ڈوک پڑگیا
صراحت ےق مایا سے اوران کے نام لکوس را ہ ےک۔انہوں نے د یت
(۸۱۷۱٥٢.
-<×٭5
تنک حمایت دخدمت اود بی اکر سی ال علی یل مکی معیت ونھرے
یکو یکوتا ین سکی اود جا شثارئی ورس رف دیکات اداکیا۔ ال تال
نے مایکرام کےاوصاف میلازرخی کی وج ے وو ان مین میں
انالفاظ رو فرمایا_
”َيِذاءً عَلی الْكُتَ او رَحَمَاء بَيْنَهُمْ“
مین وکا فروں یت اورآئی مم بڑے رم ہیں
(کمالات اصحاب سول لوا ۰۹۲۰۵ا ارد جال سالیبالہر بی یفخ لحابد اق اعیہ )
یا بکاباھا نک کے
ارب العز ت ت رآ نکرم میس یمان ارگوا یمان و برای تک ول قراد
دتنے ہو فرماتا ہے۔ اک دملرلوک انہیں کی رع ایان مائی نو ووبھی پرایت
پاجائی فرایا:
ااِنْ موا تل .۰ اَم یہ لََيمَْکرُا تد
7 جمہ: با راک دو بھی ایوں ھی ایمان لاتے یا (اےسھاپ!) تما ۓ
جب اد امت پا گ٤ۓ۔ 1
ا لآ ینقدس کےتقت طق ام یارنالن شی ف ات یں:
ست سے معلوم ہو اک رم نی و" ےجنس س کا ایھالنامحابکرام
( کےایمان )کی ر) ہوجوان کےخلاف ہووہکا فرہے ود محترات ایمان
1
٣ وکا قیْل لم انُوْا كَمَا امََ الس قَالو آ ازْمِنٌ گکا امَیَ
المّفمَاء ۔ الا 2 حم المُفَمَاءُ وَلکنْ ِ يَعلمُونَ(لتك*)
تر جم :اود جب ان (مناققول کہا جاۓ ائیمان لا جیے اورلول
(ین محابہ)ایھان لات ہیں کی کیا ہماتقو ںکی طر ابمان نے
۱ و٤
55
1 نہیں ختا ےد ات میگ رجا تن نی کزاومان)
مفس رق رن فی اص یارخان' نشی وریہ را ںآ موک کت تفر مات ہیں:
*معلوم ہواک رادان وی (تبول ) ہے جوا کی ط جو
صحاہرایھا نک یکس وی ہیں جس کا یمان ان (کےایمان )کی طر نل دہ
بایان ہے“ .(نوراحرقان)
صحا بج جدایت کےتارے ہیں
جناب رسول خداععی بکبریا علیہ قیۃ ولنثاء نے اپنے مھا کرام رش الد
عو ہدایت کے تار ےق رمایا۔حد یث پک طاحظہو:
عنْ عُمَرْن گاب قال سیت رَسُوْلَ اه صَلی الله عللِ
وَسَلَميَةَ َقُْل مَالت ری ماف آشخابی دن ٣بَعْدیٰ
لزى او تعقة رق ضعب عنوی رہ رف
الاو بَعْصَُا ای مِنْ ناس لکل رمآ شیا
تمَامُم عو ناكم لهَعِيیْ عالی می قالَ ول
رَسُزل الله صَلَی الله عَليه وَمَ صْتابیٰ كالّجُوْمَِبِاِھم
: تد تم ِكَليئْمٰمکوب:بەیں
تج :رایت ہے مقر تیعم خطاب مل تفر ماتے ہی کر نے
رسول اللہ بڈلاکوفرماتے سناک یس نے اپنے رب سے اپ صحابہ کے
اتتلاف سیمتحلق سوا لکیاجومیرے بعد ہوگا ش وق فا یکاے
مھ ( )تار ےسحا ھی رے نز دی کآسمان کے ارو ںار ہیں
۱ ران کےلتض شنش ےق کی ہیں اورسب میں فور او جس نے النا
۱ سے انتلاف میں سے پچ حص کیا نس پٴ وہ ہیں فذ دہ میرے نزدیک
۶ ٤
56
رایت پہ ہے فرما کول اللہ پللانے فرماا :نمی ر ےسا تارو ںکی
رح ٹیں کم ان مش سے جن کی پروی کرد گے ہداحت پا جن
ھا ہہ کی اورعادل یں ۱
تا عیاداتکا حاص لتق گی اورعدالت ہے۔اکی سے ند کوال تما ے :
تر ای کگگزت وگرا مت اورولا ےت حا 221 ہے اورآھ گ ای گوےاورمظاا ہرے
کامریون مت بلتو اشعاردہ وتا ہے جے اللہ تھال ین ی خر ہائے خی اشتھالیٰ .
پک اک جاور ْ
رَاْرّمَهُم کِمَة اللَقُوٰی وَکَار 7كق ھا رَاغلقَ وا الله
کل شی علا روس
جم اود پہیزگادئی کاکمہان (محایہ) پر لازم فماا ارد اس کے
زیادومزاواراورال کےائل تھ اورالڈرسب پکھچا ضا ہے( کزویاں)
مغمرت لن جتاب من اھ یار فان شی رق ال لی ا لآ مق دس سےقت ۱
فراے یں۔ ۱ :
”تسشن یمان دا خاش ان (سا سے چداہوکای
یا (آیت) مم الن سب کے کن خات ہک شف خرہ کان
صحابرکرام سے دنا مرا ءوفات کے وقت ہق میں اورحش ری تی چران۔
ہو تگا۔ اح“ ایل .نف اتا نیو کےسوایرے
باقام مسلاتوں سے یا تام فرشتوں ےر بڑ ےکرک ل تی کے فاریں
(اورَ ملا ےت فرماتے ہیں ) یسرب تھا نے ان نرک ںکواپے
یو بکا عبت قرآ نکر مکی خدمت اوردی نکی اط ت کی چنا ےگ
ان یس پ گی فقسان ہوتا تال پاکوں کےسردا روب (و کی مرای
۰ٔ '"و٤
2
کیپلما نکاچناد تہ تا موی پرڈیی ش شی رکھاجاتا۔اں کیلع زائ نیقی
ڈبہکتا ے۔خال رےگہ یہاںک تی سے ماد اکلہ طبر ہے ا
وفادا ا مکنا برک ا ای پربیزگاری”وموالظاھر“ ربعالی
02 ھپ یزگاریالاز مکردےاسے چداکر نے والاگون““-(نورعران)
” کوئی صحالی ذاس یا فا نیس سارےمھا نی پرہیزگارمیں
ین اولا لان سےگناوسرز دیس ہوتے اود اگرسرزد ہو چا نہیں ردپ
تزاٹی اآئیں تو کی تو فی عطا فرماجا ہے اوردہ بارگاورسالت مل حاطر
ہوک رت شکر ت ہیں یا رسول الد یھباک فرماد یی ححابیت اوضقی
مع نہیں ہوسکت۔ جیسے اندھیرا اود اجالا جع فی ہو نے ۔ جس طرح
سارے ن گناہ سے توم ہیں الییے ہی سار ےسحارنق سے ماصونعو
محفوط ہی ںکیونک ہت رآ نکر نے ان سب کے عادل تی ہی گار ہونے
11 دای دی اوران سے وعد وف مایا مفقرتو جنع)““_
آگے می مت اور چھ دم رآیاتاخ لکرنے کے بعد فرمایا
”بیصفات ت ناسقوں کے یں ہو گت ۔ ببہرحال سارے نی یم السلام
موم اورسا ہرےگا 7 ےتفوظ ہیں
جار واقیات 8۵ فِصد رلوکیس ہیں۔ جار اپ
مص فک آئتہدار ہولی ے ان میں روافض اورخوار جک آمیشٌش
بہت زیادہ یں ۔جارتی واق سی صوا یکافق نا بم تکرے وو مردوو
سے پر گ77 آن انیس عادل تی فرما ہا ہے۔ق رآن سیا سے اور رتا
مچموٹی ۔مورخ یا ححرٹ یا داد رظن لین 1مان ا گرا ی۷
نے اسیطررع مودودکی صاحب اسلائی تاد ا۹۰ فصمد بلکہ اس ےھ زیادد تص در بابردکردیے
: کے اگ تقر ارد ہت ہیں( خلافت ویلوکی تی ے* احاشی۔)
(۸٥۱۷۱٥٢.
58
فق اتا مکل کو أے ماس مان ےتآ نیکزیبلازم
آ ےگ (اص رتا کپ این 0+7
صاح پیر فیاءالقرآن رت پش گرم شاءالز ہرک رقمۃ ال علی ال
آیت کے تحت ای عال ماش کے بعدفباتے ہؤں_
”صحابرکمام پ یف ازشا تی اڑا تی ن ےی فرماکمیںاجو ٰ
ظا رکا جا نت ہو بن سے تق رہوہز ان نے والےکلما کو سی
لکن نہاں اح دل مس جذ بات واصاسا تک ڈپان ے نا ا ۱
ا
۱
"
آْ
بو۔ عال ٹل وقرغ چم ہہونے دانے واقعات اورروفما ہوئے وا نے
عادغا تکوت2 9ہ جانا ہوک ن تل می سکیا ہوگا۔کوئ یک لکیاکر ےگا
کا سے چپ ضہ۔ایوں اپ یآ گان کی مائی اور مکی نا تھائی کے باعٹ
اکی نے صا ہکا مکی و قربانوں اود اہر وفادار لول اور زبائی
دوئؤں سے متاثر وک انیس شاندارالقابات اوران ہثارات ےٹوازدیا
ہواورال کے بعدان لوگوں نے ای تی کی ہوں ادا یے برائمکا
اکا بکیا دکران القابات و ارات کش ند ہے ہوں اورآیں
انہعارژں سے بعد مل نر مکردیاگیا ہوا اش مکی ایا یی ات
اورشیطائی او کائھی ا سآ خری مل( وکا اللہ بِکُل خَىْء
ڑم )سے نا ترککردیاف مایاا ٹا برچڑکاجا ہے وت۷
ال نکی ےآ تعدہ زمانۓے میں کے افمال ہرژرہوں کے اورمرنے
سے کیاکی ہر کر ےگا شی یس اورسب رھ چا نے وانے تے
اپے عجیب لیب پل کے وفا شعارصحا کو ان انعاماتء اضانات اور
نوازشات سےسرفرآزفرمایا ہے (خیادانترآن جل2ال۵۷۷۴.۵۷۳)
دی بندیوں کےگیمالامت ول نا شرف گی تھا نو ی کے یں-
۰ و٤
.9
”حم تھی شا کا بت می بد افقل واحسان ام تھے کے
ای پہ ہہ ےکہہمارےسلف پ سا اب نیل تکوپ رق ط رع طلش فردیا
کب ال پاعاداقا ق/ یا ُ۔۔”الصحابة کلم عدول
وافضل الخلق بعد الانبیاء اصحاب النبی صلی الله عليه
وسلم “نسحا ریسب کےسب مجر اور ہیں اوران کوک بھی
غیرمس نیس اورقا لوق ش بعداخیا یم السلام ےب ےڈیادہ
نل صحاہہ ہیں ریش ارلتھاٹ نتم اس من ہکا اکشاف ہار ےکن ٹش
بت ای بڑگیارقت ے۔
اوروورشت ہے کال ےمعلوم ہوتا ہےکواق یقن تال
شانکواس دی نکی حطاعظت بی منظور ہے اگ رات صحاہ کےتحلق
بماراىہاعتقاد نہ ہوتا لہ خدان استہ ان کے غی رت رہون ےکا یاا نک
بت خیامتکرن ےکا ھی شر ہوتا تو ش ربج تکاس رانظام ددہم یدہم
بوجاتا تق رآن وعدیٹ دی بابتط رب رح کےخالات دخجہات پیڑا
ہوے آوی طرح ول یکو ا تا ن نیب پت اورسحا کی ہت
ات سلف صا لی نکاریاجما جح سن اعتقادد کی بناپننٹش نود
ان کےاحوال داعمال سےا نکی دیاخت اورراست بازل: یزادنا
الی یھی ہوئی نظ تی ےک یموافی تو موافی ال فک ا کا اقرار سے
ہوئے ہیں جس پہتا رن شابد ہے۔ جس کے بعد تو می ای شہ
کیکنیکٗش کی رات یک ”الصحابة کلھم عدول“
(موا رگناء_حراعظ اش ریہ ۸اض ۲۲۹)
یمیس مہ یا
٣ین ليئہَتَتْشَرْن آْوَاهُمْعِنَ دَرَمُوّلِ لليِأزقْتَ لن
(۸٥۱۷۱٥٢.
60
ڈو 7درود 7:7
تح اللَهكَُوَهمِلقُوی: لَهُم تر رََجْر موی رارری:)
ت ہمہ یکگ دہ جوا پک یآواز بی پس تکرتے ہیں رسول اللہ پچ کے نا .
وہ یں ج نک دل الد نے پہیزگار کیل پرکلیاے ا ن کیل شش اور
بڑاقواب ے۔( (کتزالایان)
”لوم ہو اک حا کرام کے دل رب نے تھو کیل پک ٠
لے ہیں جواکنس فامتی مانے دوائ لآ یت کاشگر چپ“ (نوراعران)
گویا صا .کرام شی یھی ہیں این سے برکی چا اورا نک
عدال تکا اعْزاورگنا م[ تام سحارکوعدول مانا ضردری ہے ۔ححفور نی اکرم رسول ٰ
مم پل ک ےکا ہکرام متی اتمم دو فی صفات لوگ یں جن کے ایھان دا خلا ٠
صدق وصفاءدیاضت داماشت او تق گی و ہار تک گوائی تق رن وحد یث دتے ہیں- ۱
اتاج نکی شان ش”كُنمْ بر امُاَحرِجت َء بنضَرُون الله
وَرَسُوله رك مم لاوز اور مم ازع عق“ ای باتترآل
نا زل فرماکرا نکی سچائی ادرتھمیاں میا نکرناہے۔ا نکی عدالت می کون ش ککرنکیا ٠
ہے۔ یں "الصْعَاَة ]یپ کا اختقادق رآلن وھد یٹ سے ماخوذ ے اور
الحمد لله السّتکا اس پرانفاتی ہے ۔حفرت علامہقا می شا ء اڈ یرد مظ ہر
متا اللعلیکیتخی رمظ ری سےمنقول ے-
”اعحاب رسول تام کے تمام عاول اور متصعف تے اگرسی
ےکوئی لی ہہوئیبھیتی تو ال تواٹی نے انیس موا فکردیا تھا ای
اور ءعمای دردے تھے ووجاس او رمخفور تھے فیس قرآنی اور ؤار
اعاد یٹ ا نکی لمت کےگواہ ہیں“( رالیامیآ نم العادي ا ل۷۷۳)
حقرت امام لوسف بن اسانحل طجوائی علامہ سعد الد بن تلتا زان ےأخل
قرماتے ہیں-
۰ و٤
61
“ال لق کا اناتی ےکا ن تام امور میس حرتملی تٹتاق پ
خھاونتن یی تا عکابعادل میں اورتما یں اوراخ ات تا گل
پڑنی ہیں :ان کے سب بکوی عداات سے مار نی کوک و ویر یں
( مرکا تل رسول ار ددت جم الشرف الو رص۸۴۱۸۱٥)
رت اما بدا ہاب شعرالی رحتۃ ال علیہ سےمتقول ہف ایا:
”تضور پل کے تما صا ارام کے تلق ا نک یگستا نی سے
اپ ذ پان بمیشہ ندرلن چا بے اک وج سے ج کان کے درمیا ن کچھ
اختلاف اق ہوا ہے اوراس بات پرایان رکمنا چا ےک انشنتالٰ ا نکا
اجچادل خطاہّل 7 نکیل ضرورقو اب عطا فرما ےگا ا بات پہ
بن )گل قاق ہے چا سے لن ٹس ےکوگی صعالی تنازعات ٹل
72 شال ہواہواہ ودج سب یعاول ڑج“ ت7 عُلمْْ
غَد لا قب سید ای رسمادیے شبال٣ےکوالنراحد اگ قض )٣۴۰۸
تق این ہہ می اورعلامہاہوش ریف ش لی رحمۃ الد علیکی مرو“ اور *
ا لک شر ” مسامر“سےقول ہف رمایا:
”اہنت وجماع تکا عقید و تاس سھاہ( رضوان الل تا چیم
اشتین) کے وجوب ت کیک ہ ےکس بک عدالت مان ٹا جا اوران
می یکر نے سے ددکا جا اورا نکی ابی شاو صف تک جا ےچ یکہ
اش دتوالی نکی ہے۔ اللہ تھائی فرباا ہے :”یی انیس لوکو ںکیلئے اٹ
گنی ہیں ان تم سب س ےبترم ٗ۔اوزفرماتا ہے :چم نک مکوتوسط
بنایا ےتا تاک یق لوکوں پرگواوم (فل حرت ام رساد ل٣۳٠
حر بت امام بای سد مر دالف ٹا جنا بت اص فاروّی ہنی رق
اشعلیفرماتے ہیں:
۴ ٤
62
” قرآن ومدیٹ کے امام شرعی جب مک جج ہیں ساب
کرا کنل دردایت ادرواسللہ سے پچ ہیں۔ جب صا کراممطعون
ہیں کان 1 الکن زان گی عون متھورہوگی اوراجا ممٹرم کا
. ورواِتی چندسحاہہ کے سا تنسو نہیں سے بکرقام محابگرام
عدالت دق اور وین براب ہیں ۔ لپ کسی ایک عحاپی مس ند
عیب دن می شع وی تل یکر ےکوجزم ےٍ۔والعیاذ باللّٰه
اورا نکا آنیل یش اصول کے اندرکول اشتلاف تہ تھا_ ا نکا ہیی ںکا
اختلا فصرف فروع ےک٥لق رکتا توااورویژض ٹف ساب میں عیب
پ7 ہے س بک متا بت ےبحردم ہے بلاش تا مھا برکرام اصول مشش
اہم پا ئل تفم تھ....ش ریت حقہک ےنتا مھھا کرام ہیں جی اک
خرکود ہوا ۔کیونک تھا مسحابعدول یں ۔(کِصّعَابَة کلم عُدرْل ۶
بک یل ورواِت کے ذر یت ش راع ت کا نہ نحص پ مکک پیا
ہے( کقبات دضزاکل حص ود کو ببر۸۸)
ارب ای سل شن الاسلا ما مجن شرف نود رنہ العلیفرباتے ہیں:
عفرتک یک خلافت بلاجماغ کن ہاور اپ وقت مں
وی خلیض تے ان کے علاد ہس کیا خلاق تی تھی ۔ححخرت محاو رت
انشرعنہ عادل فلا ء مھا امش سے ہیں ان می نیس ہنی ان
یئ جرف قکووئی شی لاح تھا اود جرف رب یکا اخنقاد اک دہشت اور
اب پہ ےاورا محاب ری اورعاول یں ُلَْمْ عُدُوْل٥) 2
اوردوسرے نزاگی محاللات یس ہرف رب یکی ایک تا وی تی اوراس مس
اخلاف کیا وج ےکوئی صحالی عدالت او ری ےار یں ہوی“_
۲ًٔ "و٤
63
(زنودی شر لمع ۲ی 7نا باب فی اص تی دم )
ید پیل ماما ای نی رق ال عیفر مات ہیں:
”ا ہسقت و جماع تکاس بات پراقاقی ے رتا مسلراوں
پواچپ ے کر دہ سب سحاہرگر ا مکوعاد ل قرا اردرےآراڑں پا کترا ار
دی اوران پرعحنزثی شک می اورا نکی امک میں ۔ ال تھی ن بھی
ات کنا بکیآیات شش ا نکی تحرف فرمائی ہے۔ جن مس سے ایک
آیت ي ہے مم َو اوت لاس“ میں اللتھالانے
دارامتوں پا نکی بھلائ یکوثایت فربایا ہے۔؛ اورکوئی نز اس الأی
شہاد تک ہم انیس ہوک یکیوککہالل تھی اپ بندو ںکی تقیقت اور
ا نکی خو بیو ںکوسب سے پہتر جات والا ہے۔ پگ ان امو رکا لم الد
تزالی کےسو اک یکویں ہوک یں جب خداتمالیٰ ن ےگوای دےدگیکہ
دو یم رالالم ہیں تو راک پرواجب ہ ےکہدہ نی ایمان داختقادرتھے_
اگرکو یس رراییان واتقاڑیش رکتا تا سیکا مطلب یہہ ےکردو ال
تا کی شمرد ںک یکذ ی بکرتا ہے۔ بلاشیہ دی جواس چزرکی یقت
میس جس کے بارے مس ال قجردے چچکا ہے ان کفکرتا ے ووسلراثوں
کےابھا ےکا فر ہے الل تعالی ایگ اورآمت میں فرماجاے:
کَدَاِكَ جَعَلَ کم اكة رَّسَطَالِتَکونوْا شُهَةَءَ عَلی الَاسِي۔
تجہ: اع رع چم نے کی ں کب ین امت :تا ا ےت اکم لوکوں رواوہ
جیا اس سے کیک یآ یت اوراس میں سوا کتضور علیہ ااصلۃ
والسلا مکی ذہان سے بالغاخطا پکیاگیا ہے قذ رت الا پور 7
الل تما ٰی نے ا نکوعادل اور یگ ایا ہے ت اک یھ قیامت کے روڑ لقیہ
اعقوں پرگواہ ہوں.... رآ نکر پرایھان لانے سے بے بات لانمآلّ
(۸٥۱۷٥٢.۰0
تحوسے پر اراتا
"64
ہ کچھ اس شی بیائن ہواہ ےا پرایہا لایاجاے اورآ پکو یی
“تا ےکیق رآ نکرم میس محا کی رالاگمء عادل اور یک قراردیاگیا
ہے اور ےکہاڈتھالی ا نکو سو اف ل ارد ےگا اورووالنع ے رای ے۔
اب جو ان ک تلق ان او ںکی ت ربق ندکرے ورترآ کم
کے یا نکاحکذب ( تچٹلانے دالا ہے اد جو رآلن پاگ کے یا نک
ابی کھذ ی بکرےج٘ کیکوئی ناو یل شکر کے دوک خر ہمگر یر اورو ہن
او ز رع الرازی جو اپنے زمانے کے امام او سم کے ایل
شیدغ یش سے ہیں کے ہی ںکہ جب یو سکوا ساب رسول قایس
ےس یی کرت د ےو ھن ےک وس زم ربق ہے۔ال
سل ےکر حد یٹ رو لکری) لق رآآن پاک اور جج اس میں یان ا
سے ب رق ہے اور یسب “حابرکرام ەی کےذدیی دہ مکک کا ہے۔
یں چٹ محابہ پر نکمتاہے وناب وک با ل قرارد تا اور
ای ے' 22 کر :اور پرضلالتء زم ماقیت او رکز ب دا دک 7
لگانازیادومنا سب اوردرست جے“۔(اصوا اھر ووویموولسن
یادرے ک مھا گرا مکا فق وٹورے برگی اورعرالت ے موصوف ہونا
عقا رکا مسلہ ہے جوفروگینٹس بل اضصولی ہےاورح شی نکادستور ہ ےکر دہ ذاسق وفاجر
کیاروا کوٹ یں ما تے۔اگرمجاذ ال سی صعالی شلا حضرت ام رسوادی لو ال
تقراردیاجاۓ تصرف کہ ”اتا کم ول کاعقیرسلامتٹں
رہ ےگا اسیا نکی ردای تگرد ٣۳١۱ا حاد یٹ بھی ہجرد ہو جا تی گی اور یہ لہ
منرت ام رمحاویہ داصفت عدالت سے متصف تھے۔آن پراہلسقت کےلی فرد
نےآ جک کت کال ممیس لیا
۱ و٤
65
مکمملامتہحرت شاو دیاش حدث دای مۃالیفاے ہیں:
”ربردایت محة ددیبامرغا بت ہھگیا ےک ہبی پا نے حفرت
محاد نے خچگواپناضئی اورکا تب دی بتایاتھااورآ رآپا یکا تب بناتے تھے
جوز گی عراللت او رایامت دا رو“ _(از ف٠ ائاً روا ل ص۴٣٣_۵٣٣)
لگ آپ ہی پکیاموقوف محدشین نے تا ممحاہكوجر سے بلن ھا ے اور
مم یی ساپ ہن کوک تق فی سکی وش صحالی سے جوددای تک ا علق ہاں/
تقو لکرلیاور رگا نکی عدال ت کل کرنے کےمترارف ہے او ق رآ نوعدی ٹک
تر ات عدرالت “اہ برای ےگواو ہی ںک یگ رکا بایان کی بربادلوجا تا ے-
اب دولوگ جوق رآئن وحد بیث پر تہ ایمائن رکھت ہیں اورشداورروزجڑاگو
ول سے ماتتے ہیں ذرااتصاف ےرا یکن خوش فی ب حا برکرام یی نٹ م
رھ کک یگواہی خودغدا تھا یق رآ نکریم میں انیل ”اح“ کےساتھودے
ان کے اع درجہ ک ےی اور عدال تک اکوئ یکینگ اٹک رک رتا ہے؟ کوئی مسلمان تو
اڑسی جرات ہرک نی ںکرسکیا۔ اگ رکوئی صحا کرام کےتق کی اورا نکی عدال ت کا انکر
کرے یں ہت شر یکا حخالفگرداتۓ ہو ہے غی رآ نی ط رز ل کا قب قرار
د ےل کیامیٹ رآن وعد مث 701 من.۰مي؛ کےاسلام دایما نکا
کیا ےگا۔ یی اکہ بائی جماعت اسلائی موا نا مودودئی نے امم وین سیلہہعا تق
صدریق حفرت زی ححفرت نلیراورحضرت امیرمعادیہ ڈو خی رآ کیا (ٹی شر )
رزگ ل کا تب تراردیاہے استغفر الہ د یھ مودودکی صاح ب کک ہیں:
”حضرتعثان کے تو نک مطالہ.ہ جصے نےکر دوطرف سے وو
ف رق اٹ ھکیڑے ہو ے ایک طرفحفرت عاکشراور رت نوز یر
ِٰ (ی) اور دوسرکی طرف معاو(خٹد) ان دونوں تر یتو کے مرو
سام اورجلاات ق رکا اترام ٹو ظا رکتے ہو ےبھی بی کی افی ار کنل
(۸٥۱۴٥٢.
66
کہ دوفو ںکی پوزیشن نی حثیت ےکی رح درس ت نی بای
جاکتی۔(خوافت لوک ×0
غاس سے بدد چہازیادہ یرہ نی رزگ دوس رےف ربق شی
حفرت امیرمحاد یہ ذلنکا تھا جو معاد بے من ا صفیا نکی حیثیت ۓل
بشام کےکگورنرکی حیشیت سے فو نعثا نک لہ لی کیلع ا ے٠
(غلا نت و( ولیےكص۵١٢۱)
ا رما یے مولا نا مودودئی نے اک ب رما کرام دی ال ھتہ مکوخی رآ نی لین
خی رشری طز لکا مب تر ارد ےک کیا معاذ لاس اورعدش لی تک ڑنے والا -
نا فر ما نی کہا ؟کیادوخو ضرق رن یا خالف ق رآ نیش ہو گے ؟انسوں!ا نکی ناردا
جسارت نے اک لکہالں ادا ہے۔ مولا نا مودودکی نے اپ لے جوراست افقیا کیا
وو ا کا اضجا مپن ےکی ا گے جہان سدحار گئ ہیں لین جولو ک یں مون کر
مودددوی نظ رکا پر چارکرد ہے ہیں امیر ہے دواپتی عاق تکوضرور نظ یں ے
اورتا حب ہوگرق رآ نک ری کی ف رات کے مطابی جمل حا گرا مکو الوم اور رکورہ
الا اکبرمحا ہکرام ریش امہ مکو افو تہایت عادلء بڑ ےکی اود پابن ین
ش رت مان یل گے۔
امام بیسف بن اسماحیل نبھاٹی فرماتے ہیں ۔
ین ہہ ہ ےک تام حابہ عادل یں اورقام جگیں اور
اختلافات تاد یگل پنیا ہیں ان کےسب بکوئی عداات ے نار نال -
کیونک دہ ٹچ ہی( رکا ت ال رسول یوار دوۃ جم الشرف امو (ض۷۸۴۷۸۸)
ادرعدیٹ بخارکی کے مطالِ قبھی حضرت ام رمحاویہ طلفقہہ جج ہیں
ملاظ و
تریمہ:”حقرت این عبال لہ سے ہو ایا آ پک امیر
(۸۸٥۱۷۱٥.
67
موجن معاوے ے بارے ح لکیا راۓ ہے جلہ دہ و کی ایک ہی
رکعت پڑت ہیں؟ آپ نف مایا ےکک ووفتے۔ یں رن قي“ہ
بفاری ا٣۳ -ےتتاب الم تب باب (کرمعاي ظف)
او ریچ کے اجتادکا بھیشن کے مطا لی ہونا ضمروری یی _ اس میس خطا
بھی ہیکت ہے ہاں عدیٹ پاک کے مطابق جیچدکی اہتبادی خطا بھی قاب ہی
عرتب ہوتا ہے۔اور جب خطاے اجنتمادکی پ ےمج دکوقو اب کا نب ربیعدالات کے
منا فی تی ہوکتی بلمہعدالت اوراجتھاددوٹوں صفات ایک ذات میس بقع ہدک ہیں
ملا سید فا وق انم ہخر ت رید اورسیدنا حیدرکرارتضررتدگلی لہ عاو لبھی سے
آ٢ اورپمچدگھی ای طر جناب حخرت امیرمعاد یہ خلزتعادلل ہونے کے سا تحدسا تق ہمد
بھی تے۔اپنرا نکی سی اہہتبادی خطاکوجھ با عث ٹ اب کی ہے غی رآ تین اورٹیرشری
ترایں دیا جاسکنا۔ یں کہ اکا نکی پوزش نآ نی حیثیت سے شی شرتی طود پہ
درس تی باانہوں نے خی رمیئی اور خی رشرگی من غلط اورگنا ہکا کا مکی ایک ناروا
|| نمارت ہے۔ م لان مودودگی صاحب نے ایا کہ۔کر خداورسول ےکی مخالف تک
ہے۔عد یٹ اک جس خطاکو باعث اب بتالی ہے مولان مودودیی صاحب ا یکو
فمق وگنا: تا تے ہیں ۔اورتقیقت ہہ ےک اللہ کےرسول وی خاش تکر نے والوں
کوالل تھا یلم م سبھوک د ےگا۔التعٹی نے فرمیا:
ا ا ہی رو 2
لمُوْميیْنَ نول ماتولی وَنَصّلم جَهَنمَء وَسَاء ت مَصِيْرا۔
ررےرمی
تزرجمودودی صاحب :جن رسو لکیطالفت پک ربست ہواورائل ایمان
کی ریش کے سوائسی اورددش پہ چے در حابکہ ال پہراہ ہدایت دا
ہگ یت ہم ا سکوا یرف چلامیں کے جدرعردہخودی رکیااوراےژ نم ش
(۸۸۷٥۱.۰0
68
2 میس کے جو بین جات قرارے۔( تف یلقن ازمول یامودو دی ) ۱
یں تن دحد یٹ کے مطااقی صحابرکرا مک عادل اورشکی مان لیا ضروری .
ہے درز یہاں دیالو ین دیما ناوروہا ںآنخرزت ںاد جا نکی خڑئیس لیکن ۱
ایت کات شواللری دا والے۔ ۱
کفراوض کشا بکش
اشمالی نے مھا یرکرام کے ولوں یں ایا نکیا محبت اوز برائی ےنفرت ْ
ڈال دی ہے۔اہادہا ںکف ریت کا شائ ہت کی ہوک ارشادخداونئی ے:
لک الله حَب ايك اليْاع وک یی فک 1گ
رمق وَاليسْیات :اك مم الرَبِدزی ہ
فَضْلَاینَ الله وَنْمَةً“ وَاللهُ رم حکیم۔(اراےء۸)
جمہ :ان (اے محابہ )الہ نے سکیل ایان پیارکردا ہے اوراے
تہارےولوں می سآ راس تتکردیا اورکفراو رم عددی اور ناف مان تجیں
٦5 اگ وارکردی ای یلوگ راہ ہیں۔ انل اوراحسان اوراالم د
کرت والا ہے۔(کزویاں) ُ
قرو نکرم کے اعلا نکوور سےد بک اوداریشاد قداونی پر یی نکر 3ے
ک مھا ہکرام یش ادڈیشت رکف ین او نا ےکی طور ےحفوظط ہیں زفست او مکنا ے
تحفوط ہونے سے مراد یہ ہےکہ یا الل تال کا لکرم سےا نکی خوداظت فر یا
ہےادران س گناہ ہو نکی دتا. یا گران سےگنا سرد ہوجاے فو ال پرقائم
نی رن دا اوردوٹورأتاعب ہو جات ہیں اور جب وہتاتب ہوجاتے ہیں ایل
تال ان کےگنا ہو لکوکیوں می بدل دیتا ہے گویاانہوں ن گنا ہیں پاگرنکیاں
مکی ہیں۔ادتھالی نے فرایا:
(۸/۸٥۱۴٥.
69
مَیْقَابّ وَائن وَعَمل عَمَأ صَالِ َارِكَينْاللُ
سَبَيِهم تحص (نفرونےے)
جمہ: جو تو کر ے اور ایمان لاۓ اود اچھا کا مکمرے ت2 امو ںکی
پرائو ںکوانڈد چھا کول سے بدری د ےگا (کنزالا ان )
اورجناب رسول اللہ چا نے فرمایا:
التب من الب كَمَنْ لا دنب لہ
(ڑابن ما یہ باب کرات یکو بابلا تغفار )
جمہ :گناہ سے برکر نے والاالییا ےگ یاائل کے ذ میکول نویل _
کچ الاسلام امام خرزالی رت الل علیہ نے بعد یش نع کر کے دوقہایت
دیپ ایات با فربائی ہیں۔ ا نکا ذکر فدہ سے خالی نیس ملاحظفر امیس نور
لقن حاصل ہوگااورایمانتاز ہہ جا گا۔فرمات ہیں :
)١ ایک11 دی ج بگھ گنا ہکرت تے ایک رجن ریس ان لکا ای کگمنا ولگ ودیا
جاتا۔ ایک دن اسی ن ےگنا وکیا رجنکھو گیا کرس میس بیگناہگھیں
مگردہاں بیحیاد تک ریگا۔-
مازققت یل الله ماع حسلٰ۔ (ہیں بردلیگ یں جن
ےکنا ہوںکوبد لکرخ گیا تادیاگیا)
نی نو کی برکت سے نر ککا عیگہ یمان آمگیاء ز نا کی جلہ
معائی اور فرماٰیکیئیناہ سے تفاظت اوراطا عتہ لن -
۴ حفر تع رن خطاب خلہ ایک باد ینہ مود ہک ای کگی سےگزر
ر سے تھےک ایک نو جوان سا ثٹ ےآگیا۔ ال نے پپٹروں کے نے ایک
بوتل چا تی ۔ححفر تع راد نے پ چا اےنوجوان !کیٹ وں کے
(۸۷۸٥۱۷۱٥٢.
70
کیا اھارکھاہے؟ ئل ٹول مر شراب جیا فو جوان نے اسے شراب
کین یں ش من دکیفسو سکیس نے ول دھا کی یا للا جھے نے
عھرلنے کے سام شرمندہ اور رسوا ران بے ان محر پدہ 7
فا لآتند دم بھی شراب یس یو گا۔ اس کے ہعرق جوان ہے
عون کیا۔
”زاے ام رالھ و من! شس سرکہ کی بوتل ) ایا ہوے
ہوں-آپ نے فرمایا: مھ دکھاء اجب دکھائی اوران کے سا مھ کیا اور
رت چم رما نے۱ سےدیکھا وہس کی“
اب دی قلوقی ن ےون فر رسےتے کل الل ان تال
نےے شراب کو کہ منادیا۔ ال ل کال تھا لی نے ال سک تو ریش اخلال
دیکھائیں اکر ای کگنکارآدی ج برےا حا لک عرے دمران ہو اہ
خالص لو برکرے اور اپے ھئے پر نادم ہو الل تا لی اس ک ےگ ہو ںکی
شراب کون کے سرک بدلی دےگا“'( یدن الوب ریس ہی دی )
می اع گناہ سے کی اد را تال نے قول فرمائی انا یوب ول بنایا
رای کے پاتھھ پرگرا تی نا برفرمادکی۔التھال فرماجا ہو الله يک
لِد اقرآن یقنالشتھالی 3 رکرنے دالو وب رکتا ے۔
او را ہکرام ری ال تج م2 سمارے گیا بکرنے وانے اورانل ےار نے
ددم الاولیا ہس تاج الامغیاءحضرت سید یی اروف داجا ہی کیل لا ہوری اتل
فرماتے ہیں:'' حضور نے فر یا۔'الكدم تَوَنُ گناہ پر نام ھدناب ےساودبالحی جائم
تحرف ےکس ش تو کی تا ٹرٹیس؟ بای یں لک ل ےکی کاپ شرما یر ےکیفالگمء
لن پچرافسو کر ےہ دوسرے تر کفکرتے ہوے منضعل ہو ۔ تنب ےعہلدککھ س ےکپ ریما شر
کر ےگا اد بیتنوں شرائاخرات مج لآ انی ہیں“( کن گر ب ارول )٥۸۵
۱ٔ "و٤
پا
انے جھے_ لپ انڈریھی انی ںحیوب دکھتا سے ت رآ نک ریم میں ارشادہوا:
”لعايْرَْ الْدِدُوْمْ الْخیدُوم بکرم الرئرَ
التْحِدوْن الْأمِرُوْنَ -7 وَالَامُونَ غَنِ النگر
ولدِيِکرح ُِدرد لل* بر الذُزينزدبء
ڑج و تا جددشاءکر نے
وانے,روزو رکھے دا لےہرکو عکرنے وانے بدہکر نے وانے ئک یکا
تم دیے وانے اور برائی سے روک نے وانے او رگہپان یکكرنے والے الد
کی (مقررہ) حدودکی (اے ھیرے رول!) خی سادجے ان
(کائل ) مومنوںکو۔(خیامرنترآن)
۱ اے اب ہےاو رقاب گی ب0 ےگناہ پیل اور یہاں جچدکی نی ا ںکا
ہار سے چک قکوضردد لاس کے اس مکی اتل اس کےاجتاکو
قول فم اکر ےن عطاغ راتا یں اس صورت می بھی ھا گرا گنا واور
فی فو ہو ظا رہ با بر گیا تع نے فرایاے: "×َكََاروَعَتالل
الٰہْسلٰی“ اورایشر نے سب سے پھلاگ یکا وعد وفربایا(فآ ؛٥٥) جب سب سے ال
: کاوعد ہو کات سب “حا عادل ہو ان یں فامنکوی کی کین فا مق سے جنت
کا وع ویش ہہوتا.۔(خورااعرفان می یآیت)
پھر ہا ری یؤ لمکرد ہآ گر یی نکی اویل اورتذ تہ ہکی ضرورت دی
نیس جب اوڈدتھائی دا لور پفر مار ا ےک ہا نے حا کرام کےددلوں ایمان
رد ا او نت ناو حر ت ڈال دکی ہت فان خداوندک ے اناریوں؟
او ریا کرام راتا کیوں؟ مودوی صا ح بآ خرا نآیتوں رکیو یس ایان
رک اورال کے ق ران پک پرکیوںنیس انبا رکر تے؟ دوخ رآ نکرمم کے بھ
(۸٥۱۴۱٥٢.
72
صحابکرام کے طط رزگ لکوٹی ر٦ تا او خیش یکیو ں کے یں اور رن وعدی کی
تصریھات اددا کشر حا تکووا ہوا کین راز یں ے“ کیو تی رکرتے ہیں ۳
مودودگی صاح بک ہرذ وسرائی لاحظہب کچ ہیں: ۱
”خرت ان دک اکا بیو اش دق ور ندم
پہرحال فلط ہے نواود کان ےکی ہو۔ائ سکوشو اپ کان مازوںردے
2 ہتکن ےکا کش کر نیل دانصافکاتاضا اور دجن ہی
کا بر مطال یہ ےکا عحاپ کیٹ یکنلشی تا: یاے“
(ظانت رارگی ےگل )۱٣۱١
اب ذ را و رق ہے ال تال ف رات جک ا برکرامکوکف رض اوری ف انی
ےأفر رت ہےادرددا می خامطیوں سےحفوظ ہیں پیک یدن عثا نکی .سید ایر
صد یق ادرسیدناعرنا ردق شی ایاکہماکے بعد حایگرام می ففل تی مق ہی ںگیا
دو بھی نی طور پکف مرش اورہ فرانی سے تفر وتفوظ ہیں اوران کا فقو ہی بھی
ہدابیت پر ہو لو جم صدیٹ سےثا بت اکر ہچ ہیں تو رسرور لم بی اکر ہللا
نے فرمایاک اس وت ہے ہرات پر ہوگا (ن فک اواب انا قب ) اب ت رآن و
حدث اخ راش رت مان ہکوکف رش درو ےگفوطاورہرایت پان
فرماتے یں۔ جک مودودئی صاح ب کے یک رت عان مدکی پالی ی۷ بی پہلو
اش لھا کت ہیں ئل دانصاف کا تا نا اور ہدیکن چیک یعطال ےکی
صحاپاکی ماک ھا ضا جاۓ۔استغفرالم
معلو یی ںتقل وانماف سے مودودگی صاح بگیا عراو لیت ہیں٠ اگروہ
قرآن وحدیٹ اورا لغ مکی جا صرف اتی سوج گ کنل وانصاف'' قرار
وہتے یں نو اے جارا “وفع لام ہ ےکیوکہ بی ق رن وحد و ٹکی ملف تکوشعقل و
.م۷۶۸(
73
ف ات بی ںاور جوانہوں ت ےک اکم : ضددمین ب یکا ی؛عطالیہ ےکی
ینمی کأل ہن جاے“' نو رہم کس مک کیا انہوں نے مکودہآیات
گر یں دیاھہیں' اور انیس دیھیں تو پھر انی تیم القرآن ٠کس سےکھوای
ساوداگربیآیات مقر گی ور نی ںکیاریآیات مقدسالیی جمارت ے
ای ہیں انیس اوراس را ۓےکو اق ارد یچ ہیں پان ں؟ با ئک رکوکی بجی ف راد ےرت رآن
حعد بی کچھ وک ریم ودودگی صاحب نے ےس ہچ کا ناغم وین کرکھا ہے؟
ارے””خّل واتصاف“ کا ڈھنڑورا پچ والو! ا شیا ہے ادرال کا ق رآ
اگ کاے۔ذاایا ارینی وا یجس ےکی صحالی ءجچد وضتے صحا یا یا شدکا
فقی ہر ودەتا رکنی واق ایل نذمت اورمدود ہے ۔کیونکیعحانی مرفنق ماتۓ
ےت رآ نکی مکی جن یب لاز مآتی جاور ون ق رآ نکر مکی کن یبکوچائ بے
وو موم نیس ر جتا۔اللتھالیٰ نےآغاز ہی جس ”اك الِْعٰبْ لا رَیْبَ فی“
(الیقرو کرای کے کرک دشیرے الا ہونے پرمب کی ہے۔ بی مک نک یلق رآن
کر مکو' اینب اور ماخا“'ضردری ہے چیک ق رآ نکر مک مان کیل سح ہکرام
زیضی یڈ مق وکنا و ےتفوباو من نکا ٹین انتا ضروریی ہے۔
علاو ازم نچی اکرم پل 'مطرکی می نکرتش ریف لا ۓ ہیں اوراپفنے امت ںکا
یٹس ف ما آپ یف کی وت می شائل ہے۔ارشادخداوندکی ے۔
لے قر1 نکر خی ارشادہوا۔ حم“ کم می" فهع جو (ا رق ر۱۸ ین بہرے
گو گے اند ھھےقو پچ رد ہ1 نے وا نیس لک زالایمان )ا سآ یت کےتتمغحی ات یارخاں فرماتے
ہیں'”معلوم ہوا س7 تھے ایآ ات ن جشکھی جامیں ددانڑی ہے۔ جن کانوں سے ربا
کلام سنا جائے دہ بہرے ہیں کی زان جال انت مکی می ال علی لم ادا ہودہگوگی ے
کیوکبان اخضاء نے اپناف پیدانش اداتہکیااسی لے رب نے زند ہکاخ رو ںکومردواورمطتول دا کو
زنوف بایا۔ یی معلوم ہو اک یا ہکرام کے ٹمنو کا ہدایت پآ :یہ تمشکل دب نےتجرد ےدک
رھ خھ۵
کم کو “تیر رخران)
۷ "٤
74
٢ه (الق :۹ ۲ مال مان ۷۴ج :)
تریمہ:اودد ہنی( مھا یکو )خوب پا کگ/ ے۔
اود ہماراال بات پر پقتایمان ہ ےکوی اکرم لاق نے اہن فلس
و تگنکاحقہپودافرمادیاہے رآ نکری کا آسصۃ مقد کے مطا قآپ اپ
عو ں کات کیفرماتے ہیں اورسب سے پپے اپنے ما کرام شی الہ مکا ظا ہرد
باصن تکیف مایا یں صکیمکر پوگاک مھا ہکرام رشھی ال نیم ایت پاکراز اد رکال
تی من تھے اورسی م کف رض اور فربالی کا شائ کک زتھا۔ اور ہٹس سور
ہام یی ال مکوان برائیوں سےمدث بھے۔ دوعالم وین عق اورمسر دکیا
گج مو نک ہلان ےکا بھی جخقرارنیس دو مخالف ق ان اور بے ا یمان ہےاودائ کی
بھوائی می یفتصان ے-
سالگ سیق
اش ا لی نے مب تاب ہکرام کے سا تھھ بھلا گی کا دعددفرمالیا ےہ ارشاد
ارک تا ی ے:
کے کہہے امن عِيْر زی الضرر
وَالْمُهِهِدُوْنَ فی سیل ال انلم وَانفيِهِمٰ۔ فضل الله
اْمَهیینَ بأموَالِهِم وَانقُيِهِمْ عَلی القِدِینَ َرَجَة۔ وک"
وَعَة الله الْحَسٰی۔ (ب,٥ہ)
ت جم :برابرکیش دومسلما نکہ بے خر چہاد سے جیٹھر ہیں اورو مک راہ ڈرا
می اپے مالوں اور جافول سے چچہادکرتے ہیں اللہ نے اپے مالول اور
جاوں کے ساتھ چہادکر نے وانو ںکادرجہ ٹن والوں ے ہڑاکیااورایٹر
نے سب سےبھلائ یکا وع وق مایا۔(کنززامان)
(۸۸٥۱۴۱٥.
75
٣ا الَِّيَْ سَمَقَت لَهمْيََ الحُسُلی اوايِكَ عَنقَ مْعدُوْتَ_
(ازاخیاء۔١١٥)
رع بک دہجن نکیل بیاراوعدہ بھلا نی کا 0 رم کے وو کے
گے ہیں( کنزالیان)
اوراہ کے رسول پل نے فربایا می ر ےکی صلی بگہا لک ذیارت سے
ف ہونے دانےتا لھیکوڑھ ی٦ ک کی چو کی حظہہوءحد بث اک۔
نتم اَرُتسْيَا رای آڑ رای لزا
(ت ری ابواب النا تب ملا جیاب منا تب ضپہ)
:اس ملما نک وآ گنی ہچھو ۓےگی بس نے رھ دیکھاا مھیرے
ر ری دا نود یکھا۔
یں ت رآن ووریٹ سے وائع طور بر معلوم ہوا کسی صھال یکو گیل
نکی نکو شی طور نم ے ووررکھا ۴ گا۔ الہ اگ رکوئی جا مل ان ماب ٦۹
مگرق رن وحد یت ال کےغلا فعقید ور ےو ا ےکون ریو ک سکیا ہے؟ قرآ ند
حد ے کی مخاللفت اور ٹیا رکادبال بہرعال اس پضرددر پڈےگا-
ددحجات شل فرقی کے باوجو سب اب قا دا
جن سا ہرک رام شی ال ٹم نے اپ مالوں اورجاوں سے چچھادکیا دہ درجات
دظامات کے اط ےان “وا نی ا یپیعہم سے بقیے ال ہیں جھ چہادرٹش شال نہ
: ہو ینان ا تھا نے چھلائی اور جنتکاوعد و تما سا ہکرام رشی ا یڈنم ےن رالیا
۱ دوآیا تم 2-29-70 بیرمطاحظہ کے ۔ارشاد متا ہے
7 .009
دَرَجَد وك وََة الله الْحَسلٰی۔(ك,٥ہ)
تر جہ:ایشدنے اپ مالوں اود چانوں کے ساتھ چہادکرنیدالو کا ورجہ ٹٹۓ
۶ ٤
76
او سے ادا نے سے سے بھلا یوعد ہف رای نک زوں)
٣ لامسْتویٗ مِنَکُم مْالقَقَ من قب الہ تح وَقَائَل ۔ اَرْقِكَ
ْم درجَة ِنْالّين نر ينْبَمَد قاتلرا۔ وَكلَرَعَداللة
الْحَسٰی: وَاللہ ما عمَلو عَی زار 7
تمرم شش براوکنل دوہنوں نے ہک ےگ خر نکیااور چہادکیا
دم مرش ان سے بڑے یں جنوں نے بعد کے خر اود چھادکیا
ادران سب سے اللہ جن تکا وعددفر ما چکا اوران ہار ےکا مو ںک خر
ہے۔(کلزالییان)
ای اس ری لم
تفم کم رم عنةاللِ + ايك مم ارہ 20
. وووریود ہدے اود بے وو
پشرم رَنهُمْ يرَحْمَوْتِنه وَرسُوَانِ ؤَجَيٍ فیها نعیم
نہ للدِيْنَفها نداء ام الله عِنَدَةَاَجْرعَطلیخُہ,
(ب۔۲۴۴۰۳)
ترجمندہ جوایماان لائے اوراثر تک اوران مال و جان سے الدی راہ
اڑے سال کے یہی ان کا دج پڑا ہے اور دی مرا دو پچ ا ن کا
رب ای خوٹی نا تاہےاپقی رت اوراتی رضا اوران افو ںکی جن میں
یس دای اعت سے ہیشہ بیشہان شر ہیں کے . پیک الل کے پائل
بڑاقراب ے۔( گکزالمان)
۳ اوَالسِقُوْدَ الوَلوْوَِنَ المهجِرِيْنَ وَالنصَرِ وَالَِيْنَ
وروی 6طد
عح رت نت
(۸۸۷۸٥۱۶۱٥۲.
ف۵
ا تم اورسب میں ١ گے پل مہا جر وانصاراورجھ بلائی کے سا تھ ان
کے چردہوے الندان سے راشی اور وہ ال ےرا ای اوران کین تارکر
ر کے ہیں باغ جن کے ین نہر نکیل بیشہ بھیشران میس رہیں بھی
کیک میا لی ہے۔( خزاامان)
مرکودہپالا آیات مقدسہ ت خوب خظا ہر ہو ہا ےک درب الحزت نے
مھا کرام یی یڈنم سے جنت کا وعدوفر الا ہے اوراس میس یکومیکہیں
ال کاوعد سیا ہوتا ےی بدلتا انیس فرایا:
إِ الله لا يَخلْفُ الِيْقَ ح0 لران)
تر جم بے شیک ال کا وعد وکس بدلتًا۔(کنزنل یمان )
بذا ین مان ہے اور اس کا اللند اور الد کے ج رآن ایمان ے
فی دہ جوفقی رق ان پ یع آزبال جج یکرتارہتا ہے۔اسے اس جات پرکھی ایمان
ناپڑ ےٹاک اتارک دتھالیٰ کےاس پچے وعرے کے مطابتی سب کے سب حابہ
تی ہیں ۔اکری نامراداورنام تھادسلما نکوسالی کی ہو نے میں شک وت
اےترآنکرمم کا ت” وك وَعَة الله ای“ مم شک ہاو رتس سک
اوعدرہٗ فداوندی یس شک ہے اس کے اپنے ایماان میں شک ے۔
رت ق قرآلی علوم کے اس نماہ اود اسلام کے اس سکال رہ ےکم
اجب ایل دتھا لی تھا “ھا پرکرام رشھی اشنم اوران کے پیردوں سے راشی ہو چکا
کیو ںکہیں راضی ہوا؟ اور جب او تھا ی تھا سممھا ہکرام سے ججنتکا دعد دفرماچکا
کیو یں مو ؟ معلو میں ”وع نل ' ےکس وم می اور جبرددستا' ےکس
تورم جلاے؟
امت مل سب سے منوراو رم رز ہیں
اللدتالیٰ کے سب سے بڑ ےحیوبء طالب ومطلوب دا ےک خیوب
۶ “٤
78
حور رصادق بی برتقی جناب رسول اللہ لان ےفرمایا:
موا اصْحابی فلهُمْ رکم کم الز تلزنم
الَِنَبَلََنَهُمْکزوب ع تباحمی)
جمہ: میم رےمحا بک از تک وکیونکددچتہارےمیترین یں
روہ جوان ےرب خیں مردہ جوالن ےقرجب ہیں-
( ہار یا فضال اصحاب ال ات خی ابواب النا تب )
ہم میرے ز مانے کےلوک سب ےہر ہیں پچ رجوان
ےق یب یں تل رجواان سے قرب ہیں-
الناعاد یٹ مبا رک ےمعلوم اک امت خ لحامیت سب ے ؛ڈ اور
ہے اورا سے تام طقات امت پرفضیلت د برت گا عاصل ہے۔ الد تی نے جناب
ول 1کرم کو دم رتا مرسولوں ی٤ب صعہ بے اب رشح ت عطا ۳ الاو ”رَقَعَ
تَعضَهَمْ قرَلي کوک دہ ہے جےسب پرددرجوں بلنکیا“۔ ز× کے
ماق قام انام و زس شیہم السلام مس ٹیش د بے مال مایا او رآ پکی ض۳
خبدت دیحبت کے با ع ما برکرا مہو باتی تھا مامت شس ثےشگل و مال بنادیا
حفرت امام بای سد می دالف بای حخرت جح ہندری خلدفراتۓ
یں:
”ضا ج کی جھ بات زین می ہولی با پے ہہ ےکربفل
صحابرکرام ( کی فضیلت ) کا ا نار لکا انار ہ ےکیونکہ جناب خر الیٹر
علیہ اصا7 والسلا مکی صحب تک فضیات مس بیسب ععفرات شت رک ؤں
اوحب تک فضیلت سب فضائل دمالات ے ال اور بلنلد ہے۔۔ائی بنا
پہصحفرت اوٹی قرٹی ری اللدتوالی عنہ جو خ راتا تین ہیں ۔حضور علی
۰ًٔ "و٤
79
الو والسلام کےعھالی کے ادف مرتب بک مھی می س تک کے ۔اہنراصحیت ا
کی فضیا تک اکوئی نےبھی متقا ینمی ںکرمکتی ۔کیوکہ ال صا کا یمان
صحبت اورخزول و یکی برکت ےجود ہو پکا ہے اور ایما نکا رجہ
صحابرکرام کے ہدس کی ینعی بی اورائمال ایمان پ تر ہوتے
ہیں۔اعما لکاکمال ایمان کےکمال کے مطابی ہے“
(کحوباتامامر بای ضرا لکقببر٥۵)
تتیں رتچ عبدرلن مث دبلدی جح انعلمیفرماتے ہیں :
” آپ ڈلالا کےسحاہساری امت سے انل او یہت ہیں الڈر
نزالی نے ان ںآ پک صحبت اورنصر کیل ین دکیا اور امت تر اور
دن اسلامکیمظمت ان “حابہ سے لن ہوثیٰ-
صا .کرام تضور اکرم بل کی صحبت دفصرت اور ان پاگیزہ
خدمات کے اٹل تے جوالن کے سیپ رد یی ھا گرا مکی شان اور
رت کی مل اق راحادی ثآ گی ہی ںکرالن کے مطالع سے طابت ہوا ہے
کمانکا رش مدکی ااصت ے بلندتر اورٹو اب سب سذیادمے۔
حضور نے ف ماک ہاگ رکوئی اعد اڈ کے برابرسونا دای راہ
میں خر کر ےق صعحابہ کے تصف پعاضہدیے کے ٹوا بک میں
ککتا۔حریث ”حر الن رز“ بھی اس مطل بک دضاحت/ لی
ہے اکی کے علادہ ہت اعاد یٹ ژیں تن سے سحا کرام شی انتج مکی
برق یی ظاہرمولی ہے۔اسی سے بڈ کر اورکو نکی دم لکی ضردرت ہے
کہ ان لوگوں نے تضور چا کے جال جہاں جا بکواپتی آنگھوں سے
دھا۔آ پک پاکی محبت ےنیس یاب ہو ۔ق رن اود دی نکو
آ پک زبان سے براوراست نا اوراللہتھای کے اوام وڈوای ے
۴ و٤
80
وافف ہہوتے رہے۔ انی جان د مال راو صلی (یق8) میں شا رکرے
رہے۔مابراے من تھےکرانہوں نے تضورکوایما نکی حاات میں
: ھا ادربیالی حالت می ود کون بادکہا تو رکوا یمان سے ایک ٹاہ
د یکنا صحالی ناد تا ہے۔ (ل مان رریں* ۱۵۰۔۱۵۱)
دیو ہن یوں کےا مالامت مولا شرف تھانوی سک ہیں:
”سحا کا کان کی تھا دہ امام ابویفہ(حیید )کی طرح
اصول وفرو تن کرت ا نکا کمالی یا دوسراخوا ال کے سا نے
میسادرےکلوم وفون پا ہیں ۔ا نکاکمال بت اکا نہوں نے ابی 1کھوں
س ےتور پلقا(ردتی فدا:) کے بمال جہا لآ راک زیار تکیگی- روہ
کال ہ ےکس یل ا نک یکوکی برار یکیو سکرسکس یع رین عبدالزی: جو
کہاپے زمانے کے میدرداورقطب وقت تے اور بب عر لکال داجاع
سفت کے ناس اخلفاءالراشد بن شر سے جات ہیں اور تراو ٹس ق رن
جال امن ہیں جن کے بارے جس علا امت کا خیالی می ےگ
دو ما یی رقاب مم محاہ کے قرب قریب ہیں یگ پچ بھی ان
(شفاما) یی س کیک رت او قرنی کے پا دو ود میں
ںی ہنیوں نےحضود لھا کے چرہمیار کک یار تک ہ اگ چ ۱
ان ٤ےفضائل بے شارمیں' '۔ل(مفاس گناہ ۔سلسلہیمواعطظ اش ی۸ا ۴كص۲۳۸) ۱
محدت لا ہوک شا رح بنارئی صاحب ڈو الباریی رت علا مس گور أْ
ا رضھوکی ریت اش علیغ مات ہیں: ۱
”مور پا کےا سار امت ے ال دیہتہیں مر [إ(()
اسلا مکی مت اوراسلا میمت میا ڑکیا سے بلندہوگی ہے_ ےوہ
یں قرسیہ ہیں جنہوں نے ابی ہنگھوں ےتضور ا کے برا لکو
(۸۸۷۸٥۱۷۱٥۲.
81
دکیکھا ۔آاپکا پاکینزوحبت سے فیضیاب ہے قف رن اورد یی نحکوتضور
پلقا کی زبان سے سا ادراپتی ان و ما لکوضور پر شا رکردیا۔ عحا ی کے
روا بل یں پاسگتا۔ دنا جھر کے اولیاء: اقطابء ابدال :فواٹ و
تاب مھالی رسولل کے درج روما مو حاص لی کرت “'_
(شان سا رش ال ۸ص )٥۵
پر جوجھی موسن ہے اور جویھی الد کے رسول پل پا یمان رکتا ہے اے
تضورکی ور یٹ پگ پرایمان لاے یی چار ہیں ۔ جال کے رسول لف نے
”ام اور یر لاف اکراپنے صحا ہکرام وک بای تما مامت سےببتراور
محزز تر قراردے دیا ہے۔اپفرا ال ایما نکا ىہ چخت قد ےکہمحابہکرام حلاقام
امت سے اأفل او ریت ہیں۔
یرسحالی با لی سے براینیں ہکا ۱
اعاد یٹ مارک کی رش می ہم ابھی ابھی جیا نکر پچ ہی کر مھا ہکرام
نشی اولٹہم امت میس سب سے بہت راورمززت ہیں ۔ ا کا مطل ب بھی مچی ہ ےک
حاہگرام ے بعد نے وانے دنر طبقات امت کی ےکوئی یق اور دنگ افراد
۱ امت مل ےکوئی فردان ہے مم پھراود برابنیں یکنا لین ییہاں جم ایگ اور
زادیگےاں پررشنی ڈال رے ہیں تضورسردرعالم جناب می اکرم نے فرایا:
لاک اضعا فز نی دہ لزا تم اق
علُ اد هك کااَذرَق مد اعَيمموَا نَِيْقَة“۔
(مسلم ص۰٣۳ پیٹ ری سب اصواۃ شی ڈیت مغ اواب اناتب این ایل ال
ری کی م) ۹
ترجہ :مر ے ایک برا پھاا مت کپواس ذا تک ننس کے پاتھ میں
ری جان ےا اگ یں ےکوئی ایک ا حد کے بارس :اتا یک راوش
(/۸٥۱۴۱٥.۰0
الل تھا یکی راو مشش سوا خر کرت اکنل ہے۔اودیم لک ق ررقت
اٹ لکرنے والے کے ایان ادا راو خداوندی مھ ا کی تولبت ہ ے۔
اورحد بیٹ پاک کے مطاإقی صحا لی اورخی سال اس مش برارنیں کیوں؟اس لگ
صحالی او فی سال ایمان ( ]شی ایمان کےکمال ؟ شی براینیس اوراعما لکی تر رش
یلق ایمان کےکمال میں فرقی کے باعث ہے رت امام بای سید مچردالف
ای نیہ اوران فرماتے ہیں:
”ا عال ایمان خر سا ہوتے ہیں (شن اما نکی شائیں.
ب نکر کے ہیں )اوراعا یک ال یمان ےےکمالی کے مطابق کے
ا (کات فزاز لکوہبر٥ن)
ق جب عحد یٹ پاک کے مطابی اعھا لکی قددہ قیت برا یں لشن یں
ا اگاہ نداونکی میں برابر ددجۂمتبو لیت عاص ل نی تو عمالی اورغی سای ابمان کے ۱
مال مس کے برابد ہوسکت ہیں ؟ سیا گرا مو واعال کےفاظ سے دنراصت ق م
فضیلت و بری مال ہےر ا لک اہم وی ہےک۔ا نکوایان می فقیلت و
رگ حائئل ہے رت بد دالف ال لہ خر اتے ہیں:
تما کا ایمان بت اور نزول کی برک سے شمبودی
بد کا ہے اود یما نکا یرت ھا کرام کے بعد یکوھی تھی ہیں“
( توبات قزاو لو ب+ر۵۹)
یں یل مک رب ہوا کو بھی خی ای لی صا ی کے برامزییس ہو کتا۔
ذائی وص سے اک اوک ددرے پریان یں
لو لشمیعوں اوررافف ں سے مار ہوک ر سنا امرسادے ظٹلاتم
82
خر اک ےقود کی مھا ی کے ایک خد یانضفخد ہے باون ہیکا_
1
(۸۸٥۱۷٥.
83
کرت ہی ںکہائیس معاذ الڈرتقرت موٹی علی ید ےففض وکیجھوا ۔گحض منگران
اسلام اور نماعرا بھی ای روٹس بہہ لہ ہیں اورسادواو شُنو کو اک راپنا
نو ابا لین چا جے ہیں لین اگر دوفو رکرمیں اور رآ نکرئم ینس کےعلوم کے ماہراور
سرکالر ہو ن ےکا ایس وک وٹ یکھی ہے کی طرف خلویس بیت سے قذ رف مامیں اوررعت
خداوندبیبھی ان کے شال حال ہوچا ے ےنیس معلوم ہوک ارڈ رتھای سکنل وکرم
سے سحابرکرام رش اللہ 7 کے سے نصر فآئیل کے ذائی کین اورلنض وص رے
: پگ تھے بللددہ ایک دوسرے پہ بڑےمہ ران اودرتم د لچگی جے تر نکرم من
ارشادا ال ے:
مُعَتَد رِمُرْل الله ء وَالَّذِیْنَمَعَه'آَيِڈَاءًٗ عَلی الكَفارِ رُحَمَاءُ
7یئ
ترجہ حراش کے رسول یں اوران کے سادا لے( سا ہہ کافروں پے
سخت ہیں او رآ یں شی نم دگی ۔( کنل مان )
تر نکر ددرت تاب سے جس میگ خ کان یت
اکب کا ریب فی) میں جس نےگھیاس کے نمو ن اود یان شش ککیادہ
ایمان سے پت دمو ھا ت جب ق رآ نکرییم دوٹوک اعلا مار پا ےکررسول الد
پٹ کےا کرام" "ما ]فی ایک دوسرے پرمبباان ا ددرت دل میں تو پھر
کینکن ےکی طرف ےکوی فسائی اعت وقالقت اورذاٹی غض وصدان
کےدولوں مس داخل ہوجائے اوروہ ایک دوسرے کے ذالی رشن بن جا تمیں۔ووقی
آ یں مس رق ول اورشض وصد سے پاک تے۔
اور یگہناکران کے درمیان جوجنگیں میں دو یکدورت اور وھر
سے بن کر دوقع ہکس ؟ اس کافعیلی جواب ق ہم7 مندوصفحات یں دی گے
ہا صرف ات نذا کرتے ہی ںکرا نکی جگی ن سکی اط یاد یکددرت اور
۷ً "و٤
94
بس وص کے باع نی ٗی بہ انتا کی رضا جوئی ٹم دقع ہوگڑتھیں_س
بات یشہا دت رآ نکی خودد تا ہےر مایا:
عََْح لسْلَيََالل و ِفرنًرئقنہ
:زجمہ: طل گار ہیں الل کےیمخل اورا سکی رضا کے۔
جتھیں اتال اپنی رضا کا گار جانا ہے دہ یقن ا سکی رضا کے طلبگار
ہی تے۔ تب فقمالی خوایش اور ذاتی بفض وصر می ال کی رضنانیس ہوتی اذا ا نکی
جچگیں اریفحض وص دک وجہ سے ہرک نی یں جم رضاے ال کی طلب رل١ ۱
اجتچادئی خغائؤوں او رن فلفجیو ںکی بنا ہوککی اور یش رما گنا نہیں پگ اتاد
خطا رذ ایک درجرڈ اب کی متا ہے اور نی ا طسق تکا مہب ہے ود نت رآ نکری مکی
مخالقت لا آ لی ہے اودا یمان ب باد و جانا ہے۔دومر ے یس ”ّحَمَاء
یه عنم ایا نکیدل ہے۔اورق رآ نکر یم کے سا نے ایی سوسو ںککوّی
حشیت یی ہیں-
حضرت علا مہ این تجرگی رت ال علیفرماتے ہیں :
سے خاطب تھ پر لازم ےک اپے دل شی صحال کی
طرف ےنٹول ترک ۔ سار شی اٹہ مکی صفائی اورانصا فک عالت
یں فورکرواوددیکھ کہ وہ یا ہم ایک دوصر ےک یکم یی مکرتے تھے۔
ایک مر رحخرت سعد بن ای دقاص اور الد بن وید نشی ال کنہما کے
درمیان پھھ رشن ہوکئی یخس نے چا پا کرتضرت خالد نیل دکیبچھ
برای ححضرت سد الہ کے سا سے بیا نکر ے۔ححخرت سحد مہ ن ےکہا
چپ رہ۔ جلفگردٹگی ہار ےآ یں شس ہے ا کاٹ ہمار ےد کی
یا( سید ای رمعادبہ ڈچےاردوز یھی الہزاںل۹۹)
ضر ت مدکی اس شمہاد تکو( کہ یکر بکانوشبرداں ہے )جو ہا مت
۶ٔ "و٤
85
رضا دی اور کےساتھانہوں نے دی مور ومچھواورنیڑہ حضرت
ابی عپاس شی الڈٹما کی شباد تکباوجود یی دوححضرتبیی جن سےگروہ
ے ھے۔ اوران کے ساتھ بہوگر ما وریہ ند ےلڑے تھے۔ بپچھرھی
ححقرت ابی اس لہ نے ا نکی برائی نکی کہا نکی بہت نر فک
اورک اک و وفقیہ ہیں جچد ہیں _۔اس ےت مکو معلوم ہو جات ےٹاک اہ
رضسوان الل ہم 7روا ملڑے او رجھکڑ ےگگ رب ربھی ان ٹن باگم بت
تھی“ (سید:امیرستادی چچاردق ج رت یراتا نل ۵۵)
ححقرت ایام ر بای سید می ردالف الین اد فاروٹی سرہندی رمۃ انل
طیفرماتتہیں:
”نوا کرام لیم الرضوان کے ورسیان جوجھگھڑزے اورجگیں
ہوکمیں ہیں خلا چک مل و ینک مفین و ا نکوا یج معاتی بیو لکرنا
چا بے اور تواہشات او رتخصب ے دورہ من چا کان ؛ڈرگوارں
فو خی اش رعلی لصو ات وأ تلم تکی صحبت میں خواہشات اور
تب سے پاک ہو جھے تھ۔او رت اورکینے پالکل صاف تد
گرم کر قح قکیلے اوراگ رجھکڑاکرتے جا دو نکی ۔
ر۷ ہرگردواپنے اجتچاد کے ظا لکرتا تھا او دخواہشات اورحصب کے
شائیرے پاک ہوک ریقال فک دافع ت/٤ ھا“
اتلافا تا رایت سے نان تے
سج ی نی کر حقرات صا کرام بشی اوقشیم می اشتلافات وت
00 0 و" نج ڈرو تے۔
اصول میس تام )حا بِگرام ضی تبرق سے حضرت مر پانی محردالف ٣نی
(۸٥۱۷٥38.
86
جناب شناد فاروقی سرہند اتی را علیفرہاتے ہیں_
اصول می تام صحاہکرا مکی متالبعت ضردریی ہے اوران
کےآ یں میس اصول کےاندرکوگی اختلاف ن تھا ا نکا آی کا اشل ان
صرففرد ی٥ رکت وٹ جوا مھا شی عیب ٹاتا ے
س بک بت تردم ہے بلاش ام سکرام اصول یں باہمپالل
ضن ج_ر کرات لا م رای شر ال حضہ ددم ٥ٹ ر۸۰)
اورفروگی اتا نی صیرت کے باعت ہوتا ہےاہذاہرایت سے خالی
یس متا گر اس حدیث پاکش* ربص ت جرف ما گیا ےج اکہارشادہوا:
”إخلاف اتی رَحْمڈ“' شی میرک امت کیا ہم اتلاف مت ہے۔(شوبراق
اردوشش ۱٦ کوالہ جائم “خر بردا ت تق )
اوردومری حدبیث اک جو پل بھی شی کی جا گا ہے۔ الا فا ت ساب
کے ہدایت سے لی نہہوئنے پدالی ے۔ا کات جم ددبارہ ٹکیا ا جاہے ال
اشلا فکانوفرما گیااو ری نکوہدایتکاژدہ سنا اگیا۔ لا حظہو:
”ددایت ہے جنا بگمرائن خطاب لہ سے فرماتے ہی ںکہ
مھ نے سول ال بووفرماتے متاکہ نے اپنے رب سے اپتے
صحابہ کے اختلاف کےشتحل سوا لکیاجویرے بعد ہوگا تج دیق لی
کہا ےج اتہارےمھامبمرے نز دی کآسمان کےتارو ںکی ط رح ہیں
کان کے لچ س ےق ہیں اورسب مل فور ہے تو جس نے ان
کے اختلاف مل سے پچھوحص لیا ٹس پ دہ ہیں لو دہ میرے فز دک
رایت پر ہے۔فر ما اککہرسول ال چلچکانے قرمایا: ”نمی رے اہتاروںکی
رح یق ان مس سے ج کی یرد ئ کرو کے بداعت پا گے
(فبَِيْهم َِدیُمْ مْتَتبتّمٰ“ وجب وت میں
۴ًٔ و٤
87
: صا میا ارکرام شی اللہ ھم کےا شافات جوفروگی حے اصولی نے
ےا نک اہتبادی یرت اونفی ا بلیت ج ایس او تھا لی نے عطافرما یی ظاہر
ہوئی ےاو ربچ من اورفتہاء کے فیملوں یس اختلاف وائع ہو جانا یسوی بات
تیں اور ناپپند دہ جھی نھیں۔ نراہب ارہ (ج فی ء شافقء مکی او لی ) سے
اختافا ت اجکی بی وعیت کے ہیں ان کےا خلا فا ت فروگی ہیں _یاصول مرن
ہیں اورسب الاسقت ہیں-
در جب ای اوراس کے رسول لا خلا فات کے پاو جو جا پکرامکو
نشان پدا مت فرمارے ہیںء اکر چران کےپنن ض بح سے اپے اجتجادات می ںوی
می ںانین سب میں فور(فور ہدایت) ہے۔ اوران کاب رش شی یک کی گا
کرنے والو ںگو" لِم َِتَيْم تیم نی ہرایت یاۃ ہون ےکی خی
سنائی جاردی ےت پھر ہر پاشحورمسلما نکو برل وجان یلیہ مکر اون چا ےک یحاہگرام
شی ایہم کے اختط فا جن فروی تھے اصولی پرکز نہ تھے ۔ا نک یکو اجتبادی خطا
اورغملڈٹہی ا نکیل ھتان دوئیں - بل عد بیث پاک کے ڈرکورہ الفاظ کے مطا نی
باعث پرایت دنجات ا ہے۔ ظاہر ے جب اتڈاکرنے دالا ہراعت یاتے والا
|| ہوجائۓ و متمتریٰ( اش کیاقذاکی جاۓ)کارا تیاقت دا بدجادلگ ے۔
دوپوںگمروہسلران جھیاڑنے سےکافر تہ گے
حعقرات سا .کرام ریشی اوف نشم میس اختل فا تبھی ہو ئے اورجنی بھی
لان کےاسلام ایا اورشرفعحابیت رف نآیا۔ دو پچ اجتجادی ارت
۵ و وت
وَرضوَاتا) ہم شک اتاد خطائؤں اورغلنجھیوں ےل ائیاں ہومیں اورحطرت
ِ امیرمادہہ ناس ہاب ئش ا یھی نہ تھ بک ببت ے بی دصحابرکرام تی ال تم
۷۸۷۳۷۸۲.
88
ان کے چم راو تے۔ گت یقت ا یہ ہک مھا ہکرام کےج نکردہ ہو گے تھے ان مل
ےم خلیقہ برق رت مول می لہ کے اتال حطرت ام رمواویہ مل
کےسساتھداوریض جوکی رتعداد یں تھہ فی رجا مبدارر ہے ارت ان پرآخر وق ےتک
داع نرہوا۔ ار مل محر تما فووی فراتے ہیں.تزج:
”ان ٹھھڑوں جس تق مب تھا اس لے مھا کی ایک جدراعت
اک کے پارے لکوئی فیصلہ نک گی ۔ تن اود رگرداں رج اور
لے انہوں نے دوفوں جمانوں ےک فک رلڑ اک کی جا ۓےگوشیری
ایا رکرکی۔اگران پت دا ا جات تا کی راوہشان کےقدم یھ
تد تے(فو دی شر ں لمع اص ۹۰س کاب ان ) ۱
الہت مہ بات ضردد ےک خلیفہ چھارم سیدنا مو لامش رخداکرم الڈروچ کے ٢
ساتھھلڑ نے والوں سے خطاہوئی اور ہرگ یکر الہ ج ہک جانبر پان ان :
سےلڑڑنے والو ںکی خفا بھی خطاۓے اجنچاو کی طر تھی اس لئے ا پریھی ا
موافخذ وی بی باعث اجروڈاپ اود ی اش ت کا ہب ے-
رت لام انی سید عیددالف ایر مر التورالیٰ فرہاتے میں : ْ
”اورلڑایاں گُڑے چھ ان (صحابہ) کے درمیان وا
ہد دہ کیک مرادوں اور ٹغ خعمتوں پیمول ہیں۔ وہ جہالت یا
خوائہل ففسالی کےت میں تھ جمہاہتجاداودیل مکی بنا پر تھے ۔اگر چہ ١
جعض کےاچہتادمی لی داع ہوئی۔ ا لیے خطا کا رکیل بھی ال تھا لی کے
پاٹ اب کا ایک دجہ ہے۔ می افراط وف با کے درمیان راہ ہے جم کو
ات دیماعت نے افقیارکیااودیچ یتفوظاورمخہوطات راستہ ے'_
(کحوبات ف زا لح بفر۹٥ن۵)
بمکیچے ہیں جب صحا ہکرام یی انڈ تم کے درمیا نکوئی ذالٰ حناد یا
۱ و٤
89
پی محالمہددہہیں؟ ٹیس تھا ت2 ہی ملا نکوع ینحصب سےدودد جناچا اورک
سے بارے میں ب کو و نال سے انام اعمال سای کر کناچا ہے-
ور نہ یکریم علیہ ااصلء وا سیم کا ارشاوگرائی جےححضرت اس لہ سے جوالہ
ایب سید مچروالف ما نی نے بات شرف ج ٹفل فرمایاادرعلا مان جرگ نے
اص ار 3 یز عنت نایا ماحظہ×-
×ِؤ الہ آْتارییٰ تار ك٥ رَآَحْتَرلی يَْهُمْ مرا
لم من عبقیِْٰهم عق للهَرىنْاذایِْْمْآذۂ
الله َعَالی“_
ترجہ :اللہ تھاٹی نے بج پندفر مایا اورمیرے لے اصحا بکو پپندفر ایا
1 اوران ٹیش ےق سکومہرے لے رٹ شت داراور مر دگار بین دکیا۔ بی یج
ٌّ شس نے ان ےت میں (طھن دش سے ) جح ےتفوط ھا ا سکواللہ
توای نے مفوظارکھااورجشس نے ان کت میں (طن شع سے ) جے
ای ادکی ا سںکوالشتعالی نے ای ادگ '۔
(حق بات زا لک پٹ ر۵۱ لصو من آھر ڈارص۵٥)
: ابآ ےج رآلن وعدیث سے مز یدرو کرت ہیں کرمعلوم ہو س کہ
خداورسول بقل دوفو ںگمروہوں کے اسلام اورایان کے بارے می کیا فیصلہسناتے
ہیں. اگ رآ پق رآ نکریم واھیں تہ معلوم ہوگاک اللہ تھا یں جلڑنے والے
دو ںگروہوںکوی ین بی فر مار ے س اتاپ نے فریا:
ٰ َانْ گاِلٰن ِ الْمُزمييْن الو َاصُلِحُوا بَبهمَا کن :
لے مہنع و رھ ری ٤
آٹر ال ء ون قائٹ قاصیِخز تع اڈ تَافَيخرٍ ٭
الب لْمُفْطْنَ ٥ نما الَْوْمُوْنَ اِخوَة فاصِْْحُوا
۷ ٤
90
ین تَمَوَيكُم وَلَّقُڑا الله کم ترْعَترْو ہ واررےےے)
تج ہ:اداکرمسلمافوں کے ددگرد ہیں رای زان می یہک پھر
اگرایک دسرےپزیر / ےل ا نیادن دالے ےےلڑویہاں کک
کردہ الک ےعمکاطرف پٹ اے پھراگر پٹ اے راف
اتال اصلا حکرددادرعد کرو یلگ عدل وانے الہ پیارے
ہیں۔سلمان لان بھائی بجی تھ اپنے دو چھائیوں مع کرو اور اڈ
ےڈروتا اکم ہمت ہو خزالایان)
اب ذ رات رآ نکر یم کے مقدی الفاظک ”ان طَاِفضٍ ین الم
الو“ اور تم المُْمنوٰنَإِخْوَقہ دو باروٹورسے دگھیں۔الث تال ی1 یں مس
لڑنے والےدفوںگرد ہو کا عیفر اہے۔ پا تاپڑے
اکر دوٹوںگروہ امن تھے جن کے ایما نک یگوادی خودالل تھا لی دۓ کوئی
مسلمان ان کے ذکن ہونے یش شی کی سک رکا اود جب رآ نکہدد ہا ےکردووں
گردو ون میں لق پ رن نکر ہڑ ےگا اکا ہکرام یھی الم یش وا ہوچانۓ
ول جگیں تق دباضلیٗ کفردا ملا مکی کی فی یس ۔ بکلہ یٹیل اجتبادی خلاؤں
اورْلزجرن کے باحث وا تم چومسیدی تے ایل طرف
صولا ےکا نات ام رالمو ین خلیو- ١ 0 جناب تفرگ یکرم الڈرہ چ اوران
کے اف اکا محابرکرا ری اد“ نم تل دو سر جانب ا کی منرت ام رسواوے ید
رك نت یا مال مین سیدہعائڈصدیقہ جخرت مل جعتینے زیر اور بت ے
محاکرام ریا یڈعم تھےشنفاکشردیشرہ مس سےبھی اض ہیاس شا تس ج یک
ال کے پیارےرسول ۹ جن تک کور یاں سنا پے ہیں لان کےم وین ہونے
می سکون شیک کر سک ہے گیادوفول جاخب ام ون لوگ بی تھے_
اب ایک ضشچورروایے وچ بخارییشریف میس خخلف مقامات پراورلاض
۲ًٔ "٤
91
ارکب حدیث میں بھی موجود ہے طاحظہہ۔ جناب رسوی اکرم للا نے امام سن
جب دہ یھو بے تےکواپنے بپپلوم ارک میس نےکر بس نضبرقر ایز
رؤ بی ھا َة رَلعَللۂْنُسْلع رم
( ارگ باب علامات وت :باب ماق باصن واحسین بی امن جیا ب لیے الی 9ظ )
تر جمہ:میرایہ ٹا سردار ہے اور شاب اس کے ذر لیے اللہ تھا سلرانوں
کیا دوجماعتوں میں حکرارےگا۔
علااہ نت رگی رح ان رعلیف مات ہیں:
اللتھاٹی نے حضرت معاویہ کےگرو ہکا نام مسلمان رکھا سے
اوراسلام میس اسےجضرت امام من کےگر وہ کے مساوئی اق اردیا ے-
جس سےمعلوم ہواکہدونوں قریوں مج حرمت اسلام باقی ہے اوران
جگو ںکی وج ے وواسلام ے خمار نج نیں ہو ے کہ برابرسن پ ہیں
پ دونوں می ےی ای ککوکھف دوش انیس ہوسا“
٠ (الصرعن گر داررل۲۳ء)
اسی حد یٹ ک تبحص رعلا شفنقا ت اجرنقشمند کی یں مطاظہو
قرماے یں۔
۱ ”دنا کا ہرذ یملف جامتا سے اوردنیا کی ہرکتب کک رک تارتا
کی تا مکتب ایس بات پرگوا ہی ںکہ امام تن مل جب دوش خیود
مین بتتےتة صرف٦ ماوکوم تکرنے کے بعد ج بکوفیوں نےآپ
کو جناب امیرمحادیہ لد کے خلاف جنگ پرآمادوکیاڈ آپ نے جناب
امیرمعادیہ ےیک تھی اوران کے پاتھ بے یجس تکر گی اوراپتی
خلات ا نکلگکےکردے دینھی اور پکی اققہ اش سید امام ست
۷ و٤
2و9
ےکی جناب ام رمعادیہ سے جج تکر ای اور ےدوبڈےگروو ٹن
ایک دنا امام تن خیہ کے ساتھ دالے اور دوس رے سینا ام رموادے
لن کےہاتح دو نے تھے۔
جناب رسول اللہ ہلان دوفو ںگروہوں پکوملمان فر ارے
یں اب ج شی کا ز باج ض رین اود یمان ہدوت سدنا 7
امیرسحاد یہ کے ایمان می شی کی کرس ا درجم کوآپ کے ایمان میں
شک ہے پر سکورسول فدا پا کےفرمان کیک ہے اور بعد ےٹ
ریف پقاری سل مکی انت علیرحدیث ہے اوران کے علاد بھی حد یٹ
یر یتما مکتابوں شش تضور اکا یف مان مو جودے_
اب دو ھی راتے ہیں ما نے جناب رسول اللہ للا کے فان
مقد پرایان لاتے ہو سید نا امی رمعادبیگو پیا اورسا مسلمان مان
لی ما نچ رآ پکاعزت دلقم ت کا رکرنے سے پل جناب رسول ال
پل یز بان دک نشا نکاانکارکردیی-
بازیریہاں بی دعوکاد ین کی :اکا کیش کرت ہیں
تی تضمور لچ نے مسلران فرمایا ہے اورمسلمان و صرف اوپ ادوپ ے
تن وا ل ےو کچے ہیں ۔تخیقت بہ ےکہیہدھوکا رد قر نی سے (الی
1 وج سے پیدا ہواہے۔ ود نت رآ نکر یح میس ارشادغداوندی ےک
: خرت ابراقیم علیہ السلام نے اپئی اولا ہکو ہے بعیت کیتی_ "فَل
تَمُوْتَرال وَآتُمْ مُنْلمُونَ“ (۳۰/) مت یق ملمان بی ما- ایر
تا یکا اس دصتیت ابرا کو بین فرمانے میں مفا یہ ےکر سب لوگ
اع مکولی مک لیس اود ہ رای ککوسطران بی مرن چا بے ۔تضورنے فریا
”تا اون الْمُنْلمیْ“ (۴9۸۴۱/۱۷۴) مس پا مان ہوں جال
۴ َ ٤
93
وی دے
تھائیٰنے فیصطی ف ادینخُوَ سَفَاکُمَ الْمْسلمیْنَ۔ (عا :)اش
تھاینےتہارانام مان رکھاہے۔اب با خداچابتا ےل برانان
ملمان پیدا ہھتا ہے اسےمسلمان ہ نکر ہی زندک یگ ای چاہے اور
ملا نکھلوانا چا ہے اورملران تی مرن چاہ ےت کیا ”ماز اللر ایر
تال اورللہ کے لمات کو عفرا رے یں اورحاققتکا
الا ن نار ؤں ۔استغفر الله العظیم واتوب الیە۔ قرآن
پک میں مؤین اورمسلران دونوں الفاظ مترارف معوں جں استبال
ہو ے ہیں یز اگ راس لفظ سے جناب ام رمحاد ہی کے ایھان پ ش٠ گآ تا
ہو بچل راس شیک سے جناب امام تن دی یس بی کت کیہ ان
کیل بھی بی لفن بویا ے۔ اہراج بجھش یکہنا سے دونو ںکوکہو گر وہ
ایمان دالے ہیں تذ ہیی ایھان دالے ہیں او راگ برا یمان دا لی لت
ان کےایمان سے اننکارک رن پڑےگا-
یز جنا ب نی نکرکین نے جوسیدنا امیرمعادیرے جع تک
ا نکواپی خلا ق تک ےکردے دیق کیا آپ نے قرآن کےخلاف نکیل
کیا؟ ال ہکا ش رآن ف متا ہے:”ایمان دالے اش داورئں کے رہول (9ق)
کے ہشنوں ے و دق یہی ںکمرتے''۔(۵۸/۴) یزفر مایا نج سکادل مار
ادس ال ہوگیااا کی اطاعت قبدول شیکرو۔(۸/۶)او 2جس نے
0 ای
بہت یآ یا ت بی کی جانکتی ہیں“ ..( نا تب سد امرمعاد ی ظا ل۱۰۵۲۱۰۳)
یں ایک تقیقت ےک حفرت امن چان انکر ییں کے مرا
ان ےلم ف لی ددامیرمتادہ لد تے۔آپ نے کے ساتھ سار تضرت
امیر موادیہ خیلدکی یج گھ یکی اورانیں خلاق گی سی ردفربالی- لہذاعد مٹ پاگ
(۸٥۱۴۱٥٢.
94
یس پکوردو چا اعوں سے مراد یی دوگروہ ہیں-
ابق رآان دحد یٹ کافیص لآ پ لاحظفربا گے ہیں ۔بپاجیٹ نخورکومزن
کچکتا ہے اوراے ایا نگم عز یذ ہے دو بلا چون و چراقرآن دحدریث کے اس
ان ذ ان پراییان لے ۓےگااور جیٹس خو لیت اطمار ری لت الا متا
ہے د ہیی جناب امام عالی مقام سید نا امام سن مل دک یح اور یج تکی تحم دی مار
اوراتا کر تے ہو ۓے نفرت ام رمعادیہ اوران کےگرووکومؤین جسلرا نتم
کر لےگا۔مشنی جیےسید ناماس تسن علیہ السلام نے امیر مواد توخا فت لپ ردکردی
تھی۔' رفا مل رسول اورخادم ابیت'' بھی حفرت ام رمعادے ودک طقی تکو
مان لےگا۔ا نکی امارت ولوم کو ہچانبتلی کر ےگا او رتفرقہ با زی کے اہ
میس اپ اکردار اد اہ ےگا پالی جے ایماان یع زی تہ بداو رق رآآن وحد بی ثک گی
ا کھپوانہب یا شےامام عالی تقام امام تن علی رسلا کا فیصلہچیقول نواس
یرہ بت ادرنا مفہاوشت ال ہی تکو ار ےکون رو گت ے؟
یہاں پر محاند ین امیر معاد یک نما عاوں اور پیروں کیل بی ساماین
یرت مو جود ہے جوق رن وحد یٹ سے دوگردا کر تے ہوئے پا بک ملڑنے وا نے دو
گردہوں ٹیل سے ایک کضرددہائل پیر ہونے پراصدارکرتے میں قاروا
بأوْلی سارہ
سب با ششقیء جنت مم رٹ دورہوجا کی گی
ارارک وتھالی نے ق رآ نکریم میں ف مایا:
)١ وَنَزَعنَا ما فی صُدُوْرِهِم مِنْ یل تَجرِیمِنْ تَحْيهِمْاللهَار_
(ا/اف۳۳۴)
ریمہ:اورھم نے ان کےسییتوں میں س ےکی ل(رنس )یچ لئ ین
کے یچ ہر یی ئن نکی ۔(کنزاویمان)
(۸۸٥۱۴۱3۲.
5و
۳ تعن مَا فی صَدَوْرِهمْمِنْ يِلِإِخْوَانا علی سمل
)
تمہ اودم نے ان کےسینوں مم جو کین حےس ب مین لے ہیں
بھائی ہی شال پدویروٹیشے۔(کزوویان)
مفرق ہن حتف ام یارخانشحی بی نیت مبا کہ کےیق نت ف مات
صاع فھرقہ ٹس ےکآ یت حخرت الومکرصد بقی خود کے
عق ہی نازل ہوٹ یمکمرب نے ان کے نے ہ شیک طرف ےلیدنہ
پوڑا لی النتی نف رماتے ہی کہ یآ یت ابی بدد ےت یٹ ے-
یش اورخثان ادلحہاس میس شائل ہیں بہرحالل اس میس ول کی ج کٹ
گی نو راعرتان)
ضیاءالاصت پیش کر شاو رحم الشعلیفرماتے ہیں:
”دای ٹن فل ٹیو ںکی وج سے بسا اوقا تی اد پارسا
لوگوں کے تعقا ت گج یکشیدہ ہوجاتے ہیں اور ایک ووصرے ک تلق
کدورت اورعطال پدا ہو چاتا ےکیوککہا نکی یقت اور با بی رشن
کیک نب پرینی ہوئی ہے( تی خفسانی خواہش اور ذاتی فنض وعناد پٹنی
ٹیس ہہولی )اس لے جب قیاعمت کے دن انیس جنت می وائل ہونے
کا اذن لگا فو ان کےآ تی قلب ے ان رتو او رکدورٹز لکا غپار
صا ف/ر دیا جا ۓگا اور و ساب عخالفتو ںکاکوئی ا سو کی ںکریں
مے_ححفرت سیدہاع کرم الشدو ججہف ا یکرت ےک ےنت ےک ہل
عثان ہل اورز یر (ین) نیس لوگوں یس سے ہیں جن لس
آیت مں ارشا فا اگیاے۔ویروی عن علی رضی الله عنه انە
(۸۱۱۷۱٥٢.
96
قال: :ارجو ان اکون انا وعثمان وطلحة والزبیر من الذین
قال الله تعالیٰ فیھم ونزعنا سار فیا ترآن جطددہل٣+ ۔٢۳)
دید یندئی مفس رق رآن عل ءیشی رام عثانی کت ہیں:
”رع ما فی صَدرْرِهِم من يِلٍ “سے ماد یالایی ےک
با ہم جنیوں میں نھماۓ جنت کےنتفلق کس طرۃ کارکک وصدن ہوا
ہنیک اپنےکواوردوسرمے بھا یکوجس مقام میس ہے دک ےکرخوش ہوگا۔
تخلاف دوزشیوں کےکردہ مصییبت کے وقت ایک دوصر ےکوامن لن
کی گےاوریا یمراد ہےکرصا ٹین کے درمیان جودنا لی بات پ
خی ہو جانی ہے اور ایک دوسر ےکی طرف ے انقباض ( طبیع ت کا
کت ری یناہ دہ سب جنت مس داقل ہونے سے پشھتر ولوں سے
تال دیاجا ےگادہال ایک دوسرے سے یلیم الصدرہوں ھے۔حعرییگلی
کر الشددجہرنے فرمایا: ”یھ امید ےکہ می عنان :لی اور زی نی
الشٹھماننی لوگوں میس سے ہوں گے (تخی ٹن )
ام الاسلام جنرت شا دوک ایرث دبلدی علی ارجم الق انل فرب ے
الوبکر نے ابوھتر ی سے روا تک ہےکہانٰہوں ت ےکہا۔
لوگوں نے ححخر تم اد سے اصحاب تم لک بابت ددیاق تکیاککیاوہ
لک نشرک یں؟ آپ ن ےکہاشرک نود ہٹھوڑ گے ہیں ۔لوکوں ن ےکہا:
کیادومنا فی ہیں ؟ آپ ن کہا :ماف خداکوبہت پیک اہکرتے ہیں
لگوں ت کہا بچمردوکون ں٢7 آپ نے فر مایا دہ ہمارے بھائی ہیں۔
انہویں نے چم پہ بضاو ت کی اورآپ تن کہا ٹل امیرکرت ہو نکر اور
دوان لوگو ںکی رح ہوں ےکن نکی شان میں اللرتھا لی فر اتا ےک
۰ً و٤
97
”ونزعنا مافی صدورھم من غل اخوانا علی سرر متقبلین“
ارجم نے ان کے ولوں سےکین کال لیا۔ چھائیو ںکی ط رح کر نے
ساضننتوں: ٹیٹھیاہیں۔ ببحد یے متحددرقی سے مردی ے“ 2
(ازلد ھا راروود مل ۵۳۹)
عبرالعز یب اروگ رم ال علیأئگل ف مات ہیں:
”این ع ہکرس ریف حعخرتعمبداود این عبااس رشی الد
چا سے روا تکر تے ہی ںک ہم ستضورعلی لصف والسلا مکی بارگا 7و
حا رتھا_حقرت اوک رص بتی ب ضر تک رفاروقی عفر تعنا نأ اور
ححضرت مواو بی ادڈر تھا لی ہم اتی نپبھی حاض رقدمت تھے عفر
لی لہ حاضر خدمت اق ہوۓے ۔تضور علیہ السلام نے معاوی ے
دد اف تکیاک کی شی می ےحبت ہے؟ عت کیاہاں یارسول الد نچھر
آپ 8ڈ نے ارشادفر ماک حنقریب تمہارے ورمیان ٹاش ہوگی-
حفرت مواویے نے عق سکیا: یا رسول الق بلق اس کے بح دکیا ہوگا ؟ فرمایا
اللدتھاٹ یکی رضامندری اورفوخضرت محاویہ نے عف لک اک ہم قاۓ
لی چداٹی :ہ ہیں ای وقت یآ آیتازل ہلولو شاء الله ما اقعلوا
ولکن الله یفعل مایرید“۔
( مین اورتضرت ام رمعاد ہہ ارد وتر جم النا حی رک ننمشن ام رمعاد ریش ۵۵)
یلا نکسھا لی ےکیننٹس ہستا
ایدتالی نے مسلمافو ںکی ایک اہم فلت اود ند یدہعادت بی جال ے
1 ک دو سھاپگرام ریشی ارڈ ننجم س ےکی نون ےکا دع ار تے رت ے ہیں ۔ق رآ نک ریم
مرف ایا:
وَالَدِيْنَ جَاء رین ,تَحْيمِم يَقْزلَوْ رکا اغفرْکَا وَاحُوَيَ
۶ ٤
8و
الَذِيْنَ سَبَةُ سَقوَْا بایان ولا تَجْعلفِی قلونَا الین ام
را ِنَّكَ رَء وف" رَحِیْم۔ جاعل گ
خر جمہ:اوردہ جوان کے حر وف کرت ہیں اے ہار ےرب میں
شی دےاور ہوارے بھا یو ںکوج ہم سے یلان لات اور ہما رے
ول ایھان والو لکی طرف سس ےکی تد رکھ۔ اے رب ہعاارے بے
مک بی نبامتہربان رآ ادالاہے۔(گزالایمان)
صاحببنودلجرفان جتاب اھ یارفان شی تق مرف رات میں:
”اس آیت بل رب نے قیامتکک کے لان ںک پچان
متا یکرددقا سا ب کے دھاگو ہیں اوران کے نے سیا 0-2
صاف ہیں بجی ملمانو ںک یکل تین ایس ہو میں ۔ سا ہمہاجرہ
صحابرافصاد اوران سب کے دھاگوخرخواہ یچ خلام ۔ اب با کی سال
سے رے والاکس زعرہ ہس ہے۔ صحابہ سے رکٹے والاتذ
مسلمافو کی جنوں جماعوں سے خار بے( تاد لدب نظ ل۷)
صحالی سےعداد تتضور پلپگا سے عداوت ہے
حور یکری علیراصلوو میم ےسا رام نام شرف عحامیت
کا اترام شکرنے والے فور ےک او بچھراپنے ایام پرقیعردیں۔ ال کے
پیارے ول چا نے فرمایا:
ےت کت
کا فَقَد 7ے وَمَنْ 7 َنذاکی لُ1 وَمَن آٌی ۶
ق ىك 7ئ (تر نی اواب النا قب ہمشکو باب منا قب سح )
۷۳۵.٠
9و9
ترجہ :” معرےححارےے با رے میں ائڈدتھاگی سے ڈ روم ر۔ رے بعدیں
انی اغرا(اتراضات )کا نشانہنہ ینا شس نے ان ےعحب تھی
اس نے میریی اط ران ت محبت کی اورجشس نے ان ےک رکھا ال
نے میرے ساتم شف کی وع سے ابی اکیا شس نے انیس ایت دک ال
نے بج از یت پپاگی اور نے جک اذ یت بہچاگی اس نے ال تھا یکو
ازیت دی( ناراض لیا ودج نے ال تھا یکواذ یت پہچچائ یترب ے
کال تھا یا ےکڑ ے“ 3
اعد پاگ کےت یئل امام ای نگھرگی رت اللد لیف ماتے
”بعد یت پاک مھا شی ا ٹم کےکتعلقی وصتی کی حقیت
رصتی ہے جس مس ان سےحب تک تکیرو خیب دک گئی ہے ادان سے
نل رکنے سے ڈرایاگیا ہے اوراس مل ماشاردشی پایا جاجا سےکہان
ےعحبت کنا یمان اوران سےپشف رکف ہے کیوکنہ جب لن سے
اض رن آحفضرت ولا ےٹفح رکھنا ہاو وہااس عد یث کے مطا بی
زا حکفر ےجس میں فرما یا ےکرقم می ےکوگ یش ای وقت
تک مز نی ہوسکنا ج بکک میں اسے ا سکیا جان ےگ (یادہ
وب نہہوچاؤں بعد ماب کےا ل قرب پولال تل ےل ہ
آپ نے یس ای جا نک قائم مقام قرادداسے یہا ںک کک۔ا نگ ایةا
ےآ پکوایذ انی ہے اورایے ہی رسو لکریم لاق کےٗیوبوں سے
عبت رکنالڑئ یآ پک یل اوراصواب عبت رکھنارسو لک رم اق ے
حبت رک ےکی علاصت ہے اور ہہ بات ا ےکی سے جی ےک آحضرت لا
سےعحبت دکنا الف تواٹیٰ ےعحبت رک کی علامت ہے۔ نی زآپ کے
(۸٥۱۴۱٥٢.
0ل
امحاب اور ےپ وعدادت رکنا انکور لکنا رسو لک یم ہللا
سے فض دعداوت رکئے اورآ پکو ص۳ بھلا کینے کے مترارف ہے۔
(معاذاش) وی عبت رتا دہوال ےچگاعبت رکتا ےج
سے ا لکاشوب یت رکتا ہےاددنس سے ووففحض رکتا ہنس سوہ
بھ اض رکا ہے۔الڈتھال فا ے:
لا تجد قوما یؤمنون بالّٰه والیوم لاخ یوادون من حاد الله
ورسوله۔ ٠
مھ جج ال تھا ی اود بی مآ خرت پرایھان لانے والوں ٹس ےن کس یکو
الساعر ا کانہ پا گاکردہ ال یز محبت رکتے ہوں جس ے اڈ
تھالی اورا کا رسول نی رت یں
ںتضور چا یل ءازواعءاولادادراساب ےمحبت رکا
تین داجبات می سے ہے اوران ےئش رکنا اد بر ا وکرنے والی
زوش شی سے کے (اصوع اھر را۱۴ ا ۱۳ے )
”لوب تکی تفیقت بہ ہ ےک یتو بک اطاع تک چا ۓے اور
بات اور بات کے بش ا کی مرتی اد کرجا
دا جاۓ اوراس کے اخلاقی وآداب سے اد ب ھا چاۓ“'_
(الصوضق اھر تاررش؟۵۶)
اورشارج ملکلو 7 صاحب مرا ۃ جناب مٹقی اھ یا خا ٗی رت انل علے
ای حد یف ےت فرماتے ہیں:
ملف مھا کرام مم ےس یکوستادرتقیقت چھے ضر
بی اکم اگ ستائے۔امامما الک فرماتے یں “ھا کو برا نے والفل
کسی ےکا اشن جزاوت رو لآ ول ہے۔(م35)اور
(۸۸٥۱۴۱٥.
101
عراوت رو لعداوت رب ے ایا دوددوز یکا تب
: (ماجٹرحگزج بلردم ص٣۴م)
رت بدا محیرث دبلدکی رحمۃ الطعلییفرماتے ہیں:
تنصو رک تضورعلیلصلؤوالسلام ےتشرف ما بیت تن ے
اوران کےخلاف جو اونگ ھا گیا وی ہے اوریین ین کے مار شش
ہوسکنااوریقی نکی نکی وج ۓیل پھوڑ اجاسکتا''_
( یلال یمان فاری بوال سد امیرمحادی خٹنائ لت ق نا رگا )
حدرث لا ہورگ علامہسی رود اصر رضوئیٴ رق الد علیہ بگورہ پالا عد یٹ
”ا س مو نکی بکشزت اعادیت ہیں جن سے اس ام رکی
وفاحت+لّ سےکیمنا ہکرام افصاردم ہاج بن ےعحبت دنا اورا نگ
تیم وق تیرکر رسلا نکیلن لا زی ہے۔ بر دونفوں قدسی ہیں جنہوں
ے بلاواسی تقو اکرم 0 ےفیس حا لکیا او رآپ 4جان وال
ربا نکیا و بن اسلامکوا ہج خونع سے میتی اور اسلام کیل ڑکیا ڑکا
یں اٹھایں بے افرادسا ریا وم ۳۴ سن دمخدوم ہیں ان ے
حبت یقیاسلام ہےاوران پنوس وعداوت من فقت ہے“
(فییش الباری جلرالض١۵٥)
ابکوئی نا تاملک اسلام پھ کوئی سکالر جک سی صحالی مس عیب نا ےے
گا ذکورہوعیدک سخ ہوجا ۓےگا۔ ابد تی اےضروچکڑ ےگا۔ شایدکوی برت
حاص لکرے ال تھاٹی بی ہرامتد ہے والا ے۔
صحا ی2 سے جلن وا لےکافر
تضور می اکرم پچ کےصھا ہکرام دونفوں قدسہ میں ٹنیس ال تھا نے
عو بکرم ول الیم کوبت دمعی کے پدف ارآ پکامادن
(۸٥۱۷٥3۱.
102
دددگار بتایا بای ایآ پت خی اورمکلو کی ردای تک رد ایک ایت ىیتفصل
عدمڈپا اک ملاظ فرماچے و ںک فور پللانے محایہ ےب تکوا نی عبت ران ے
شف کوا فی ءا نکی اذ ی تکوا تی ازمت رکاذ تد نے کے مترادف فرایا_
گویا اش تھائی اوراں کےرسول بل کے ند یک مھا پرکرا مکی بت نکر رو منزالت ے
اورائیش بہت کزت مت عطا فرب گی ہے۔ یہا لک کک جولوگ ان سے حر
گرتے لان ےقحض ربج پل اوران کے مقامات ددرجات دک نکر لت
ہیں اش کافرقراردیاگیا سے ۔فرمایا:
لیٔظ - الْکثَارَ رتس
ت جھہ:*” اک یی میس پجلتے رہیں یی دک ےک رکفار۔(غیااقرآن)
مس جھی لا نکودوسرے مسلمان ےس کرنااوراڈرتوالی نے اے جو
مقت اورگزت عطافم مال ہے ا کا براچامنااوداسے دک رجلنا جا ئزنہیں حر ے
لیا ں ب بادهھ انی ہیں۔ جناب رعول ال لان فیا :(ت یں )
١ صد سے پچ کیونک نگیو ںکو اس طرح اھ جاتا پ کے
1 مگککمڑ یکپ ھا یک (ر با افص اشنم رم دم ل۷ہ)
صاحبأتیرشھی جناب خی امھ یارخان بدالوٹی رد لعل زیت"
َحْسَدُوْن الس عالی ما الهُمْاللَُ من قضہ۔ مہ ضدکرتے ہیں اس رھ
الشدنے انیس انل سےدیا۔ سآ ء۴ ھ فرماتے ہیں:
”ند کےمعی ہیں جلنا اور یکی تق تکا زوال چا بنا کل '
نیس اتک لک اکوا یقت دوں اورحا نی اتک خدائقالٰٰ
مم یکوا تحت در ے'۔(تم ریپ دح د۷۶
اب جب عاممسلمائوں سے یلزا اورا تھا یک یجئی ہوئی عزت وکظرے
اوت ورولری پہعہ/ جال 7ںوہ امش ی تفورمردرعا بھ
(۸/۸٥۱۷٥.
13
سے پیارے سا کرام جنیں خود ال رتواٹی نے اپ ےحبو بکرم پا کی صحبت د
محاون تکیلی ینف مایا ہے سے دکرن اورا نکی شان وشوکت اورعزت وحمت
کھےک لن اکیوگرروا ہوسکتا ہے جناب رسول اللہ ہلچلانے مسلمافو ںکومسلرانوں سے
حدکرے ےت فرما دیا سے۔ نذا یک مسلمان فے عام مسلران ےتبھی صدکہیں
کرجا اب جام مان ت کھاجوٹش خائص مع ہرک رام شی الش ٹم سے صدکرے اس
ملا نکھلات ےک ایا حاصل ہے۔اورحسد اف رعداوت کےکویس ہوستا جک سھاہہ
کرام سے عداو ت تضوراکرم اتا سےعداوت ے اور اس پرایک مخصل ور یٹ پاک
جوآپ پیل 'صحالی سے عداوت تضور ولا سے عدادت ہے کےکنوان سے ملا حظقرہا
جے ہیں۔ا کات جم لا ظیفرمائھیں:
تیر ےجا زیو کے پارے شش اشتاٹیٰ ے ڑرہو-۔یرے
بعدیں (ا ات راضاتکا) ناشن با جس نے ان ےعبتک
ا نے ری خا ران سےعب تک اور نے ان ےک رکھا ای
نے میرے ساتموینح لک وجہ سے ایی ایاجس نے امش اذ یت بات
اس نے بے اذ یت لی ورس نے جھے اذ یتب پاگی ا نے الد
تال یکوازیت دی اورٹس نے الشدتھال یمکواذ یت دی تقر یب ےک اللد
تماٹی ا کل ے“.(تنزری اواب النا تب کک ۃ اب ما تب اسطی)
ا پ کا پرگرام ےففح وعدراوت رککھے وال اوران سے جس دک یآنگ یں
لئ والاً کییگرمسلران ہوگا'نس کے دی زد پآ قادصولی جنا بج درسول الل ڈاا
پراو رگا راشقا ی پل لووروواشقا لیت ےکھی دوچ رہو جال تال
ھ7 ان بش رَتَكلَعَدْي اق ر1 ن )اوران تھاٹی نے
- کرام ےصرکرے دلو ںککافری رای ے اَِهیظ بِهِمْ لق "کہ
ضمیضس میں لے رہ نہیں دک ےک رکفار۔ا یآ مقدسہ سے اعقدلا لکرتے ہوئے
۷ٔ “٤
14
سید امام ما لک مین انس “لچدنے فیا
”جس نے حضورعلیالصل ”ول لام کے مھا کرام کے رات
ٹس وعداوت رگ دودائرواسلام ے ار ےج ت
(کتتاب الشقاءاردود مل )٠۰١
صحفرت علامائ ن چجرگی رق لعل ہف باتے ہیں:
”انآ یت امام مالک نے روف کےکفرکامفہوم اخ
کیا ہے جآ پک ایک ددایت ٹل میان ہوا ےکیوکہ یلاگ بے
رکنے ہیں ۔فرماتے ہیں: ینک مھا برا نکوخقص ولا تے ہیں اور بے
.۰ برق رو میں دہ کافر ہےس ایک ابچھااغذ ہے جس اکاشجادت؟یت
کےا جرگ الفاطا ےکن ہے ۔حخرت ما شانی ید نےبھی روفنش کے
کرش سآپ سےاتفا نکیا ہے۔ اط ر انہک ایک اع بھی اس
معائلشٹ آپ تل بے“( اصع نال ارد یں ۷۰م
اداام بای قومزمالی سیدن مجددالف بالی زس مر:الندانی فرماتے ہیں:
تقام بی فرقوں می ے رتو فرۃ ہے جورسول ال ڑا
کےا ہکرام یی اشنم ےئ رکتا ہے۔الطر نے اپناقرآن میں
اناگ ںکوکافرکہا ہے۔(فرمیا ظط یم الْکفَار“_
۱ ( بات صا لو بب ر٥٥)
صاح نی رفودالرفان جتاب لی ا یارخان علی الرۃ اتل فر ۓ
ہیں:
ْ معلوم ہو اک مھایہ سے جیلے وانے س بکافر یں ۔ق رآ نکرمم
نے لیا اسلائفرتے پصرا رکا ھی ندیاسوارشن سوا ے“_
( تیر رالھرغان مب یکیے)
۷ و٤
105
”اورسحابہ کے جس قد رفضائل ددرجات ان تھالیٰ نے ق رآلن
کر یس بیان قرماۓ الن سب شس امیرمحاومدال ہیں دب نے
فربای: ال تال یکل صحاہہ سے جن ت کا بعدہفرما چگا۔ ا نکی تق کی و
ارت لات فرادی دوسب جج ہیں اقران سے راشی بھ چک دہ الد
سے رای ہو یے۔ وہ بڑےکامیاب ہیں انت سے نہ دانے عتاد
رک وا ےکقار ہیں دقیرہ 7 ان سب ٹل ام رمماوے نقیأ داگل
گیں '۔(ابرحادیگڈپگ ظ ل۲٣۴۳۴)
تکابر۸! اپ ھلاکہنا 2۶
تھا ی نے ا ہکرام شی اوڈشہ کو بڑی عزت دتظمت عطاف بای اور
ا ےعبوب پلک جا شار ای نایا ۔ جناب رسول ال نے نی اتی محبت
ث پنرکیالزی: رکا ادوپ جانا نکی خ ریغو ادرا نکی اذ تگوابی
یت ترارد ےکرآ ن کا عقام دمرح بڑھاباادرں بڑا لا کین اورسب پیج مکرنے
ےر ککرا نک عزت؛فزائی فرمائی۔ جناب رسول انڈیلی الشعلیہدملم نےفرمایا:
۷ تَُْڑا اَصْحَابیٰ فلا اَحَدكُمْ اق حر تع مالغ
مَُ تعَيِمِمم وکا تَيیْق زملنز وس۳ ۵۵بت تب اه حوادخدلم)
ترجہ :یر ےما پیا ںیگ اگرقم مم ےل ایک اع(یاڑ)
برابرسون خیرات کر ےق ان کے ایک مم دکونہ ینہآ رھھےکو۔
شارح ملا ۃ صا حب ما 3 جنابمفتی اح ا ا یھی ہمت اللرعلی خر ماتے
”چان دکا ایک صا ہوتا ہے ادرایک صا ماڑ ےپاریر
ایک سیرآدھپاؤہو ای مرا حالپٰقر بیاسواسر(ا ای یکڑکرامرے
(۸۱۴٥٢.۰0
106
ند جو تی رام تکرے اوران کے علاوءکوئی مسلمان خوا وٹ و
قطلب ہو یاعامسلمان پھا ڑب سن خیرات کر ےا ا سکا سو قرب ال“
اورولیت مل عحالی کےسواسرکوکی کچ کا مرج حا لی روز و نماز اور
ادگ عباداتککا ہےء جب سی نوک نماز(ن اب یس )دوسرکی کی
نمازوںے چس ہرارگنا ےو جیوں نے تضمور اکا قرب اوردیدار
پایا۔ا کا کیا پچ نا اور ا نکی عبادا تکا کیا کہنا.... اس عد بیٹ سے
معلوم ہوا رہفرات میا باذک پیش تر سے یکر چا ےی صحا یکا
لف سے یاد تدکروہ یی تحفرات دہ ٹیل بی رب نے اہی ےمحیو کی
عبت کی نا۔ہ ان باب اپے ےون و کاحبت منوس رہے
دا ران رب نے اپنے یکو برو کی محبت مل ر ہنا کے پپنر
ہس سس
۲) لابو موا اصعَاہیٰ قوَالَّذِیٰ تَفِْیْ یمم لوان َحَدَكُمْ
كَق مغ اُحُرٍ هب تَا رق مُا ََیمِم رَل تيبْكَ/
(مسلم ائص ٣ با کم سب محا بنا امم :ق رک لداب امن قب این ا با فقل
ال بریاشم)
جم میرے اہک برا ہو یحم ہے اس ذا کی جن کے قضہ میس
گراجان ہےاگرقم ٹس ےکوئی اعد پہاڑ جقنا سو خر کر ےو و سی
مال یک ایک مد یاصف+ کے براویس مھا
۳ "ِخْفظْونِی فِیْ اَصََابِی وَاَصَهَارِیْ وَانصَاریٰ َمَنْ
عفقییٰ ْھم عَفظة لف الڈت ولا رَتَْمَحَْییْ
نم تعَلی اللہ ِنه ومن تَعلَی اللهِن يزْيِك انَِْحُلؤ
زاس واصق اھر تیء)
(۸۸٥۱۷۱٥.
107
جہ: می رےصحارہ سسرال اورمعاوخین کے بارے میں مج طاظت
یں رکھو. سوجشس نے ان کے پارے مس بے لت میں رکھاے الد
تعالی دنیااورآخرت میں طاظت مل رگا اوس نے می ری ان کے
یارے می ل فا لت نکی دہ الی رعت ےدورہوگیااو رج ال رمت
ےدورموگیا ار یب ہ ےک ال تھا یا ال کا مواغز وکرے_-
٣إ اْرَار کی اَجِرَههُمْ عَلَی اَصحَابیٰ۔
( بات مامر بانی وضز از لک بک ر۲۵۱ .یواح حر درد ےہ کوالہ ان عد)
تریجم: ییحی امت ٹش سے بدق بین دولوگ یں جوعیرے اصحاب پددلیر
ئیا۔
۵) جپشٹی کی ی یکوگاکی دے١ کو مکردواور جن می رےصحابرٹش
اینگان یکوگالی دے! ںکوقرارو اتی ہزاد۔( کاب الشفا ءاردودو م ل۳۸۳)
او تحضر داینب ن گر شی ای مافرہاتے ہیں:
لئاز اعت نَعکة صلی للع َعلم لعل
اَعَيمِغ مَاغَة عَيْريِنْ عَمَلِ یکم هُمْرَة_
(ابن ماہبا بل ایل یشالتم )
ترجہ :تضور للا کے سھا کو برا بھلا تہ وکیوگل۔ا نک بارگاورول ملا ٴش
ای کگھٹ یکی حاض ری تہارے زندگ یھر کے“ یل سے؟بترہے۔
بب ف8 تمیں صھا کرام شی ا ششنٹھم یں اللدتعالی اوراس کے رسول وڈ
و سی دا سز یف
ملا نکارد کیا ہون چا بے ۔آپ نے منددجہ پالا اعاد یٹ مبارکلاظۂ را 2.
ذرا خداورسول لاگ با دک کے اورسین پر اھ رکوکر تا می سک رگ رکوکی نام تاملک
اسلام ادف رق رآ نآ رن وعد یٹ کا عم ون ےکا دوی یک یکر اورٹن محاہہ
(۸٥۱۷۱٥٢٠.
18
خصوںہ] تعفر تام رموا دی سیلدت مور ولا ے۷ نیم سال ی رکا تب وگی یش رازاورکزیز
رش دا یھی ہیں کوغی رآ مین کا مکرنے یابائل پر ہون کات نب کرے کیادہ
جناب رسول اللہ چچالکا ا فی اود فر ما نکی ؟ اورکیاد: بد تن امت ٹنیس ؟کوئی تا ۓے
کا زبالن ددازاو تم شعاد نے مھا ہکرام کے بارے مم تضوررسول ذداوقا کے
تم کی کیا اخ تکا؟ ا ت ےکوی ات نکی بکہاکی نے از یت دی اورحر یٹ
5 اک کے مطابق مت خداوندیاے دو ہوک رم واؤڑ ٤ خداودکیاے دو چارہوگیا -الد
تھا لی تما افو ںکواییلوگوں فو تفر ۓ_
صحا کو برا کین داراتتی
جناب رسول ال ڈچچلانےفرمیا:
ال تَمَموا اَصْحَابیٰ فَمَنْ سَبهُمْ علیہ لَمنَة اللہ وَالْمگت
وَالسّاس اَجْمَميْن اَل الله صَرْهَ زَ عَذ ای لم
ولا نقاننرقربوںرس
جمہ: مر ے “ابو براام تک وکیوک رخ ن ےک صحال یکو برا کیا
انل پران کی اورفرشتو کی اورانسافو لکی س بکیالعنت ۔الل را کی ن
فرش عباد تقو ل مر ےگا ننقل عبااتت- ۱
(مد:ابرعادي ھلارو ت گیرا جا نل۱۰)
۴ا سَب اصعابیٰ الله لْنة الله لیو َال آ
7 9-90-00 کرات
امامر بانی ؛قتزقۃ لک فی ر۲۵۱ کوا زطرنی)
تر جمہ: مکی نے میرے اصحا بکوگالی دی اس پر اتی اورفرشتوں اور
تمام مآ میو سک لعنت ے_
(۸۸٥۱۷۱٥۲.
ہے سے ا ہسوسو سہچ ےڈا
19
٣اِا وَِكملِْينََمُموَْ اصْعَابیٰ قَْز لتة ال علی
ھی 2د
ش رکم
(ت فی اواب النا تب بک تہب متا تب اھ ی*الصواق اھر تراردزش ےہ کوا خیب )
رم جب تم یس د]ھوجویرےماہکو برا کے ہیں کتہا رٹ ر
پا شیانت۔
سان الله اختَارَنیْ وَاخَتَارَلِیْ اَصَحَاب فَجَعَل لِیْ مِنهُمْ
َء رَنَْارا رَاصسْهَار فمَنْ سَنهُمْ تعليه لفن اللہ وَلْم لگ
وَالَاسِ امم کا بقل الله صَرًْ وَلا عَذنً_
تر جم: الد تھاٹی نے بے چنا اورمیرے لے میہرے رھ اکو چنا ان ے
میرے وزیونئیراور رگا راوررشتردار بناۓ اودجشس نے ا نک بدگوئی
11 زر٭ پہالل تھا یکی :فرش ںی اورسارے انسانو لک لن _ الٹر
تی اس کےکی فرض أن تقو ل یں فر امیس گے۔
(اطم یراک ای ایرمعاوہ لعل تکاظرض۵۷)
مندررجہ پالا عاد یٹ مہارکہ سے معلوم ہو اک سھا کرام شی شی مکو برا چھلا
کین والنخ اتی ہوا ےاہناجٹنس خدادرسول اکن بڑھتا او رتضور لپ
مرژدل سے ایمان رکتا سے وو ضورعبرت حاص٥ لکرےگااو رسحابرگرا مکا ادپو
اترام چالا ےگا لیکن جس جے دل سے الشداوراس کے رسول ہللا بایان کی
یں لا یا ا ےکیاءدہ ضا احادٹ مبادکرشش دا دی دکیدکی ید اتا ےاورتندی
صحاکرام پرسب حم سے اکا ہے۔اتخفرالفہ-
مایڈرورسول ولچ کےا ن مک بن دشمان معابہ سے نفاط ببھیکئیں بای
وت ھ صرف ابل ایمان سےمخاطب ہیں جوالل ورسول پل برصد قدل سے ایمان
رک ہیں اور حاد بث مبارکہ کے مطاِی صحا کرام شی ال شش مکو برا چھلا کی والوں
(۸٥۱۷۱٥٢.
10
کی جاضے ہیں ۔ا تل ما مسلراوں کے ایا نکی ات فریاے_
شال حا کی بات ہوددیاجیا۔حد یٹ اک می یں قو تق فیا گیا
ےاب ال عالم دی نک بات تنے اورا کی بی ملا حظہ یت جوم ہونے کے
ادجود شنان سحابہ کے شرکودو رکرن ےکی انا عم ظا ہر رکرے عد یٹ پاک کے
مطال اییاعا مچیٰتقی ہی ہے جناب سول اللہ پان فرایا:
"اذا طَھَرّتِ ال از قَال اذ حٌ ومن اصخابیٰ تلم
الس اَمْموْن لا بقل لا ئذ زا لڑئ ا
(نکتو تما مر پا دفزاؤول کت ببر(۵×)
چم چپ نے اور بشتیں ا ہر ہو جا ہیں اورمرے اصحوا بکوگالیاں
دی جا یس ت عال مک چا ےکہاپنےع مکوطاہرکرے یج نے ایا نکیا
اس پر ار اورفرشمتوں اورتمام لوگو ںکی لت ہے الل تھی ا سکاکوئی
فرش ڈأل قول نکر ےگا۔
می اصحالی کتےالف کےساتھد انی نامع
ال تھا ی نے حضور پے کیل پوری فو انسامیت مب سےصھابکرا مکوطقب
فرمایا ہے:ارشاد برک تھالیٰ ے:
ُِ الْحَمْةلِلهِ وَمَم علی دو ال اضشکفی ددئلہ)
تر جمہ:غ موب نو بیاں الکواد رسلا اتی کے پٹنے ہوئۓ بندوں پر
(گلزالرموان)
ا لآ ی کی می رس أمفسر بین حر ت عبدالل بن عاس شی الما
فرماتے ہیں:
”اصْخَابُ مُحَمَد اضق هُم اللَِيْ مُعَمَد (صَلی الله
۰ و٤
111
عَلي وَسَلم)“۔
تج :ایل تھالیٰ نے اپنے نیم فیپ کیلے ان کے ھا رک ن لیا
زار اض انفر 7ق ص۸)
پچ رای ھا یسا کرام سے داصیابھی ہو چکا سے اورق رآ نکر میں * زٌضی
لهُعَنهُم وَرَصُوَاعَنُ کا یٹ د ےکر نکی شان ای بڑھاہکا ہے ۔ ال
با جوولنس لوک اس قرآنی فی فکتحلی مکی کر تے اورسحاہ سے داض ینیل
ضر ال ۶ن تو 0
اکر سی دو تحشراتصحاہرکی سےکیا اڈ ورسول لگا ےبھی راش یی ۔ و رتقیقت اللہ
وی اے علوگوں سے راشمی یس جوا سکی رضااورضظاءکوپیندن سک رت ۔الڈراورال
کے رسول بل اکا لی ےمخالفیین صابہ رف پیندنجیس بکہان کے سا تح یل جول رکٹ
بھی پیندنکیس تک جناب رسول القد پلالانے الیےاوکوں کے سات یل جول رنہ
ارپین ےت فریایا ءطاحظہو:
٣ الله اخْتَارییْٰ وَاخَتَارَِیٰ) اَصْحَابًا َاصْفَارٍَ را وٌمیاتی نوم
مولعم تکلمم لا نتَجَالِسُوْهُم وَلاتُمَارِيوكُم وَلَا
تو٤ ء امم وَلا تنَاكکُوْممْ (صوا سن اھر سیوا تو ش)
رجہ : یلک الشعالیٰ ے بے پپندفربایااوریصرے لے می ر ےا براور
سسرالل ند ینیب پٹجولوک ہوں کے جوا نکوگالی د نے ہوں گے
(برا پھل" کے ہوں گے )ا نکی نیع سکریں گے خم ان کے سا حدمت
یھنا اور تہ ای ا نکو پیٹ ےکود یا اورتہاع کے سا بی ےک رکھا نا کھا تا اور تہ
ان ےکا کا محاطرگرنا-
حضورسی خوت نم ہحضرت چنا عبدالقادر جیلا فان نے ایک عد یٹ نول
نل مرا ے۔(تھ)
(۸٥۱۴۱٥٢.
13112
من حضرت انس جچ کی زواےت شآپ 8.7 ارشادرے:
”ال تقالی نے جے پندفر ایا اوریر ےل مر حایکر مک پیر
۲ بایا۔ پچ ا نکومیرا محاون اوررشت داد ہنی اور خرکی زہانے می س کچھ
لک اییے ہنیس کے جوا نکی نون اک کی گے۔خجردار !ان کے سراتھ
عم تکھا 2ہ تجردار !ان کے ساقحدمت پہتجردار! ان کے سات لاج نر
.کرو ردار! اع کے ساتھماز نہ پڑھن اور٘ رداراا نکی نماز جناز ہی
تہ پڑھ نا“ (خی الا لین ار ص۶۷۷۹)
الال قرآ نکر یس فرماجے:
َلَا تَنْمذ >عة الوّکُرٰی مَع الْوْم لکل دالیم ۰۸
مہ :و یادآے پرظا ھوں ے پاکی نت (گزاویان)
مفمرق رن فی ا یارخان اس حتف مات ہیں:
نس سے موم ہواکہبراصحبت سے بچنا مہات دی ہے
ماد یمردے ہانپ سے بدت ہج ےک ہنم اسمامپ جان لیت ہے اود برایارایمان
بھ یادکرتا ہے /(خوراکعرؤن)
معلوم ہوا جولوگ محا .کرام رش الم کے یارے میں زبان دداز کر ے
ہیں ۔ائیس برا پھلا کت یں دو یقن انی سیا ہق ٹش اضافکرتے رچئے ہیں-الشر
تعالی اور جناب رسول الش پگ تصرف اللےزبان درا زلوگ پیندنش یلان لوگوں
سےکتل جول دکھنا بھی بین دکیں _
عحبت کاب عحبت ول لا کے بب سے ہے
ہار ےآ ا دمولی جناب رسول اللہ نے اتی عحب تکوحبت سحا کا سپ ظرار
دیا سے سفرمایا:
(۸۸٥۱۴۱٥۲.
113
ال کل یی اَمْحَبیٰ لا ِدرْهمْعَرَمَاتِنْ 'تَییٰ کمن
اَحَبَهم حَبهم قبحبٔی تسم( نری ازداب التا قب مز قاب تاب اس٣د)
خر جح :می ر ےجا برکے باارے ٹل الشرسے ڈدومیرے بحدای ںنتا ات
بناجیک نے الن ےعحب تک ا نے می ریخا ران ےحب تکا-
(مرار ج افو تاررواڈ لضل۵۳۰)
ا معلوم ہواصحا کرام ری ا یڈنم ےعحبت کا اصل سبب جناب رسول الد پا
11 ات ے۔ان اکیلبت رسول غداوچگا سے سے وو تضوراکرم پا شرف جت
سے شرف ہونے والے ہیں ۔ سب کے سب حضور پپگا کے جاشار ودای ہیں ان
سےعحبت دراصکل بت رسول ( تا مبجبت ےکی می سک ی اکم ول لم
پل سے محبت بی دوضرورسحا کرام شی ایڈتت مم ےبھی محبت رگا ۔حعقرت
علامہار نت رگی وحم الطعلیغر مات ہیں:
۱ ں جس ملا نکادگل ابلداوررسول ای عحبت سے پر ہوہ انل
پرواجب ہےکہابنے می حضرت مھ پل کے تام اواب رشی یڈنم
سے عحیت رک ےکیونکہ الد تھائی نے الن پہ بلڑکی عنائیی کی ہی ںککوٹی
دوسراا ناش ریک نیس ہے سب سے بڑئیانقت ے ا نکو میٹ کمرور
عالم ےلاک نظ( کیساا ان پہپڑئی اد رنضرت نے ا نک میتف ال
کہا بکوگی دسراان کےکرال اور استحداو اور وسحت علوم اور
ورات نیکوٰئی سکع سکم اور بجی داجب ہے کاپ نیل کتام
صحابگو عادل تھے ججی اک راس پ اش سلف وغل فکاانفاقی سے یحنخض
صا ریضی انڈینھم سے بظاہ رظ رج ھا منا سب با یں منقول ہیں اد
نے ا نکومحا فکردیا ےکیون۔ہ ال نے فربایاے_”'رضی الله عنھم
ورضوا عںہ“ من اللران ےراشھی ہاوردہایشدے داش یں اور
(۸٥۱۷٥.۰0
114
آنتقرے پا نے ا نکی بہت تحریف فرائی اودا نکی گوئی ےت
فرمااادراں شی معال کسی کی ںکی _ حا تی نقصور
ہوئی و ضر رتس کناچا ہے گی یں معلوم ہواک یو مراد ہے ورتالیا
لکلام رگن بوتااوراس می شح کی کرت حادم تچ باختپار
نب اورقر لیت ول کے اورم پعلم کے اکا ب مھا شیا ان جھم سے ہیں
یں ضرودریی ہواکہ ان اوصاف کے سبب سے جا نکیا ذات ش
بالا ماس جود ہیں ان ےب تک جاۓ“'_
(سیدامیرموادی ناو جرٹل ال ہنا ن۱۳ عقرب )
فسوں! چض لیگ ملا نکھلا تے ہیں ہک ببوتے کا دو کرت ہیں۔
ناب سول اللہ با وکلنہ پڑت ہیں سور سے بڑی معحبت ہون ےکا مکورتے
0227 رسولکاات را می کرت اوران دگوگی کے ماب ق تضور بتک ٠
خاط رآپ کے ما برکرام ےعحب تنا کر ست ۔اورحبت ف کان سوا فصو راسی را
امیرمعاو ول ےنفرتکرتے ہیں _اتففرا_
اور یو( گرائ رپ کابھی مہ ہ ےک جوگرہ مم ذکی طرف ماف ہودوگرہ
بھی محرفہہوجاتا ےشن جوعام زی اص چ کی طرف منسوب بوجاۓ ددعام
یھی خاص ہوجانی ہے ملا کم ایک عام یز ہاور ہرکوگی اسے تنظ ر ارت دی
77 مین جس کک ےکوا حا بکبف سےلہدت ہوکنی دومحزز ہوگیا اود ری ے2
اےعز تک نظ رسے دی گیا اب میرعا مک انیل جس سےنفر تک جال ہے لہ
خاف متا ہوگیایشے ہوک عز تد یتاہے اور یٹ2 اسحا بک فک بت ہے جس نے
اانئ کے کو دن رکؤں سے متا زکردیا۔ فو پچ رایمان سے کی نماصوں کے نناضصس
جناب عیب غداءسردردوسراءشہریارار وساءامام الاخمیا ہتضو رخ رالورگی علیہ اتی
والشامءکی ذہد تک گیا عال ہوگا۔ارے جتاب !جس کوگھی تضور وق ےفضرت
(۸۸٥۱۴۱٥.
115
گا بل ہے دی ال ہوجائی سے لا تضور پل ےکی نیرت ےآپکا امت ہب
اہوں سے لی فو رکا شمرقا شروں ے ای ہتحضسو رکا د مین سب دییوں سے ایی ء
حورکی امت کے اولیا ء دج رامتقوں کے اولیاء سے اط سی طرح عضو ر کےسحاقام
امت ےا رتامخمیا شیہم السلام کے سا سےا لی ۔اپنذائیی اك گھنا اوران
ےبحبت رک اگوی تضورپچڈکاورآ پکی ند تکو اع بچھنااورا کا اترام مکرنا ہے۔
پچ رقرت ہ ےک الطدتھا یو اپنے متبول بنروں 'اصحاباب فک نبت دے
ان کے کت کی شمان بڑھار ہا یمان ینام ہاو مرا نکہلاکربھی بین تو
ملمراوں کے نر ہبراور ہا“ نکربھی جناب رسول لٹا کے ای ککاعز تن
کر تے_ان لوگو ںکوو ریت نسیب رو لکاکوگی ات را ام کیل اورشیی ول 33)
کا ھی پا نی ۔(اتفقراش)
بہرعال ہم اپنے ار ےےضفی بھائیوں ےگا لک یں ےکر دواپتے اسلام
اورایھا نکی ما طرالش ے پیارے رسول ولچ سے مضبوط رشع جوڑمیں اوران نا منہاد
مگران اسلام سے دورر ہیں یت رسول پلاثاکو ہر بات بت دےگرآپ ے
صحابرکرام شی انڈہم سے ول طود پحبت رع کہ ہہ بای عبت رول(88ة)ے
چو ال ایمان ےاو رای ساری بھلائی ہے ۔تورسردرعا / بی اکم ےک ارشاد
کور ا٤ے۔
”جب الدمی ر ےکی بت یکی چلال یکا اداد ہکرتا ہو اس کے دو یل
مر ے حا بک عبت ڈال دیاے“-
77 9 2 و
اکا بر ےرا راباش ےلگا
ہرملما نکی رین ہوٹی ےک او تھالی اس سے راشی ہوجائے۔ دہ اسلام
(۸٥۱۴۱٥٢.
116
ول ہے لو ای خوابیشس سے-۔سارگ سارگی رات مادت یس گڑارعا ےڑا ای
آرزو کےسا تاور چا نکا رانہ ات شش لے ہوۓ میران جار کتا ےئ یی
ای اشقیاقی سےکہرب وا پلافل اس سے راشی ہو جا دہ ایکوش اوراس یگیل و
دو شر ہتا ہےکہالد ال سے داش ہوجاے۔الل کے رای ہون ےکا پیڈییس چتا“
پتت جب لے جب اسے بھبادیاجاے جرانتھالی نے اسے پچ تا ان یکنا سک وہ
اس سے رای ہو چنکا ہے یا نیل اود ال لک عبادت در یاضت دربار خداوندی مل
ول ہوچگی ہے پائیں لن شر جا می محایرکرا مک یقت وعزت پرجن سنتحلق
اشقا لی نے ق رآ نکمم می اپتی رضا کا اعطان قرمادیا ےک رادان ے رائی اوروہ
ادے داشی۔ سن ےآ یات مقدس او رک ان اللہ اف میا:
۶رر کیو
کک 7 00 بت و پر ا ای نوا
اوَالسِقوْن الَوَلَوْنَ مِنَ المُّهَاجِرِی وَالنْضَارِوَالینَ
گرعدوی ہے 2٤ ےے
حم ياحْسَان زَسِی الله َنهُم وَرَسرا عَلٌَ(اء,_۔-)
تر :اورسب شل گے پگ ہاج وص اور جو بعلائی کے ساتران
کے یرد ہو ئے الدائن سےرائشی اورود اید سے رای -(کنزال یمان )
"اَی الله عَنهُم وَرَسُرْاعَلُ ”وك حزبُ اللہ و
جرب اللہ هُم حر زاہردےہ
تر جمہ:الظران سے راشی اورودائل سے رای ببائل کی جخاعت ہے ۔ختا
ہےالشدت یک جم عتکامیاب ہے۔(کزادیان)
ان آیا کر یہ میس الطدتھالی نے اپ محبو یکر یم علیہ الج وا ے
جاشارووفاشعارسھا ہکرام شی انڈش/ٹ مکی جوفضیلت اورکزت وکرامت بیان قر بای
ہے اوج وائ انداز یس انی اپٹی را کا پردان عطا فر مایا ۓ دہ ال ا لآپ
ہے۔ الد تھی ای خوش نعییب سے راشی ہو جا ا کاکوئی موی افام داکرام
ٹیس بکرانسامی ت کا مرا ہے۔ بر ےکا ام راہضتوں اور ای کامتھور
۶ و٤
117
رضاۓ خداوندگی ہی ہے اہنذا مھا رک رامک خو شش می کی نیس ہو سا۔
اورتضرت امیر متاو گی صحارکی ای عصف میس شال ہیں تتہہیں اد نے اپ
رضا کا پروان عطافربایا اود یہ با تح رشن نے لی مکی ہے اوران کے نام کے ساد
44 کی ہوں :شع بدالی:بپ ہاروی مال عل ین فرماتے ہیں:
”صا کرام اور رشن ظا رت امیر معاد یکا در
کبرتےجے ہیں حالائکہ وو مقر تی خوہ کے فضائل اور واقعات اخ یہ
کےتمامملوکوں ےزیاددواتف ہیں اورا نکی تد لق مت ے۔اام
قسطوا لی شرع بای مٹں فر مات ہی ںکحقرت ام رمعاوی منا تق پکا
مجھومہ ہیں _اىی ط رح شر مسلم میس ےکآ پکاشارعدول فلا اور
صحا اخارٹ ہوا ے.... حی شی نکرام ان کے نام کے بعد کھت
ہیں جج اک دم رسحا کے نام کے بعدککھت ہیں باتفربپیق-
( مین حضرت ام رموا وی خنارد:ۃ جم الناح یکن امی رمعادیل )٣۵
ال تماٹی کے راضشی ہوجاتے کے بح ربھی صیا کرا تصوب] خلیدہ راشرسیدنا
ٹا یورام ال جن امیرمعاو شی اوس کی عزت مت اوشرات وکرامت
پبکمن شیپ کرنے والاگو ا اپنے ایا نکی کوتوددی بر باوکر نے واما ہے-
اور رج بیفرایاک”وَرَصَوْاعَه“ یی دوھا ال سے داضت بویا نک
عزت افزائ ی کلف بایا۔ اب اللہ تا لی ناکرا کی عزت افزائی فیا اورکرئی
شن ھا ران تقیدکر کے اورائی شعن ٹن کا شانہ بنا کےا نکی عز تنا ن ےک
کش کر ےکیاووصرف وشن مھا ری ہے پاش ن خداورسول(ب بھی ہے -ایے
نا مھا دمظ رام “یھ ما نشی می سے یک ہو سکاے۔
اوراگرکسی مسا نکامقصد حیات رضاے خداون یڈل ۔اسے کو مآشرت
اورصاب وکنا بکیبھیکوئی پر وانیں ۔اس نے تفم بھی کےبفی رک ز پان سے
(۸٥۱۷٥۲.۰0
8ة
کم پڑھا ت7 ما ام فھاؤسلما نکی با نی کرت ےآخراس کے پا کون سا
الاااان ےھ ی بادوجاۓگا؟
ال تھائی سب ملمانو ںکوشقی دوات ایان ےوازے اور ےر یمام
سے خودرا اشا ہ ای نہیں گی لن سے راشی ہو جائے اوران کااوب وا< ا مگر
کاٹ مطافرماۓے۔ 27
۰ و٤
کٹ یی ڈنل
(۸٥۱۷۱٥٢.
121
طنرتایرعماد یڈ اح نل
مفس رق رن جناب' ہفتی اھ یارخاننشھی رہ اش علی رن طرازہیں:
”امیر معاویہ لہ کے فضائل دوطرح کے ہیں ای کگموی
دوس رےخحصبشی عموئی فضاتل ےہ ںکٹٹل شا ن تیم الرعبت سال
رسول یں-بذا صا کے جس قرفضائل ودرجات اشالّٰ نے ترآن
کر میں بیان فرماۓے ان سب ٹس امیرمعاوہداشل ہیں رب نے
فر مایا :کراللدنقا یئل ابہے جن تکا وعد ؛فرما چاے۔ان اکس ل ےتتو 10
اورظبارت لاز فربادگ-وہ سب جے ہیں انان سے راشی ہو چکاودالد
سے راشی ہو گے وہ بڑڈےکامیاب ہیں انع سے لے وا نے عناو رکٹ
وانےذار یں وخیرہوظیرہ ان سب شی امی رما نقنداشل ہیں-
نیزامیرسواو یکر ولا شی زی اورسسرال یقرابت دار
یں پا چوآ یت تضور پل سےا قرایت کےیتعلق نازل ہوئیں ان
سپ میں بھی ام رمعاوبیشال ہیں او رتضور ہھچا نے مس فک رمراب 3
رجات مھا ہرکرام ا اپنے ا لق رایت کے بیالنف رما النسب بھی
امیرمعادبیشائل ہیں سفرمایا: مر ےسا ہتارے ہی ں تم شس کی پردگا
کرو گے ہدایت پا چا گے۔ مر ےسا کا سواسی رجوقیرا تکرناتہادرے
پا ڑجھ رسونا خیرات کرنے ےل ہر میں 0
حض راس نے جھ ےلفح رکھااورٹصس نے ان ےبحب تک الس نے
مج ےعحب تک د خی و خی واان سب می لبھی ام رمواد شش لہیں۔
(۸٥۱۷٥.۰0
122
اکر امیر معاوہہ یچ کے اورکوئی فسوی فضائل بھی ہوتے
حب بھی رفاک بہت شا ند تھے جیے جن انی ےکرام زم السلام)
کے خحصوصی فضائل ق رن وحدیث می نویس وارد ہوۓ وو بھی مظرے
وانے اور واجپ الا رام ہیں ان پہ جماراایمان مو
الان سر جو بس کے متلق عیر رتا
ہہ مر ما کرای سا
جناب مخت اح یار فا ھی رحتۃ ال علیفئقل فرماتے میں:
”آ پکانام معاد نیت ابوکبداائشن ہے ۔آپ دال دک طرف
ےگھی پا نچ یں بپشت مس اورواللد ہک طرف س ےجا پا نچ یں پشت مل
جضورانور وفلا ےل جا ے تے ہیں۔دالدیطرف ےس اونب ےے۔
”ماد ہراب الوسفیان ار نترب ابکن امیہارک نمبد اش امن مبرمناف_
والدہکی طرف سےسلسل نب ىہ ہے۔معادیائکن ہند بت
خرن ردان مب شس ار نئبرمناف_
بد مناف ئ یکم ولا کے چو تھے دادا ہی ںکیون تضورجھ
رسول اللد فا ہی بدا شراب نعبدالمطلب این پاشھم این عبرمناف ہیں-
امیرمعادیہ تتلیجبدمزاف م ستضور چلال ےل جات ول لزا
امیرستاو بج یلیاظا سےتضور پل کت ری ال قرابت میش سے ہیں ٠
(ام رحما یو پینیظرل:۶ك۸-۳٢)
حضرت امام ا داہن تج ری شاف ی رح ال علیفرماتے ہیں :
”ام رمداویہ نیچ باقبارنسب کے سم آففضرت ولا سے ہہ
(۸/۸٥۱۴٥.
مع ہیی عیفر '
123
پت اورول کےیادوقریب تھے یوق وہ ا حفضرت پا کےسا ا پر
متاف شس جا یل جات ؤں-
عیدمناف کے نار یے تھے۔ ایک شم ج ھآحضرت پا کے
رارا تق ووسرے مطلب چوشاتقی کے واوا تیسرے عبداٹس ج
حرتعان اورصحضرت مواوییریشی ال تھا کے دادا تھے چو تھے نول _
پلن ین تھی بھائی تھے“
(سیدا یرمعادی نار دو جرتنرا نان )٢۴٣۳
مفرق مآ نمولا مھ ٹیش علوائی رر ال علی نم طرازہیں:
زگرہ تضو رن کریم ا کیج ونب رن ڈلی تو معلوم
ہوا ححضرت مواوی ختعترات نین رش انڈ ہما کے پھاکی تھ.....
حطرت مواویہ تحضر ت نخان سے ٹیں سال اورتضرت لن مہ
سے 1کیس سال بڑے تھے۔ ئن مہ کے بعد ضضرت ام رمعاوے اکا
سار نمانران شرف پاسلام ہو چا تھا۔ اب تضور ب یریم پظ نے
ححفرت امی رمواو ہی یرک لکرا نی آ خوش امت می لے یاارآ پک
ضر بی تر وی تک .(التارالامان ذءامعادیل*۷)
قرلسلع
جناب حافظد اب نع اکر سے نول ہے:
۱ ”َال مُعَاوبَة بن ابی سَفْيَاحَ لگا كَانَ عَام الْحَدِييَة وَصَلتْ
ار ہے و وق
ریش رس الله صَلی الله علیہ ومَلمْعيِ لت رَتَلئرة
ا رر
تج : حقرت ماد ین ال وسغیا نن را تے ہیں ننس سا لاصیا
(۸۷۸٥۱۷٥٢۱.۰0
124
جب جریٹی نے جناب رسول الل گنا نرک کا طوا فکرنے ے اور
عھروکرنے سے دوگ دیا خھااوراان کے درمیا 1ئ نامرککھا گیا وقت
یا اسلام میرے دل یسک رک ریا ٢م
(منا تب سید ای رسمادیہ پل ۹۳۔۹۵ پکوال ین ع کر 7ا ص٣.م)
یں
حر تن لن محدث دلو رم ال علینقل فرماتے ہیں:
.”ال یربتاے ہی ںکہامیرمحادیہ کا اسلام لا اٹل از
کماورٹل ازتی فآوری سیدعالم برا کہ ہے۔دواس سے بیہ
گے او رتضور اکرم وکا ریت معلو کیا مردی ہے فرمایاک نمس عر٭*
التناء کے دنا سلام لایاادریٹش نے رسول ال پل ےسلمان ہون ےکی
حالت شںطاقا کی“( دارعلفو ت اردورومل۹۳۰)
علامسائن ا خجرادرعافطائ نکش کرت ہیں:
”سید ناامیرمعادیہ لوف رمایاکرتے ھک دوظرة التقناء ے
برع پراسلام لاۓ اوررسول انز پچ ےمان وک نان اپنے
اپ اوداپقیماں سے اسلامگی رگھا“_
(اسدالغا راردوخ ۳۔۵ ۲۸ٴ جا راب نکی رج اش ص٣٢دے)
جناب فق اج یارخا نی رم اللعلینقل فرماتے ہیں :
٤ ىہ ج ےک امیرمعاویہ جلضائ لت عدیے ک دنر ےھ
اسلام لا ۓےگگرککہدالوں کے توف سے اپااسلام چھپائۓ رکھا ہر
2 مک کے دن اپناا سام نا ہرفرمایا۔ جن لوگوں ن کہا 9.] 7
کے دن ایمان لا ے ددنبورایمان کے اط ہ ےکہا۔ بی ےرت عباس
لد دد بردہ جک بدر کے دن ہی ایمان لا جچے ےگ اقم اپناایمان
چھائےر ہاور کس طا جرف مایا نذلوگوں نے انی بھی شے مہ کے
۲ و٤
125
مومتوں میں شا رکردیا۔ حا لان ہآپ ق ری الا سلام تھے بکمہ بد ری بھی
کفارکہ کے ساتجحدمجبورأ تشریف لا ۓ تھے۔اسی لے نمی پان ارشاد
فر مایا کرک مسلمان ع مانب ۃکالی نکر ےد مجیورآلا ۓ گے ہیں
امیر معادیہ کے عحد بیسے شی یمان لان ےگا مل وہ عرےث
سے ججوامام اتمہ نے اعام بات جس امام فرب الحاب بن بن اعاح تسین ری
امم سے ددایت فر ماگ یرام بات سے بدالشدائن اس دش اکنا
نے ف رما کان سے ای رمعادیہ ند نے فرمایاکہٹیں نے تضور پلٹگا کے
اترام سے فاررغ ہوتے وقت ضور کے س شرف کے با لکاٹے مروہ
بپپاڈ کے پاں۔ نیز وہ حدی ثٹگگ کل ہے جھ بغار شریف ہے
جردایت طا لع دربن عیاس رش ائلشنہما سے روایت ٹر ائ یتور
پل گیا تام تکرنے وانے امیرمحادیہ خل ہیں اور اہر یہ ےک ےہ
توامتگرتقال دالّ ہل تع یبیےایکہال روش
ہواکیولہ تی الوداغ یس نی ہل نے را نکیاتھا او رقاارن مرد ہپ رجات
ھی ںکراتے پلگیخی میس وسومں زی ال کوک راتے ہیں _ یز تضور نے
رق ودارع می پال :ہکٹواۓ تے پلک رسرمنڈڑ ایا تھا۔ الولمہ نے حیاص تک
تی تو ا عحالہامیرمتاویہ یلاک یتحضور کے مرش ریف کے ال ت اشنا ھرہ
تفائیش ٹف ککرسے پسلہ ہوا۔ معلوم ہواک ام رمعاوبہ لد ککرے
یما یمان لاچچے تے۔
اورعر رومجپوریی اور نا دا تی کی حاات ٹل ایمانخاہرتگ/ :ا
جم کیو حخرت عاس تل نےقر ببآسچ بر اپنا ا یمان اہر نگیاء
پور یکی وجہ سے یز اس وقت ا نکو یمعلوم نہ تھا کہ اسلا مکا اعطان
ضرورری ہے!پزااس ایمان کمن ی رکے یس ندامیرمعادمہ پراخترائل
(۸٥۱۷۱٥٢.
16
ہما ہے تنتخر تعاس پر ( تی اںڈپشتھم اجین ) ہماری ا تق ے
معلوم ہوا کہ ام رمعاوی دنن کہ کے موہین سے ہیں شر موافۃ
انلوب میں ے“_
(امیرممادی بای کک ل۸٣۲م)
اورایابی جخرت امام اح ان تج رگی ریمع اللعلیرنے اپنی فاظی رکا نر
الہنان م رأف فبااطاحظہ؟ ڈیر نان سید امیرمعادیہ انل ۱۹۱ا ردو رج
بنثارت یافتہ اورقا لمران تے
محدٹشیڈلیل اما ماداب ن ججری رح اللدعلین لف ماتے ہیں:
”الو بن ای شر نے اپتی سند ےرت مارے ڑے
ردایرتیأف لکی ےکددہ کچ تھ تھے اس دقت ے برا رخلاقت سلےکی
امیدردی جب سے رسول غدالگ نے بھھف رما اک اے معاو اجب تم
پادشاہ ہو تح کر ا'اوراب ول نے اپنی سند سے جس یسوی ہیں اور
ان تلق یھ ہر ںبھی ےگردہ جرح معن نہیں سے ۔حخر تما
_د سے روا تکی ےک و کیچ تے رسول خدا تق نے (ایک مع )
میرک رف دیکھا ادرف مایا: ا معاو ہاگ مکوکلومت لے ارے
ڈرنااورانصا فکرن““۔حفرت معاویہ جال کچ ہیں اس وفت سے تھے
یر میددر یک یچ ےکی کیلمت نے والی ہے یہا ںک ککبععفتگر
لد کی طرف سے بی شا مکی علوم یپ رہنرت امام تین لہ کے
خلافت تر ککرد نے کے بعدخلاقت حاصل ہو ۔ ال حدی ٹکواام
ات نے اپتی مکل سند سے روای تکیا سےگر اب وی نے اا سکوسن در
سے وصصو لکیا ےا کے الفاظاححضرت معاد یہ ٹلہدے انس ط رح مرو
(۸۸۷۸٥۱۷٥۱.
127
ہی ںک نفحضرت چا نے اپنے اصحاب رڑشی اٹم سے فا اک وضو -
7 چب وووشوكر کے حضرت پا نے میری طرف دیکا اور
فر مایا کرات محاد یبا اگرت مکوکئی کی عکومت لے الظر سے ڈرت اور
انصا فکرں''اورن'ط رای نے اوس“ یں اس زضمون زاتدروای تگیا
ہے ےل کیک روں کا یی قولر اورپرکارول ےن ر/ا۔
اورامام اتھہ نے ایک دوسریی سندنسن ےروای تگیا ےک ہ
جب جضرت ابو ہریرہ لہ بیار ہو فو ہجاۓ اع کے حفرت معادے
نے پلک بن اٹھالیااوررسول خدابفے کو وضوکرانے گے_۔حفرت
لق نے وقوکرنے میں ایک مرحبہ یا دوم رت سراٹھایا اورف ای اکر اے
محاو یا اگ مکوہی کی علومت لت اش سے ڈر اورانصا فکرن'"
ححقرت ماد یہ تی کے ہیں اس وقت سے یہ برا بیخیال دہ اک ہش
عقرب خلات سی دالی ہے یہا ں کک لگ“-
(سی اہم موادہ تار دو جرنتیرا جا ل۳۴۔۳۵)
گویا آحضرت وپ نے ححضرت مواویہ لو ایا تھاکہ دہ
پادشاد ےگا اورآپ نےا ےن سلو ک کا دیاتھا۔حد یث ٹ لآپ
ا نکی ظلافت کے ورست ہو نے کےمتعلق اشارہپانمیں گے او رتخرت
ااتسن مدکی نمی رداریی کے وو ال کے مقار تھے ۔کیوک آپ لظ
کا یں احما نکاجحممد ینا بادشاہ ہونے پرمترتب تا ہے۔ نس سے انا
کیخلات کے درست ون کیا وجہ سے تےکغاا بآ ن ےکی وج ے ان
کی حلومت وفلاق تکی طّے حت تصرف او رفوز اال پولاات
ہوقی سے کیک خو ہو دخلیہحاص لکرنے والا فا اورعذاب پاسذ
والا ہیتا سے دو نی یکا ا ظا قی ہیں رکا اور نہجی اسے ان سے ” ن
(۸٥۱۷۱٥٢۱.
28
سلو ک اکم دا چا سا ہے جن پرد ہہ اص٠ لکرتا ہے مگ وو پٹ
افعال اود یرےاعوا لکا وج ے زج وق اوراخیا استن بوتاے۔
اگ رضرت اي خی ہوت نو تضور عل ااصلام والام شربر
الک طرف اشار:فماتے پاش صراحت سے اے_ ج بآ پڈتا
نے صمراح تکیا جاۓ اس طرف اشار +کا کبیا سکیا تی بات 2
0۰1 پردلات/ لن ے' جس ے؟ ہیں معلوم متا ےکآ پفضرت
ام الہک ؤت داد کے بعد اور تق خیز ےر
(لص اس گر تاررو ل۰۲۳ء)
صحنرت اتی عاض انی شفاشریف مم أحل فرماتے ہیں:
”یکر پللگا نے رت ماومہ چچکد با دشا یکی دعا د تی
زائیس خلا نت عاصل موی“( تاب الٹفاءاردداز لگ ۳۹۹)
کیم الات صعت رر رت شاو وی ال محرث دہلوئی رتنت اللہ عل ال فرما ے
ہیں:
وی نے حعفرت امام تین ب نکی شی تما سے روابیت
کیا ہ ےک رسول خداپچکا سے سنا ےکآ پفراۓ ھت نییدن رات تم
نہ ہوں گے بیہالی کک معادیہ بادشاہ ہوجاکمیں گے او ری نے
کاب الش ریت یل عبدا لیک نگیہرے روای تکی ہد ہکتچے کہ
صحخرت معاویہ ٹاہ نے فر مایا ٹس اس وشت سے خلاط تک خوائشل رکتا
ہوا جب سے میں نے رسول خداپلپٹقا سے سنا یپ نے چھھ ےت رمایا:
'اےمعاویہ!اگرخ بادشاہ ہو جات لوگوں کے سا تک ی(“_
(از لت الا اُردداو لش ۳۴۵ ررمصش۵۳۷۹۰۵۲۵)
”اود جب زی بن ال مفیان نے وفات پائی 2 اپے بھائی
۱ًٔ و٤
129
حاو یہ بن الی مفیا نکواپنا نشی نک گے ۔ححذ رت عم رفا روقی ید نے
ای بھی وہی دنت نا لگ چا جوان کے بھائی زی جن الی سفیا نکولکما
تھا۔ اوروبی عبور دو متصب اوراخقیا رات د جے جوالن کے پھائ یکود ہے
بت
”پھر جب حفر تج رفاروق لد شا مکی طرف گے او رآپ
نے ام رمعادیہ کو دیکھا فریاز گرب کےکرٹا ہی ںکوگنہ نے
وارو ںکی ایک بہت بی ارد کی( وی ) کے مات رآپ کے استتبا لکو
ای ھت
جبطاقات بوئی آپ نے (احتضر) فر مایا تم بد اردل
ےکر ۓ ہو یف کیا :ہاں یاامی ھن اف مایا زاس اردی کے علاوہ
نے سنا ےکہتممارے ددوازے پر حا تقندلو ککیڑے رت ہیں
(مڑنی اپے دروازے پیفتری رکھتے ہو ) عر میا ہاں امیر الو نحن!
فر مایا ںی وجر؟ عو کیا ہم ایز شن مشش ہیں جہاں ہمار ےشن کے
جاسو جکشرت پر ہے ہیں۔اس لے ب چا جے ہی ںکہ بادشاہاسلام
کی نقمت ورع بکااظہارکریں۔ اگ رآ پگگد یتو الطر نجار
رکھوں اور اگ رآ پش مک ری تر کگردوں -۔آپ نے فرمایا: اے
معاو یا مھ ےی اع رک سو لی سک گرم کت گیل ایک توئی
مس کے می چوڈ دی ہو اکر یق جا ینگ کک اک
می ری راۓ ہے اود گر پافل ہے و دہ ایک اب وکنا ن تح کی
پالباذی ہے .وق کیا اےامیرالموسین ! آپ اس کےکتفل ھ
تھفرماجے ف مایا :نہ بح مکرتا ہوں نہ یئ کرت ہوں ۔ححفر تگرد
بن الحائ یہ نے عون لکیا: اے امیر الم وین ! آپ نے ددیکھا جس
(۸٥۱۷۱٥٢.
10
امرٹ سآ پ انی لگرفارکرنا چاجے ےک سر پل سج فربیا:آئیں
ش مہات کے ب مم نے یں کام ڈالا سے (لینی عکلومرت دی
ے)۔(رواھ أُرددد ل۱۳۰ تا رچأای نکش حراش ص_۹۰۴۹۷۱)
تر فک ش ری فک ایک روایت طاحظرفرمانیں:
”حفرت ابد اددر خلا لٰٰ ے رواےت سے جب مفعفرت گر
بن خطاب حقہ ن ےگمیر بن سح دکومحزو لک کےمعرت معاونہ خلکووالل
تاذ لوکاوں ت کاپ ن گی رکومزو لکرمےحضرت مواوں چاو
ام رمتررف مایا :ال یمرن ےکہا: ہفرت معاو یکا ذکر تیر کیا
کرو کیوکہٹش نے نی ارم پلکوفرماتے سنا۔ یا اللراان کے ذر بر
لوگوںکوپرامتدے“۔_
( تفر اواب انا قب ہمت تپ معاو ئن ای فیا شی انڈھا)
حخرت لاٹ عبدالھ یپ ہاردی را عیفش ف رما ہیں:
خر تع رفا روق ین خطاب ماد نے عحخرت ماد بیلوشا مکا
گورف ہنایا عا لان ہآپ نو خکام داعرا مکی صلاع وفساد جس بہت ایا
فرماتے تے۔اورجخرت ما گنی لہ نےبھی منرت مواو کو حزول
شرکیا برا نکوگورنرکی پر بحال رھ“
( مض رین اورحضرت ام رمواد ار دوقر جم الزاعین شعن ام رموادیل )٦۹
”ما تسا لی شر بماریی یٹ فرماتے ہہ ںکہعفرت امیر
معادیہ خلن من تق بکا جو ہیں ابی ط رع شر مسلم مٹش ےکآ پکا
شارعدول فلا ءاد حا راضیار جس ہے۔امام انی فرماتے ہی ںکہ:آپ
ہایت ند بارہگیءسیاستدآن : صاح پتتفل ساس کا لم کےت واراور
صاحب الراۓ تھےگو موم تک رن ےکیلے ہی پیداہوے تھے“
(۸۸٥۱۶۱٥.
11
(مخرضین او رححضرت ام رموا ویر ارد وت جم الناح یی ناشن ام رمحادیل )٣۵
مق زییانمفسرق رن جناب مفتی اھ یاز نان شی رحرۃ الل عل تن
طاحظء کین ہیں:
”ڑپ کے یش کا حم بن ےکا داقعہ یوں ہو اک رت ابوگر
صد بی نے ملک شام پلشکنش یکیو شا مکحاک امی رمحاویہ کے
بھی یز ید بن ابوسفیا نکومق فیا ان ہا ام رمحادیہ خلداپة بھالی
کےساتدشام نے ۔ جب زین ایفیا نکی دفا تکاوقت تقر بآیال
اہوں نے امیرمعادیہ ٹکو اتی حا مقر رکردیا۔ بولق ررعہد ارول
میں ہوا حر تع رفا روقی نیہ نے ا آقررکوجا مز رکھاچنا نام رمعادے
خلافت فا روقی یں اور کور ےبد مان نہ یش ال گورنرکی کے ہے
یں سا لیک فائزر سے ےر لی نشی یی ہم بی لی سے
خونعثان کے بد ل ےکا مطال کیا اوت کیاک رسب سے پیل ان کے
خون کا بدلہ لیا جاۓ ۔آخرقوبت یہال کت ک کپ کہ امیر معاوی نے
ٹر لی الرنی (وبد) ے بغاوت ”' دی اورشام کے تل امیر
سولج مودود اف لکر ت ہیں : 'حضرت موادیہ یسید نا عم رفاروتی ٹچ کے زمانے ضرف
لشح نکی ولا یت پر جے۔حفرت عفان نے ا نکیگورنزری میں بش نحص بین ردن او رھنان
کاپراعلا 2ت خگردیا'۔(ظلانتدلوکیتگ )٠۰۸۰۱۰۶
یی مفتی ات یار مان حم اش دعلی ددسرے مقام برفرما تے ہیں:
با فی لاو ںکی دوجماعت ہے جوخیفہ موق کے مقائ لآ جا ے سی میڈ کی بای نہ
نما ی وج سے۔ اس ںکو فا سی وف جن ںکہہ ھت کقرن نے انیس من فرمیا۔ دب
ارات ۔۹'۔(امرمعادی ا ال ۳)
ں اب ارددمش اق اط بیادلی ےی مآ ہے ۔لبذاحضرت امیرمعادی یا نک خاعت
ای صحالا یہ یلفظ نہ بولاجاے کوک جماری اصطلاح جس بای غدارادد ملک وقوم کے دش نکوگہا جات
ہے۔اصطلا یل چان ےم یل جاجاہے'۔(امیرعاد لہ ایظظرگل٣۳) (ی مے ف پ)
(۸٥۱۷٥٢۱.
12
بن گے .ارام تن نے چاو اط تفر اکرامیرمحادں چلے
تن غات سے عمبرداری فرائی اور امیر معاویے مدقم مللت
اسلامیہ کے امیر ہو گے سفرضیک ہآپ جبد فاروقی دعٹال مس میں سال
مکعا ا رہ اود بعد ٹیں (۴) سالک ای کی چا یں ال
امت سیون
اصرمعادیہ ظلتظہایت دیاضتقرار گی ء سا ستدان: ا لمران"
تم ہعحا ی تے۔آپ نے عد اردق رثا یں نباعت قایلیت سے
رای کی۔آ پوت یل ایت آ سای مال بصول ہو اق
جدھ یدمنورہ پچادیا جا تھا مرفا ردق دعٹا نک شی اکا آپ ے
ات خوش ر ہے رفاروقی (ح )تھا تک طادرہکام پخ گر
ارذ را ےنوپ ھا گیل فرمادیے تھے۔ “مو یگرفت پٹالد
ولیہ لیے جن لکومرول فرمادیا راس کے باوجودامی رمعاونے
خلنہ کو برقراررکھا جس سے معلوم مھ اکہآپ سے اتی دراز خر ت مل
007
مفمرق رن ٣و مھ یہ لوائی رم ال علیفرماتے مہیں:
( ماق بت تج جب التقا کشر عق رف یکین رم ملا ظہ ہو
”جب افت نو یکا زائگزر چکااورکومت وسلطنت کا دورشرو] ہوا عترے ۱ا
نے معادیہ ظا ےگ کرک اس لئ انیس اپلنڑت
لان يلع یہ تن تن یتین بن المسيم رواہا
گرادےگاا نکی وج سے سلمافو کی دو بڑئی جزاعتوں میں ) تین
سے تام عراد ہے یں جن لوگوں کے نزک
کال
د جماعحت نے اسلا مکا پہلا سلطان ناتا
...یا صفرت لا سن دک ود لی حضرت للانے جوا نک ضہت ایالم
ا باری(آمیدر ےر
اہشت کےئ 1د یک یہاں
بفادت کا اطلاتی معادہ لہ پرتھا۔ ال
کے بعد ویمی ند ہا"( تیب دعھا دشر انی ص۹۴_ ۵:)
(۸٥۱۷۱٥۲.
13
تنا رمق کی مت رکناوں می سککھھا ےک حقرت ام رمعادے
_یٹزہ کا ددرامارت اسلام کا ہت رین دورتھا_۔ جب منقرت ام رمعاد ہہ ملہ
نے اارتسنھال یذ رت اما تین یدام رالم ون تے۔ ام ما
پاش صا ہکرام نے ہلا اکراہ برض ورفیت خر ت اما م من نو دکی بت
کی مر جب حفضرت سن دید نے حضرت ای رمعاویہ لیے معابد گیا
قان تا حفرات نے اما تسن لہ کے ٹیل کی جا نم کی اورتخرت ایم
معاویہ یچ ک ےت یس اع دکا اظہا کیا کحب اجار ن ےکلھا ےکہ
سمارےمسلزا نکررانو ںکا تز گر تے ہیں کی تحضرت ام رمعادیر
لد جیا صاحب نز یی ویر تہ نظ نو س1ا ۔آپ ٹیل بی کک
امیر ہے۔مارے لک می امن داما ن ھا“
(النارالیامیانذمالعادیگ۵١۱-١۰٠)
”'ضضرت ام رمحاوہہ کی خلاف تک وم امارت اسلا میٹ ار
دن ہیں اور یفلافیتہ راشدہ ےیل ایک صا ارت ے...۔آپ
نے اپے دورادارت میں عدل وانصاف ہم وذ حا ت او رتا تکا
ایک سلملہ رو ں کیا جو منبری مروف ےککھا چانے دالا ے.....
انہویں نے زر بی اورونیا دار کیل ات ارس سال تھب سلطشت
عثا کی وسحت اور جیادو ںکومضبو اک رن تھا اہو نے مسلمائو لک تھا
کیااورسالطنت کے موا ملا تکودرستکیا حضرت عانگنی ند کےزمانہ
سج ۔ بای اور سرکشو ںکوتائع فرمان خلافت بنایا۔ دہ ہر
ات یس تضور با کر مان کےتائع ر سے۔اگر چرووامیر تھے لوک
ہے ا ۲
(الئ رالیا مین زع الوا: ض١١٠٠٠۰٠)
(۸٥۱۷۱٥٢.
14
قب الا قطاب تضورخمورث اشن سد خوٹ انلم حفرت پچ عبرالقاور
جیلا لف رات ہیں:
تر رت کم الد جم کے وصال اورتضرت اما متس ن وہ
کےخلافت سے زنر دار ہونے کے بح رت ام رمحاد یع الوسفیان
7 الشکنما کے خلا تک ثابت ہے۔ حصفرت امام تن کچ نے
مصلحت عامہ کے تک ملمافو ںکوخوئن ری کے پچایاجاۓ خاضت
حخرت ام رمعادیہ لہ کے کپ ردفرماگی ۔علادداز بی نی اکم اکا ارشاد
گرا بھی آپ کے کی نظ رتھا ۔آپ نے حخرت امام صن لہ کے
پارے یں فرمایا: ”مرا یہ با سردار ہے الد تھاٹی ال کے ذر لیج دو
بڑےگروہولں میں اک را ےگا پا عفر ت امام کن خلز کے عق کی 1
نا ہتفرت امیرمعادیہ درد امارت داجب بھئی۔ اس سا لکلامام ..:
الما '(صاعت کا سال )کہا جاتا ہے کیو لاو لک ججاعت ---ٴ
سے اتا ف تم ہوااورقمام نے خرت ام رمحاوبے طزلاگ جا کی اور
اس مل بھ یکہوہاں خطافتکاکوئی تیسرامدیی رتا“
(خیہ این ا رر ۲۹۷۔ك۲۲۶)
ما لد شی ن خر ت امام باری چھ رک6 جواسقت کے ند یک ف رہ نکریم ْ
ک٤ اررویۓ ز ٹن یر ہب سےزیادہڈکتاب ہے روای تکردہ یک عد مث ٰ
می بھی ضرت ام رمعاوی پک ام لو تن فا گیا ہے لا حظہو:
یل اہی عَباسي هَلْلَكَ فی اہر المَويئْ مُعَارِيَة فَِلَه و تَر
0 ل يوَاحِدق قَال اصَاب إِنَُ كیي( جج جا ین ۵۳۱ تاب الناتب)
ترجمہ: ضرت این عبال ظلنہ سے پو چھا گیا آ پکی ام رالمون
معاوہہ ینہ کے پارے مم لکیاراۓ ہے جک دو و کی ایک ہی رکعت
۰ و٤
15
پڑ تن ہیں؟ آپ نے فرمایا: بے شک وہوفقہہ ہیں۔
اس سےمعلوم ہوا ےک ہآ پکو تصرف حفریات ماب وتالششن ری ال تم
نے طورامی الم سنی ن لی رکیا. بگ می رشن امت ملا ۓ مل تک ات نے
آ پکوامیرالم ومن صلی مکیاہے اور یآ پک فیات ومنقیت ت یی لکامیابکرالٰ
کی بہتہ بی سندیی ہے-
یرٹ ٹیل اما ماب تج ری درم ار علیہکی و شیحات سے اس ںگنوا نکا از ہوا
تاب انی کے مانات انتا تھی ہوت ہے۔آ پنفل فرماتے ہیں۔
حضر تع یلد نے ا نک تھی فکی اورا نکوزش کیاعائل
با تھا چنا جفر تع رٹلدکی خلافت مروہاں کے عائل رہ اکا
٠ رح حفرتخثان خٹلنہ کہ بھی رد ہا کے عائل در ہے
(سیداامی رسماوہ چنار دو جرنیرا تا نل ۳۹)
”او رحقرت ماوے کے بی شر ف گان ےکہ یس
ریت گمراورتحضرتعلمان ری ارڈ کن مانے عائل مقر رکیا نے ان
(الصواق حر دارلل2۲۷ے)
_اورتن لوگوں نے ححقرت ماد بيلا بارش ہکا ہے دہ یں
ان اجتجادا تکی وج سے کت ہیں ج نک جھم نے ڈکرکیا ہے۔ جوا نکی
ولا تکوغلاقت سے مو سو مکرتے ہیں۔ وو ححضرتص نکی مقبررداری
اوراد با بیع وعقد کے انفا کی وج ے یں یف بت اورایاطا
کے ہیں ج سک ای رح اطاح تک جانی اپ یی ےکہان سے یہ
خلا ۓ راشدی نیک یکی جات تھی ۔(لصواس نار اروگ ۵٥ك۶۷ء)
”اورتحخرت متا نکی یٹ دکی خلافت ےج ون پراورای
ط رح عم بن عبدال زی کی خلاف تکیاصحت پراور یز بعدامام تن خیلن کے
۷ "و٤
16
رک فلاقت ےک رت حاد یی گب خافت پاحاع ے''-_
(سیدناامیرمعاویے چوار دو جرٹنیرا ہمان ل۵۳_٥۵۵)
ادا قاسلام ا ام پرگواہ ہی ںکیتخرت امرمحادی لد زاد ہاگ
و کا طات مس خوب اضاذہہوارححخرتعان زوالنور بی مد زار
کے باعث ث چہاداور تما تکا رکا ہوا سلسلہ ری ڑوںکی وورے
ک2 کے ساتھ دوبارہ جار یگردیا گیا اور بڑای رب عاد جک مالک >
تل سدانوں کے زہیگیں؟ آگیا۔تمام ال اسلا مآپ کے جنڑے مے تم
ہد اودچاروں جانب اسلامکا پہ چم لہرانے لن گیا المولل_ ۰
شر فحاءیت
ارگ اکا ردایت ہے حخرت این الاملیکہ خلدفر مات ہیں:
رک معابةد شا عو رنہ زان عباي
گنی اب عَبًسٍ فَقالَ دعه لق صَجب رَسُوْنَ الله صَلی
الله عَليه رَ ام ہی ہنا فوی'نپوبابسرھ
تمہ عحخرت معاویہ نے نمازعثاء کے بعد وت ہک ایک رکعت پڑی_
ان کے پا ححضرت ان عپا کا آزادکردہ فلا مچھی تھا اس نے وا بی
١ آآکرحفرت اب ن عیا کو ایا آپ نے فرمایا: ان سے ہج کہنا وگ
دو ولی الپ کےصحا لی ہیں۔
خحضرت ابن عباس دی اایڈدکهمانے فرمایا: ”ان سے یجن ہکہنا کیونلہ وہ
رسول الا کے ای یں ا دی سای پراعتا ردایں ۔اس سے ایک آ پک
صحاحیت خابت ہو دصرے یتور فی اکر چک صحبتکا شرف عاصل ہو نات
بی فضیلت ہ ےک کوگی اورفقیلت اس کے برا نہیں ہویکتی اورتیسرے یک حفرت
۰ و٤
17
این عمپاس ریش انشہما کے نز د یک سینا امیرمحاومہ لہ پراختزاخ لکرنا جائ نی اود _
چو تھے کرام بفارگ کہ دم رمحشین وعلاۓ امت کا بی بی ہوف کے علاعاتھ
ائ نتم رگی رم.: اش علیاکی حد بث کے بارے مم فرماتے ہیں -
: ”رت ام نعبااس نے جو یک ہاکرمحاویہ نے رسول خدایظتا
کیصعرت اٹھائی سےاس ےمقص کر گنت کرنا تو جوتحقرت معاوی
لہ پر لیک رکحعت پٹ صن کے باعث مر تے۔مطلب حفرت امن
حپااس رضمی اشن ما کا رھ اکر معاو یہ نے می لاک عبت اٹھالی ے
اورا رپ ہل اک نظ رکیمیاانث ےنیل سے ددعلا نے فقہا لیس سے ہیں یی
وو جو کرت ہیں اس کےتحلق دا کےعم سے ربدت رین کے
زیادوواقف ہی“ (سیدناامیرمحادی خفناردد گی را نان شض )٥۸
ار با قومز انی حفرتعیردالف بال یل فرماتے ہیں۔
”تحب تکی فحضیلت سب فان وکمالات سے فاکی اور بللد
ہے ای متا بر جخرت اولیں قرلی جو خیرات تین ہیں تضور عل (اصلا
والسلام کے معالی کے اوٹی مر تک بھی نیس کچ سے لپن مب تک
فضیلتکاکوئی شی متا نی کیک یکا ن حا ہکا ایمان محبت اور
زول و یکی رت ےجمبودیی ہو چکا ہے اورایما نکا یہمرج کا پررام
کے بعد کون بی“( و بات ام بای فزاذ لح ببر۵۹)
ا مت لن اور ہادکی دع یدک خے
جن لوکوں نے الد کے رسول چپ امہ بڑھا ے جوول سے تضور پر ایمان
رکھت ہیں اورتضور لوا رکا ہوب اورآ پکی دعائذو کو باگاو خداوندکی "ں تقول
سے ہیں وزخورے لا حظفر ای ںک تقورب یکرمم لی ال تلم نے حطضرت
(۸٥۱۷۱٥٢.
18
امیرمعادیہ ھچ ک ےن ہم ایک مو پرنوں رعاف ال
"لیم هب رسب رَتق۰ لیے زا ران
الاب زفیٰ روز اه عِلم تيب لب َلِْصتبِ-_
) تمالا ںض۷٠)
تجمہ: ا القرامعاد یوک ناب دصا بک یم عطا را اوراےٹیروں
011 اگراورئزھ ےعڑا ب سے ہیا۔ادرایک روا ہت مل ے ےت
اےاللدامحاد کاب وا بکاعم عطاقر_
ایک م ریپ فداپ نے ان الفاط ے دعافرائی:
ال عم مُعَاَِةَ لکلب وَالْحسَابَ وَق لَْدابَم
(متر ار ی٣ ص۱۷۷“ آئے برای م۳ ۷ص۳۵ء- درارح الجوے اریر روم ص٣۹۳
الصواق اھر دارول۲۲ے)
جم اےالامعاد کاب وصاب اعم عطاف ا اوراےعذاب رے
ٹرش عصبدال یپ ہاردی رر ا علیفرماتے ہیں:
”اںجدر شکوامام اس نے اپقی مندی تقر تک ہا اف من ا
اریہ سے ددای کیا ہے۔ مسند ات بہت بی اعد و یکتاب سے ۱
حافظ ٹہ جال الد بن سیوٹی خر تے کہ مند اح کی جمل مرویات ۱
”نول ہیں اور ج ضیف ہیں دوجی ”صن“ کےقریب ہیں یز ١
امام وٹیافماتے ہی ںک۔امام اکا قول ہے اگرملرا نکسی منلہ میں !
اخطافکر یں 3ای چا ےکر دہ میرک من کی عطرف رج کب اگر
ناش ای وہ تن ہے ودنہ جح ت کی اورانفل کو مم اھر
تام ردایا تکوڑ بپ الا نکیا ہے۔ نز امن جوزکی نے جو من کی
(۸۸٥۱۴۱٥۲.
19
مض روایا کو قکہا ہے دہ ا سکی اط ےکی لنحصب اور :
٠ افراط جوز گکی ہرشت ہے۔ جن الاسلام این جج رحسقلا فی فرمات میں
کہمند ا می ںوگ موضوع عریف ئن ہے اود کاب سن ارہ
سے اسنا ہے“
(مترضشین اورتضرتامیرماو تی اش رعۃہاردوق جم الناحیش نع نام رمعا: يیل٣)
ان رے پیا ےحیوب طالب ومطلوب جناب رسول اللہ بلاق نے ایک مرتبہ
یں دعافرالی:
شوی ریتھے
الله اجْعَلَهُ مَادٍب مُهَیْب وَامّديہ_
( مل اب جائمح انا قب .تر یی انواب الاب متا قب معاوی ین اٹ مفیان بش ا تھا٢
رم لی انیس ہرایت دنۓ والا رایت یافد بنا اوران ے ہرامت
وے۔ ٍ
حبدال یہ ارد رححۃالل علی ال حد یشکی شر مل فرمات مہیں:
جوا رت کتاب
ستزی جلیل القد راب ےکا یکر الاسلام جرد عی اق
فرمات ہی ںکرمیرےنزدیک یکنا ب مین ”ری ٢لم ےزیادہ
تع نر ہےاس لی ۓےکراس میں جس ط رح نراہب اور مو جودہ اتد لال
ک ذکرے وہ جھین میں یں ہے نیزحاگم اورخطیب نے تم یکا
مل روایا تکوم لق کے مامت خی خو دک یں ان نے کیا
کنا بکوعلا ۓ جیازہعراقی اورخراسما نکی قدمت یس یی کیا اور
ٹن سےگریش یناب ہو یگو اک داں خودج یکر علب صا
والسلا مکلامف مار ہے ہیں“
(م رین ورنضرتامیرمحاو تی ال رعراردوتر جم النا ھی ن ھن ام رمعا: ي+۳۲۶)
(۸۱۷٥٢.۰0
140
ححقرت امام ائنتجرگی رم لیف رماتے ہیں:
”رت معادیہ کے فضائل ٹل ایک بی رشن عد یٹ
5 5) نے رواع گیا یا ے او کیا ہ ےک می عدہٹ
0 کن ےکررسول خدا "نے رت معاوی لاک رما گ یک:
شال ا نکوہدای تکرئے والا ادرپرا مت یا پیارےٗ یی صادقیو
مصدو کی اد عا تو رکرداورال با تک یھو یآ حضرت پڑلاکی وہ
دعاتیں جو پ نے اپکی امت صوصآاپنے مھاہ تی ات مکی ای
ہیں :موی ہیں ت2ت مکو تن ہوجاۓ گا کہ یدع بھی جو آپ نے
ححضرت ماویہ کیل گی متیول ہوئی اوراشرنے انکو رای تکرنے
واما اود رایت پاف پنادیااور چت پچوھو وت
ذ یکر دہ با یں خا لک جائکق ہیں ج باٹل ہرست* محائ' جک
یں معاذللہرسول فدابڈا می جا ئن دعاج قاممراحب ریار؟ ٹرےکا
شائل ہواورتام نال ے پا نے والی ہوا ماخ کی ےکریں
ےج سک پاتنے گول یا ہوگاک رووا کاائل او رف ہے
(سیداامیرممادے رو برا جا نل )۶۸٣٣
اکاللر رآ دصسرےمقام پفرماتے ہیں:
اورحد یت پاک یش ححفرت ب یریم بلاق نے جودعا فرمائی
ہے اتی پفو رسکی کراے القد! محاد یکو بای اورمہدگی بتادے اور ت
بر جاننے یں کہ بعد ی ثحن ہے جس سے منرت ماو يک فقیلت
کے بارے مس کت پل جاسکی ہے۔اوران او کی بیرےآب
پکائی 7 فشس؟ گت کیوکدداجتجادپٹفیکی اوران کاٹ ایک ہار
اھ لےگا۔اس مل ےک جب خی اکر ےل ا یکا وجہ سےا ےکوئی
۲ و٤
141
علاممت و زمّت ال یں ہویت یکیوئل وو مور ہوتا ہے باوج سے
مرا کس ا جررکھاگیا ہے ۔(الصوصن ار ترش٢ی)
شارح مو ۃصاح ب۶ چوفرت تی اح یا ران رمۃ اللہ معلیذر مات ہیں:
اس دعال ام رمحاد یلگا تن دحا عں دی مب
لوگو ںکو رایت د می خوش ہرایت پرد میں" گل کال برااہت
مر ہیں۔ ہرایت عامت تا ما یرکراموعاصل ہے ۔ یں ہرامت ے
مرادکوئی اگ بدامت سے ۔علومتء لک راٹی رقف کی و
(رات)““
(مرا شر ملک رج ۸ص ۵۵۸۱)
ایک دفیہامالموٹنین حفرت ام شی اود عنہا کی درخواست پر تضوراکرم
نے حفرت امیرمواو یکیلیه م دحا فمائی ۔حافظ ای نکش رکی امیر ای دالتہای سے
ممقول ہے۔للا حظہو:
الم امہ بالھُدی رَجَیْه لرَِّیَ وَاعُفِرلَه فی الاِرَ
وَا"زلی۔
ترجہ :اے مو اک رم! محاد یکو برا یت پرہقائم رکھنااوراسے برک عادات
سےتفوظارکھنا ادا سکی دتیاوآخرت می شش فر انا
(عاقمیاای رسادي ۸۴۸۲ا برای د+ایح۸ل۰٢٢)
اوراس میں شی نی سک حضوراکرم پلالاکی جردعا متیول ہوٹیي_لپزا 7
یقیئ قرل ہرئی ورس رد عالم قافو دن2 یف رماتے ہیں این ع سار سےمنقول
ے ما
لی وحم جريْ ناماو
عو ہے ےک
وریندرۃ فز رکا ہت رعلتا جن رَجَعَله ماد
(۸٥۱۴۱٥٢.
142
پر پہ“۔
تر مہ: بے شک اللھ تھائی نے اپنی دق جحٹک پنچان ےکیلے جی یی یکو
اشن ہیا ادرٹش نے اللہ کےکلام پر (ا سکونکھواکر قیامر کیک کے
ملمافو ں کک پٹھان ےکی ) محادبیکواشن بنا ایل ال تھا لی نے وی
ال کی ماخ تکای اداکرنے پر محادی ےتا مگنایی مواف فر با ے : ٰ
اودا ںکی نگیو کے دا اٹ اب دیااور ا ںکواپ یکاپ کاعچگی ٗ
عطافرمادیااورائ ںکوہرات پھی قائ رکھا(ر ےگا ) اور بیلوگو ںکی
ہرا یت کادرو میں گے اورلوگ الع سے ہرایت عا ص کی ری گی'۔
(منا قب سید امی رممادی ل۸۳ یچچ کوال ین مک روص --'
اب جن کےولوں ٹیس ایمالنغ ہے اورجشن کے دل فو وایمان سے جگارے 21
دوق ان فضات ل کین جا نکرقول ف مالیش مگ یکن جن کےدلوں یھو ان گا
جم نکوقو لک لیا بہت مکل ہے۔ بہلوکففض وحس دک یآگ می جلتے ہی رہیں
ے۔(ا تفر
فت اوریترتے
نفار کی ردایت ہے جرت این اپ مک لیڈ مات ہیں:
یل لاب عبس هَل لَكَ فی ابر المزييْنَ مکاِيَةفِله اَل
07 پ
( ارک جداقل ص٣۳ ھ۵ کتاب النا قب باب اکرمعاد ید)
ھجم حضرت امن خعپاس رضی الش تھا سے پ پھا گیا آ پک ار
المؤوننن معادیہ یل کے بارے می کیا رائۓ ہے نج دو و کی ایک بی
رکعت پڑت ہیںآپ نے فر مایا : بے شک دوفقہہ ہیں-
صخفرت علامیشقی شر یف ال امیدیی نکودہ حدیٹ اوراسس کے مات والی ای *
1
٦
۱ٔ و٤
143
کیاد دسر حد ب١ث بیارگی کےعحنت نز ہت اللقا رک شرع ار می ف رما تے ہیں:
”رت این عھانس شی ایڈرکنما کےف رما ن ےکا مطلب بی ہے
کرمحطرت معاد یما لی اورئبقد ہیں انہوں نے اپنے اجتاد سے بی ھا
ہو کی ایک دی رکعت ہے۔اس لی ان پرکوئی مواغذ وی انہوں
نے ج یچ کیا دی دی لک رتا کیا ہے جوا کے پا ہوگی بن سی
کیتفلیر واج بنڈل لہا ےح یک یتلی دک تمرم ے۔ اسے اپے
اجتجادی پگ لکرناواجب ہے۔اس لے ان پرایک رکعت وت یڑ سے پ4
لع درس تال -
الٴعدےٹ سےمعلوم ہو اک رقروگی مائل می اگ وی لکی متا
پراختلاف راۓ ہوجاے ذ ایک دوسرے بح چائزننیں مہ بیاعقاد
رھٹا واچجپ ےکہو ہف قذاب سے جس کی تایرخود دوسرکی عد یٹ
0 2۸717 کے پاوجوظا بک ا تح سے ا
ان عداڈل سے ہخرت معاوبے ہکا و نقعاتیں عاہرے
ہئیں ایک فیک د+صحالی تھے اور برای در کی فخیلت ے۔دصرے
یرک و دفقیہہ تھ بیچھی اع در کی نقیلت ہے '-
(نز بت القارگی شر ار ۳۳ص۴٢٢)
حفرت علامہش عمہدالعزی: ہ پاروگی نکوروروایت ہنا ریخ لمرنے کے بعد
فرماتے ہیں:
”حضرت این عپاس ری اولکنہا کا شا ر فلا حا یہ مل ہوتا
تپ کے مکی رسعت کے بی کظ رآ پکوبکرالعلوم الات اور
تز نان القرآن کے اقب سے پا کیا جا تھا تضوراکرم پجانے ان
یکم وکوت اورتضی رق رآن پاتاوٹ لکی دعا فربائ یھی جک قول
(۸٥۱۷۱٥٢.
144
بوئی۔آ پکا خارمضرتٹلی لن کے خوائ شی تھا ۔پ دشمز نکی ے
شد یدگیر تے۔حفرت می ہہ نے آ پکوخوارع وریہ کے پا
مناظر ےکیلے جیا تھا ۔آپ نے مناظرہکیا اود خارجیو نل جواب
کردیا(اب مقا سور ہےکہ) جب نضرت این عیاش شی ہے
زین حرت امیر مواوی تچ کے !ہد یگواہی دی اور اپ ام
کوان پرگیرکر نے ےت فا میں اود ول ید لک :ال مل یں
وں سے حضرت مواویہ ظثہ کے تذفقن وعلوکا پا تل جا< ےم
الاسلامای نتر ستقلاٹی رم ال ملیف مات ہی سکع راعمت تحت این
عاس رش اڈ رما کی طرف سےحفرت ام رمواوبہ یہ کلم پل
کی بی سب سے بڑیی شہادت ہے“
( مت رین اورحرت ام رمعاوی چچنارروڈ جم النا یک ننمن اىرسا. يل٣٣)
ححفت اما تاعلی ریم طراز ہی ںکہ:
”سید عبدائ جن عپاس رش اما ینکش یس ایک وقیر
ایک و کی بٹ پل پڑیی۔ بث میں سیدنا معاویہ خلدکا ڈمربگی آیا-
جناب معادمہ بٹنکا نامک نک رحضرتعدا جن عیا مان نے فرمایا:
”لیس آحد بنا الم من مُقا و مجن ہم مل ماو شر ےزیادہ
کوئی عا لیس (ش سکر- ص۷۰
رت تی اج یار ا نشحی خرس سردفر مات ہیں :
”عبداور بین عپاس ریشی او دشا علوم کے در باء مر الام ٠
تر مان القرآن اورتخر تی لن کے نمائ اصححاب یل سے ہیں۔
ان سکوحضرتمی لہ نے خواررع سے من مر کیل ے بھی تھا۔ جباے
جبل القدرصحا ی رسول ام رمداد روج اورفقی رف مار ہے ہیں تاب
(۸۸٥۱۴۱٥۲.
145
انارک یکیاگنھاُش بے ( مادب یدب ایاگ ہہ)
صاحب بہاریش لیت ول :ا مکی پش نم ال علیف مات ہیں:
۰ ”ام رمحادبے خیلد بجر سے-_ ان کا گر ہونا نطرت سینا
عبدا جن عپاس نشی الڈکنهمانے حعد بیث ہیارک شس بیان خر مایا ےمد
ےصواب وخطا دوفو صادرہو تے ہیں ۔خطاد حم ہے۔ خطاۓ عنادی
ہی مدکی شا نکیل اورخطاۓ اجتبادی بی جمجد سے ہوجالی ہے اورائل
میس اس پ یکنا اصلا مواغذ ول“
(بہاش ریت ا لل۵۹-۵۸)
اورعدیث وفقہ کےامام سدن امام ما کک طلہ نے ایک روایت ال طر ن١ل
فرالے۔
خی بن شوند یع دق اَی قطی
اہی نے وزو را ا
ہو رو مس اجلز
مرو وو مت
قَالَ سَعِبْد یبن 67 سارہ سو
0ی08س0" اک خرتگرنے
داڑڑھوں یل ایک ایک او فکا فی لہکیااورتضرت معادیہ مجن السفیان
ے داڑھوں می پا پا این کا فیصلدگیا-
سعید بن صیقب نے ف مایا کرحضرتعر تل کے ٹیہ دی تگم گی
اورنحضرت معاویہ یچ کے یم بل گی اک ریس ہوا و واڑھوں میں
(۸٥۱۷٥٢.
146
ددواونٹ دلا کرد یت برابرہوچائی اوراج پ ریچ کو ۓ'_
(م عطاامام مات ککاب العتو ل )
یی حطرتبمرفا روقیحرت ام رمما سید بن ینب وتلاسب بی بجر
یں اور حد یٹ پاک کے مل ”وك مج مَاجور اوراجر یچوم کے
عرادیہ سکیس ب جھقد بین اج کے شن ہیں۔
اب خر ت امام امن گی رق ال عل کت ملا خفربا ےکھت ہیں
ححخرت این عپاس رش الشممانے ان (امی رمعاویہ تل کی
ری فک اوران عپاس ری الما ایل ابلویت اورح لین می مر
(جلداے ہیں جح نار کر مرے مروکی ہے۔دہ کے ریش
نے محضرت اہن عبال سکم اکہمعاو یلیک بی رکعت وق پڑت ہں_
رت امن عیاکی ن ےکہادہفقہہ ہیں اور ایک ردایت ٹل ہے یگہ اگوہ
ہل ک ےسا ہیں بینضرت محاد کا ایک بہت بی بت ے
کیو فقہہ ہونا ایک بت بڑا م رہہ ہے ایا وج ےآفضرت الا نے
جحخرت این عائ لکیلے دھا ما گیا کہ یاللرا نکود من مم لنقیہہ بنارے
اود ا نکوتاویل مکھادے اور نیز آنحضرت پلپلانے فربایا ہے جیا
احادیٹ می واردہواہ ےکر الد یٹس کے سائتھ بھلائ یکر چابتا ے اس
کون می فی ہدیا ہے۔ دوسرکی فخیلت ہے ےک ی وع ف گیل
رت محادی کےقی یں ضر الام تن مان ال رآ ان ای نیکم رسول مرارڈا
ورای نکر گی اور تاصرو دوگ ری شی عمبدانشہ بن عبال چٹ ے صاور ہوا
ے۔ اور بفارگیا یں مروکی ہے جو بع داب فداکےقا مکمابوں سے
ناد ہے یی جباجج بڑےورۓے کےلوکحخرت معاوے جلگو
فقہ کے ہیں اورفقہ صرف “مار تی ا نشم اورسلف این جس ددی
(۸۸٥۱۴۱٥.
147
فص ہے ج رپ رمق ہواورجس پ واجب ہوک اپ دی اتاد پل
کرے اوری اک یتید ا سکیلنے جائز نہ ہو تز معلوم ہوگیا رت
محاو یہ ٹر جون منضی لہ ےلڑے اس میں مع ور جےگوتی حعض رت بی
"لد یکیطرفا۔
اورا بھی ضر تم رجچاکاورآو لیا ن × پکا شس میں انہوں
نے لوگو ںکوضعضرت معادہہ لد کے اتا کی تر خیب دگی ہے۔ا سے
بھی صاف اہر ےک رت مواوہ یبد ہیں بل انلم جچد ین
سے ہیں ادرححضر تی یچکابھی یق لننیان ہو اک ماد سے مل
نت شس جا یں گے۔ اس ےبھی ظاہر ےک محاو مہ یلیگ ہیں اور
جب بیغابت ہو کا ک تحضر عم راو رتحخر گی اور تفخرت اہن عبائس
رسوان ایہما مین جینوں اس بات تی ہی ںکرحضرت معاوینق
او نپ ہیں تو لت نکرنے والو ںکا من رف ہوگیااور وو تام نقال جھ
ا نکی طرف سوب کے جاتے ہیں باٹل ہو گھ۔
نے علامہ این چھ ری نےنصل فر مایا سضر عم رہ نے لوگو کو غحیب دک یک جب فو دانع ہوتو
ام لے جا میں اور خرت معاد یہ ”کے ال ر ہیں ۔ اکن الیل نانے اہی ند سے روا تک
ےجعنر تر نے فر با ا ےلوگوا می رے بعد پل اختلاف نکر نادداگرا یتم نےکیاتز
مھ لہکرمحادیہ لام یں ہیں ۔اگرم خوورا ی: گن کیاحال ہہوگا (٠ سید امیرماوىہ یٹ
١ ارررۃ برا ہاںل۳۴)
کہ علامہابین ججری فر مات ہیں :''حضرت بی مففی نے ا نکیاتت ری فکی اف با امیر ےلگر
ٴ اورمواوہ یچس ےشکر کےمقتول دونو لی ہیں ۔ ا ںکظ را لی نے یج روا ی کیا ہے ال کے
سب راوگ ٹہ ہیں صر فعض میں اشتلاف ہے۔ یق جخرتہ یکا ایماص رج ہ ےکسا
مھ کس ری تاو نہیں مدکی ۔معلوم ہوا حضرت مواویہ یچیگجد تھ ادرقا شرا ئا ابتچادی
انی ہن تی( سد ایر مداویمچارووۃ ہدنظیر انگ )٥۵
(۸٥۱۷3۲.
18
عحقرت امن عپاسل نے جو ےک اک معاد ری نے رسول مایا
اعت اٹھائی ہے اس ےنقصو دک کوتووہکرتتھ وجار مواے
پ4 ایک دکعت پڑ نے کے باعث مترس تھے۔ مطلب نیت این
عباا کاب یتھ اک ہحفرت محاویے نے یپ کاست اٹھالی او رآپ
ار( یسانش کےفی سے دہعلائے نقہاجش سے ہیں لپ دوج
کرتے ہیں اس کےمتحلقی فدا کےعم سے فی تمخزشین کے
زیاروراتف یں-
جب ئم دوفول ممفتوں کے بارے میں جوتحترت مواوہے لہ
کے تلق جع باری' یش حخرت این عباس ری الما سے مردی
ہیں خورکرو گت مکومعلوم ہو جا ےگا یش سکوحضرت مواوی لہ
پان کے اجتادات کےستلقی اعتراق شکرن کا می حاص ل نہیں ے۔
کیوکہ تکام انہوں نے کے الن کے نویک ددی تی ھھ اور یی حا
ام جن اص ت کا ہے او ربچ برای کے اجھچا رک تلق اعتراس
می سکیا جا کا سوااس صورت ک ےکا کا اج دخالف اججمارغ کے پا
نس بی کے وہ ھی ا کہ اصول یس شابت ہو ڑکا ہے اورتفرت مواوے
نے جاک طالفت می کی اورا یا غ ان کے بت یکر
ہت 2 ۔ نیز جوا نکا انتا ھا ا کی ضوافقت جج بین اعم تکی ایک
ام الات رت شاہ ول الرحدث دو رجح اللر عیفر بات ہیں: ”ام رسادے یلگا گچھ
شی مد ہو ای وہ سے ج کہ وی شی ےسک تےاگہ زان شی اس ےبزن
دار جچت مو جوڑنی بیشبردجی تھا جواصیوا ے7 پت لکوپیش یآ یا لن اس میس ١تت شال اوریی بے اہو اتا
کہ ام رمحاو یہ ندرا شام نے بیس ت بھی نہکیی اور جا ےکا طتکاپاہوت تلذ ابر
اظکام نافذ ہونے سے باوریی بات ابھ یقت نہیں ہو" ٭۔4(ازل ا اردور م۵۵۱)
۴ً و٤
149
جاعت ن ےکی جج عابہ اور جا ین رشی انت مکی اعت تھی ۔گویا
حصنرت مواوہ نے سیف پل یکی علق تن کی درب ہجَخران
۷ن دا۔ ۲
صخرت مواویہ یلد یقت فقا ہت مک ان ما کی اس
ردایت ےگھی محلم ہوگ یکرایک م رہہ ھ ین نی پا کے نب رہ
خطبہ پڑ ن غکھڑے ہوۓے او رکہا:اےائل ھ ید! تہارےعلا ءہال
ہیں؟ شش نے رسول خداچھھو سے سنا ہے ۔آپ فرماتے جےکہقات
تک مرک ام تکا کی کگردوامل بافل پرغااب رےگا۔ دہکبکھ وائے
کی مھ ےکس نے ا نکی مال تکا اورک نے ا نکی جات ھی-
مطلب بہت اکیتہارے لا ءکہاں ہیں بلایں ان سے اس عد یٹ
کے عم مس بح کرو لگا ۔ ای بات اس زمانے می جھ اکا بر مجن بن
امت مشنی اروا لنشین ری اش ہم ےبھوراہواتھاو یشیش کپ کا تھاجھ
بوافقیہہ اور بڑاعا مہو رتحصوصا بد ینہمنود ال ز مانے ٹل علیا ۓے سا ىہ
جا لن ( ری شیپ کا مخزن تھا بی مد نے م ا اکم ا کی زیان
ےئک ل سکم ہے جوسب سے بد اعال مہ“
(سیداامیرمتادیہ مار دو جنعیرا ا ن(۳۹۰۴۵)
او رما کرام رضوان ایہم کے درمیان جولڑائیاں ہیں
ان کا اٹ صرف دنا تک محدودر ہا ۔ثآخر ت کیل ان کاکوگی انیس رہا
کوک وہ بچھ تھے ۔ خی قواب ےہ ہا ں نوا بک کی مت یکا ال ان
فرق تھا۔ ا ل ےکہ جو بج اپ اجتجاد تق ہوا من
حطر تک یلکرم اللہ و چہہ اور نکی یرد یکر نے والوں کے ا کو دنا
قاب پ دج گناٹ اب ا ہے اور ج جج اپے اجتتجاد یل نعل پرہوتا ہے
(۸۷۸٥۱۷3٢.
10
می حضرت سماو ید خی رت ال" ٹم کےا ںکوصرف ایک میا اب تا
ہے۔ یسب لوگ ال دکی خوشنودی اور ال کیا اطاعت شس اپتی اپ یھ
اوراجتجاد کے مواق کواں تھے۔علوم ان کے ببت دج تھے۔ بیعلوم
اہول نے بی پل سے عاصل کے تھے۔اس با تکوا ھی رخ لو اگر
تم اپے دی نکوفتوں بدکتں اورشنی در نے بچانا چاہجے ہو۔ ایی
راہ راس تک رای کر ے والا ہےاوروی ہہارے ل کال ہے د کیا
ا ھا کا راز کے ۔(سیداامیستاوہ چوارو ج تل یرا نا نل )١۷
شارع سکم انام کن شرف نودئی رح ال علیکی شر ملمر ٣ ص٢٢
سےنقول ہے:
”حا کرام یی جویگیں موئیں ان ہی برفری قکوکو یج
لات تھا اور ہرفرن۷ اعتقاد یتھاکرد کت اورڈاب پہ ے اورقام ۱
کاب تیگ اور عحادل ہیں جک اوردوےئزائی مواللات ٹس ہرفر لی
ا ایک تا وی یی اوراس اختلا فک وج ےکوئ حالی عدالت اورنی
ے نمار نیل ہوتا یکو وس بجھپقد تھے اورا کا مال یش اجتچادی
اختلاف تھا۔ بط رم ان کے بععد کے جنجلد بی نکا اف اورد یت کے
مال می اجتجادٹی اخلاف ہے۔اسی ےی فرب قک فی دازم
نی ںآنی۔ ان جگو کا سبب ی تھا ک رض معا لات ان پرمشتہ ہو گے
تے۔ اورشدت اشتبا کی وجہ سے ا ن کا اجہتمارحنلف بوگیا تھا اس لاج
ےمعابہکی جن نی ہیں ۔(۱) ہف لاب پراتاد ے شف ہوا
کمد وق پہ ہیں اوران کا مخالف بای ےا لئے الن پہاپتی جماح تکی
نصرت اور اپنے مخالف سے جن کک نا واجب تھا۔ سوانوں نے ایا دی
کیا۔ (٢)۔ض عحابہ پر اناد سے اس کے بکس نھاہرہوا ینیقی
(۸۸۷۸٥۱۷٥.
11
دوسرکی جاب ہے اس لے لن پر اس جماء تک مواقظ تکرنا اور
پافیوں سے ققا لکرن واجب تھا۔ (۳)اس طرح لعف سحابہ پر یہ
محالطاتمشتبہ ہو گے اور دہ تیران ر سے اوری یا بلزیا روج
یےاس لے وو دوفوں فریقوں سےا گر ہے ۔اوران کےتقن مج انگ
رہناداج ب تھا ۔کیونگہ ال وق تک کسی ملمان ے جن گ/ناجا میں
سے ج بک ک کی ٹل سے بیظاہرنہہوجائ ےک دوہی کے جان ےکا
نی ہے۔ اک ری فرب کت یی ان پہ اہر ہو جائی و ان پا کی
ایت ان ک لن ےق لکرناداجب تھا وا اب الہ
تنم م مد ۔رتَکُلهْمْ مَمُدُوْرُوَْ رَضِیَ الله عَنْهْما ایج
سےا لکن اورقائل ذکرلوگو ںکا اس پ اجار ہ ےک تا مسا ری الد
شتمم عداات ٹیس کال ہیں اور ا نکی شہادت اور روای تکوقیو لکرنا
واجب کچ“
(عل فلا رسول سعیدی شر جح سم۸۸۲۷۱۷۵)
کیا تب وگ او رم راز
صاع نت مز بای کے بعد مل کا نام1 ہے۔ ا لکی ایک ددایمت
ا حظ ہو :
لان اس ال ما سو لیر !لی آبیى
سُا رَلايِكَاجدْْة فقال لن صلی الله عللیِ وَمَلمَيَا ٍى
ال نٹ“ اوه لقن یی ای لعَب
رو سس وت
0 0
وَمَعَ رَمَْارِيَةتَجْعَلهُ گایتا
۷ "٤
...152
ال لُْفَرَ گتا کت او سی کان کم 7
(ت لم اد ۳۰۴۰۴ باب فا ال مفان می تب )
مھ جم فرت اب عباس رش اون مابیا نکر تے ہی ںکریملمان رت
الوسغیان خل دکی طرف فوجننا لکر تے تھے اورضہہی ان کے سرت نت
دخاست رکھے تھے۔انوں نے نب یکریم پل ےرت کیا یا می الا
جھ جن ری عطافرمد چپ نے رمیا چھا :اہول ن کہا :ام حر
جواتنن العرب(عرب مل سب سےتین وکیل ہیں ی سآ پکااس
سے گا کت ہو ۔آ پ نے فرمایا:اچھا: چلرانول ےکا اورمحادبیگو
آپ انا کا تب :الچ آپ نے فرمایاا ھا پچ کر کیاادر اجازت
عطافرماد یی ت اکم سکفار سے چا دکروں چیا کہ یس (اسلام لانۓے
سے پیل )مسلمافوں ےلڑتار ا آپ با نے ف رمیا چھا:
( متا تب سیدنا ام رمعادیئلد)
عافد ای نکر نے بھی اس با تک لکیا ہے ما حظہہوتار یا نکی رج کشخ .
/۵۲ء۹۵۱۰۔-
ضر ت امام این تم رگی رت اللعلیغر مات ہیں :
”حفرت مواویہ لی دسول خدایظا کےکا تب ت جیا
لم ویبرہ یں حایت ہے اور ایک حد یٹ ” نل وارد ہوا ےکلہ
جفرت محادیہ لی اکرم للا کے سان ےکک کر تے تے۔ انیم نے
کہا کرحخرت معاوی رسول خداپلا کےکاتوں میس سے کے اور رہ
تام تکرتے تھے مج ردباراور باوقارتھے۔ اورداگی ت کہا ےک
زی جن خا بت تن کا تب دی تھے اورحضرت معاد یہ یندا نک برا تکو
کی اکر تے تھے ج ھآحضرت پل کے اود اب عرب کے درمیان ہوقی
(۸۸٥۱۴۱٥.
13
گیں۔اس میں وتی دی دی سب شائل ہیں۔ یس دو رسولل داب کے
اشن ۓ'۔
( سید امیرممادہ جار دوۃج رت٠ را با نل۳٢)
اورخملہ ففضائل حضرت موأویہ لہ کے ایک حد یٹ بے
بج سکوغ ہنا 'بذاہرت مل رواء تگیا ےاوران ےمحبت ری 2
ریاض النضر تۃ نف لکیا ےک ہآنحضرت چو نے قرمایا: ”میرک امت
سب سےزیادو تیم ابوبگر لہ ہیں اوردی نکی باقں بل سب سے
زیاد دق کی عم رھ ہیں اور حیاشش سب سے زیاد+عان لہ ہیں اور م تنا
یں سب سے زیاد+ی لہ ہیں اور ہ زی کے پکھتواری ہہوتے ہیں اور
مر ے حواریطلیروز ررش اکنا ہیں اور جہا ہیں سعدبن ای دقائل
ہوں تج انی کی طرف ہوگا اورسحید جن ز ان در لآ دمیوں می ایگ
شس ہیں جھ رتلن کےےحبوب ہیں اور عبداائشن بن عوف دنن کے
تاجروں مم سے ہیں اورابوحبیدرو جن بجر اح اد ورسول ہلل کے اشن ہیں
اورمیرے راز داد معاوی من ال فان ہیں بل جوس ان لوگوں سے
حب تک ےگادونجات ہا ئۓگااورجوان ےفنفش رجھگادہ ہلاک ہوگا۔
دنگھیں اس حد یٹ می مضرت ماد کا کیا وصف بیا نکیا
کی ہے جوان کےکا تب وی ہو نے ےعلق سے و رکرو کےن بداو
ےک حخرت محاویہ یلدکی عزت آحفضرت پل کے یہاں ہنی
کیونکہانمائن اپنا راز دار ا یکو بنا جا ہے جوقھا مکمالا تکا مخ اورخیا نت
سے برک مواور راع دوج کی منقبت اور بڑی فطیلت ےپ
( سی امیر مواہ مار دو جنیرا انگ )۳۲۳٣۱
حضرت علا مہ ابکن اش رحمۃ ال علیاٹل ف مات ہیں:
(۸۱۷٥٢.۰0
14
ابوگھر(ای نعبدالہ نے جیا نکیا ےج جن سحد نے واق ری
سا کیا ےک سب سے پیج نے رسول خدپ“چے کےا آ پک
7 بین میں تر یف آوری کے وقت ووالی م نکب چلھ یل اوروہنہہوے
زی بن فات جیلد لگ خلوط ےکک ٹک کا عبدالط بن الم بر
کے نپردتھا او رآحضرت بڈہ کے عبد ناموں اورگکح امو ںک کات
ج بآ پک کرتے تھ خر تی این الی طالب عالدکرتے تھے۔اور
جن لوکوں نے رسوي قدا ا کیل کاب تکتھی. ان مس سے الویگر
صعد بی ہیں او رین خطاب اوران ین عفان اورز رن اگوام اور الد
اورابان جو دوفول مسعید جن عال کے بے ہیں اور خظلہ سیر اورعلاء
بن ضعحفرٹی اورخمالد جن ولید او یراد بن رداحاو رھب نس او رکپرانڈر
بن عبدالش جن الی ین سلول اور یرہ بن شعباورگمرد من عاض اورمحادے
جن ال مفیان اور ین صلت اورمتیقیب بن الا فاظمہ اور شرقل بن
ضس یی (أسدالفا باردو حا )٦۶
مد اد یس سید نا عمبدائش جن عپائس دش الل نما کا ایک ددایت لوں بیان
بوئیے لا ظو:(7ھے)
”ایک م رحس رکاردد عالم پیل نے جٹھافرمای اک مواو نہ چو یلا
لا اور جناپ معاویہ نٹغدان ونوں تضمور علیہ ااصلؤ ج والسلام کاب
و تھے۔ چنا ہٹس دوڑما ہواگیااورمعاد ہہ دٹنکوس رکا ردد عالم اکا ے
پا ک۰ مرکا رآ پک جار ہے ہی ںکیوکآ پکقم کو یکام ے'۔
(صراكضص )٣۳۵
مندات میس ایک ردایت یو بھی ہے۔ملاحظہہو:( تر جم )
”جناب رسول ال ہچ نےگشہو صلی تضرے بح درس
۰ و٤
15
مع وت قیص رد مکوزگوت اسلا مکا نیک والا نام( تح بگرائی )ارسال
فریا۔ اس مراسلہ کے جواب می قصررہ مکا خط نےکر ال کا قاصدرتوٹی
ورس رکا رد عالم کی خدصت ادس شآیا. ٹل رد مک اص توٹی
میا نت ےک تخورسرد رکا نات پل مقا تیوک مس اپ صحابگرام
کے درمیانتشریف فرماتھے۔ مل مق لکاخط نےکروہا ںگیا۔ ش لآپ
کی پپا تا تھا۔ مس نے صعابہ سے ہہ چھاکمحھ (پھ )کون ہیں-
تضور (علی الو والسلام) نے اپے دست مبارک سے اپٹی طرف
٢شار ہک کے فرما اکٹ ہوں۔ ٹس نے وو خ طآ پک غدمت ال
شی ٹکیا ۔آپ پلانے دوخطاپنے پبلوٹس خی ہوۓے ای ہو سکو
گ من ےکیلے دیا۔ جب می نے پچ بچھ اکم یھ کون ہیں ؟نذلوگوں نے
جھے بتا کہ بی مھاومہ ین ای مفیان ری انل ہنا ہیں ۔حعخرت معادیے نے
دہ خطآپ لاگ پڑ کر نایا ا خطا جم ککھا تھا لک ہآ پ یھ جن تک
طرف بلاتے ہیں ج سکی دسمت ز ین دآسمان کے برابر ےت فرما یے
رٹ مکہاں ہے (گو کہم ایک سوال تھا جھتیصرروم ن ےآپ بے
چھاتھا) آپ ن نک نک فرمیا:
سُبْحَان الله بِذًا َء الليلَ ابی اللْهارَ؟ (جانالہ
جب رات آلی اد نکہاں جاتا ہے؟ جب ہے مراسلہ پڑ لیا گیا
آپ ہا نے قیصرروم کے قاصد مےفر ماکرپ خط لا نے دانے ہیی
اور پغام رسا ںکاعق اود ارام ہوتا ہے۔ پم چونکہ انس وقت مسافرت
یس ہیں اگمراس وقت ہمارے پا ںکوئی چیہ یا علیہ ہوتا تو ب مآ پکو
ضر ورد تی ۔آ پک یہ با تک نگ رآپ بے کے اصحاب مس سے ایک
نیس ٹا اورعت ضک کہ اس اص کو بہ ہیا رتذہ جن یکرتا ہویں۔
(۸٥۱۴۱٥٢.
16
نا ود شی اپ مان ے ایک بای تد شاک ا اور ے
میرک اگوشل رکودیا۔ نے حاظر نا سے پ چھایکون صاحب ہیں؟
وین ےکہا:یجناان کن عفان لن ہیں''۔(ص نام بس سم
02
آپ م ئن کچ باموں اوررپ العا لین کے رسول تک
کا تب وق ہیں '۔(جار رن کشر جلدکشحر ٤ے اہ۷+)
”ےب مجن دامع نے بوالہ این عباس بیا نکیا ہس ےکہ :
حعفرت جم گول ال پللاکے پا ںآ ے او رکبا ا ےھ اپ مواو یکا
علا مکہے اورآٹس بماائ یىی ومیٗں کے بلاشبردہکتاب اوروی پراللہ
کےاشلن ہیں اور بہت ایج این ہیں-
اوران “اکر نے بھوال ضر تی اورحخرت چابر بی ن مہ ائڈ
ری الشکمابیان کیا ہےکہرسول اللہ لاک نے ضر معاو یہ رابنا
کاحب منان کے یل سےمشورہکیا ق انہوں ن ےکہا: ای سکاب بنا
یئ بماشیردداشن ہیں حر کیج ۳ك۳ص+۷۵)
رت جخ عبدالک محر ثد ہیی رم اش علیفر مات ہیں:
”کاتالن بارگادرسالت مس سے ایک ححضرت ام رمعاوی ین
اسان ری ال ما ہیں7( در ارددد ل0۷۰
حخرت حافظ این تج رم سقلانی رم الش علیہ ےنقول ے:
نی آپ یکریم ”ےل کےا بھی تھ اور بارگا و رسالت کےکا تب وی
ھی تھے ینا اہی یس۸۸ ہتوال الا صا رٹ تی اصاخ ۴۳ص۴٣۳۳)
حخرت علامہ تن عبدالھز یر ار رم ال علیأئل فر مات میں:
۴ "٤
فحدسےو جس دا می ہے
17
”رت محاو پکاجب رسول متبول لا تھے اپ کاب
”'خلاصنۃ لی ریش ایاح فتی مر مین اج بن عبدالش بن طبرکی نے ذکرکیا
ےک ہتضور اکرم ٭لےظے کے یرہ کاب گے۔ پاروں غلفاء کے علادہ
(۵)مام: نفیر ٦(0 ) عیداللہ نارق (ے )لی ب نکحب (۸) غیت بن
یس بن شاس (۹) الد ین سعید بن عاس (۴ا پل ین رم نکی
(۱) ید بن خابت (۱۴) معاوہہ جن الی سفیان اور( ۱۳)شرضیل بن حنہ
ردان ائڈ]ہم این تھے _ ان مل حضرت مواو ہاو رتحفرت ز ید رض
دقن ماکتتابت وت قکیلنۓ ام سک یایا تھا
زی جک مایا ےک کنا یت دی ا نکی ثابت یں ہے۔امام
اتھ بیطلا لی نے شرح کچ بارکی ہی اس قو لکوصر مردوہکہا
ہے۔ اس کے الفاظ ہی ںیک محادمہ بن ای سفیان پہاڑ ہیں۔ جنگ کے
یئ ہیں اوررسول اللہ پلک ک ےکا جب وںی ہیں“
( مین اورنضرت امیر مواو ہہ ظلنمارووت جمالمناحی رگ نکُگی ام رمداء ی ل٣۳٣۴٣)
' ام عواض ذکرفر مات ہی ںک ای ٢ٹ نے معانی جن عران سے
کہا گی نعبدالعز یز طحضرت معاوی تی ائڈغنہاے ال ہیں تو وہ
فصہی سآ گے اورفر مان گیےتضوراکرم پل ک سا کرام کے رات کی
وا نو ںکیا جا مکنا ہے ۔ححفضرت محاد حا لی رسول مقبول بلق ہیں_
1پ کے براورجی یں ءکا جب ہیں اورسب سے بل کر وتی الہی کے
اشن یں“
( مت رین اورتحضرتے ام رمواو یہ یڈ ردوتر جم النا ح یگ نشمشن ام رمواہ یل )۴٣٣۳۵
امام لال الد ین دی رص ال علیأئل ف مات ہیں :
”امیر معادیہ خالنہ نے ایک عرصدگگ ددبار رسالت ٹل
۱ ٤
358
کمایت وی کے فرائش انجام د اور سیت کاب وق ۱٦۳
اعاد ییث کے راوگ ؤں''_
(ج رفا ررض )۱۹١
الام ت شاودیالحدث دولوکی دح ال عل یئ فرماتے ہیں:
”دوایات متعددہ سے ہہ ام رغابت ہوگیا ےکہئىی پا ے
جحفرت محادیہ لوان فی او رکا تب وقی بنای تھا اورپ ا یکوکا تپ
بناتے چے جوذ کی عدالت اوراما مت وا رہ“ '-(ازل الا ءاررواڈلص۵٣٣)
اورحترت امام ر بای سید مردالف مال لن جیاکہ پل لکیاجا پا ے٠
فراےیں:
”حم تک فضیلت سب فضائل وکمالات ے ذا لن اور پیر
ہے ای بنا پر عخرت اولیس قرلی جو خیر الا تین ہیں حضور علیہ الصلےج
والسلام کے سھاپی کے ادف مرحب ہت کبھ ینمی س کے سے۔ لزا صحب تکی
فیا تکاکوئی ہے مق بل نمی ںکرکتیکیوکہ ان صھا کا اییان محبت اور
غزول و یکی برکےی سےجگہودکی ہو چکا ہے اور ایما ننکا بے رت ہما رام
کے بعد یکویھی تھی ہیں ( توبات امامر بل دفزاو لکتوبفر٥۵)
. اود ہم کچے ہی ںکہ یلو عا مسا گر م یکا حالی ہکان کاامان
صحبت تدى یک صاجا ااصلؤ : والسلام اورغزول و یکی برکرت سے شھودکی ہو کا ا
حا حقرت ام رمحادیہ کی ذات دالا ات ٹن می عبت بد یع اح بلصل:
والسلا مکوننی شر بھی حاصل ہوجو صاحب اسراراوررا دای ہوں جودی ال ے
کاحب اوراش نبھی ہوں مایا نکیا شہودئ یل ہو کا ہوگا۔ضردر ہدک ہوگا 21
در کاشودکی ہوگیا ہوگا۔ ہراجا یچ ہودئی یمان دانے کےا یمان یش شی ککرےاس
(۸۸٥۱۶۱٥۲.
19
نایا ن “کوک ے_ جٹنص تضور م یکریم علی ااصلؤ ہو ےتشرف مبت
وا لے سھا ہکرام شی ان مکوفیضان رسالت ےضی اب اورفل ا یمان والا
(امیرمعاد یتضور چا کے برادزعتی ہیں )
ای عامکخائش ےنت ہو جا ے2٥٤ عا مپھی خاش ہوچاعا ای لے
خرکی امت اص خاصاان رکل سیدک لتضورسرد رما لک چا فیس تک بدوات خر
ترار پائی ہاو رتفوراکرم بای ذبدت مبارکہ سے میق انت محبہو نے کے
پاع(ث ا ےکوی اموں پر فضیلت و برت کی حاصل ہو گی ہے ۔گ یااس مج کوئی شک تی
ان سک تحفور ےکی خیب تآ دی یکوس رین کرد ہے اورتضور سے بل سس یکوجس قزر
بت عاصل ہولی ہے دومرح ریس ای تر ماود جلند ہو جا جا ے_
ے دی صحراع دالے میں دی محراع د نے ہیں
عردع آدم غاکی کی یاد ا ن کی نبت ہے
جب نیس کی عظم تک ولا تذ اب د رت نطرت ام رمدادیہ مٹگو جناے
رسول ال لھا ےکئی دی رنتوں کے علادہ ایک مسرالی مد بھی عائصل ہے وہ
تضور یق کے ہم نب شی م مھا بی اورکا تب وی ہونے کے ساتجھسا تج اتی کے
ففنل وکرم ےآپ کے براو زج بھی ہیں۔
حضرت ام رمعاویہ ھی قرابت کے عطا و سسرالی تر ابت کے با ح گھی
مور ولچ کے ال قر ایت سے ہیں۔ نی زحور یچ ےک ج بحضوراکرم پلڈاکی بت ہے
مع اوراعلی ہو یقینا آ پکی سال ید ت بھی یۓیشل اوراعی ے_اس لے تضور
(۸٥۱۷۱٥٢.
160
پا کے سسرال کا مقام وم رت یھی بہت ارفع واعلی ہے لہا حخرت ام رمواوے کا
مقام ومرتبیی ببت رٹ دای ہے اور چنہپ املمؤسین ححضرت ا محی یی ال |
عنہا کے براو رم ہیں اس لے مین وشفققین ن ےآ پکومسلمافو ںک ما مو ںککا
ہے۔ شا" این عس اکر سےمنقول ہے:
”َال زین وَكايبُٔ وَحْي رب اللییع“۔
رجہ :تام مسلمانوں کے ماموں جن اوراد رب العز کی وی ککھۓ
والے ہیں( من تب سیداامرسادي ّلش۹ء)
حافظطائ نک رفرماتے ہیں:
آپ ماد ین ال فیا نم جن قرب بن امی ی نمبرشّس
بن بد مناف بن ای اب وید رشن الیشی الاموئی:موین کے اموں اور
رب العا لین کے رسول ےکا تب وق یں''۔
(جا رای کرو ح ض۴ ۵۲ء:۸۸۰۹۳+۴٥)
مفرق ران حفرتمفتی اج یارغان رمع انعلی رق راز ہں:
”امیرمعاویہ ن یکریم پا کے شی سالے ہی ںکیونکہام جیب
تی مین نشی ہضور ای زیلیر دی ۔دوام رسادے
نیل کی تشنقی بن ہیں اس لئ امیرمواو یتضور بفلقا کے سسرالی رشن دار
بھی ہیں ۔ اہر ا نکا تضور سے دوہرا رش ہوا بھی اورسسرالی ۔ موک
شریف مج امیرمواو ہہ یکو جومسلرافو ںکاماموں فرمااگیااس کے می
معن ہیں (ام ساد برای کرش ۳۸)
ایام این تمرگی رمع ال عل ینف فر مات ہیں: ۰
رت مماو یا آحضرت وق کےسسرائی رشتددار ہو ےکا
شرف ال تھ_ام الم وشن ام حیرص الشرحتہا عفرت محاوي لها
(۸۸۷۸٥۱۷۱٥۲.
161
یحیل اورآححضرت لھا نے فر مایا ےکہ: می رے مھا بکواددمہرے
مسرالی رشع دارو ںو برالی کے ساتھ یاددکرو جن ١ن کے بارے
میرے تو قکی رعاع تک ےگا ال کی طرف ےا لکیلئے ایک
عیافڈمقرہوگااورجپنل ان کے بارے مس میر ےجو کی رعایت ن
کہ ےگا ادا لکوچھوڑدےگااو رن سکوازڈد نے کیھوڑدیاقریب ہےلہ
الہ ا کسی مصیبت ٹ کپچڑ ے اس حد یکر امام ات بن شع نے
روا تکیاے-_
یز آنحضرت ھا نے فر ایا ےک
”ادن ہج سے وع +کیا ےک ینس خاندا نکی لڑکی انا
ا حکروں گا یا ضحینٹ کے سا ھا بی لانیک نا ںکرو ںگا یسب
لیک جننت مم مہرے نیقی ہوں گے ال حدی ثہکوحرث بن ال
سام نے روا کیا ہے
خی زآنحضرت پل نےفر مایا ےک
"من ہے اپ پدردگار سے درقواس تک کہ مل اپ
امت می سےج سگھرانے می انا لگا حعكکروں یا ننس کے اق
اپ سالک یکا ہا کروں یسب لوگ جنت مش میرےر فی ہوں-
اللہ تھالٹی نے میرک بی درخواست قول فر مائی ۔ اس عد ی ٹکونھی قرٹ
نے روا تکیاے-
یں اس لیم انشان فضیلت اور مرحب*ٴ عال یکو ج تام ان
ماندانو نکیل عبت ہیں جن کے یہا ںآ حضرت ڈلگا نے نکا کیا
ور سے دمکھونذ معلوم ہوجا ت ۓےگاکہالذدتالٰی نے ابومفیان خلہ کےگحم
پٹ سگھ کے ایک بد ےننش حر مواوبے ید تھے کی فل وکرم
(۸٥۱۴۱٥٢.
12
کیا۔ا نکوکیا عمز دشرف اور جلائی وا تال دیااو رآحفحضرت چا کے اس
ارشاوگرای پرگھی و رکرو ہآپ نے فم مایا نٹ ان لووں ے
ارے شی میزےتقو کا رھایت نکر ےگاللدائی سے پرگا ہے اور
جس سے اللہ برک ہے قرب ہ ےکا ککوکسی معییت مم گرار
کر لے '۔امید غ۱ مات پرفودکرنے سےالنلوگو ںکی بدگوئی ے
ھکر گے ج نکوخدان غآحضرت پا کے مسرالی رشردار ہون ےکی
گزت دک ہےاوردہآپ ےگ زیزوں کے مرے می داقل ہیں _۔ان
وی کو یکرناسم ئل ہے ایی ات کادد یٹس استوا لکرے
گا یم کوانی کی اگوار تال کچھ پروانئیں انف چا ےجس
کل مس ملاک ہوجاے۔الل لی مکواورٹیز سب م افو ںکواے
تقحغضب وعزاب سےتخوبارے“_
(سیدامیرمعادیہ ظپفاردوت شی رالہنان ل۳۴۳۴)
اب جب معلوم ہوگیاکنخرت ام رمعادیہ دفو زاکرم ولا سے براو زی
او رسس رالی رش داد ہیل حد یث پاک شش جوسسرا لکا مقام میتی نکیاگیا ےچ
اوران کے ادب داتزا مکی ھت کیدفرمائ یگ ہے دہجھی لا تظرفر مال _ اولر کے
پیارے سول ؛پلکھانے فرمایا:
)َو الله اعَْارَیٰ وَاخْتَارَِیٰ اَصَحَاب وَاحْتَرَلِیْٰمِنْهُم اَسُهَارا
َالصَارَ فمنْ عَفْيیْفِيْهھمْ حَيفَہ الله وم أدَايیِْٰهِمْاكَهٗ
اللہُ(مرمنلەر ت٣)
جمہ: ویک اللدتاٹی نے شھے پیندف مایا اوربیرے لے میرے اصحاب
پندفرماۓ ان ٹس سے می رےسسرال اور حددگار ند قر جا ۓ اپنرا 22
نے الن کے بارے مس بے( من وشن سے )فو ظا رکھا ول تھا لیے
۰ و٤
13
فور ے اورجس تے الع کے با رے میں مھ از بت دی اللدتھاٹی
اےائمجعدے۔
٢ امْهطُیٰ فی صْعَابیٰ وََسَهَارِیٰوَالشَارِی قمَْ َوكییٰ
نه فک یه الله اڈ وَالاعرَق (اصراع ق گر 3م)
ھ2 میرے ساب او رمیرے سسرال اورمیرے معا وشن کے بادے
می رالیا کروی یش نے ان کے بارے میں می را( شی مری نت
کا لیاظارکھا اٹ تما لی دمادآخرت ما لک ماظ تک ےگا-
آپ نے دیکھا کالہ کے رسول پل نے اپنی اص تکواپنے صعا ہہ ءسرال اور
۱ انارک یح٥ظمت ورفعت اورقد رومنزل کی طرف متو گیا اورا کا ادب وات رام اور
تنظی پک مرن ےکی حکیدفرمائی اوراتی سدت پا ککاھا اک رن ےکامحمفرمیا۔اورے
آپ پیل لاحظفر ماج ہی ںکحضرت ام رمادیہ خلکورسول اکرم ولاک مال اور
برادزسھتی ہوت ۓ کا شرف حاصل ےکمڑی عحابیت کے علادہ تضور ولا سے مسرالی
بت وق رای بھی حاصل ہے تو اعاد یث مبادکہ کے مطائی اقت پران تو ںکا
ا کرت ہو حضرت ام رمحاہ یہ ٹا ادب و اترام واجب دلازم ہوگیا۔ن
موا جا ودودئی ہلگ را سلا مک ہلا تے ر سے موس میس انضبوں نے دل سے جناب رسول
اللہ پل ککمہ پڑ ھا تھا انی ۔ اطاعت رسول پر یمان لاے تھے بای ۔ بڑے پہ
فر یب اندازٹں تفرت ام رمعاو یہ ینگ یتو لکااعترا فکر تے ہو ۓےگھی لن پہ
تقیرکر سے ہیں اوران پہعن شی کو راکرد نے ہو ۓےکھیطن وش کے تیمہا
رہے ہیں۔د یش دہ جیٛں۔
رت مواوے لن کے ما و ماب پا مہ 7 ا ن کا
شرف حا بی بھی داجب الا رام ہےہ ا نکی یہ فدص ت گی ناقاعلي
افگاد ےک انہوں نے پیر دجیاۓے اسلامکوایک جینڈے ےت کیا
(۸٥۸۴۱٥٢.
14
اورونا یش اسلام کے یکا دائزہ پیل سے زیادو دک کردیا۔ ان پر چو
تسس مس ہے دہ بلاشبذیاد کت ہے کن ان کے خل طکامکو
لکنا ہگا۔ا ےک کے کے عق ہوں کک ہم اپنے ندنل
کے معیارکفرے میس ڈالی ر ہے ہی“ (خلات دک ل۳٥۱)
اب ذرا مودودٹی صاح بکیلکراسلام دی ےک عخرت امیرمعاوبہ چلەگ
ینز منمتو کوشا رکرنے اوران پلش ط یکر ےکوزیادقی (حم) کیچ کے باوجودان
رغلطوں ک یی نکرد ہے ہیں اورصرف انام نکھت تل کے معیا کو
خارے سے بچان کا عند یرد ےکراحاد یٹ مارک کے اکا مک ککویل پشتاڈال
رہے ہیں۔اسصفف ال جیب بات ےک انی انا نکھزت مار زج ےن
عم رسول اورنببت رسول ( وچ ) کاکوگی اترام نییں۔ حالائکمسلمانو کی ساری
عز ت وآ بر وتضور ٛڈقاکیذبدت دفلائی سے ہے ۔ححفرت علامہاقیال فرماتے ہیں:
ور ول ملم متام مصطفی ملاظم ات
آروۓ ما زنام مصعئی سافیلم ات
جب ہرملما نکو جناب رسول اللہ ہلاکی بت سے کزت و1 برو حاصل
بوجائی ہے اوددوکتزم ہوجاجا ہل ھکیاوج ےک حفرت ام رمعادیہ یلچن ںکئی
نییں عاصل ہیں کعزت د1ب وکویشکی مکی جا اوران کے ادب دات رام مل
اپے زان معیارقربان نہ کے جایں۔ جب عا مسلمان ایک بت اسلام سےمحزز
کہرتے ہیں ت ضرت ام رمعادیہ از شنئیل اسلام کے علادوصحالی کا تب وی اور
برادرھتی سی متعد یں حصل ہیں یمن یس ؟ جب ما ممسلماخو ںکو ہا اور
زان سے نیف د ینا جا ئزی تذ عحفرت ام رمتاویہ لپن وشأکراکیوں جات
ہے؟ حیف ہے ای ملک الام پرشس کے نز دی کتضوراکرم پل پرایمان لان ےکی
صرف ایک بت سے ہرملما نکون عمزت دآبردھاصل ہوجاۓ لین دوسید ا امیر
۰ٔ و٤
185
معادی کل کے تی میں ان 0801 کوئی اعمزاز نہ مانے و رقیقت ایا اض
ضبدت رسو لکیقمتکوولی ےی لی مکرتا رحضورک یک یب ت کا اس اوریا ٹل
کرتا۔ پگ یقت ہے ےک ایانس متام “فیپ ےا کی یاعقمت د
ما ممصفف یپ کول سے ماضا جینئیں۔ یہ ال تھال یکیگرفت ےھ ینیل ڈرتا-
الاک اتال یک کرت بڑئ یت ے۔زرااان تشخ رَبَكَ لَمَىِبْڈُ_
٠ (اارآن)اشقال ل بے لوگو ںکی ضرورکرت فرا ےگا۔ و رٹل ضروروروںاک
1 ازیت شی جن اک ےگا اور در ےک ملما نکی سار عزت وآ بر وتضور الاک
ضبت اور فلا ئی حاصل ہونے اورائںنبدت وغلائ یکا ادب وات را مر نے سے ہے-
ٹس مںضرت ےگھروم داجس نے ا کی حطس تکا ازکا کیا٤ خودتی عحز بت
کرد وداج ب اہ پٹ تی لیا از پ٦ رآ پک ہہت کا ات را مکر کے اپ
نیس تک پقیکرلو_
کے باتھ ن ہآ ۓ گا ٦ ے جدا رر
7 11 نہے سے لو 2 بڑی ہوگی
امت شی سب ےت ہیں
الیل تای نے ححضرت امیرموادیے یلو دمرصفاتگودہ کے علاد لم و بردہارگ
اوراخلاقی نہ ےبھی خوب نوازا لفن اورتند ارح جال لوگ آپ کے پان
آے اوراکر تھی او رجح تکظا بی کے ساتھ سے لیا نآپ بمیشہان ےنبایت
خندہ ای سے میٹ لآ تے اورا نکی زیادتوں سے درگزرفر ما تے ۔گخرصا دق تضور
بی اکرم ہکا نے خودحضرت ام رمحاویی نچ ک ےت ٴں”َخْلم اتيیٰ وَاَجَ وداج
میرک امت می سب سے زیاد+میم اورسب سے زیادہگی تج کے الفاظ والقابات
اتعال فرماۓ ہیں۔الپااان کےالن صفات کے جا مع ہو نے می ںکوی کی یں
(۸٥۱۷۱٥٢.
16
عفر تا ماداب نججرگی رح ال علینقل ف مات ہیں :
”حر ث من اسامہ نے ردای تکیا ےک ہآحفضرت الگا نے
فرماا :اکر" می مت مس سب سے زیادہ رم دل اود رت القلب
ہیں اس کے بحدآپ نے اق فلفا ےار ابع کے منا قب بیاان کے اوران
یس حعضرت مواو ہہ کا بھی ذک کیا ادرف مایا اک معاد یمن ای سغیان ری
نما میرک امت شی سب سےزیادماورگی ہیں (وَمَعَا ون
ابی سُفْيان اَخلم ای وََجَوڈھا۔ ت٠ا لہاںل۷)
ان دوفو ںیم الشان ومفو ںکو ہو آتحضرت تے ا نکی ذات
مان سے ہیں فور سے دیھو تم مکومعلوم ہوجا ک اکسوہ ان دووں
ویفوں کے ذرید کال کے مرح اط کوک گے جوکی دوسر ےکو
فی یں ۔کیوک مم اورہو دید یں ای ہی ںکقا قرط ٹواے
سکومطاد تی ہیں۔اس مل ےک لیف اورشرت نب کے وقت وتی
12 مرکم ےنس کے دل میں ذ رہ برا برفروراور تا ضا قیدہو۔
ای وہ ے ای کش نے عون شکیا: یا رسول الظ١ لا بے بین وعیت
فرما یئ ۔نخرت پا نے ف ما ا بھی ضص تک ناو با بارآپ ے
کہتا رپا کہ مھ یھ ریت فر ما اورمخرت پا بار بر کی فرماتے
رہ ےک بھی فصہ کر ۔معلوم ہواکہ ج بکوئ ینس فص کےشرے پا
ج۴ ےگا نون سکی دوسربی شیاشوں ےم ئل جا ۓےگااود جن ففس
گی خیاشں سے ا جاے اس شی تھا میں شع ہو ںگی-
ای مر سخاد تک حالی ہے تھا مگنا ہو ںکا سرچچش عحبت
دنا ہے جاک عد یث مل وارد ہوا ہے ۔ بی جس سکواری تھا لی عبت
دی سے چا او راو تکی عحضت ا سکو وط اکر ےھ لیا چا ےکہ
(۸۸٥۱۴۱٥۲.
ے۔ ےیدوو بے ہہ تپ جب رچچےے ہت ہے مہرد یں رھ و و رت دای چیے دو یا مل ہا حر ا ا دا 7 ا ا ےا
17
اس کول ی ذدہبرا ویش ہے ند و وی فالی کی طرف انت
بوکر دنا وآخر کی نگیو ںکو بر با ہکرس ہے اود ج ب کی کا قلب ان
دولو ںآفخوں سے پاک ہوجی خحضب او ریکل ے جوم رچش تام نوالکش
اورخیائٹؤں کر ہیں تو وٹ تا کال ت اورنوں کے سا ھ1 راستر
ادرقام برائیوں سے پاک ہوگا۔ یو ںآنتحفضرت پگ کے اف مانے سے
کہممادیہ چیم اورگی ہیں دہ تما فضال جو نے بیان کے نحضرت
معاوہہ مکی ذات ٹل ثابت ہو گے ۔اب دوھام بات جوابل بت
جال تکرتے ہیں سی طرح تل قبول نہیں ہوتیں_
اگ کہا جاۓے کہ میبحد بی جو ذکور ہوثی ال کی سد ضیف ے
راس سے استدلا لکیوگرچج ہوسا ہے جواب ہہ ےک ماد ے تام
فہااوراص وشن اوح شین اس بات بچتطق ہی ںکعد یش ضیف ماب
ک تلق کت ہوئی ہے جج اک فائل امال تلق یلا جا جحت
ا یگئی ہےاور جب ا کا جت ہوا ثابت ہ وکیا دی مواندکاکوئی شب یا
کی حاس دک اکوکی تن باقی ضر ہا یہ ان تما ملوگوں بر جن میں پندگھی
بلیت ہو واجب ہوگیاکہ ا سح یکو اپنے دلی ٹ مہدد یی اور ہہکانے
وانون سیف یب می یں“
( سید امیرمماد . ار وو جمت اص )٠۰_٣۲۹
ممہورمورغ علامہابن خمدو نکھت میں :
” رت ام رمعادیہ طلنانے (امام سن لہ کے بعد ) ٹیں
بر تک کک رائی کی اوداس دریادکی ے لوگو ںکو ا انعامات ے
مستفیدف ایا اس مان و ضکوئی نس ا نک تو ممکاان ےزیاددفال
نرتھا۔ رڈ سماتۓےعرب کے سا تجںھ یکر بمانہ برا رھت تھے ۔ا نکی مخت
(۸٥۱۷٥٢.۰0
18
دنا لاک باقو لک برداش تک تے ۔الن کے ساتحاخلاقی سے بی یآ تے_
جا کہان کےیقل د بردبار قک کو حدنٹنی۔ می سب تھا کہا نک
حکوامت وریاس تل یئ ا مکیاغزش نہ وئی بللریظ رج الال موگیا_
( جا ران خلدون ارد وص درم ۲۵۷)
خرت ول این تج ایک ٹرادے تے جو بی ارم
للا کی خدمت اق می حاض رہ وکرمسلران ہو ےآ ححضرت بلچلانے
الع کے مر پر شخفقت سے پاھھ پی رک ا نکیل دعا فر ماک او رحضرتے
معاویہ (ی )کویگم دیا کہ وائگل این جج رکوقا جس نے چا کرھہرانہیں_
جناب ول رن تجرجافداونٹ پرسوار تے اورتحضرت معاد یہ ان کے
ساتھہا اھ پیل پل رے تے۔ ۰۱
( یگودورک و حضرت معا وب یچچ سا تھسا اتھ لت ران
صحراتے عر بک کرک بہت شی جب پاؤ گرم ر ی تکاپپشی سے
سچزیاددتی لے گے ایا راہ میس حرے ول ےت ما طب ہو ۓے
مگری اشنا ی تک او ریا ٰ
آپ مج اپنے جوے دے دی کہ زی نکی گگری بے
میرے پا ںتقوطا رہ یں حخرت ول تہ (جو راو یکی شان مس
تھے ا کا سی کیل پہنانا چا ہت اکیو سک ا نکوپچن پا ہوں-
حخرت معاویہ ظلدن ےکہاابچھا نذ (هب ربا کب کے تم اپے
پچ ہی جھے نٹھا لو اس پ ال لہ نے جواب دیا کت لوک
(بادشا ہوں )کے ارارف( کچ ٹین والوں )ےیل ہو
پھر حضرت معادیہ لن ن ےکہا کہ زم نکی ٹیش نے میرے
پا جلاد بے ہیں تال طول یی نکر او لے:”امش فی ظل ناقتی
۴ و٤
19
کغفا بہ ضرفا“۔ مأن مر ےنات (اوٹف )کے ابرمی پل تھے
بی شرف کا ے۔
(فقر يک اتہوں نے رت ام رمعادیہ یکو رن اپ
ات سوا رکیا اورن تیگری سے یچ ےک یکوئی اورصورت ثکالی ۔حلضرت
می رمعادیہ _لاش یی کے ایک سردار کے بے ہونے کے باوجود جناب
رسول اللہ پل کےع مکی اطاعت مس پیثالی پرکوگی ینان لا بغیر
قیامت نگری می بھی حفرت دائل ھچ کے س ات اھ لت سے )
اور مر میا نکیا جانا ےک نضرت امی رمحادیہ مہ کے زمانہ
میس حفرت وال چہ ان کے پا ایگ وفد ےر یئ و حضرت
معادیہ ھٛلہ نے انس با نے کے باو جودتہایت خوش دلی سے اا نک
مہم نداریکی اوران کے ساجھانچائی عزت د1کرامکا برتا کیا ) رت
امیرمتاد لیے اا نکی ال دقت بہتگز تی '_
(جا رج این فلمدناو رص اۃلل۱۹۵)
ححفرت امام جلال الد بن سجیوٹی رح ان علیأئ١ل فرماتے ہیں :
'ابین ای دنا اور اہوگر بن الی عاصم نے امیر محاوی دی
برد بای اویعلم پ.کنا یھی ہیں اورتمیصہ جن جا برکابیان ہے یں کر
کک امیرمعادیہ خ_لنکے ساتھد ہا ن ےآپ سے (یادوی دوس رےکو
یم و جرد ہایس د ھا“( را داریش ٠٦٦
خداادرسول لگا سوب ہیں
ایی مرح رت ام رموادہ لا پی ہمشی ہکرام الموسن ہفرت ام جیب
ٹی انبا کے ہا ںتش ریف فر مات اورآپ امیرمتاو یک چم دیس تضور ظا
۴ "٤
زی
تشریف لائے اود یہ پچ اکیافذ اس سےعحب تکرکی ہے؟انوں نے مت کیا ھی اہو ٔیْ
ہے می اس عبت تکیوںل شکروں _۔ لی ںتضمور پان ےقرمیا:
الله وَرَسَرلاعاوں
تھ: ا نے اشقال اورا کا رسو لبھی اس ےمحبت فر ما تے
ہیں۔
تل انان ۴ا کو الما قب سید امیر ماد لال کے ےہ زشمنن ام رمعاد کا
صکی اس یل ۹۳۔۵ :تیرا ان اررر٣۶)
حضورردرددعالم ٹا ار لھا ےک ون پر ایز
قَالَیْ اب مُعَاريَةً وَأتْ 7 ًُ مُعَاَِةً وَجمنل
دینگازنل بسن وڈ زاللہ اح ِنعا باون جاِز
بوییْگائیل۔
ت جم :مس حادم ےھ محب تکرت ہوں اورائ ننفش بھی حب تکرتا
ہوں جومحاويے ےت رگتا ہواور یگل و مکائ لی معاوے رے
حبت رت ہیں ۔الل تی جج ئل دمکاشل ےگ زیادوشعاوی ے
حبتفرماتے ہیں۔
(ای نم اکرفی رثا ۹ ول یمن تب سید نمی رسعادیوزلال ۸ع )
دنو ںکاکرگی ایک اورا اف تام عنان تا
ضرت امام ار نے نے بفاری می اودایام سم ےج مسلم میں جناب
رسول اللہ ہلا کیا ایک حد یٹ اک حعخرت ابو بربرہ خ کا ردایت کے ساتھ لوں
ئی۔ 7
مَقتَلة“ عَظِيْمَة وٗ ہے
۱ًٔ و٤
نمی
( تج ہفاری ج 1۴تاب ان بی لمج ص۹۰۶ کاب أختن ۷
تر جمہ: قیامت قائ یل ہہوکی یہا ںک کک افو کی دو بڑکی ھا امںڑ
ںان کےورمیان شد یرلڑ ائی ہوگی اوران دوفو لکادگوگی ایگ ہوگا_
تیم الاسلام جضرت شادوٹی ال حدث دبلوی مم اللعلیہفرماتے ہی کے
ردایت چک مصفین کے بارے شش ہے۔ للا حظہو:
س2 غرے چو نۓےمفیں کے دا کی رد ہے فان
( ہار دمسلم )نے حعخرت ابو ہریرہ لہ سے دوای تک ےکانہوں
ن ےکہارسول خداپچے نے فر مایا:* نقامت1 ال دتتگ کتامٌ ہو اکددو
بے ےگروواڑز یں اوران دوٰول می عام ہواوردونو لکادگوئی: ایل ہو -
(از لت تھا ءاردورومل۵۴۰)
دوصسرےمقام پرفراتے ہیں۔
”اورام معاو کا بچوتل یل می زور ہونا ال و (دے ہ ند ہشیر رے
مک (شب یش بت ) تھ اکر چرمیزان شر ا ے وزن دار
جت مو جودشی بی شبہوتی تھا جو اصحاب جم لکو پنیا لین اس میں اتا
اشکال اوریھی بڑھا ہوا تھا کرام رمحاد یادرائل شام نے بعت نکی
اور جا نے ےک افتکا پوراہونا قاط اورامکام نام ہونے سے سے
ور بات ای یں ہق ریم سے مہ نے ای خی لکوادر
را کرد یاادرعد یٹک وارر ےک دَغوَنَ تَهْمَ وَاجتة (یشن
1 4 ءً+
اور “ولا ےکا نات باب یا الم حضرت شی دای الرنط یکر ایڈدوچہ
سے منقول ہ ےک ہآپ نے بتک مغین کے بعد ات عمال کے نام عم نام ہاور
7 شعلی وٹ سے جو یکاارادوکر ےلین بلاارادواور تاداضت اس سے خطا سر د(وجاۓ ۔
(۸٥۱۷۱٥٢.
وضا ضا مایا:
وَجته و تہ ن بالله َاصَیيْقيرَمُزل
ول یَسْمَريْدُوْنَ الامْر واج ال مَعَلت
وَلحْنْءٍ 2 برا
تم ”ظاہری ہم س ب کا پروددگار ایک تھا ہمارا نمیا آیک تھا جارگی
ات اسلام ایکجھ مہ ہم ان سے امان ہلل اورتحمد لن پالرسول مٹش
می اض ان کا مطال ہکرت تھ مرو ہم س ےکر تے تھے (اس موابلہ
یس ) ہم سب ایک تھے۔اخخاف تھا فو رف ععثان خلھ کےخون میں
اختلاف تھاحا لاک اس نون ےہ بالئل بری الزتہ ج“
وضو وٹ
ہا ںت کک عفر تی خلہ دوفوں جاب کے تی نکوگشقی فرماتے ہین
طاحظہو۔ ْ
ا)َانَ عَلیٌ رَیِسی اللّهُعَلهقَْیَ وَقتْلی مَُارَِڈفی الم
رواہ الطبراننی (ت۱یرا نان ۱۹ کوالہرشنان امیرسعاو کا می خامقال۰۷٠)
تج :ححفر تی لہ نے فرمایا: مر ادرستاد یکی ینگ جرآگی ہونے
والے(دوفوں طرف کے لوگ )یلت ہیں
٢ لان و ھُمْ فی الْجَنَق
ضوع توالہ وشمناہ امیر موادی ج کان کامہرق ۲ ل۵۳٥)
تر جمہ:ہمارےاوران کے مقت لین دوفوں جنت میں ہیں_
نضرت ھی اورامیرمحاد تی ات ایب اورغاری 21
ححفرت شادوکی ایرث د بلوکی رمع ال علینٹل فر مات ہیں:
۰ًٔ و٤
4013
اھ نے عجیر اش ین عیاخل بک نگھ رو قا ری ے ردام ت ے4
کان ہوں ن ےکھا ہم صخرت عا نٹ شی ابٹدعتہا کے پاس ٹیے جک
عبدایش ین شداد عفر تی لہ کے ققال کے بحدعراقی سے وائیں ہوکر
آپ کے پاس عاضر ہوۓ ۔ حطرت عا کٹ صد یقہ ری الد عتھا نے
بچھا: اےعبدائل بن شمداد!.گر نم سے ایک بات بیچھوں وم
میا نکرو گے؟ عبدالل ےکھا:اں۔آپ نے قر مایا زغم ان لوکو ںکا مال
عیا نکر دش نکوعخرتگی کہ ےق لگیا_
عبدائش رت ےکھا: جب محخر تی لندنے مواد نہ نے ( مم
کیل ) خط داب تکی اورجین مقررہو ہے تز آ ٹھ برا ا ری ا عکی
خخالفت ش لے اورکوفہ سک ےکنارے مق مور ئئع ہے“ عحضرت
کوطاص تک او رکیاخم نے ال کر ت ےکواتاردیا جو مکوخدانے پہنایا تھا
اوراس نام سے انگ ہو گے جو خدا نے درکھا۔ برقم نے سن خدا کے
معا لی کم مق رکیا۔ نداکے سوا یکاع یس ہے۔ جب عفر تی
(8 )نے مہ با تکیا ء ]ن سک وجہ سے انہوں نے خخا بکیا اوران ے
اک ہو یہ ے عم فرمایا: کہ اعطا نکردیا جا ۓ کہ سوا ال قرآی
( ا یوں) کے او رکوئی ام رالموسین لہ کے پا نآ ۓ۔ ج بگھر
تاروں سے بج رگا ۔آپ نے لڑگوں کے سساتن ےق رن منگوای ورای پر
بات رکوک کن گے: ا ے وف الوکوں سے با نکر لوگوں نے آواز
دئی:اے ام ال ومن ! آ پ سحف سکیا و چھتے ہیں دو کا خذ رد ائی
ہے ادر جوا مج ہے ہم الکو جیا نکرتے ہیں ۔آ پکیا جات لں؟
آپ ن کھا:تہارے براصحاب جنہوں نے بجھ رتو نکیا ے۔ان
کے او رم رے درمیان دا اک ی تاب ہے۔اشقا لی ایک مردوورت کے
(۸٥۱۷٥٠.۰0
1971/4
محاے می ںکچتا ےک
َانْ لم حِقاق بَْعهُمَا فَعَوَا عَگما بِنْ آغلم رَحَکَما ِنْ
تغل ان تِيْةا ِضْلحا یَي الله یما تج :اودگران
دونوں کےدرمیان اخلا فکا خوف ہو ای کگم شوہ ر کے ایل ےاور '
ایک جم ہعورت کےایل ےکھو۔اگروو دوفو ں کی اکر ن کاارادوکر 2
کے را ان دنو ںکوتے بی در ےگا _ئیں امت ھ ( )ایک عورت و
مرد ےخون وحمت سے ببہت بلڑگی سے نتم جھ راک لکونا پنرکرےۓ ہو
عبرا وق بن عپائس ر٘ھی ائڈیتهماتے خاریوں سے مناظر مکیا-
(ازل اق ار ودومل۵۳۳۲۵۳۱)
رو دادمناظرہ
ان عیاس دش لمات ےکہاجب بے( نار بی ) لوک نگ لکر
حور می جع ہوئۓ اور یس ان لوکوں کے پاس پچ ق انہوں نے
کہا :ا ے این عیائس ! آ پکیو لآ ے ہیں ؟
یس لن کہا :کہ می ستھہارے پا رسول الد پا کے اصسحاب
اورآپ کے تچازاد بای ودایاد سے اکا ےکی ہوں۔ فی ان ین
سے چندلوک میرے پاس ایک طرف ہو گے فو یش ن ےکم اک دەکیا
پاٹ ہیں ج نکاتم نے اصحاب رسول پچ ادرآپ کے پتچازاد بھاگی پ
یب کال ہے ۔اا نکومرے مات جن ںکرو۔
”ان خارتیوں ےکہا: شون بات ہیں ال ےک ترتتک
کرم الل وجہہ نے دین ال میں لوگو ںک وع مھ رای اور بات یگ اکہ
(۸۸٥۱۷٥.
175
یگل نے ابو موی اشھر یکو اپے اور سحادے کے درمیا نک مکیا تا
اوردوسرکی جات بی ے منرت گی نے قفا کیا اگرلوگوں کے چو روچ
یی ئے اورنرا نکا مال لوٹ پیش اگ دواو کفار ہت مکوان 2
مال اورا نکی چا خی ال ہیں او راگرد ولک ملمان ہیں2 بم پرا نکا
یکر رم ہے او ریس رکا بات مہ ے۲ ۔ححقرت لی ےمم نامہم
اپے نام سے امھ الوم ن کا لفظط ما دیا۔ بس اگر دو ام رالوشی نہیں
ہیں تامیرالکا فرین یں۔
(معخرت امن ع اس “لاف ماتے ہیں کر ٹس نے ان ےکہا:
اگ رین مکوتاب انشدسنائؤں اور عد یٹ رسول ال پل ناؤں
شس ےکہھارا یل دد ہو کیائم اپنے اس قول سے پھ رجا گے؟ کین
گے :ہاں۔ داد اجکی ک تب شل نے ال ہ ےکھا:
اش زویل فاتاڑے:
لا تقتلوا الصید وانتم حرھ تاقوله تعالی یحکم بە
ذوا عدل منکم۔ یی اجرام ہی جونس شکار مار ےا کی تبت اللہ
تال نے ملماتوں شش ے دوعاد لآریوں گی اوراییاتیعورت
(اوررد) کے می ممررکیا۔ چنا نف رای۔”فابعٹوا حکما من
اھله وحکما من اھلھا“۔ نیش ہ کی رف ے ای کعمپیچواور
عور تکی رف ے ای کعھمجچھ۔ ٹیل مخ موم لاح ہو ںکہآدمیوں
ک اعم تراردیاان کی چاتوں وبالوں ک ےکن یس اس ے(یادەواجب
ہ ےک ہیک خ رگوش کےےتی می ج٘ سک قمت چوٹھائی ددہم ہو۔ اب جھے
تا کی تماد ےاس اعت ائض ےنگ لگیا؟انہوں ن ےکھا:ہاں-
جب مس ن کہا جوم کے وشن ےا لکیاا نکولوڈی
(۸٥۱۴۱٥٢۱.
۱ 76
خلاممٹیس ہنایاا نکا مال نأیص تی ایا ت2ٹ سکچتا ہو ںکیآپ نےےکوفرش
صرف حطرت (ام المومنیشن ) جا کتراوران کے ساتییون ےا لکیا۔
چھلا تلا کم اپئی ماں عائش کوک رفا رکر کے وہ امورعلا یککھو گے جو
چہادی بانھیوں سے علالل جات ہو۔ حالائہووتہاری ماں ہیں پل راگر
تم ایی اکہوت کافر ہو۔ اب بقلا کہ یں تمہارے اس اعترائض ے اگل ؟'
کن گاہاں۔
سنج ن کہا :رپا تمارایکہناکیتحقرتگ یکرمالڈدہ جہرنے
اپ نام سے امیرالمومنیش نکالفنامڑادیا تی سکہتا ہو ںک ہآحفضرت ولا
نے حد یم ھرلیشل کے اکر نا مرکھااورآپ نے اپ نام ک
ساتھمجرسول اوڈرکھا تق ق لی ت کہا :کال ہم جات ےکآ پنجدرسول
ال ہیں نے مآ پکونخان۔کعہ سے شددو گت بی لپ نے ھب عکبداللر
ککھوای یں تم جات ہوک حفرت لی ےحضرت رسول اللہ تا مہتر
ہیں۔ چیہ اپنے نام سے رسال تکا لفظ مٹا دیا۔ حا للہا مٹانے سے
آپ نبوت سے پاہرنیٹس ہوگئے۔ اب تا کہ یش خہادے اس
اھترائ ےکم یئ لگیا؟ نے گ ےک ہاں۔
پچلربیلوگ چھ ہار تھے ان ٹیش سے دوہرا پگ رک رم رے اھ
ے اود باقی سب رہ گے جو اپ یگراہی پ مارے گے( رواءالتسائی و
ا وغبدالر زا وشظر الی وا م)
( نین البدا ین دہ مکتاب السیر جاب الفا۵۹۹۶--۵۹)
امن خی نے سے بعد ہی تک اب تارسگ ا ایوں؟
حخرت امام وتسن ٹل ائھی تچھوٹی عم رکے پچ جھےک سنوی می ستش ریف نے
(۸۸٥۱۴۱٥.
1377
ے۔ جناب نکر علی الد ”لیم نے حعخرتمسن پچ دو یبد ے تریس میں
۰ لیااور بر مرف میا۔
اي هذا سَيّة وَلَمل الله ان يُعْلعَ و ئن فَْنِ بن
وی و
المسلمین۔
( فارگ بابلا بات نوت :نا تب ان واسین بی اڈلن تاب اختن )
ججمہ: میرابہ با صردار ۔بے اور شاید ال کے ذر یج اش تھا لی ملائوں
کی دو ماخ مر ىک .اد ےگا.۔(ازقت لھا ماروودمل۵۳۴)
بفار کاب اح اورک یل بیروایت لوں ے:
رؤ اییٰ ھا سڈ ول لان بُسْيع ینعی
من الْمسلمینْ(خرک تاب کو سا تب ال بیت خی پل تی ا نیم )
تر جمہ: یرامہ بی صردار ہے شابد اس کے ذر یج الش تھی مسلمافو لک دو
بڑی جھایوں جس کر ددےگا۔
ححضرت ث عبدالنزی: پ پاروئی رق ال علی ایک عد یل فرماتے ہیں:
”حفرت اپوکر تق 07 “و
نماز پڈہاتے اور تحخرت سن بن میس آتے او رتضور علیہ السلا مک
مگردن اور پشت پر بی جات جُی تضور چقلاسجد میں ہو تے ے۔ پھر
تضور علیہ اصلو 2 والسلا مہبرے ےآ ہت ہآ تم رانا تچ کدامام
نکی چا حارد یت ححا یر نے عون ضکیا:یارسول اق ہم نے دیکھا
شر اآ پا چئ سے پیارفراے بن اتا دوسرے ہے سے
ار فرماتے۔آپ نے ارشادفرا کمیرے داش ہے پچول می
لاد یب مرا با عردار ے اورعنقرجب الل تال اس کے ذر یج دو
پڑ ےگروہھوں کرادےگا۔ ران الا عا مکی ردایت ے اور
۴ ٤
108
تم اکا تیاردایت منداج بھی ہے“
( مض رین او رتخرت ام رمواد ہم لناردوتر جم الن حگ نان ام رسوادییل )
جحنرت شادول المحرٹ دبلوئ رج الشعلیأكل فرماتے ہیں:
”میدن علی ای نے امام تین ری الکن ماکوخلیہ بناتے
وق ف مایا تھاکہادتوالیلوکوں کے ساد بہتری چا گان میرے بجر
سب وو ںکواس پیتل کرد ےگا جوان سب ے بت ہوگا گل
(از لن التھا مار روازلٴص۵۵)
کا ارک شریف می دای بھی ہے.(تج)
”الو موی ادن ےکہا: ٹس نے حسن لھ رب یکو کت منا:” خدا
کیاسم ان ب نمی یھی اکا امیر معاو یدلہ کے ساتے پھائڑو ںکی
طرں نکر کےکر؟ ےو عمرد ین حا ن کہا فشک رو لکو دسر پا موی
کمدددائ نج یں گے تق کراپنے عخالفو ںا کرد میں گے اورامیر
حادي یڑ جودوعردوں سے بر ےکھد بن عال کہا نا ۓ گرو!
اگکرانہوں نے ا نکے یکردیا اورانہوں نے اا نکوو لوگوں کے امورکی
گرا ی کول نکر ےگا ؟ ا نکی عورف کی کال تکو نک ےگا ؟ اوران کے
بچوں اور بوڑو ںکی حفاظ تکو نکر ےگ ؟ برق ریش کے قبیلہ بی
یڈٹس سے دومردعہد اشن نرہ او رید بن عاع ری نکر کوکھچا
او رکیا اس ھرد کے پا جا اور جن یکر۔ان سے با تہکرواا نک
یی طرف بلا ۔چنانچردودوفوں امام تن حللہ کے پا گے اوران ے
بات چی تک اد کر جائی۔ان سے اما من ہنی ند ےکہا ہم
عبدالمطل بک اولاد ہیں ہم نے بہت مال خر جکردیا وو
کے خوفوں می فتنایٹب یکر تے ہیں ۔ان دوفو ن ےکہا ہم ضاصن ہیں
۲ًٔ "و٤
3919
اورا لکی ذمرداری لمت ہیں ۔ چنا رما متس ن "یل نے امیرماد یہ ند
سے کرکی۔اورفرمایا:مٹش نے ابویگر وکو ےک ہہوئے سناکہ: نیس
نے جناب رسول ال تبرش لیف پر دیکھاجیتسن می نعلی ری اللہ
عچما آپ کے پپلوہشس تاور پ بھی لوگو ںکی طرف متوج ہو تے اور
کبھی ا نکی طرف ےرک کےفرماتے میرامہ اس ہے۔ یقیے اتال
اس کےذر میےملمافو ںکی دوبڑی جماعول میس جح اکراوےگا'“'_
(عار لکا بی پ١)
شمارح بفارکی مد کی رعلامہظلام رسول رضسوکی رم ال علیہ ال عد ی ٹک
شر مر فرمات ہیں:
”اس متقام می ںتفصیل بج اس رع ہ ےکہ جب عبدالرنن
بن جم رادٹی نے ہا کے رمفدان المبارک میں رت می مل اکوزٹی
کرد یا اور اہی سال رممان السبارک شس ان کے صاتمز ادے اما تن
لہ کی عیع تک اگ یآپ( حضرت لی ند ) کے بعد وو خلیفہ ہیں دہ
اس موا لہ می ںکئی روز کک ر ہے پھرانہوں نے لوکوں میں اختلاف پایا-
ضس لوک ا نکی طرف میلان رھت او رم لوک امیرمعادی جزٹدگ
طرف دارئ کر ۓ تھے اور محارلہ درست ہوا نہ دیگھا فو انہوں نے
ملمانو ںکی اصلاح اوران کے خونوں کے با اورا نکی تفاظت ٹل
نک ڈ ای وو اس نتیہ پر ین ےک امت مم اخلاف سے بر یہ ہےکردہ
خلاففت ام رمحادہ لہ کے جوا کرد میں چنا تچ رانہوں نے مج کے رت
الا ڑل یں خطافت ام رمماد ےج کے ووالگرد ی'“-
(زتلییم بن رح ۳ضص٣۳٣۲۳_۳)
مم جلال الد ین سیولی اود لا تیشم الد جن مرا وآ بای رم ایال
۶ و٤
180
فرماتےہیں:
”رت کچل ہک خبادت 0ئ بح رکویًوں نے اماممنن
لد کے ہاتھ بے میس تکا۔ ابی چھ ماد ادر پجدد نآپ نے خلاف تکی
مھ یک امیر معادی ایک د نآ پ کے پا لآ ئے۔ ال رتا یکوگم اور
فیصلہد جندہما نک رشان ذ ہل مقر ہومی سک .کی الوقت ام رمواوے لہ
خلیفہہناۓ جاتے ہیں ۔لیؾ ان کے اتال کے بعداما متس ن سچ خی
اسلمین ہوں گے۔ باشنمگان ھ ینہ تیاز اورعراقی سے ع یکو یگل
نیس لیاجا ےگا بحخرت کل حلہ کے زمادے جو ور چلار پاے
دی برقرار ری گا۔ یز امام سن خلہ کے ذمہقر کی ادائیی امیر
ماد یہ شک یی گے الع حراز کو امیر معادیہ طیچدے قو لکیا اور
با امیا ہی
( رفا رارد ۱۹۳۱۹۴ سوا خغکرب۵۹)
مشبورمورحشن علا مدان خللرون اورحا ذظ ام نکی رلک ہں: ۱
”امام من خلہ انی خلافت کے چھلے مین خطاقت ے
ای وج سے کن ھا مابجماءحت کے نام سےموسو مکیا جات ہے“
( تا ران لدون اردوا ل۵۵۴ ۵۵ھ ارہ نکر نأ ل٣٢٥دے٢ء:٣۳ءد۹)
حعخرت علامابن اف لف رما تے ہیں :
” مصا لیت ٹے ہو نے کے بعد جب حفرت امام تسین نے
جخرت مواویہ لے بیع تک فو شل ال ک ےک رت معاویہ لہ
کوفہ یآ میں تحضر ت سن ڑل نے خطبہ بے ھااورق ایا کہ اےلوگواہم
(۸۸٥۱۴۱٥۲.
11
تھارے مردادراورکہار ےمان ہیں اور بمتمہارے تی ہللا کے بل
ببیت سے ہیں جن سے اللہ نے تا پا کیک دو رکردیا اور انیل خوب پاکگ
کمدیا ہے۔ ال لک گی ھجب ہکہا یہا ںک کک سب لوگ رو نے گےاو۔
ان کے رون نےکیآ دا زکافوں آئی۔ گر جب محخرت محاوے یکو
پچ لوکوں نے ان سے مج تک ۰
حقرت محاد یہ یلہد کہا: ا ےن !اٹھواورلوگول ے بیان
کرد۔ ج ہارے اورتہارے درمیان واتا تک رے ہیں اا نک اہر
کرو پل حضرت امام تن لہ ال بات کے با نکر ن ےکوکھرے ہو
جع بس کے تل انہوں نے پپیلے سے فور کی تھا۔انہوں نے اق
کی موا یا نک بعد ا کےلی ابد یہیفر ما اک اےلوگو!
”ال ن ےت٠جیں ہمارے ا گے (لشنی نمی )کے ذر بے
ہداحی تک اور ہمار ے چچھلہ کے(م]شنی میرے )3ری ےتہاری چانوں
کی فاعم تکی۔آ گاو رہو! سب ےی پہیزگارؤ ے اور
سب سےذیادہ بے وق ٹی بدرکارکی ہاور یما طنس کے تحلقی ہمارے
اورمعاو بی کے ورمیان یس اشطاف بوا(دوحال ے نال کی )یا وہ
بھ سے زیادہ ال کے مقار ہیں اور یا یب راف ہے جو میں نے الد
عمزویگ لکیلنے اور امت مھ یہ لاکی اصلاح کیل اورتہارئی چانو ںکی
فا حم کیل تر ککرد یا“( صدالغا نی مع ریہ اصول- ار رح ۳ص١٥)
م یسا لححقرت اما سن یچ نے محفرت ام رموا دی مہ
ےک کی ۔ ا نکی یت فرمائی اورنیش خلاقت سپ ردکردگی اس سا کو
نام ان راع کیچے ہیں اس لۓےکعات اسلا مین تقر یبآ چوسالل کے
تفرقہ وفشنت کے بععداس سال ایک خیفہ بپراجا عکیاتھا''
(۸٥۱۷٥۲.۰0
182
(امداقایارردعخ ۳ے ۳۸)
تہ یب التقا دشر عقائذش یکین ملا ظہو:
” جب خلافت نو یکا زا تگزر الوم وسلطنرے ادور
شردر ہوا ت حفرت اما من نے معاوی ید ےج کرک اس لے
شس ال سنت د جماعت نے اسلا مک پ ہلا سلطان ما ہے۔ او رض رت
اما تن کا کر بوقلت وذ تا وج سے ا اس کان
سے جا لیس برا ہاج بیع اوراصارادرجا جن نے بیج کی اوران
کے سای جن ککو بین کرت تھ اورع سے رای تہ تھے سی منی
ٹڑواۓ امامیہ نے روا تک ہ ےکہضرت امام تن طلنہ ن للا کے
وقت خطیفرما اک معادیہ فدہ نے فذا کی ھ سے اس جن می (لتن
خلافت یس )جو می راف تھا کہا نکا۔ ٹیس نے اعم تکی بہت رىی او رخت کا
موقوف بو تا دیھاکیتم نے بے سے عبم تک ہے ای بات کہ
جس سے مرا کرو تم بھی اس سے کرواورجٹس سے میں ہگ
ککرو تم بھی اس سے جن کفکرو۔ میرے مز ویک مسلرانوں کے تو نکی
گگہداشت اس سے ببتر ہ ےکا ن کا شون بھایا جائے۔ میس نے
و و یں
موی رت بللانے جوا نکین بت فْرا یا لَعَل لان
ُصْلْع ہہ تن فتَيْي عَظْيمَمَْيٍ من المسلمیَْ رواہ الیخاری
(ایر ہ ےکہ ال کرادے ال کی وجہ سے ملمائو ںکی دو بی
جزاوں میس )صقن اہطسقت کے نز دریک یہا ںی سے ی یسل مرار
ہے۔ یں جن لوگوں کے تزو کیک بفاد تکا اطلا تی معادہے لہ بر تھاال
کے بعدوویی حا“ ا( تبز جب تقا شرع عفان خی ص٥٥_٥٥۹)
(۸۸۷۸٥۱۷۱٥۱.
183
فا بل حعضتمول :ا میم بعلی فرماتے ہیں :
”سید امام شس نپکی یہ نے ایک فو ترار جاشثار کے ساد
ین میر٠ن میس پا تد و بالا خحقیا تار رود جے اورخلافت ام رماوے
یچ کے سپ ردکردی اوران کے پاتھ پہ یت فرمالی اورال لک کواضور
اس پلقانے پیندف ا ادرا کی شا رت دک اوریامتسن ح دک -
فان و ایی مذا سَیّة لعَلللَهُانْلُسلع یہد لتَمْر
غَطيمَتيْنِ مِنَ ا میرایہبینا سی سے امیدف ماج ہو ںکہ
ال زوش اس کے باث دو بڑ ےگرداسلام مک کرادے' و
امیرمواوی یہر مماذانڈفق وغی ہکات کرنے والا یو عخرتاام
حون گی یہب لو رس الم پل پگ ححفرتعز یل پر کرت ہے
مجاز ایل (ہارٹریت صۃلگ٥۵)
ححرث لا ہورگ ار بای صاحب قش ال بای علام سی وداج رضوئی
یر ال علق راز ہیں:
”خی“ راشد سید امام صن علی السلام اپ دالد باب دک
ہادت کے لعدسات ما ہو کک مندخلافت رتمکن رے۔ جب بل
کوفن ےپ کے پاتھ بے یجس تہکر لت جناب امیرمحادیہ سےلڑا یک
شحل پیداہوگئی .٤پ نے مسلمافو ںکی با کی اورفر بی یکو پند نکیا
اور چٹ شرائیا کے ساتحرخطافت جناب امی رمعاد یہ ٹک سپ کرد اور
می ہوکئی او رتضور کی دو یش ںکوگی پور ہہوکی شس مم لآپ نے ارشاد
ف پا تک مرا ملمافو ںکی ددئی جماعتوں ل حکرا ےگا“
(خغا نحا بگل۷٢٠-۴٢٣)
جن وت اشفلین سیب خوت؛نفممچ بدا لقادرجیلا فی لد فرباتے ہیں:
۴ ٤
14
كت معقرتک یکم انج کے دصال او تقر ت ایام س۴0
کےخلافت سے جتبردار ہونے کے بعدمقرت امیر ماد جن الوسفیان
شی لی کی خلاقت جا عابت ہے۔ عترت ایام صن پچ نے
مصلحت عام کے تکیمسلماقو ںکوخوان ری کا ے ایا ۓخلافت
رت امیر معادیہ وھ کے سپردقرمائی علادہ ازیں بی اکرم لا کا
انشادگرا ایآ پ کے یش نظ ھا ۔آپ ہلان حعتر رت امام تن داد
کے بارے مل فر مایا :نمیا بیٹاسردار ہے ان تال اں کےذر یج دو
بڑ ۓگمروہوں میرح کرات ےگا پا حفرت ا سزسن کہ کحق ری بنا
ہتفر ت ام رمعادی گی امامت واجب ہوئی۔ اس سا لکوھام ال رایت
(جماعحتکا سای کھاجاتا ہے“
(خدیۃ لان ارول ۴۷۷ _ے۲۷)
اماما ان تجرگی رح ال علیفرماتے ہیں:
”این خلافت مو ےک ہی ںکہضرت امام تن وٹ دکا
ام خلا فتکوان کے دک کوئی ام با تن لآپ نے صرف ضرورت
کے تحت الا کیا تھا کیو ہآپ جات تھےکہحخرت معاویہ لد امم
خلا ختکوضرت سن مل کے سرد نکر کے او راگ رححفرت اما من
لہ خلا تکوان کے کرد کر تے تو خوف ری کی اورظا لکرتتے۔آپ نے
ملمانو ںکوخوزیزی سے بپچان کیل امرخلاف تکوتڑ کگریا اور ان
لوکوں نے جھ اتکی ہے اس کے رد یل آپ میگ کیہ کت ہی ںکہ
حر تین لد امام برق اور چے غلیذ تھے ۔آپ کے ساتھدات 1ی
تھ جن سےتحفرت مھا ویہ کے ساقھیو کا مق کیا جا سکتا تھا_ یی
آ پک خافت سے لی اور عخرت معاویہ چہ کے سیر دکرن
۴ "و٤
185
لہ ارک یں برا حقیارکی تھا ججی اک خطافت سے جرد ارک یکا واق ال
پدلالل تکرتا ہ ےکم آپ نے بب کی شرٹیں لگا میں جی نکی حضرت
صعاد نے پایند کی اورنں پراکیااوری بخار یک رواعت بیان
ہوپی س ےک حضرت موادیہ نے امامتسن لہ ےک کی درخواصت
کی اورمیسرے ای میان پہ بقار کی دوگزشنت حد ٹب دلال تکر لی
ے جوحضرت ابوکر لہ سے مردکی ہے جس ہہ کچ ہی ںکرییش نے
رسو لکرم ہپ چاکونب رد یکھا اور تحضر ت تسن لہپ کے پپبلو جس بی
مج پ ایک بارلوگوں کی طرف اورددس؟ کی جار کرت نین لہ کی طف
موجہ ہووت اورفرماتے''میمرامہ با سردار ہے ادرشا یا تھاٹیٰ ال کے
ذر یجرسلافوں کے دوشیکروہوں یں کر ےگا
یں رسوا کر لھا ان کے ذر ہی اصلا کی امیدفرمارے
ہیں اورآپ واقعہ کے مطابقی ار بی کی اکر تے ہیں یں حضرت
اما تن ھچ سے اصلا کی اراس بات پردلال تگری ہے عفرت
معاو ہہ چک ےق مح سآ پک خلافت سے دبردارئی ایک درست تم
تھا اور گر صحخرت امام سن نان خلافت سے (ےبرداریی کے بع ری
غظات ہام ریچ او رآ پکی دیجبردارگی ے اعطا رع یہ ہوئی ر
ححقرت امام صن خ_ دکی اس پت ریف نہکی جای ۔ اور تضور علیالصلو ۃ
والسلام نے بی سی شرئی فا دہ کین ذبردار کیتمنا نج کی گی جس
کےبی می دعبرداری ہوکی ہے مہ جات ال کی صحت خافت نفاذ
تصرف واجب الا طانعت ہو نے اورملمانوں کے اصور کے قیام میں
مشلتفل ہونے پر ولا تکرتی ے۔
یں رسو لکریم کو حضرت امام نسن لہ سے یرام یدگ یک
(۸٥۱۴۱٥٢.
186
ان کےذ رہیے ملمانوں کے دوش رکروہوں جس اصلاکیاصورت پیا
ہوگی۔ ا می حخرت لا تن “لہ سک کن لک عحت پہدلالت پا بل
ہےادر ال بات پگ کپ اس معالمہ ہی ہار تے_
اور ال سے بینٹرتی فو ائ بھی حاصل ہوتے ہی ںکرحترے
معاودبیہ یٹ دکی خلافت اور ان کا ملمائوں کے امو رک یگگرائیکرن اور
خلافت کے تواضوں کے مطابقی تر فکرنا درست ٹھا_ اور س-
ات اکا مب ہولی ہیں ۔ ایی اس وقت ےحرت معادی ول
گی خلافت کا وت ین گیا اورای کے بعد دو امام بر جن ہچ لام
بی گے
(الصواعن اھر تہ ارروگل ۱۹ے۲۱5ے)
شارح مقکو ۃ صاحب مرا ت مف رق رن مفتی اھ یار خا ن نشی رد اللعلےِ
فراتےہیں:
”امام کن ان نے سے ما :خلا تفر کرامیرمعاد یہ خفن کےقن
خلافت سے دب ردارگ فرمائی اورا نکا سام تہوظیفہاورنز رانۓ قول
فرہاۓے۔ اگ رحفرت مواوی می معمو لف بھی ہوتا تما متسن خڈامر
ےل ران کے ہاتھ یس پا ضرد ین کرک پل نےبھی امام
تن لے کان لکیتھ ریف ف ما یتیک ری بڑاسید ہے اشقال
ای کےذرہیمسلمانو لک دو بڑیی جھاعتوں مسج فرما ےگا
امام من دا یج کے وقت عائلء با ہجددار جھگران
رکا لن نے بھی لا اخترا نہفمایا کہ اس یس خودبھی واخل
ہو گے ۔ اگ را ماد شی للع ضامام مین رش ارح نہک ٹا ی س کے
عیب ر کھت ہو تے فو یز یدمردودی ط رح آپ اس وقت ام رسواوے چچد
۰ ٤
187
کے مقابلہ سآ جات ۔معلوم ہوتا ہ ےک ہہگاو انا ین لہ جس یبد
فان فا نلم ویر ہتھا۔ ام رمعاو می عاول' ض٦ یلاکن حیعت امارت
ۓ سا بکاکوکیا تی ےک ران پرز ان شھن درازکرے“
(امی رمجاد یچب ای ظرل۳۹)
چس بیاایک مل تقیقت ےک امام تن تہ ن ےکھوڈ اہی عرص لوم کر نے
کے بعدصضرت امی رمعاویہ وس ےک کی ۔ا نکی یع تک اور خاش ت بھی ان کے
پچ ردکردئی اوردوااس ٹل ا بھی نہ تھے بکران کے برادراصخرائل بیت کےفردفرید
تاب سن امام ان یی اس مم شائل تھے ۔ بی جب وی تذاب نارپگی
کر کے مت کالاکر نے ےکی حاصل او رکیاجواز ے؟
ہیی معلوم ہونا چا ہ ےکیمت رت کا اعت را صرف ام رمعادہ لہ بر نل
آ۔ بکم ہنیس خلافت سو یئ وانے سید امام تسن لہ پر بکلہ ان کے ٹیل ہکی سام
کرنے دالے سیدنا اما م نان لہ پربھی آجا سے کیا امیر معاویہ لہ پہاعتزائل
کر نے دالا جتاب اما من اوراما مین یش اوفہئنما کے لیے پتقی دکرتا ہے اس
اجار کے ول یمام عالی عقام دای من اوراام عالی مقام سام ین طف
کیج یکوئی عبت اورعز نیس ۔ گرا یفش سکو لیے اطہاررضی اشنم ے تو
عقیرت ہے اور ہیس وا یشراوگان رسول سید اما سن اورسید نایم تسین ری
ان ماکواپن امام ما ےو ال کور ہی امیرمعاد کی دم اریے بر ےکقیرے
اورمردودنظرۓ ےےل کر کے ابلھیت اطہارکی معت دصق" ام ر ماد ملا ٤ی
عطالفت سے بازآ جانا جا بے اورا نک عحب تکودل ٹس بسانا چا ہے ۔ ور نلوگ یت
دی یجاب ہوں گے( یھ تحت ائل بی تننل مہ ایک فسادٹی سے اورفرت
وا بی تکوپروان چچڑ ان ےک ینگ ودو مل محروف ے_
رس یکوارٹتھائی نیع لس عطا کی ہوقد ہم ےک اور جع تک ظلذاور
فاس نی آدئی کے پاتھ پیں ہیکت اورخلا تی نا اب کے سپ ریو سکی جانکتی ئن
قرراعماداوراس قد ید لی دتائید ےکی حیکت بین اود ال مر یی نآ دگی یکونو از
۷ًٔ "٤
8
جاک سے اورا مو داست کاو لک قاط رین اتی یکو ایا جا کا ہے یسب
سپجھامام عالی مق شاو) تھرالا نام سیدنا اما صن علیہ السلام ن ےکی جگکہ امام عالی
مقام جخرت امام تین علیہ الام نے ھی ا نکا ساتھدیا وی۲ نکرناہڑ ےگا کہ
جفرت ام رموادیہ خایقبای تم ززاورقایل مسق اورقبعییت اطہاررشی انٹمن مکی
قد بی نخصیت ہیں۔اب د یھن دبا سکس قد رالفت عبت ساد یہاں نان
دی وط تکیلفرت کے راگ الاپ ر ہے ہیں۔ دہ با ہم شر تھا رع کے
دننآ مگ پیش ر ہے ہیں نے
کون کنا سے جم تم می جدائی بوگی
مبوائی بھی لی نے اڑائی موی
جناب شستوا نک رین :ران مھت رے
حضرت تی ام یا ران“ امام اھ این تھرگی ادرعلا مہ ٹچ یم الد جن راد
7 باد یکم الرحیننل فرماتے ہیں :
”ام رمعادیہ ملتفہایت یک دل بی اور بہت عوکر تھے
می ا۔بان کے تلق نی اکرم نے تجرد ا چنا چرآ پک فاوت
سب یی داقعات سےخاہرہوٹی ے_
الف لاعی قاربی نے مرقا 7 شر مککو میس فرمایاامی رمواو نے
اما کن تل کو چار اکودو پےےنذ ران یی کے جواما تن ما نے قول
فرماۓے۔( تاب الو
ا عبدالھ زی پہاردی رت ال عی 'اتایھص اسے بی اتل فماتے ہیں:' ملا تاری شر
مکل جس عبدائلہ جن ج یہ سے روای تکر تے ہی ںکہحخرت امام سن ہخرت محادہے کے پال
ھی لیف لا ےو خرت معاویہ نے فر ما کرٹ سآ پک خدمت مل ایسا علیہ ڈپی کرو گا ایا
علی نت آپ سے پی ولا ہاور آپ کے بع یکو گا۔ برا اککا عی کیا جولام
تسچ نے قول فرمالیا''۔( مت ضیناورحرت اس رمواوہ چھاردظ جا لنام ہگ من ایرسوا ل۵۰ )
(۸۸٥۱۴۱٥.
189
ب۔ ماک نے بشام نگ سے روا تک کرام رمعاویہ نے ایام رصن
لہ کیل ایک لاکدروپے سال نہ دی مقر رکیا ھا انا ا لیک سال ے
تیفہامامتسن ھچ کون پہٹچا آپ نے چا کہ امیرسعاد یکو یاددبانی کل
خاگییں۔ جناب نکر پلانے قواب مس اما من لوف مایا اپے
ےفقو قنکو یکحوارب ۶< رخ لکرواورقر نایابیدعاپڈہو:
الله ادف فِيٰ لی ِجَاة 2 راطع ِعَاِیْ عَنْ برا2
شی لَااَرجُوا اَحَة عَیْرَك الوم ومَا سَتُقَت عَهیٰ
وَلَصٰرَ عَنهُعَعَلِیٰوََم نع ال رَغْیی وَلم تِلفهُتَسلِیْ
َلَميَجز قحلی ِشادیٰ گا یت بن الَوَلْنَ وَالاجِْرَ بن
الین فَحَویِی يهِيَارَبٌ لْعَالَمیْنَ۔
جم : اے اللدااصرے دی اتی ام دمردے اور اپنے ماسوا سے
امی شف فرمادے یہا لک ککستیرے سو انی سے امی تہ رکھوں _ اے
اللہ !شس یز سے میرک طاقتکندر ہے ادرمی ر ےم لکوتاہ ہیں اورمی ری
ریت دہا کک نکی اورھیراسوال دا کک تہ ہاور دہ میرئی زبان
پجارئی نہ ہواجکرے نے اگوں اور لو ںکو یفن عطاف مایا سے لیں بے
اس سے نام لکراے ججان کے پا لے وانے_
چنا ری دیفدامامتسن خچ نے شرد کرد یا ابی ایک ہف
گز راتھاک ہام رماویہ نے پنددہلاکودہ پ یئ د انی دو لاو وظیف
او رتبرو لا کون را“
(امیرمواوی پرایینظ ۵۵۲۵۴۶ الصواصق لگ 3ای لے .سوا کر با+۱_1٦)
امام یسف من اسائھل ٹھاٹی خرس سر الز یز نے می روایت امام جلال الد بن
سیوڈ لکیجا رفا دے بروایت امام تایقی اوران عسا الف لکرتۓ ہو ۓفر مایا:
(۸٥۱۷ ٥٢.۰0
10
تحت اما من لاف ماتے ہیں جب حفرت ممادرنے
جھے پندرو اکھوددہ مجواد ےو میس ن ےکھا: تا تترشیں انل تھا کے
جو اہ یادکرنے والو ںکوفراموش نیس قر جا اود دع اکر نے والو یکو
ا کا ممشل فرماجا۔ شے نی اکرم کی زیارت وگ آپ نے ف بایان
کے ہو؟ میس نے عم کیا یا رسول اللد! خر یت سے ہو اور اپناواقہ
عرن لکیافمایا: یج !جو خالقی ے۱ میرر ہے اورنوتی سے امیر تھے
اس کےساتھالیانی ہوتا ہے“
(برکا تل رسول یہ“ ۳ات جم الش رف الم بد لا لج ھ)
دروم الاولیا سلطان الاصفیا رجفرت داج نشی سیدمی پچو مرک اہ عیان
فراتے ہیں:
”ایک روز آکینفص حضرت ایام تن جلہ یرش ٣
حاضرہوااو رکیے گا اےابن رسول ال ابا می خریب فلس عالدار .]ا
ہوں ججھےآ پک طرف ےآ ن شب کےکھان ےکا اتنام ہوا جا ہے ۱
آپ نے ف مایا :بی جا۔ ہماراوخرفہراست شس ہآ جات ف تھے دریں۔ ۱
تھوڑی و ری سک رٹ کہا یں نار لا کی ھ
صفرت محاویہ کی طرف ےآئ یی ۔ ہ نکی مل ایک بزاردیتار
تھ لانے وانے ن ےکی تضورمعادہی(خولد) ستائی چاہچے ہیں اددا نک ۱
خوابٹل ےک یئ خمربام می تنسیم فرمادی یآپ نے وو تھیلیاں ای
سا لکودے دس اور مخذرت فرمال کہ کے انار ش بہت دیٹرا
ڑا“( میں ب ارول ۱۸۵)
حافظڈای نک ٹفش فرماتے ہیں:
” زی یع حاب نے جن مین وافد سے توال ردان بنا
(۸۸٥۱۴۱٥.
11
دہ یا نکیا ےک تخت سن ینعی حقرت مواو ییحی ادڈش٘ ہم کے
پا یآ اورآپ نے عفر ت سن کل ےکہاش لآ پکواییا عایووں
گا چھ سے پپی کیا نی دیا۔ پچرآپ نے ننس چادلاکعطی دیا
اور ایک وف حضرت تن اور حخر تین شی اللرکھا آپ کے پال
آۓ7 آپ نے فور ہیں دو تا عطی۔دیا اوررونول سےکہا جھھ ے
لی نے ایس ینوس دیا ضر تین ھچ نے آپ سے فیا
ا حر سیت
(جار ای نکر تشم ۰۸۰.۰۹۰۸۵)
گیا نے روا تکی ےک فحقرتتسن یلد او ر تعفر تک راد
نز بر لن نحطرت معادہہ لن کے پال گے 2 آپ نے ححضرت صن
لد سےفرمایا:اے پپس ررسول خوش لآ یداورآ پکوتن ماود مد ےکا
عم دیااورمخرت این ز بر خلن ےکہا: رسول اللہ ولگ کے پوجھی زار
خوش آھ یداورآ پکوایک لا اکودر پھممد ےکا اگ مو“۔
(ج رج ای نکر ج اك ]ص۹۰۸۷)
رت مول پ مھ نیجنش حلوائی رع اللہ علیففقل فر مات ہیں :
”تار کے اودراق اس جات پرگواہ ہی ںکعخرت ام رمحادي
لہ نے خلافت راشدہ کے احکام یکو ناف ذکیا۔ اس میس نہاپتقی مرتی
بی زیعلم و جبرکورداج دیا۔ بم حضرت ام رمعاد یہ یل کے دورامار تک
وو ر غلاق تکا حصہقراررے ہیں ۔حفخرت ام رمعادیہ نل نے ببیت
الما لکوم ربو ےکیا۔عحاص لکوایم خداری سےکوا مکیل وق فکردیا۔ دو بیت
الال ےکشرنذ راہ تضرت امام تن ھکد تن ر ہے۔ ہرسمال ا نکی
ضرور بات سے بر کر اداکر تے مر ہے پچلراما م تن رنہ کے علاد ایت
۴ًٔ “٤
12
کے دوصرے افراواگی بیتامال ےکر وظاتف پاتے رے۔آ پک
فر اش اورسفغار لکو ریب ناطقجول ف ماتے۔ ایک بارحخرت امیر
معادیہ یلو عکرنے گے ۔ جناب تنفرت امام تن ظدشی ان وف کس
ترمہشی تھے ۔آپ حخرت امیرمعادویہ خاندے نے اوراپ قرقراور
پ انی کا تذکر کیا حخرت امی رموادمہ شلہدن ےآ پکوای دقت ای
زارد چھم ادا گے“
(النارالامیانزمالعاديل١٠٥)
7 کے مواہرے کے بعرخرت معاوہ لن نے نضرت
اام تن خیچ سے ببت ابچھا سلو ککیا۔ مد یندمنورہ میں ان ک ےآ رام کا
خیال رکھا۔ ہرطر کیہ سائش ہم پچائی کر بصرم اورعراتی ے
علاقوں شش تنا بال تھا وو ححضرتنسن جولنہ کے جوا ن ےکی ۔آپ پہ جقنا
ترخص او سب اواکھردیا۔ ایک لاک ددم سالاتہ ظیف دینا ٹروخغ
کردیا۔ ایک سال وظیفرد ہی یح خیرہوئی و خرت معادیہ نلانے
ایک لاکھکیا ہا ار لاکوددہم ادا جب حضرت محاویہ اہ
ھ یندمنودہ یس حاضر ہو ۓ فے آپ نے سارے اطراف مد یت کات کیا
اود پا ہار سے نےکر پا لاکوددہیمتگ ان سی مکردیااود ہرایک
کوصب عراتب افعام دیا۔ جب حفرت امام تسن یٹ کا معام ہآیا لو
آ پکواتقارو ید یاا سار ےش رکے اشرا فکود یاتھا۔ ایک بارعخرت
امام نف زشم ریف لے گے انفاقی سےفذ حات سے بہت مامان
آیات آپ نے ودوسارامال حضرتنسن ە اکور ےدیاٴ“
(النارالیامیأانزمالعادیگ )۱١١٥۱٦٦
”رت مواومیہ نپچنکامممول تھا ہرسال ہراروںل درم بیت
(۸/۸٥۱۴٥.
3و1
المالی سے نےگرحخرت ماع تن چھلدکود نے تھے۔ اس کے علاددمیل
بہا تھے اور برا یچ اکر تے تھے“
(نارالیاص یآ نو مالمعادیل ۸٦۱۔۹۹ ۱کوالہ تارج بلرشم )
بروز قیاصتٹورائی حادریٹ آکیں ےۓ
حطر تعبدال بی نعل دکی روایت ےکہ جتاب رعول اللہ ہللا نے امیر
متاوہہ یچ کے علق ارشادفرمایا:
ام ِنَه مث يَومَالْيَامَة عَليِْ رِقاء“ ِنْ ور اليْمَان_
7ر آپ امت کے روز اس عال میں1 می ےکپ تا
ال چا دوگ جآ پ کےامان ےرک 771
( من قب سید ا امی رمواد یہ وی ے۸ کوالہ ا نع اکر ۲۵ضص١١)
ای رع ایک دفعہ جناب سعید جن الی قاع نہ نے جطاب ط لیف رن بمالن
"لد اخاط بک کےفر مایا
"نی اڈ نز کن اد تل لعل َحلرشدر
یحْشَریَوم ات مِيةَنْ ای سيا وَعلله عَلَكَيِن نر
كَاهِرَمَا مِن الرَّحعة وَبَاطِنْھا مِن الرَضَا ب تر پ0 پ2 الع
لہ ِكعَاَة اَی تَبَيَدیٰرسُزلِ الله صَل الله عَلله َلله وَمَلَمَ
ال خَُيْقَةكُمْ
تر جم :کیا آپ اس دن دہال مو جو ڈنیل تے جب جناب رسول ال وٹ
نے سید نا امیرمحادیہ نٹ کہا تھا کر دہ قیاصت کے دن اس عال مل
میں گےکہدہ ایک فو رکا با نے ہوں کے ا کا ظا ہ ران دکی رت
وی ا لکا باطن ا کی رضا وگی اور ال لکی وجہ سے وو قیام میا نگحٹر
تف کر میں کے اور بیفو رکا با ںآ پکو جناب رسول اد بالگ بارگاہ
(۸۱۴۱3٢.
194
شس دگی ال اک یکاہ تک ن ےکی وجرے عطا بھا۔ علیہ ن ےکھا: ال
) یک ے۷“ ( ما تب سای رمعادی یٹیل ۸۸ بوالہ: نع اک رض )١۶۷۵
ففضیلت میس شی کک نیو ان ے وا گککاطوق پہیاجا ےگا
7جمان ات1 لن رت بد الشھ بن عیاس ری ای نمافرباتے ہی کہ جناب
رول ماب نے فرمایا:
اشَاكُ فی قضْلِكَيَ مُعَارة تق اَْرْضّ عَنهيَوُمَ
الْفيَام وَفیْ عق مه طوٴق تَا تار
7ع اک ےکگادہ جب قیاص تکو
ا ےگا ذ اس کے کے م سآ کا طوق ہوگا_
( من قب سید ناامیرمعاد یہ خیش ۸۸ن الہ این ح سک رب )٠۰+۵
مرش دو زم کےکموں مس ےای ککتاے
امام ا اس تمیردد ین لت امام امھ رضاخاں بر مکی رم ال علی ا مہاب
الین ففا کی" منی ما با شر شفا لا ای عاشضل سے فرماتے میں:
وَمَْبُكُوََعنُفِمُ مُعَاوَِةً
فَ2 ین کا ال اوِبَة
می جوحفرت ام رمداویہ لہپ رطع نکهرے و چان یکتوں مس نے
ای کک ےے-(٭ہتری تصال١۰٠)
لع تکرنے والنےکادوزٹ یکتوں سےاستتتبال ہوگا
این عسم اکر ےمنقول ہے جناب ابو ہریرہ لد فرماتے ہی ںکرسول اللہ لٹا
نےفرایا:
ہےے۔ سس سح
۰ و٤
5و1
مج اے ابو ہریر! ووزغٔ یس چتھ(خونفوار) کے یہوں گے وہ ا
بد نت پرچھوڑے جا میں کے جودنیاشش معادی براعن تک ہوگ“_
( ما یسید نام رما: ٹل ۹ے کوا لاہ نک کر( ر۵٣ضكص۷١)
ضرت ام رمحادیہ چہ ک برا کنا نومام رفا ترام:
امام ابسشت ای ضر ت نیم البرکت امام ام رضا ان فاضل بریلوکی رم
الشعلیڈراتے ہیں:
.. "نج سک یگرای حکفرک ۔کپئی ہدج ےتیل یہک موم یکر
ین ( رات ایک رصد بی دعاوق بے ال جات ہیں رشی
اتال یم اتسیق کرش مھا ہکرام ای رمعاد درد بین حا د
اپومویٰ ارک ومغیرہ بن شع شی الہ تھا یکم برا کچ ہیں ۔ان کے
کے ما زکراہت شد یدہنھر یو کروہ ےکہ یش امام ہنا عرام اوران
کے چچچھنماز ڑم یگناہ ادرشنی پڑھی ہوں س بکا بھی را( مت دوپارہ
پڑھنا) واج بٰ'۔(ا ما ٹریت صا لل۷۸)
عد ٹکیا ردایت اور پک عدالت ونقاہت
”رت ام رمماوے ڑکا یٹرفگ ال ےک آپ
نے بڑ ےگلیل لق رسحایہ سے احاد یت روای تکیل جوا مح رشن نے
تو لکیں اوراپ یکپ می سکھییں' اور بڑے بڑ ےسیا بگرام نے امیر
ععادیہ لے روایات لی اوراحاد ماف کال ۔خیالی در ےگ اکن
کی ردای بت ضیف ہوئی ےلین ام قو لک ہول....اکرامرعادے
یہ ہ رف وم وغی :کا شا ہنی ہوتا تی جحفرات ان سے رولت
حد حیث ہکرت (امیرمدادیہ یہی اتی کنظرل۹٥-۵۰)
۴ ٤
16
جناب ام رمعاد سدق :رفاردقہ ا مشیر ام
وین ام حی ہیی انڈ نم سے روا تےکر تے ہیں ان ے؟ گے روایت
ککرنے والوں یس عبدالل بن عاس دیدائشری نک روعبدالل بن ز ہیر بے
اہی ء معادبی جن خدتء ساب بن یز ید:لأتمان جن لیر ابوسعید خدریی
اورایامامہ من پل (یھی ایڈیم )ا یے یرگ لوگ ہیں جا اتی نکرام
می سے بذرگ اورذقہزشحضیات ہے ہیں ۔عبدائ کن حارث بن فوضلء
یں بن عازم ء سی جن صیقب :ابو ادر لی خلا ئی اوران کے بعر نے
وال ےکی ین طل ہ مھ بین جیر بین ضم یجن عبدارنن می نکوفء اہو
تد ہمان موک ان ہج داش جنر امن ای وقائ مکی رع بای ء
ہمام من معبہہ ابوالھیا خی اورمطرف من عبدالل ب تیر وخ رہ مچییل
القررتا نع ووفتہا نے دوایامتاحد یٹ لی اورقو لگیں''_
(رشمنا نام رمادی نپا شی اب ال ل۳اءامی موا ےر اکنل ۴۹۔۵۰ سید :ایر
معادی نار دو یل رابنا نیل ۹۰.۵۹ مت رشن اورترت ام ساد نار ددجم النا ہے
عنلشن ام رمدادی منڈل ۴۷)
”ام رمعادیہ نلدکی (۷۳) احادیث (ردایات ) ہیں تن
چا رووہیںج نہیں سلم و ہار دووں نے روا یت فر مایا ادرچا ضرف
بخارک نے اود ری صرف سلم نے اتی امہ ابو دائودہ نسائی :تی ,
طبرالی :تی اد ما نک و خی رج محدشین نے روای تفر یایں“_
(امیرمداہ یہ نز رای نکنل ۵ سید ہام رمحاو اردو رج تن یر جا ن ل۷۳)
”بای لم حضرت موادیہ سے عحدیشی روای کر ے یں
حالانہدوصرف نہ ضابا اورصدوق راولو ںگی روایت میا نکر تے ہیں
اور یی ا نکی شرط ہے اورمردان بن مم ن ےکتاب طہارت می ںآ کو
(۸۸٥۱۶۱٥۲.
197
ضعفا مکی صف سے ار رکھا ہے عالاکہ دو ضحیف روایا گی ماضل
کرتا مخ رین او رت امیرسماوی ارد جال تایطع ای رمیاد ی ل٣۳ .
”خی لکنا ا ےک رام یفادک اسم دبنگ ہمتیاں یں
جوذ راس شض کی بنا پرروا نیس لے ان بزرگو کا ام رمعادے
۰ گا رایت قول ایا لان تار ہا ےکرامیرمتادے جا نکائا
نکی عادل 2ھ تال ددایت شیل۔(امی رواوہ ہپ ای ل٠ہ 1
اتجا ر مم قت اوراطاعت رسول لا
رت ام رممادیے خ٭اجناب رول خداظگا ے اظام کیا با ورک یکو پمیشہ
لام جات اور ج بک یکرئی یٹ پک نت یجاب بصول اللہ (لا )ئل
نیس مل ہوا تفورااس پل چا ہوجباتے ا لک ایک نادرشال دو د لپ واقمہ
ہے چومککو 7 ریف مس بوال تر نر اوراودا“مقول ہے ملا حظہو:
”ایک مرح ہحضرت معادیہ ظفنداورائل روم جوکفار جے کے
درمیا نر کا عایشی معاہدہ ہوا ا وغل ت کے ددران ہی آپ اپ
فو چو ںکورو مکی مرعددل پش کرت ہو ان کےشرد ںکی طرف
پل پڑ ےت اک جب معابدہپودا ہو جا ذف ران یتم لکردبیی۔ائ پہ
ایک صحالی حفرت رین عیہ جوکھوڑ ےپسوارتے“کله اك الله
ابر وا" لاڈ“ “پکارتے ہو ےآ ے۔مطلب کہا قاکبرالٹر
اکبروفا ہولی چا بے بدحہدکینئیں ۔اس لے کیک نکا شید ووفا ۓ عہر
ہے۔ برعدگی اورخیاخ ت ہیل _
واں کے ملق حضرت معاویہ زین نے ان سے ٹہ ھا کیا
بات ہے؟ دہ کے گے میس نے رسول اللد کو بیرف مات سنا ہ ےکس
(۸٥۱۷٥.۰0
8و1
”من گا بین رَبَْنَقوْم عَھُد ”فلا يَحْلَن عَهْد رَليَنأله
کک بمْطی کڈ لیم ےب روتونۃہر
کھونےاورشاے بد لے کیا کی عد تگزرچاے_
تقر تگمرو بن ح ہکا مققمد ہ تھا کہ ازدوۓے عد یت جنگ
بندکی کے معاہدے کے دوران جن رر جم لکرن جائ زنس ای طرح
جن کے خلاق و میں ےکر دروانہ ہوا یا جائ نی ۔ چنا نیہ جب
جحفرت موادیہ نے رسول خد ابق کار یق مان عالیغان نات اقبل
اور جو ںآووا ی6 ام دیااو رئیش واہیں رت
(مکلر السا ت٣۳ با بگنزاززمان)
جحفرتعلامدائن تجرگیرتمۃ ال عل یل فرماتے ہیں:
”ار اوالررراچھ ہددایت کے ال کے سب راوگی
کعاد یٹ سدادگ یں ایک راو کےگروویی گے حفرت
اوالدددا کے تھے۔ بج تے رسول خدابا سے بد یکوہیں و یکا
ا لک نا زآپ دک نما سے زیادہ سے زیادہ مشاہ ہوسواتھہارے ال
سردار نی ہفرت امیر معاویہ لد کے۔ لی الیل القدرعالی نے
معحخرت محادیہ دی جو بی منقبت یا نکی ہے ا لکوفور سے ومکھو ال
سے منرت محاد ےکی فقا ہت اوراعیع اورلشیش اجاغ وی می خصوں]
د با از جال عبادرتبدمے ا ظاہرے“_
( سید ای رسعاوی “مار دوج کیل ہنا نگ )۵٦_۵٥۵
جرتعلا مجن بدا لیب ہاردئی رج ال ینف فرماتے ہیں :
رت مواو یہ زیٹیاوگو ںکوور یٹ (ستت ) کی اج کاگم
فرماتے اورا لکی خلت ےمع فرتے تے۔ امام این ٹج رحسقلانی
۰ٔ "و٤
19
2 غر٠ تے ہی ںکہ جب حفرت معاد یع یننشریف ش لآ تے اور یہاں کے
تار ےکوئی سی چیز لے سب رسول الف ہو فزابلِ مد ےکا
جک رکف رما ےککہاں ہیں تہارے ملا ؛؟ یش نے تو حضورعل اصلج
ا شس حرت معادی لے ددای تکرتے ہیں ۔آپ نے نر
عد یں دوروای تکروجوشخر تکمرفا ردق مان کے مہدرٹش ردای تکگئی
ہیں۔ااس ل ےک حر تلاکو ںکخوف ای ےڈراتے جے_
شارحع سک فرماتے ہی ںکہ عمافنت اف تق و قق سے
کرت اعاد یث با نکرنے سے ہے اس مل ےکمنضرت مواوی کے
زمانے میں ائ لکتاب کے مفتوحہعلاقوں میں ا نک یکتابوں لف و
ردای تکا روا شروںع گیا تھا اس لج آپ نے اس سے ف مایا اور
لوکو ںکوعہد فاروقی کی مردیا تک طرف دجو کر نے کاعھ فما اک
حر تگمرظلہددوایت عد یت کے معا لے می لک یکر تے چے اورضہط سے
کام لمت تھےلوک ا نکی لیت وسلوت سے نوفزدہ تھ اوردوعد یٹ ٹل
جلد بای سے لوگو کو فرما تے تھے اعاد یپ شہادت طل بکر تے
تے یبال ککراحاد رٹ خوب ستمقر ہوکئیس اوزی نمشپورہوگگیں
( نشین اورتحفرت ام رموادیہ جیٹمارد وت جم الناحیگ نشم ام رحا: یل ے٥ ۳۸)
”رت ام رموا وی اتا نت میس ریش تے امام بنوی
شرع الہش ا یھ سے ردای تکر تے ہی ںکحضرت معادیہ ظلان ایک
دن کا عبد ایل این عامراورعبداللر ان ز ہی ٹیش تھے ائن عامر دک ےکر
کھڑرے ہو گے حیلہ این ز ہیر ٹیش ر ہے۔نعفرت معادیی نے فرمای ا کہ
رسول اکرم لا کا۱رشاد ےکہ وٹ یی چا حےکہللگ ا لک ےکھڑزے
۷۸۷۷۸۷۳۰٢
200
ہو وہ انا ٹھکا تا جن مکو ہنا ے ۔ سی حدی کوترفرگیءابوداواورصنر
ات نک روا تگیا پر
حخرت معاوي ڈلنک ضوراکرم پا سےعددرجیعب تک ایل
تال وہ ہے جس سکوقاعی عیائض نے خفاشریف یس ذکرکیا ےکلہ جب
فرت عاا من بی رت محاو ہیی انڈ ٹم سے ملا تا تٹک یگ م
کے دروازے یل داقل ہو ےو رت ممادے پگ سے اشے اوران
ے بھی ہوک نے .۔ا نکی پاٹ یکو موسردیا درم شاب ٹا گی لاق جو
کیشپرمرد کے پا تھا کی ز شن ا نکوعط کر دگی۔ بے عطاداکرامصرف
اس لی خھ اک فلقرت عا اس کی صور تقو ر اکر نو سم پل کیصورت
شمرلیذ کے اہی انالد
( مترٹین اورمطرت ام رموادیہ جیا ردوت جم الناح ہگ ن شعن امیر مواویل ۵ ۴ ۓ ۴ ءکتاب
ااشفاءارووروعل١١٥)
اہامیت اطہار ےکقیرت ہہت
حخرت تی عبدالعزی: ہ پاروی رم انعلیأئل فرماتے ہیں:
”این ع سر بسن دی فحعخر تع ران عپاس ریش الڈ تما
سے روا گر تے ہیں میں تضور عل ااصلو والسلا مک پارگاہ 7
حاض تھا حفرت الوب رصد لی ؛ححضرست عم رفاروقی' عحخرت عثا نکی اور
حطرت مواویہ رضوان اوہ الیم ہم امم نبھی حاضر خدمت تےکہ
حر ت می ول حاضرخدمت ارس ہو ے تضورعلی السلام نے نحضرت
معاویہ سے در اش تکیاکہکیا سی لع سے حبت ہے؟ مر لگیا: ال یا
رسول ال الا مھ رآپ نے ارشادفر مایا کفنقری بتھہارے درمیان
عافظائ نیکجرنے بھی اےا رق ہم پل فر مایا ہے۔د ینتا رجآ ای کی رج أشق ص۹۷۴
(۸۸٥۱۴۱٥.
201
اش ہوگی رحضرت مواوی نے عرخ لکیا:یارسول انڈد پا ال کے بعد
کیا ہوگا؟ فر مایا :کہ ائلتعا کی رضا مندی اورتخفو نرت معاوبے نے
حرف کیا۔ کم ققاے الی پر دای مس ای دقت زیآیت نازل مول:ولَوْ
شَاء الله مَافعَلزِ وَلْكنْ للهيَْعَل مَيِْيْدُ*
(محق رین اورمضرت امیرماد یہ نے اردوتر جم الناح یگنن ام رمحاد یل ۵۵)
”رت عماوے ناما صن علیہ السلام ے تبات اداپ
سے یی ں1 تے تے اود ا نکی خدم تک تے تھے بل ببیت نبوت کے
فضائل میں رطب اللکمان رجے۔ بیسب یا تی حخالقت دومخاعصت کے
مندراجمیں ے ےک ای کآدگا نے تظرت معاوبہ لد ےولی
منلہپو ھا آپ نے ف مایا کی سال حفرتکی ند سے پپچھواس لئے
کردیھ ےزیادوصاح یمم ہیں .ال ن ےکھاامی امن بھی حا
کے جواب ےآ پکاجواب ذیادہ یند ہے۔آپ نف رماا: ىہ بدکابات
ہے۔ تو ایی ےآ دی یکونا یہن کرد ہا ےج سکوتضورعلی لصا والسلام اس کے
علمکی ہنامز ھت تھے ۔اوراس کے باارے م۲ خر ا اہ ےی اتی
تبعت ہج سے وی ہے جھہارو نکی" موی گی اگمرمیرے بھدکوئی نال
آۓگ۔ بی جب حخرتمرفاروق حفدرل مدرم ل٢ وان
سے ددیافت فرا تے۔ برح ےم نداتھ کےعلادہ دوسرے کب یھی
مردی ہےاو لن نے پزیادوالفا ن یئل سے ہیں مشلا رت مدادیے
نے اس سرائل سےفر مایا ۔کھڑا ہوا تھا ٹی تیرے پاؤ ںکوکھ اتک ے۔
اوراراکمین دیپان سے ا لکانام ار نگمدیا۔
۱ "٤
202
جب نگمود لی اپ نیف نواس الفون مس ذکرکرے یں
کہتعقرت محادیہ کے پا ححفر تی ہکا ذکرکیا گیا فر مایا کہ
عفر تی خداک یتم ری یں گے ج بآ پآواز آگاتۓ جم اور
جب تھاہر ہوتے فو چاندکی طرر۔ جب عطاد اگرام پآ تے ق باران
رح تکیطر ہوتے تھے۔ ٹف حاض بن نے ددیاف کیا سآپ
ال ہیں یاع؟ فا ا رجخرتہمی کے چندنتۃش ل بھی آل الی سفیان
مجر ہیں تچلردد یا ف تکیاگیاکیآپ نے گا سے بن کیو ںگا؟
فرمایاکککومت دبادشابہت بت یں فربایا:الملك العقیم۔ بی
گیا ینکتی۔ رف مایا کہ جوحعضر تی اعد ٹل ا نک خایا نان
شعرساے می ا کو رش کے بد لے ہار یناراقعام دو ںگا_ چنا مج
عافضربینانے شعرستناۓ اورتحضرت معاد ریف ماتے ت ےکی لہ موے
ال ہیں پچ رجرت رون عا میدن ےکی شع ڑ ھے۔ جب دواس
شعرپ انت
ا
وَتَابُ ال وَنْكَكع الب _-
نعضرت معاوی نے اش مو پندگکیا اور یں سات برار دیتار
عرتفرماے“۔
( ضیوفت ام ماد ارت جال مت نل امیرحعادیل۵۳:۵۰)
حخرتیلتی اج یارخا نی رہ ال علیأئل فرماتے ہیں:
ہفرت علام مض ات یارشجی ا لکا ول ت جم ہکرت ہیں :خر تی بڑی خر دانے ہیں نوع
لی السلا مکی شحی ہیں الک ادروازوژںان کے برا کو یلاح کی سک رسکی( امیر معاو یچ
بای نکی ددےد)
(۸۸٥۱۴۱٥.
203
مساق حرق می ابن سار سے روایر ت٠ لک کا ےک
جگ کے زمانے می حضر تخل (حفرتمی ید کے بھا کی ) نے می
ند ن کہا مھ ہہجددہ پک ضردرت ہد ہجچئے فر مایا :اچ یں ہے۔
آپ نے عو لکیا: شھے اجازت دج کرام رسعاویہ خلنکے پا چلا
جاؤں۔حفرت ٦ی خطہ نے فرمایا: جا حر تحشتل امی رواوہ کے
پاش یلو امیرسعادیہن ےآ پکا یڑا اترام مکیاادرایک لاکوردپیظز رانہ
یی کیا“ (ایستادی برای نرک ھ)
اورای طط رع بیج منقول ےک :
”می رمادہہ لپانے ایک بارنرارائنتمزد کہا ھی این
ال طالب کے اوصاف سنا انہوں نے عخ کیا شھے ال ے موا ف رک و
امیر سواہ یدن ےکا یں خدا گی م٢ ضرور سنا خراراہنجنزہ نے
ایریا وع طورحضرت ٹل الرنّىیزچل مق تال لکاظاص
صازیل ے:
حر تی لہ بڑی ساوت دانے مخت قوت وا نے فیصلہ
کن بات کتچے تے۔عد لکا فی اکر تے تھے ا نکی جواحب ےل مکی
نہریں ہہت یچگیں۔ا نکی زبان پریعلم بوا تھا اود دنا کی ٹیپ ٹاپ سے
محر تھے را تکی تجھائی اور وحشت پر مال (مانوس) تھے رات ںکو
روتے تھے اکر آخر کیگکرمیس رج جے۔ موٹا لاس معمو یکھانا
پندفرراۓ تھے اوکیں می عام شف کی ط رع رچے تے۔ جب ان
سے بکھ پوت فو فور جواب دیے۔ جب ہم نیش بلاتے تو فور
آجاے اس فی کے باوجودا نکی خداداد یت کاىیعا لھا اہم
ان ےکنگو تک رسک تھ۔دیندارو ںک نشم ف ما ہے مکینو ںکواے
(۸٥۸۴۱٥٢.
204
ےتریب رھت تھے لہ کے دربارشریف می سکرور ماییں تھا-
تو ئیادلی رن تھا حم مدکی ای ن ےم کو ہت دفعدالیباد یھ ارات کے
جار فاعب ہوجاتے تھے اس عال مآ پ ایماروتے تھے یک یکو
کاٹ نےاورروروکرفرماتے تھے انوس !اغسوں اع رتھوڈی ہے .سر ۱
لی ہے۔ماما نتھوڑا ہے۔ راس خط کل ہے اورآ پک داڑی ے
ضسووں سےفظر رے کے تھاورفر مات تے۔ افسیں!افسوں!
امیرمعادی پیک نگرزارڑارروۓ گے ادرف ماتے عرم
خدای!ابوائن ( یح )اہیے ہی تھ ای ہی تا یىی
(امیرمحادی ڈے برای کن ل۵۴ .۵۸ء الص ران اح ر ارول ٣۲۴۲ء از لی الا اروو
وش ۵۱۹۰۵۱۸ ء مین اور مضرت ام رمواویہ :رد تر جم الناح گنن امی رمعادے
)٥٢
حعافڈای نک فلکت ہیں:
”جم نے بوالہمفیرہ میا نکیا ےکہ جب ضعفربتملی بن الا
طااب مدکی شہاد تکی رت محادی کے پا کپ اینگمم
دن یش اتی یدک فا خعۃ بن تفر ط کے پاکی ت۔آ پ نے انا ال وانا
الیه راجعون “پڑھااودرونے گے ۔لوفاخندرنےآپ سےکھاگزشیکل تہ
آپ ان سے جن گفکرتے تےاورآ نان پرددتے ہیں۔آپ نے فرمایا:
قے ہلاگ ہو میں اس لے روتا ہو ںکرلوگوں نے ان سے یلم پعل مر فیملوںء
اقدمیت اورپھلال یکوھود یا (ح را نکی ہلنشتر مس + ا ے٤ )
اولیاۓ پک دجن کے پادشاہمقدومالاصفیا ءنضرت داج ىٌّ
ھی سندیی جو ری لہ یا ف مات ہی ںکہ
”ایک روز اکن حرت امام تسین ول کی خدمت ٹش
(۸۸٥۱۷۱٥.
ویو رج نی سے سد
205
حاضرہوااو کیٹ لگا اے این رسول ادلہ ےگا خیب یخس عیالدار
ہوں جھےآ پکاطرف ےآ شب کےکھانےکاانظام ہنا چاے۔
آپ نے فرمایا: ٹیٹھ جا ہاراوخیفرداست یٹ ہ ےجا تھے دیی۔
تھوڑی دی لک رین کہ بای یلیاں د ینار لان یگئل جو
صحخرت معاد دی طرف ےآ یکتیں یں ہ نکی مس ایک پزاردییار
تھے لانے وا نے تن ےکہا تضورسمادی(جلن)سعانی چاتے ں اوران
کا خواپٹی ہ ےک مت خرباء پت رفرادی آپ نے دتھلیاں ای
سا لکودے دمیں اود عفر رت فر ما کہ تھے ا: مار ش بہت یہ را
ڑا“ ۔( لف اٹ باررل ۱۸۵)
تبرکات رسول تا ےکگقیدت
”'صفرت ام رمعادیہ لدکی دذا تکا وقت تر بآ
نے وی تفر مائ یکرمیرے پا یکرم بے کے کر لف ہیں
دوب کن کے انددریی ۹گھوں مین کو بے ہا کََّ
مارک او رتضور ول کا تہبند تضو رکی چاددادنش شری ے .
حور ایض کفن ینا حضور پلاکی چادرہش ینا حضور
خہبند مج باندھ دینا ادر ری اک کان دظیرہ برتضور ولچ کے پل
ریف رود اچ مھ ارقم الراکین کے سپ ردکرد یا“
(امیر معادیہ انہپ ایک نظر ا۴ ۔ ۲۴ء انار امن ذم الحاہ ص۱۳ أمد اخایہ ٣
مصصے ۳۸ .سید ام رمعادہ اردوتز جن یرا لہا نم ل۷۹۴ .ارچ ای کرشم ص۹۹۷ء
مرن او رمضرت امی روا یہ جپلنار: دوتر جم الناہ یگنن امیرمواد یل ے۵ ار الات
اردودو م۵۳۱۴ ءاز لع انا ما رووا ل ل۵۰۲۹۴٣۳)
آ پک بجی دی تا لک نے کے بعد امام ای نچجرگی ران علفرمات ہیں:
(۸٥۱۴۱٥٢.
206
میں مارک ہوعفرت محاویہ لچکاکران کےشسم سے دہ چز
مک کردیای یر نے رسول خد اک ےم اق کا سکیا ھا اور
او آگھوں مم دہ چ قوط ہو یج می پگ کے دن مبارک ے برا
ہوگ کو کان اش( یدام محادی چاردوت ہر ان ل٦٦)
آسپی اکرامات
ہت مححفرتسیدناا می رمعاہ می تک بہت یکرامات نشور یں_
”نان یٹ ے اب ایک بیڈگا ہکرام رمعاوی جلتے امورضے
2ب دہ کام ای رع ہوئے یں ط رع آپ نے
لاد اور یا کرام تی لو اه ار عَنْ مر
ققع نر بَْكة ھا ارم وَدَالْكَ كَرَامّة“ ان ٹس ۱
سے بینگی ہے جوقرا دلو ںی سند سے مروگی ہے جناب معاوبے غ٢ ہا
کہ ئک ککہنے رسول اللرپڈگثرت پرورکیا لان مم بھی خلا نت
شداۓ گی اود یکہائل مد بیندنے عفر تعثان ( جو کش یکردیاا
لے ان مم بھی خلاطت بھی تا گی“
(وشمنان امی ماد چکا می ماس ل۱۱۳ یدام رمحاد ہناد دوقز جنیر لجزانل۷٦)
مفمرقرآن جناب مفق ات یارخا نشی رح الللینئ فرماتے ہیں :
”ام رمعادیہ دک ہہ داقعد ت2 مشپورہی ےکآ پ ایل دفعہ
اپناشل نشم سور ہے تھےکاچاک تک ایک اد نےآ پک جیا2 آپ
نے ا سے پے ھا کون ہے اوراگل یی ےک گیادو لو کرس
اٹ ہیں ۔آپ نے فرایا: تر کام ما زکیے جا :نیش سے بگہنماز
سےتلا نا ہے۔اولا ای نے بہانے ہنا ۓگر جب ام رمعاو یہ زلندنے
اےڈرایادھکایا تق آف بولاکساس سے چپ لیک دفیرجس ن ےآ پکوٹھر
(۸۸٥۱۷۱٥.
207
کے وقتسلادیاتھا یٹس ےآ پک نماز تا وی اورآپ اس کم
اتا ردۓ تھےکہ میس نے ف رق کو یں می ںکلا مک تے سکرامیر
معادبیکوال رن اڈ مکی ویے پا سفمازو کاٹ اب دیاگیا۔ یش نۓے
خیا لکیاکہاگرآ بھی آپ تر پڑھ ےی پھر وخیں کے اورایا: ہو
ایگ برارفمازو ںکا تو اب حاص٥ لکرفی۔اس لے جگادیامصرف
ایک کی نما زکا نو اب عاصلکریی-
نو شر لف رثر رع ش۲۳ یس موا نارو مھ سیر تے اس
تقد رو ہہت نیل سے مس بھفرقی سے جیا فر مایا من سکا عنوان یوں
نا مکیا نید ارکردن امیس حفرت ام رالمون مواویہ قنداب رج رک
وت نماز ارت '(ت جم ) شیطا نکا حخرت ام الم لسن محاوے چو
ید ارک کہا ش نے ممازکادقت ہے۔اور ال ط رح اس داقہکیشرو فرمیا:
ور تر کر کہ غال ممیاں
پیر انور قصر خر خقت اخیاں
تر جمہ: قصہ یش ذکور ےک ملماتوں کے ماموں
(امیرمعاو یہ خلہ رات کے ودقت ا ےئل مم سور ہے تھے۔
تر را از اغمروں پر ہے پور
کز زیادت پاۓے مرم ختہ ود
ل کا دروازہ اندر سے بن تھا کیونکہ وولوگو ںکی مطاجات سے
تک کے تے۔
اگہاں مہرد اورا میزار کرو
2 ہزروں کشا ناں گکشت ہد
5 :اک النکوای ٠ص نے جاد اجب نہوں نے اک
ھولد وچ گیا۔
(۸٥۱۷۱٥٢.
208
اس واقعہ موم ہواک ام رمحادے دہ تعاہروزارخول
بارگاوالی ج اوراشی س جیا خبیٹ جگی کے قضہی ند ےوآپ
کے قب اورکرفت سے تجچھوٹ تا تھا ۔کیوں نہ ہو جن کا پاتھ جناب
مصط وا پکڑ لی اس کے ات یکر نت سےکون تچھوٹ کک ہے اورجو
اہ عالی صفوی کہ لےاس ےکون یچچ پ کی ہے“
(امیرمعاد لاپ را کک ظل )٥۷۰_۵۹
(۸۸٥۱۷۱٥.
باب ئمبرڑ
اوراظ راتا اکا
(۸٥۱۷۱٥٢.
211
مضنتقدات اللسقّت اورنظریات! اکایھ
ااسلامامام مک بن شرف نود ی شر لم فرماتے ہیں:
'صوا کرام یس چوجگیں ہیں ان میس جرف قکوکوئی شی
لام ھا اور ہرف لپ کا اعتتقاد یھ کرد محت اورق اب پ ہے اورتمام
صحا نیک :در عادل ہیں نگ اوردوسرے نزاگی معاملات میں ہرف ربق
گی ایک تاد تی اوراس مس اتا فکی وج ےکوئی صحای عدالت اور
2 ے نار کیل ہہوتا کیونکہ وو سب جچد تے اورا نکا سان مل
اجنتھادی ا شاف تھا۔ جس رع ان کے بعد کے مد بین کا قداص اور
دیت کے مسائل مس اجتادی اتلاف ہے۔ ال س ےکی فرب قکی
فیس ۳ زمنیو ںآتی .ان جنگو ںکا سبب بتاک رض معاطلات ان پہ
مشتتہہ و گے تے اورشرت اشتبا کی وج سےا نکا1 جا رخف بویا ھا-
ا لافاظ ے“ھا یج نانھییں ہوئیں-
الف مہہ براہتتاد سے می حکشف ہواکہ و وق پر ہیں اورا نک الف
بای ہے۔ اس لے اس پر اپی اح تک نصرت اور اپنے الف سے
نکر ناو اج ب تھا سوانہوں تے الما یکیا-
)یفن سحابہ پر اتتاد سے اس کے بیس اہر ہو شض دوسری
جاخب ہ ےا لئے ان پراس ججماعح تک موافشتکرنا اور باخیوں سے
(۸۷۸٥۱۴۱٥٢.
9
: ا لک روا جبتھا۔
٣نس معابہپہ یما لات ہت +و سورد ران رہ اوم۷ جاب
لیا ددے کے۔اس لے دودوٹوں فریچوں سے الگ ر سے اوران
ژ ٌ
ککقی یس الگ درہناداجب تما یوک اس وق تب کسی لان ہے
جگکرناجا نویس ہے ج بک کک سی دیل سے بیظا رہد جا ےکأی
ے جانے کا کی ہے۔ ا رو افر کات ان را ہرہ جال خقان
ا لک جمایت ان کےیالشن ےق لکرعاو جب تھا حٍِ
جس تھا مم مھا برک رام ری ا ٹم مور یں ۔نَکُلْ
تَعْدورونَ رضی الله عَمْمْ ای ہے لتق اورقاطل زکرلوگوں
کا اس پراجھا رہ ےکتاحمھاہرشی اشنم عدالت ش کال ہیں اوران
کاشہادت اودردای تگوقو لکرت واجب ے“۔
( وی شر لک وا ابا فا سوب ام )
ول سفت اور یکاخ ہب ہہ ہ ےک مھا ہکرام ری الڈر
سس سس ےس سس سے شس سس ےس شٹشٹٹچچےہ سس سے
لے جفرت مبداللہ جن عمر یی الل رما کی مس شال تھے علامہ این انل فرماتے ہیں
'ححخرت اہی ن عمق کی دینے ٹس تہا یت داضت دا قاط ےکا تےاودخودا پل میں
جیا نھا یت نگ تے یہاں ب کک۔اتہوں نے خلت مس خز اک رح" پیندکی کیا۔ باوجو ہي
ئک شا مکا میلا نا نکی طرف ببت تھا اور انل ظام ان سے عبت رکے تھے بھی ا فقرش
انبوں نے نکی کی ۔ رت یہ کے س اتی ا نکی سی لڑائی ص ش ریکہیں ہو گر
بعد تر تی لہ کے اتد عوکر ٹڑنے پرنادم تھے“ (اسدالخ باردون شس
ایشاد با رگ تھالی ے:وَانْ اِقَن من المزيْن الکو فَصِحُربَْمَهُمَا قِن "قب
اِخْدَامْمَ عَلَی الأخرای تَبلُوٰا اَی تی (انجراے۔٤)
میں اور اگ رملاتوں کے دوگرو ہآ پل لی زان ا کراة راگ ایک دوسرے پر
زیاد یک ےلاک ذیادلی دالے او( کزاویان)
(۸۸٥۱۴۱٥.
213
تم کے ساتھ تی کلمان درکھھاجائۓ ان کےآئیل کے اخلافجات کے
اارے تق تکیاجاۓ اورا نکیلڑائو ںک کچ جا و لکرتے ہو ہے
مبرکیاجا ۓکہدہئجیجداددمتاول (جاء یلک نے دانے )تھے۔انہوں نے
تل گناہکا قصدکیااور نگل دیاکا بلہ ہرفربت یکااخنقاد یت اک و دق پہ
ہےاوراا لکا حالف بفاوت پر .لی اس ےق لک ناس پر واجب سے
رود الف تواٹیٰ کےع مکی رف لو ٹ؟ ۓ لن میس سپٹ کی رائۓے
تی اور کی فدکن برغخلط را ۓےبھی اجتھادکی وجہ سے قائم ہوتی
تی وورپچن رط بھ یکر ےت اس پیگناونٹیں ہوتا۔ اس لئ جس
فرب قکی راۓے خازٹتی دہبجھی معنرورتھا_ ا نجگوں میں ححضرتکلی ول کا
اجچّاردات ڈگ تھا۔ باہش تکانذہب ہےاوراس وش ت تن اقائبٍ
اور فی روائع تھا محاہ شی الڈی ٹہ مکی ایک جشاعت اس معا لے ٹش
ران گنی( کوئی فیصلہ نیک گی )دوفو فرتوں سے انگ رج اورلڑائی
نشرک یہ ہوگی اور اگ ان صحابہ کے سا ئے اس وقت تق لننی طور 4
وا ہوجاج نووا سک نضرت سے پچ نر ہے“
(نودی شر ں لمج +ص٭٭س متا ب انت )
مک اب منا تب اصعلبۃ کے حاشیی یس اما و یکی ای شر سکم اونحش
ماکیوں کے جواللد سے مرقوم ےک :
"لی شَرْح مُسیمإِعلمِْ سب اليَِعَابَحَرام رن
اَْرَالْقوَجش وَمَذغبْت وَمَنْعَبَ الْجَمھورِإِلهيمْرَرُوَال
شنس اتل رکال لی عَضّ مب أحتُمْينَ
الکبائر وک
( تج )شر مل میں (اما نووکی نے ف رمیا خوب جان لک کایہکا
(۸۱۴۱٥٢۱.
214
برا پھل اکنا ترام ےا ند یہت مگ بےےحیائی ہے۔اور ماراغ ہب ار
مہو رکا خیب ہے ہے لہ لج مھا کو برا بھلا کی ) ا لکوکوڑے بارے
۹ امیس اور )کے ذ کچے ہیں اس ےش کیا جا ےگا ادد جناب اض
عا ف مات ہیں ہگ حا کوسب ٹشتمکر کی ںگنا وی
(ز سو ٣۲ص۵۳ د باب ہت تب اصفپہ ماٹے_۳)
امام معبدالد پاب شع ال ر2 ال علیہ سےنتقول ے:
یمان موب لق اشک رین نَ الصّحَايَ
وَوَجْرَبٍ! ِعْتقاد وم مَاجُورُوْمَ وَذَالِكََِنهُمْ و جن
عُدوْلَ اق ال لسن سَوَاءتَی لا بس ار از کی
يسَها“_
ہمہ:اس چچزکابیا نک تضور اکرم پلاقا ک ےتا سیا پرکرام کےتحلق ان
اکمتائی سے اپقاز بان بھیشہ ند رکنیا چا ہے۔ اس وجہ سے جوکان
کے درمان یھ خلا ف کا وق ہوا ہے اور اس بات پرجگی این رکھنا
چا ےکہ ال تھا ان گی انتمادئی خطائؤں پبجھی انیس ضرورق اب عطا
فرماۓگا۔اس جات پ اہلذت و اعت کال اقاق ے چاےان
سےکوئی صھا لی تا زحات میں شال ہواہو یا شال ہواہ کو وہ
سب می عادل ول تھا
( ما تب سید ای رمجادی لئ لے کوازشا رص )٣۰۸
صفرات !بلس تکاال بات پرانقاتی ےک ما سا برعادل اورصادقی
تھے حضرت عنا لی یل کی شہارت کے بعد قصاصص می جو دم ہوئی اس
سے بہتکی لطہیال پیدا ہیں وبت جنگ و جدال ت کک یراس
اتاد ارام پا .کر ا مکوسب شت مرن ہا یت هی باگوار ہے بش
(۸۸٥۱۴3.
215
اہ امم الشدد ہہ ہے شک میں ر ہے اور ۳ لد وہ وگ
ان تا مکیلے تی کین رکم چا ہے دہ بچھ تھے او رای ک بتزمصیب .-
(دورای ھی شس سےاجہتجاد یس خطا ہ” جا ۓ )اگ رھد خطا بج یککرے
زا ے ایک نگ یکا اب کا ہے نیس اجر لگا“
(النا رالیامین ذمانحاد یر ل۴ ۹ یوالہالیداقیت دالواہرع۲)
امام پیسف بن اس اشیل نبھائی رص الل علیفرماتے ہیں:
”ہم اہ سنت کے نز دکیک ححضرت معاومیہ ظٹچمان صحابرگرام
شی انڈیشٹہ مکی ما تد ہیں.جنیوں نے رت لی یہ کے خطاف روج
کیا اود یا ہرکرا میتی انڈپینم اپنے اط رزکل میس پچ ے ہما ران لہ
شاو ہہ ےکرتفتعلی یلد اس معالہ می مصیب اوران کے ای نی
تھےاو جن دکوپرٹنل اچجتاد رقاب کت ہے خطا پرگناویں ہوتا_خعیب
چدکودں شییاںلق ہیں پیش کوای کب ی“_
(کمالات اصسحاب سول پل گار دو تج الا سالیب دی ڈنل حا داقاحاغی ر۱۳۲)
حبوب انی غوٹ عصدالی حضرت جن بدالقادرجلا فی ید فرماتے ہیں:
حرت لی الرنٹی یہ او رح رت طلی ححفرت ز بی رت
عا شراورتحخرت معادیہ چہ کے درممیانلڑ ای اور ال کےعلاد اہگرام
کے درمیان اشتلافات اور ہنگڑوں وخیرہ کے پارے میں نضرت امامماتھد
نل رت ال یما موش ر تاجرد ہے مہ ںکیوکہالل تا لی امت
کےد نان سےاس چچیکودورکرد ےگا جیسے ادتعا یکا ارمادے:
لزٹً ای مُتزری ین راغلی ُزر تتطِین
۔ہ)
رم اورم نے ان کےسینوں میس جو کین تس ب مج ہیں
۴ و٤
216
بھائی ہیں شتوں پردہ بر وٹیٹے_
اورحضرت لی لہ ان سے لڑائی عق پہ تھےکیوکلہ ای
اماصت ولافت کا ابچ یھت ےکا پدسحابرکرام یش ۔ ےائل
مل دحقکانفاق تھا۔ لپ جآ پکی اطاعت سے الک ہوک جنگ
کیل تار ہواوویا قی تھا لام کے مقا بے می لا لہا ا سکاتگی انز
تھا۔الہ تر نخرت :می رمحاو ی تحت ملعرادرتخرت ز دی لڈم کے
موم تل وشہیرجخرتکعا نکی لہ کے خو نکا مطال یہک اورجنہوں
نے حعفرتعا ن کو شی رکیاد دع تک اکم الڈرو جج گر ش٥
تھے۔ بنا بیس ہرای ککا مقصددرست تھا اور جمارے .لئ اس مسلہ میں
ایشء ہنااوراے الیل کے موا نےگردیازیادویہترے جک
حر تع یکرم اللوچہہ کے وصالی اورحعقرت اما نسن مہ
کے لات سے( ردار ہو نے کے بد تحضرت ام رمحاد یہن الہ مفیان
شیا الشٹما کے خلاقت کی ثابت ے.....
اہاسقت و جماع ت کا انفاتی ےک ھا پرکرام ری انڈینہم کے
مان میا ہونے وانے اختلاف اور بجگڑے کے پارے می ںگنظگو
سے بازد ہنا چا بے ا نک برای ما نک نے سے رکنااوران کے فض اَل
ھا نکا اظہارکرا ضرورکی ے اور ج تع رت بی رط مضرت
امس رقرآن مفتی ار خانشھی رح الف علیفرماتے ہیں:با یلما کی دہ بداعت سے جھ
خلیفہ تی کے متا لآ جا ےی غلڈأ٘ یک تا بر ہک فقسانی وج ے۔ ا کو فان وفا نہ ںکے
کک ےکی ران نے ایس م کن قر مایا :یھن ارات ۔۹(امیرمعادی دای نظ رل۴۰)
إاں اب اردوش با یکالغظ بےاد لی ک عق سآ جا ہےاہنداخرت امیرسعاومہ یا ا نکی بقاعت
کالب ریف ض ولا جا ےکیوکہ مارک اصطلاع ہش با فی اراورنک وق م کے رش کہا
جاجاہے۔اصطا بدل جانے سےگم بدل جاحاے۔(ام سواہ ہپ ای نل )١
(۸۸٥۱۴٥.
217
زیر حخرت عائشہ اور تحقرت امیر معادیہ نی ارم کے ورمیان
الاف روما ہوااےپپردخداکیاجائۓ ہرصا نض لک فی تیکلم
اپچچسر یہہ
وَالَِّیَْ َء زین ' مم بَفرلزه رگا غْْرتَ عو
َيز مر بن ولا تَجْعل يْ رت غادإِلَین امن
رگا رتّكَ رَءُ رٹ رت
تر جمہ:اوروولوگ جوان کے بعد ۓے کے ہیں اے رب ہار ےب ہیں
شی دےاورہمارے ان بھائیو ںکوجوایمان کے ساتح ہم سے پگ گر
گئے اور ہمارے ول شس ایمان والو ںکی طرف ےکینہ ند رکو۔ اے
ہارے رب !بے پیک ا خی تما کت م رین رم والا کی
(قدیہ الطا یش ن اروگ ۳۲۲۷۷ ۴۲۸)
د یوبن یوں کےگامالامت گول نشی تھانوی نے سی افو نم
خڑدے کیا:
”صعفر تو ث انم رح ال علیہ ےکی نے سوا لکیاتھ اک
ضحفرت معاو کے ہیں ؟ حفرت فو ٹ ان مکواس سوال سے بہت جشل
آیافرمایاکہاگرامیر ماد یکھوڑے پرسوارہوں اورای مارکرالل کے را سے
یس اس سکودوڑانمیں تو جو اک معاوبہ کےگھوڑ ےکی اک ہیل ر بونٹ
سےلی ہوئی ہوگی عم ین عبدالھی اوراونس تی جس ارول سے وہ
ا کگھی اتل ہے۔دانقی تضور کی زیارت نے صا بکودہ رج شا
ہ ےک پڑے سے بڑ او یھی امام مہدیی علیہ السلا بھی ایک او
مال ی کے برابٹیں ہو تج .. 7 ضر ت فو انم ری اش علیے ے
اس سرائ لک وکیسا دخدال کن جواب د یکل محاد یہ مدکی با تسا ل/٣
(۸٥۱۴۱٥۱.
218
ہے۔عھمرب ن عبدالتزی: اور اوس قرتی (رضی الا )کونظرت مواوے
(خلہ) کےکھوڑ ےک نا کک ناک بھی خبدتیگہیں“_
(مفا گناہ سلسلہمواعظ اشر زی ل۲۴)
سیدرالا ولیاء سید ات کیب رر فا گی ری اش علیفر مات ہیں:
”صحا ہیی ا جم سب کےسب ہدایت پہ ہیں ول اش
پل سے مرد ئا ہےآپ نے فرما کہ نمیرے اصحاب ستارو لک ضل
ہیںقم نس کیابھی یرد یکرلوکے ہدایت پا گے_
صحابہ کےدرمیان جواخلافات (وفزاعات ) ہو ئۓ ہیں ان
( کت کر ٤م سے بالن روک لیناو اجب ہے اور ججاۓ اس کے ان کے
محاسن (کمالات اور خ یال ) یا نگ۸٢ چائشنل ان سے محبت رکھنا
چا یے۔ا نت ری فک رن چا ہے۔ شی اللتھا یتم اشن عحابرے
حبت رکھوان کے کر وت کر سے برکت حاص لکرواورائن جچے اخ تی
اص۱ لکر ن ےک یکوشت کرو (ابیانامشی ۃ جم البرحان الیل ۶۸)
محخرت امام ادا نچجرگی رم ال علیفرماتے ہیں :
”سا کرام رضضوان الل مہم کے درمیان جو ائیاں ہونٗیں
ان کا ا صرف دنیا تک محدددر ہا ۔آ خر تکیلنے ا نکاکوگی ان نیش ر پا
کیوکہ دہ پچ تھے .مت قذاب ےہا ںا کک شی کالبدان
فرق تاس ل ےک ججیجداپنے اجتچاد اق پر ہوا ہے شگل حض رت
مل یکرم الشدو چہہاورا نکی یروگ یکر ۓ والوں کے ا سکودوگتا اب
ہج کنا ٹ اب تا ہے اور جوجھچد اپنے اجحتجاد مس خطا بر ہوتا ہش
حضرت مواویہ وغیرہ شی الڈرشھم کے ا ںکوصرف ایک جی فو اب متا
ہے۔ برسب لوک ال کی خوشنودی اود ا کی اطانعت مم اپٹی اپ یب
(۸۸٥۱۴۱٥.
219
اوراجنتاد کے مواف شال تے۔علوم ان کے ببت وٹ تھے۔ بیعلوم
انوں نے اپنے می ڑا سے حاصل ے تھے۔اس با تکوائچیطر حبجھ
لو اگرتم اپ دی نکرفتوں' نون ےآو رش وزرن سے بچانا جا سے
ج۔الق دی راواراص تک را تکرئے والا ہےادددتی جمارے کان
ہے۔دہکیا ا پچھاکارسماز سے“ میش شش
صحقرت عبداللہ بن مارک پچ ہے پچ ھا گیاکہ اے الو
عبدالرجشکن مواویے رض لن نل ہیں یا عم ین عبدلعزی کٹ
ا سم رت
رسول خدا راگ کے ہمراہ جا تا تھا عم رہن بدا زیۃ ید سے ہزارور فطل
ہے۔ معادیہ نے رسول خدا فا کے یچچ ناز پڑمیاتی ہآفضرت
”مہ سَمم اللألِمَْ عہذہ*“ کچ اور رتا لق كَ الْعَمْد“
اں رھاظ کے وت
مب ارک تین رت مماوی یو تلق ایا کے ہی ںکخودضرتے
معادیہ ڈناگ ینس لان کےکھوڑ ےکی نا ککا غا رع مین عبدال زی
سے براردہ جال ےتذا بکیاشیاسی مع نرکواورکیااعترائ سی نو نر
کوباتی رک ہے ۔(سیداامیرموادیہ چچنارددتجرنی را نگ )٢۵
عافڈاب نکیرنےنخل فرایا:
۔اعلارائن چجرگی موم لعل تفر تعبدالل کن مارک تالق لن کے بارے مم فرماتے ہی ںک
' ا نکی جلالت اوراماخت اور وا ی تل علیہ ہے اور وم“ قہءادب مو ملشت بشعر صا حت و
ْ جات ادریناوت وکرم کے جع تھے“ (سید ام رموادہ چناردوق جرضلیر بنا ض )٥۵
اودغتی اھ یارخان جم لعل فرماتے ہیں:”عبدالل بن سبارک دہ پذارگ ہیں جن کے موہ
تو کی اورامات پر قمام امت رسو لتق ہے اوران سے حقرت خط علیہ السلام علا تما تکرتے
ھ7 (ا ادن کچ ای نظرل۸م)
(۸٥۱۷۱٥٢.
220
”نسعد بن تقوب طالقانی نے با نکیا ےک ٹش نے
حصحفرت عبدالقہ بن مار ککو بیا نکر تے سنا ےکہتعقرت موادی کے
ا کک لی حف رت بن عبدرالع زی سے نل ہے۔ ۱
اورشھ ین مک جن سعیرنے جیا نکیا ےک رت اکن مارک
سے حقرت مواویہ کۓشلق وریا قتکیاگیاز 19 پ نےفر ٹا
شض ۓ بارے ش کیا اہوں“ کرسول ال لان ےسمع الله لمن
حمدہ کہا آپ کےغلف نےربنا لك الحمد ھا۔آپ ے
در یا ف تکیاعگیا صحطرت معاورہاورتحقرتعمرہ یعبدالزیز یل س کون
ال ہے؟ آپ نے ف مایا کول الل پللاکی معیت یش جوڑٹی حضرت
معاویہ کے دوفو ںنننوں میں پت ی تھی وو خر تتعمرین عبدالھ زی ے
ہنروا آن ہے یا الل کم حر نکی تر 0"
حم 8 خپرالعز. پروی مالعا ردی تا کرنے ےس
7 ےے ہیں:
”اس حقیقت پفورکرو۔ ا سک کی فضیلت نے ال وقت
معلوم ہوگی جب جھ عبدائقد جن مارک اورعم رین عبدالھ زی“ ہک نضیلتیں
موم ہوہا تی گی جوکہیشار ہیں اورح دش نکیمبسو کب ارناش
موجود ہیں حضر عمر بین عبدالہزی کو امام اعد گی اور پانچواں خلی“
راش کہا جانا ہے ۔ حیدشین اور فقہا ان کے قو لکویم اور جت ماتے
ہیں ۔حقرت خعفر علیہ السلام ا نکی ذیار کرت تھے ۔آپ دہ چیہ
حس ہیں جنہوں نے حدیث سو لکوت کرن ےکا عم فراا۔ جب
رت مواوبہ ینان ےکھی انل ہیں فان کے مقام دمرجرییشس جے ١
کیائمان ہکا مجے'۔
۰ و٤
221
( مرن او زتخرت ام رمواو بہار دوت جن الا رھ ناصرحاای ل٢۲)
”ایک آدیی خلیفہ راد تحضر تج جن عبدالزی کی خرمت میں
حاض رہوااورال نے زیدکوامی لم نو نکہا تپ نے ا ےکوڑ ےیگکوۓ
اورد درک دف کیا نے امیر معادی لہ وک آپ نے ا ےگ یکوڑے
ائۓے'۔
( مین اورترت ام ماد واردوز ج الناعی ہناشن میرمعادیل ۵۵)
”عھابرکرام اور ٹین عظام رت امیر متادی نی الم
گا مد عکرتے ہیں عالانکددہ خر تی ریش اللہ لی عنہ کے یکل
اور واقحات الا فیہ کے تام لوگوں ے زیادہ وائفک یں اوران گی
دیق جت ہے۔ ا متسطلالی حر بخاری یش فرماتے ہیں
رت معاو ہر منا تق بکا جموعہ ہیں“ ای طرعح شر مسلم میس سے
کہ“ آ پکا ار عددل فقلاء او حا اخیار ٹش ہے“ امام یا
فرماتے ٹی کہ ” آپ تمایت بردبادہکء سیاستقدان: صاح بعقل٠
ساد تکاملہ کےتفقراراورصاحب الرائۓ تھےگو اک یلوم کر ن ےکیلے
پا ہو تھے ۔ مح دی نکرام ان کے نام کے ساتھ یی“ کھت ہیں
لی اکہ دنگ رمحایہ کے ام کے ساتح کھت ہیں بلاتفلٛی جی اک بروایت
ارک حضرت ابن عباس کا قو لگزرچکاہے_
این اشھ رج دگی کے نہا می ٹس ححخرت ای نع ری ارٹخ ہما کی
ردایت ہے٤ د+فرماتے ہی ںکہ:” رسول اکرم ول کے بعر رت ماد یر
سےذیادہلاکن سیادت می ن سکیس یھ وی نے سوا لکیاکہ
فرتعم رفاروق شی اللہ ع ہکوگجی ؟ فرما اک :”حر تک ری الڈعنر
ان سے ہت رضرور نین سارت کے معالے میس وہ حضر تع رد
(۸۱۴۱٥٢.
222
ے بھی گے تھے '۔حعضرت ابی نع ردص اڈ تما کے ا سقو لکی تو ہہ
2 ہج ےکا نکی راد ہہ ےکہ منرت ام رمحادم خلمازعد
گی اور مال خر کرنے مس اپنا حالی نہ رکھتے تے اورینفس نے ام کا
عطلب پلیا ہےنہدوواٹگی اندا جم رالی یش ان سے بد کرت
( محت رین اورخرت ا می رموادیہ تار دوتر جم الناح ہگ لن ام رمواد یل )٣۵
3 باری میں منقول بیردایت پل مکزر ہی ےکی فعفرت
این عیائس زشھی الما سے لچ پچھامگ یا آ پکی امی الم وسنین محادیہ کے
ادرے می کیاداۓے ہے تہ وو و کی ایک بی رکعت پڑت ہیں؟ آپ
نےفر مایا :یٹک دوفنقہس ہی“ (ہفار کاب المنا تب باب 1کرمعادیچ٭ھ)
رت ضی عیاض )کی ادرحا فطای نکی ر رس الک نگل فرماتے ہیں :
”ینعی نے جناب معائیٰ نئان ےکہاک نا بگمرین
عبرالح زبز اور ای رحماد یکا کیاموازت- بی نگر جناب محا لاف صآ گیا
اورآپ نے فربایا نسحا برکرامکا موازنہ بعد ی۲ سآ نے والوں سے تدکرو-
ام رمواو بر بوتحوعیّتے حاصل ہے دہدمرو ںو ے جناب امم
معاو تضور علیہ ال والسلام کے صوایٴءام المونین کے پھائی ,تضور
علیالسلام کے کا جب دوگ اودوئی ای کےاشین جھے'۔
( کاب الشفا واردوجلردوع ے٠ ۱۰۸ا رر اہی کش رجلر ۹۹۰۸)
رت مولا نا جلال الد بن دوئی رحیۃ انشرعلیہ نے مشتوبیش ریف می ںآ پکوپار
پارتحخرتامیرالھوٴ می نککھا ہے...( سنوی شریف جلدددم) ہ
حفرت شاووی اش محرث دبلوکی رتم اد علی حقا ند کے بیان مل فرماتے ہیں :
”رك انتا عوکر ايْعَاةِل يِكبرِرَعُمْ :
يك وکا فی لقن وَستّهم عَرام یم وَاجت۔
۶ و٤
223
تمہ اود مسا گرا کاج بچھی ذک رک یی تیر کے سات وو نا چا ے دہ
سب ہمارےدیتی پیڈوا اور را ہیں ان جس ےکی کے ساتھ بدعقیرگی
رنااورا نکی بات نکر ایانس بر١ پھلاکناسب تام ہے ہم پہ
واجپ ہ ےک ہما نکی تیم وک مم بچالاتے ر ہیں .۔(لعتی وافے )
عقا یت یکین ملا حظہ وف رای:
بڑ الا بخں۔ :
جم :اود مکوسھابہ کے کر سے ذ با نکو بندرکھنا چا بے سوا ےک خر
ےھ جناچا ہے( تہذ یب التتا حداردوت جشرح حقا نی ص٣۱۰
قب اپل ملف بہاریٹ ریت ححضرت مول با ا مپدیلی پنشلھی ری ال علیفرماۓ
”عقیدہ۔ ام رمعادیہ لہ تد تے ا ن کا جج ہونا خی
یدن عبدا جن عپاس دشی ال ہما نے عدبیٹ ہظارکی شش بیان ایا
ہے مد حےصواب وخطادوفوں صادر ہو تے ہیں ۔ خطا دو سے سخطا
عزادئی یچ دکی شا ن نیل اورخطا ا جتمادکی ہی بچدے ہولی ہے اورائں
میس اس پیکندالڈراصلا ماخ ول ( با شییت از ل سض ۵۸۔ ام تکایان )
ا بآخر یں امام رای حضرت میددالف انی لن ج نکی شا ن تید ید کے ڈ کے
آ نج مگیا نے رہ ہیں' یتر جحات دتقلمات جن کی جاتی ہیں تاککوئی سۓ قول
کرےاوداقی اصلا کر نے۔ اللرتھالی بی شی د ہے والا ہے ۔آ بن مات ہیں:
” سب سے پچ لدب یکوفرقہ اجیا نت و جاعت رضوان
اتا مہم ائی نکی راے کے مطابقی جکملمافو کی سب ے
بی جماعت ہے مقیر ےکا درس تک ناما ذزئی ہے اک اضر وکیضجات و
کا مال متھمور ہو کے اور جداخنقادئی جواہسقّت کےکقیدرہ کےخلاف ے
(۸٥۱۷۱٥٢.
24
ح" ۸ بے جو ابدیی موت اورد 7 عذاب کک پنال ہے او راگ" گل
می پگکوتاہی او رستی ہوا سک یش کی امیدرہ تی ےلیک ناکرعقیر
"یس ستی ہوق ا ںکی محائی کی امینکیش ہے الطدتھالی جار کر ککو
محا فی لک بی کےاوراس کےعلادہ جوگناہ ہیں دہ سے چا ؤں معاف
ردپ یا( حرونعء)
ای نت و یراععت کے عق دک طور پکلھا چاتا ے۔ان
کے قیرے کے طابن اپے حقید ہکن راودا دولت پ اللہ
بانہ وتحاٹی سے عا ہمز کی اور راری سے استتتقاص تی دع اک بی ہی رت
( گے عقام کے بیان میں فر مات ہی ںکہ) ٰ '
اورسحا کرام مہم الرضوان کے ورمیان جوجھگڑے اورجگییں
ہوئی ہیں شلا جک بل و ہیک سفن و انکوائگھ مال پیگو لکرنا
5 چا پے اورخواہشات اورتحصب سے دورر ہنا چا ہے“ ان ئن روازین
کےنیں خی رالیش علیہ الصلو ات وا تسلیما تک صحیت میں خواہشات اور
تحصب سے پاک ہو چے تھے۔اورترش وکیدے پالنل صاف ھھے۔وہ
اگ کرت جع کیل اور اکر چھکڑاکرتے تھے دوبھ یت یلت ۔
کرد اپ اجنتجاد کے مطا ہم لکرتا تھا۔ ادرخوا شارت او رتحصب کے
شمائہ سے پاک ہوک خال کی مد افص تکرتا تھا۔ پچ رہن سکا اتاد درست
ہو اےدوور ۓ اورایک ول کے مطا بی یں در ےکا اب ے
>- وس سے سد سے می یت
ڈو .وس وو ژچہچژھچ2جو اھچ ا
چا بے ۔ عاقیت ان یٹ یکاشوت د ہے ہو ۓےتخص بکودل سے ہکا لکراورا سے ا جا معانی گول ِ
کر کاپنے ما ندکیبی اصلا عک لی چا ہےاودرگردیدد بھی ہیں ان یرد نظریات د
عقاحدکی چب دی اد ری ض رورئی ہے ۔ الف تھالی عیب د ہے الا ے-
1 .
ٍ
(۸۸٥۱۴۱٥٢.
225
اور ککا اج اددرست تہ ہواا بھی یک درجرٹ ا بت لگیا۔ ٹیل خطا
ککرنے والائھی درست اتا کر نے وا نکی ط رح ملاصت کات نہیں
ہے۔ دید ۔ج تیڈ اب ے ایل دوج امیررگتا ے۔
علما نے ہا ےک ان جنگوں میں تن حضرت امیر (سید باعل
مع اشوچھ) کی طرف تھا۔ اوریخالیٹو ںکا اتاد درس تنج لیکن اس
کے باوجودو تینکر نے کے خ نیس ہیں اور ام کی فیا ش ہیں
رکتے چ جا ئیک با نکوکا فریا فا نکہاجاے ۔نحخرت ام رکرممالذدہ چہرنے
فرمایا ہج ےک ہھادے پھائی ہم پہ با تی ہو میں دہ نکافر میں ض فان
کیوکہان کے پا تو یل ہے جوکفراوضق سے رو ہار ےپٹبر
بپلانے فرمایا ہے 'جواختلاف می رےصحاہس ہوں ان می ز با نکا لی
سے بین یل کٹمبر لق کے ام سحابک ہرگ بنا چاہے س بک نی
سے یادکرن چا بے اوران یش ےکا زگ کے برانہ+ون چا ہے
اورنی بای کر چاہے-اوران کے مرو ںکوووسروں اما ہے
سے ہن رکھنا چا بے ات اورخلاص یکا صرف پیر یق ہے۔
کیونکیسحا گرا مکی ددتی ہش خد ابق کی دؤت کی ببرے ے
اوران سے تی رسول ال کی دش یکک نے جانی ہے۔ایک ہرک
فرماتے ہیں ننس نے رسول الل بلفا کے سحا کی عزت نکی ان لک رسول
اللہ لٹا ریگ کون ایماںنش ے۔
(موبات!ماممر انی ضز ددم حع یفخ مک بل ۷×)
”وچ این ججرنے صاصق می کہا ےکر خخرت معادیراور
ام رکرم اللدہجہہ کے درمیان ھگڑے از روۓ انتاد ہے ہو ۓ ہیں
دوراں قو لکواہشت کے مختقدرات سے فر مایا .....تقاصمی (عیائ )
(۸٥۱۷٥۱.
226
نے شفاءشش یا نکیا(27ھ7)
حضرت امام ما لک مل ن ےکھاہ کین نے می پل کے
ا حاب ٹل سے یکومجی ابوبکر وعمروجنان درو بن حا (ریشی الد
عش ہم کوگالی دی او دک ہاکرد ہکفراورگھرانی پر تھ یااں کے سو؛اورکوئی
گال ای جس رع لوگ یک دوسر ےکوگالی جا لج ہیں و و وت
خذا بکا تن ہواکیو کن عحقرت امیر کےسا تھا یکرنے وا ل ےکف ریہ
نر جے۔ بی ےک لت زالی رففیو ں کا خال ہے۔ اود نہب اتی
تے۔ تی ےکیجنف نے خیا لکاہے اور بہت سے اصحا بکی طرف ان کو
مفو گیا ہے۔ پک طر ہوک سے چک تر بت صد یق اورطلی اور
زبیراور بہت سے اححا بکرام اٹچی مج سے تھے اورطلنراورز بیج لکی
لڑائی یش معادیہ یلد کے تروع سے پیل تیرہ پزارمتولوں کے ساتمڈل
ہوۓ نی ا نکوضلالت او رض کی طر فمفسو بک نے پر سوائے ای
ٹس کےک جس کے دل مس مرش ہواورا کے اشن می حبٹ ہووئی
مملمان د لیر یی سکرتا۔
اورامام مالک نے جوتا تن ٹس سے ہیں اورعلا ۓ مد نل
سے یادہ ھا لم ہیں نے معاو یراو ران الحائ ریشی ارڈ اکوگالی دہیے
وانے لکن اعم دا ہے۔اگر دوگالی کے خی ہو تے نذا نکوگالی
دنن دان ےو کاع مکیوں د ہے و معلوم ہو اکہ ال گال دی ےکوکیرہ
جا نکرا گال مال دان ےو کا عم دا نیزا نکوگالی دا ابوکرظر
وعان رشی ال تج مکوگالی دی ےکی ط رح خیا لکیا ےت عحضرت معادیے
برائی کے خن نیس ہیں۔
اے بھائی! معاو ہی یت ہااس معا لے مم نیس ہیں کم ومیٹی
۲ و٤
27
آد تھے اصحا بکرام ان کے سا جال معاملہ یش ربیک ہیں .بی اکر
ححطرت امی رگ٣ کم ارد ججہ کے ساتھلڑائ یکرنے والےکاف ریا ذاس
ہوں و صف دبع سے ا ا داٹھ جا ا ہے جوا نکی کے ذر ےہ تک
چا ہے اوراس با تکوسوائۓ زن بی کے مج س کا مقصودد ری نکی بر بای
ےکوی بین ںهتا۔
اے برادر !اس فققہ کے برا ون ےکا شا تحضر تعتان جزل کا
تی اوران کے تاوں سے ا نکا قصاص طل بکرنا ہے حخلیرو زی ری
الگا ھ اڈل سے باہر گے مات تال بے اث گے اور
رت صید یقہ نشی ال رختہا ن بھی اس اھرٹس ان کے سا تح موا فتق تک
اورک مل یس تیرہ زار دنن ہو اورطفی و زی بھی ہوکش شر
یس سے ہو ںقل ہوے ۔حخرت مان خلزہ کے تال کے با حث ہوا
ہےے۔اس کے بد محاودیہ اہ نے شام سےآ کان کے ساتحش یک ہوک
نک ف نید ا
امام خزالی نے تر ع کی ےک وہ جھڑاامرخلافت پل ہوا
تما کے پوراکرت کیل ضفرت ام رطزلدل ا تک ابذاٹل
ہواہے۔ اوران جھمر لد ن بھی اس بات کوبت کے مقتقرات
82
اے یاور! اس ام ری رر بی ےک ینب علیہ ااصلۃ
والسلام کے اصحاب ریشی انڈنتجم کےلڑائی جھلڑوں ے نماصوش ر ہیں
اوران کے کرازکار سے منموڑ میں _ جناب کٹ رعلی لص والسلام
نےفرمایا:
أٌ بقَحمْ وا شَحَرَئِع اضخابیٰ۔ -میرےاسحاب کےدرمیان جوگگڑے
(۸٥۱۴۱٥٢.
ہوئے ان سے اپ ےآ پکوچا5_
او تضورعل اص 7وال سام نے بج یھر یا: ا
ِا کر اَصْخَابیٰ قَانَيِکوا_ جب میرے ماب ہکا ذک رکیا جا تو
(طران) زبا ناکورو 2
خی حضورعل یصو تواللام نے قر یہ
لی اَمْعَبیٰ ٦ میرے اصحاب کےقن مس الد تمالیٰ
تَخْدُوْهُمْ عَرَضَ_ سے ڈرو اوراا نکو اپ رکا ناد نہ ١
ا
2 ۱
اورامام شاٹئی رم الشعلیہ نے فر مایا ہے اور نی زم بن عمبدالزیز ہل بھی
مقول ےک
يَنكَ دماء 2ر للِیی میدہ ون ٹیل شئن ے مارے پتھوں
َلبْکهْر عَنه اتا کو اللہ تھا لی نے پاک دکھا تق ہم اپی'
با ںکوان سے پاک رھت ؤں-
ای عبارت ک5 جا کاخ طاکویھی زبان پر نہ
پا ےل سا حر
وذ یور پا کیٹ ۔جھوٹےتسوں کا مکاداررکنا ابا آپ
کوضاث جک ہے۔فرق نا جی(ا نت د جماعت )کیتظیرضروری ے
تاکنجا تک امید پداہ' (تتو ات ضہ چیا دفزاو لگ ہراہ)
اک بر ابق تشم الل تھا یس ہم کے نز ویک اصحاب بر
علی پیم الصدو ات واتسلیمات؟ ایس می لڑائوں اورتھگڑوں کے وت
تج نکگردہ تھے ۔ ایک ما حت ول اوراجتھادکی رشنی می حعضر ہبی ید
(۸۸٥۱۴۱٥.
229
کے ںی 7 سٛست اق یھی دوری جماعت ولحل واجچار ے
سا آپ ےعاض لق پرنقسورک یت اورتسری بصساعت اس بارے
مسق تی اوداس نے بھی بکرٹل ےآاندل۔
یں کی جماعت پرحر تہ لک دوخ رت ضردریتی
کیہ وم ان کے اجچاو کے موافی در پرگے۔ اور دوسر ےگروہ پر 7
خرت ام رمحادیہ ظرلدکی نصرت ازم تی ینان کے اچتتچا وکا می
تقاضاتھاادرقیسرےگرد کلذ ق کا راستاختیا رک نا ضردریی قوااوری
ایک جان بکوتز یی د ینا خطا یس داخل تھا یں نو ںگروہوں نے اچ
اپن اچجتچاد کے مطاب یگ لکیا اور جو ان پرضردرک تھا بچالا ے۔ اذا
لام تک کیک شی ہےاوران پیل ن وشن کہاں من سب ہے" ح
سے می تر
اَصْحَابیٰ گالنجُْم لََِهم مر ےعاہہستارو ںکی رع ہیںت ان
ت فت یش سے جس کی اق اکر گے ہدایت
ہاے۔
اور یہت کی اعادیٹ تما م مھا کر یلیم وق رم وارد
بوئی ہیں . لی قھامصھابکومتزز ورم جانا چا بے اوران کی لفزشو ںکو
ای مطا! ب پگمو لکرت جا ہے۔ ہہ ہے اس متلہ ہش اہسقت ک۷
ھپ( عحوات ددم ض الب ر٣۳)
۶ و٤
ا الزافا عفان -
زاس ھابات
(۸٥۱۷٥۲.۰0
233
اکتزاضاتومطا نکا از اورتوابات
اعتزاض١
۱ آ پکتچے ہی ںکرسحا ہکرام نشی انڈٹنتھ میں عپریان نم دل اورذالی
ٹفوس وعناد سے پاک تے۔ اکر ورست ہے یلران میس جیگی ںکیوں ہونیں ایی
ای :ان می ےت پرکون تاا و مقائ لس شرئ یپ مکا خی سے؟ لن لو کی
ہی با پملڑنے دالے دوفوں فرب ین نیس ہوسکت ایک ضرددبائل پ ہوا ہے ای
۱ لئ لف برق خلف“ راشد رت لی لہ سےلڑ نے کے با عحث ححضرت ام رمحاوي
ضردر ال پہتے۔اس پآ پکیا کے ؤں؟
ماپ
عحییت کشم ےاورآ دی ابکلحبت عی سے بین جانا ےت ان یقت
کیم رر مفک الا مصور پاکستان تعضرت علا گرا تال علی ال رقف رات یی۔
محرہت ال صفاء ور و ہرور و مور
سرخنل دپلیف سے لالب آب جو
اورمشمدا تال تحفرت ول ن ھجلا اللد ین روئی رم ال علیفر ماتے زلم
مجت عاياڈ ۃا مان کد
اورعہبط وتیآسالی ء مورد یا ت ق رآ نی ء دی مل عرفانء پادئی الس و جانء
سردردوچیاں مم شی ل قیراں تضورنیکرم رسول عم قیفر مات ہیں:
بقل اَی الطّالح وَالشُوْءِ اب الْنْكِ نافع
(۸٥۱۷۱٥٢.
234
الکْر فََایلِ الْسْك وگ ا يُحِْيَكَ راگ ان تتا ءَِنۂ
رگا تَجة من رِيْحا طینة َتافع الکْرإِن ان برق
ييابَكَ اما آئ َجة ند ربکا خَِک ںان
کن ال گال بفاریءسم) ۱
تم :اھ برے رای کا مثال مقک کے اٹھانے وانے اود بجی
وچ کے دا ل کیاکی ہے۔ ملک بردار یت یں اود ےد ےگا اقم اس
ےت یل گے اور یاتم اس ے ای خوبو پالو کے اوربھٹی دھو کے والایا
تمہاارےکپڑڑےجلاد ےگا ام ال سے بد ہہ پالوے_
تج معقرات ھا ہکرام شی ارڈ تم سی الصای ن موب رب العا لین جتاب ۱
سیدال ین تضور ناخ نین علہ لصلو ہو کیا پاکیزہ اور مارگ عحبت ومییتے
سے ینیاب ب| ۓ اوران پاگیزہ رلوں نے زا مصطفوی ظعاو راست کے
حائ٥ لکیا۔ارشادیاری تھا ی ے:
وی كيْهم ہرد
7 جمہ:اوددوای وپ پا گا ے_
جب عام او نکاعحبت صا لیت چٹ ہے اود یکوصارغ دق سا پھر
سیدالص ین ور اکرم لمحت در بیت ک ےی وا کک یا الم ہوگا۔ قناصحببت
وی لی صا ما الو والسلا مکی ووری بے بک رکوئی دوا نیش ۔خرت ایام
رای عجددالف انی لد فرماتے ہیں:
“ا ن کا ایمانعحبت اورخزول وت یکی ہت سےتکہودیی ہو چا
ہے۔(کحویات :فلس بفر٥د۵)
قذ اب ذداخود ہی ورف ای ںکرعحبت نبوکی کے شرف سےمشرف اورہگاء
مصطقوی ے فیضیاب ہہونے وا نے سا کرام ری ال تم کیرٹ لیے ای
(۸۸۷۸٥۱۷۱٥۲.
235
رداداریی؟ شفقت عحبت اورصا یت ک ےکس بلند مقام پ فا نز ہیں۔ یش لآ
علیہ نے والسلام نے بے ش٦ فیس محبت سے فیضیاب نرہ کراپ “ھا ہلوگ بے
من بنادیا ہے ۔کوگ بھی ط یہ امت ان سے جمسربی کا دوک ینمی سکرککتا_ انل کے
رسودل ڈٹا نے فرایا:
افرِمُزا َصحابی نَم زورب حقاسیی)
ت جم میہر مھا بر عز تک وکیون دو ہتہارے؛ھت بن ہیں-
تی کرحفر تخوایہ اون شقرمی جیچھ ج رات لین ہونے کے پاوجورتخورطیہ
ااصلؤ والسلام کے مھا لی کے ادف مر ت کنمی سمل کے ۔حضرت امام بای سینا
محبردالف الیم فرمات ہیں:
”جناب تیر الہش رعلیاصلے ت والسلا مک صحب تک فقیلت ٹل
یسب حعفراتہ نشرک ہیں اورمحب تک ففیلت سب فضاتل الات
سے اتی اور بد ہے۔ ای بنا یعخرت اولیسقر می لہ جو خی رالتا ان
ہیں تضورعلیہالصلۃ والسلام کے “ھا ی کے ادفی مرح ہک ک بھی می سک
ے۔ اب اص تک فضیل تکاکوئی بھی مقابلنو سکریق“_
(ھتبات ن راز لکتیفر٥ن۵)
اوریحبت ہو یکی برکت ےصا لیت اور ق کی شی بیدوات با اتا ء ہب
کےس بمفا کرام زی انڈمکوحاصل ہوئی۔ تین رت ئ بدا عحرٹ
٘ وبلدی مب اش لیڈ رماتے ہیں:(7جہ) ا
اصوا کا تضور علیہ لصو والسلام ے شرف محاءیت شف سے
اوران کےغلاف جو چوک امگیاوونی ہے اون لقن کے مار کیل
ہویکیا۔اورلیقی نکوک نکی وج ےکی بچھوڑ اجا ستا٠
( یل :زا یمان فاری بحوالسید می ماد “چنا ئل ق کین ہلگ _دے )
(۸٥۱۷۱٥٢.۰0
۰
236
ہیں تا 2 کے تا س|مکا کرام زی اللہ مس دحا داورذ اق کیوصرالی تام
الا یککردد ول سے پاک تھے۔ دو یقن آ چک ازم ول اوربریان تھے۔ اتال
نے اپے رسولکرم پل ک ےی محبت اورظ رعت سے مستضیدر صتخیض ہونے
دالے ارام کےافخلاقی نکی خو ریف ف مال یکا کرام دوففوس مد سی ہیں
جآ میں 1 وصداورعدادت وگدسے پاک اور ا .نفسرے پبران
ہیں ۔ارشاد ارئی تھا ی ملا نظ ہف میا:
مُعَمَّ رَحُول اللہ ۔ وَلَيِيْنَ تق يڈاء دلی اکر رت
ںا :
تھ جم :مال کے رسول اوران کے ساتھدا لے( ھا کرام پکاخروں پر
مت اور ہیں شراخ دلہریاں۔ ٘
اشقال ےرَلَدَیْنَ ضس کپ کر رسول اکرم اک معیت (جتدے
یضیاب ہو نے والے سب مھا ہکرام ری ال ما نین یں مم
ادرمیالن فرایادپے۔خرت ام بای سید ہمد دالف ٹالی فرماتے ہیں:
صفرت بعانہدتھا یف رآن ید لہ پل کے حابکرام
شیا انشنھم ک تی تما یك ربا ا ہے۔ لی ان بزرگواروں کے
ت٢ ایک دسرے ے عدراوت دکین رک کالما نکر نس ترآن
کے رخلاف ہے ( و ات رز دہ تل کو بر ۸۷)
ذاش ملمان اہر دوقرآ نکو ول سے اتا بھی لے پیم ١
تقد رکنا چا ےک حا کرام یجیانڈیٹج مآ بس مز دل اورہریان ت افخ وص
سے پاک ادوفقرت کید ےم اتال کافروں پفررفے ےڈا علی --'
الف 76 جمان تقیقت ضر ت علا میشگراتقبال علیہ ال رت نےکیاخو بت جما فرائی:
۴ و٤
237
ےو علق یاراں ت برغم کی طرح زم
نم0٦ 0 پل ہو زار سے مین
۱ اور ج مھا کرام کے درمیان جگیس میس تو دہ خلیڈٹجی سے رب تا یکی رضا
ا کی طلب او رتو میں اجشتبادبی خطا ہوجانے کے باعت موگنی سی ذانی عناداور
نفمانی خوائہش کی جتا پرانہوں نے آٹیں می سکڑائیاں می ںکییں۔ ار کی ملم
حضرت اما دوک شرحں سم خرفرتے وں۔رڑیں
”ححفرت گی جچل کل خلا فت بالا ماك ےاوراۓ وی
ٹس دوتی غلیفہ تھے ان کے علاو و یکی خلاق تی چھی ۔جخرت مواوے
مل عاول فضلا حا نجباءیٹش سے ہیں ان میس جوگیس ہونیں ان مس
ہرفر بی یکوکوئی شیہلاحضیی تھا اود برف لن کا اخنقاد تھا کرد مححت اورنڈ اب
پ4 ہے اود تھام صعحابہ تک اور عادل ہیں۔ جک اور دوسرے خزائی
محاللات یل ہرف رب کی ایک تا وش یھی اوراس اختلا فکی وج ےکولی
صحالی عدالت اورجی ے نار نیس ہوتا کون ووسب چمچ تھے اوران
کا مسائل می اہہتمادی اختلا ف تھاج٘س طط رح ان کے بعد کے قد ین کا
تام اوردیت کے مسائل می امادی اخلاف ہے اس ےکا
فرب یی نیس و ز می سآ ی“۔
(نووی شر ص“سغم ع ۶۱ضل۲د٣بابنضل جب2 )
کچ فا اور سلم یں ایک بیع ی ثجیمتقول ہے .جن صاوق تضور
رسول ارم لم چون ارشا فرای:
” تفم دع سی تَََْ فان َهيِعَکٍ نكزْه یه
مَفَلَة عَظِيْمَةٌ دَغُوَاهمَا و وَاحذةً“۔
(ئج ہخاری جلد ص۵۴ * 1کت بے افتن بئ لم ص۹۰ س تاب اقجن )
(۸٥۱۷۱٥٢.
238
خربعمہ: قیا مت اس وف تک ک تا یں گی جب ت کک مس لاو ںکی دو
بڑی ما اتی لڑ نہٰیش ان کے درمیان شد تک لڑائی ہوگی ذو ا نکا
ایگ ہوگا۔
عم الاسلام جرت شادولی ایرث دہلویی رم الل عیاسی روای ]نل
فرماتے ہو کے ہیں۔ ۱
پحف رت وق نےعفین کے وا قدکی خردی اوران
(بفارکی ومسلم )نے حفرت الہ ہریرہ تفہ سے روای تک ہ ےکدانہوں
ن ےکیارسول خداپقا نے فربای ”امت اس دق ت تک قائم ض وگ یکردو
ےگروولڑ اوروثول کی ءا مم واوردوفو لکا دوک ایل ہڑ'_
(از لی انا ءاردودومل۵۳۰)
ایح یٴث پاک سے وائ طود پر معلوم ہورہاہجےردوٰوں جوایتوں میں رے
کی کےبھی قوش نظطرنفض وعناؤذاقی لائی یا اق ارک خوا اش نی تی پگ دیتوں
اسلا مکی دثوت لن ےگرکھٹری ہوک یں اوراپی اتی دائۓ کے مطابی دووں جی اسلام
گا یلندکااوردی نکی بھلائی چا یں ۱
اورتضورییر صادقی جناب نی اکر ہللا نے جیےفمایاد لی ہی ہوا۔ دوگ روہوں
میں لڑائی بھی ۳ عا بھی ہوا اور روٹو لکا کوک یکھی ایل بجی تھا۔ مولااۓے
کاننات جتاب سیدناع کرم الشد جج ےمطسو بآ پکاف مان عایشان سییۓ ناپ
نے ہش صفین کے بعداپے ال ک ےنام بلوروضاح تھا
َالطَاهِر ا ربا وَج وَتْجا وَاة وَدغرَنَ فی الِسلام
وَاجتۃ وَلا تَسْمَريدّهُم فی الیَْان باللهوَالتصَیِیق برَسُزلر
ولا يسَْيدونََ المْر وَاجة الا مَاخَتلفه یه بِنْ کم عَنْعَانَ
عدھ 3ھر۔رھ6
ونحن مٹه براء۔
(۸۸٥۱۷٥.
29
خر جممہ: اہ ریس چم س بکا پردددگادڈمیک تھا ہما رای ایک تھا ہما ری ذکوت
اسلام ای کتھی نہ ہم ان سے ایمان با ادد تقد لپ پالرسول می کی
افا نے کامطالبہکر تے تھے ضدہ م ےکر تے تھے۔(ائس معاحلہ یش )
یھ سب ایک چے ا خلا ف ھا نو صرفعثان یلد کے خون مس اخلاف
تھا خلا ہراس خون سے ہم بالنل بر ال مہ تے- ۱
( امن تب تح صر ر۸ ضص۸۶۷)
اب نو رر ن ےکا بات مہ سےکہ جب دوفو نگر ہو ںکا دگوگی ایک بی تھا تر
ضروری ہواکمہ لا یکفرواسلا مکی وہ سے یالسی جانب سے ذات یف وعنار کے
باعٹن ہوئی لیگ فی اوراجتادی خطا کے باعث ہہوئی ححضرت امامر بالی رد
أآ الف فان تسس النورا فا یں:
”اود لڑائیاں ٹھکڑے جو ان (ساہ) کے درمیان واتح
ہو دہ کیک مرادوں اور طخ عتوں بیو ہیں دہ چہالت یا خواہخل
اہچاد م شی ہوگئی_ ایے خطا کا رکیل بھی ادلدتھالی کے ہاں وا پکا
ایک درجہ ہے می افراط وف بیط کے ددمیان راہ سے ج سکو انت و
جماعت نے اخفقیارکیااو رم یکفو ظط اورمقبو مات راستہ ہے“
کی ےرنرزو لک ب+ر۵۰۹)
”ان مز رگوں کےنفوں جنا ب خی رالنش رعلی الو ات وا لمات
کی صحیت میں خواہشات او رتخصب سے پاک ہو چچے تھ ادرگل وکی
سے پالل صاف تے و اگ کر تے تق نکیلے اور اک جن ڑ اکر تے
7 وو بھی کی کے رکرو اآۓ احبار کے مطاب ع۷ لکنا تھا اور
خواہشمات اورتخصب کے شایہ سے پاک ہوک رمخال فکی حدافع تکرتا
۶ و٤
240
ھا“( گے نزرمصرتعکویبرے)؛
”جاننا چا ےک ضردر ینیل اک تمام امو رخلاقیہ میں صعضرتے ۱
ام ر(سید می )تق پ ہو اوران کا خالف فطاپ اکر چرموال
پگ ںی ححضرت ام رک مرف تھا کیوککہ بس ادقات ایاہوا کہ
زماندلھابہ کے اشلاثی امورسعلا الین اورائم چیچھ بن نے حر
7727 ضرہب انقیارکیاہے اور رت ام رکے بزہب کےمطابق
فیملن سکیا۔اک ری جاب ام رکیے نین ومق رد ہوتا تاس کے نذہب
کےغلاف فیصملہ ددہیے۔ اض شر نے جو ہایس شی سے یں اور
صاحب اجچّارہوۓ یں ہب ام ر کےخالف قمدکیا اورتخرت
امام تن علیہ الرضوا نک یگوائی ا نک بنا ون ےک وجہ سے ان کےتج
قول تک ارپین نے شی شرع سقول کے مطاب اک لکیاے
اود یی ےکی شبادت باپ کےکی مس جائ زی تلیمگی۔اور بہت سے
ددسرے ماک می بھی ضر تگلی لہ کے موادوسروں کےاقوال اخقیار
کے ہیں جوضرتہلی خلدکی رائے حالف ہیں ۔انصاف تن و
تق کرنے والے پ یہ بات پپشیدہ نکی (اس بارے می زیا دبھ
جحفرت علامہاین جگرگی رم اللعلینٹل فرماتے ہیں : آپ (نینی حر تی یہ )صفین میں
ےہایک زر و ہوکی جھ ایک یبدا کے پا ےٹآ پ ای ما لک فی لک ران ےکیلئے اے
تاکیشر سے پاکی لے گھن۔ادرآپ نے زد ہکا وگوکی دائرکیا تق یپددی نے اٹک رکردیا اض
شر نے رت ہی ے شہادت طل بکا و آپ اپ خلا تع اورحخرت جس یکو نے؟ ے_
قاع اش ران ےآپ مے(ا شا فکیا اد کھاباپ کےتی ھم ج ےکی شہادت جا نہیں
بدا ت ےکھا:امی رالم ومن نے یھ اپ قامھی کےآ گے جن کیا۔ قاعضی نے ان کے خلاف
فیلہدیا۔ اس کے بعددہ(اسلا مکی خقاخیت اوراتصاف و کھت ہوۓ کم شہادت پٹ ےکرمسلران
وکیا اورک ہاکردوزدہآپ ج کی ہے“ (الصواصن اھر زا رورض ۶۳۵)
۷۷۵۰۵۳
241
کی کیک نیو کیک ) ا سک یتفصیل طوالت اہی ہے۔ بل
خلا صکلام بی ہوا فخالفت امیر اعترائ لکیکنکٗش کی اورآپ کے
الف شعن وطامت کے یں ( بات :ضر ددم او لکتوبفر۳۰+)
سندرلید شن رت شا وعبدالعزبمیرت دبلٹی رحمۃ الیل عیفر ماتے ہیں:
“نواشع رر ےکرنقی اججتبادی مان لا اماصت. رات
بقمبرہ رٹیل اتی کا قام ن ہدنائتی شس تق وغیرہ یں جناب
امیر( صقر تی ول کی خالفت ہرگ فیس رکف رکیامتصیت گنا نی
نی ںکیوگل؟ پ بھی تجمل ہج بین ایک جمچھ تے اور مال انتادیے شش
دو ںکااشتلاف جات اور ہیما جدکاستن ے* 2
(تحفاش ور یاررض ۸ء )
بہرحال برخطاجولڑائ یکا باعث بیاسقت کے ز دک اہتہادی خطاتی ءخیفقہ
برق حفرت مولیعلی یکا مقاہکرنے والوں سے ہوگی سینا حف تک یکرم اد
وجڈراتے ہیں۔نَن لها“ ہما سے برک ہیں رق لاف )اورائمدشد
اپقت !نیس اس سے مرگ عی ماتے ہیں ۔ بہرحالل حعف رت لی لہ کےتخوالف لڑ نے
والو ںکی خطا ے اتیادی ن بھی یس فو اب بیکاقی دارم رایا ےکنا ءکاکیں -
و اگ ربتض موا (گرد لی الرفٹی ) کا مقصو دق رضیاے الیکا تمول مانا
جا اون مھا (گرووامیرمعاویہ )کا متصودرضا سے خدا ون یکا تصول ن انا
جاۓنذ ال ےق رآ نکر مک مت ”یتقو فلا ین الله وَرِسُوَن تا یں
(سب )اللہ سیأنفل اوراا سکی رضا کے طلبگار میں ا ۔۲۹) کا انار لا نم٦
ہے اورایمان ببادہوجاناے خر کا دعوادفرت کی کا مس قرار
دیاجائۓذ کد وق رآ کر رَحمَاہ کم ینآ یی مش مربان ہیں کی
سا س1 چون لاب ےکگتیرے ے
۷ٔ “٤
242
ور و کے زگ ے کے ایک ہون ےکا بھی ا گار ہوتا تق اس اکا سے صدیری ٴ
رسول خداب اورفر مان می الرٹفٹی یل دک مطائف بھی لاو مآلی ہے اوراس ےبھی
ایا سلاص تنا ر ہتا۔اہیے لوگو ںکل بھی جہنم جس بچھنک دچے چان ےکی وعید
مود ہے تنک ری ریہ
وََْ اي ارول ِنْ هد کا تین له ای وت عَْر
سَيْ ريد هن نول ما تولی وَلضّل جَهَكم .رات
مَصِیْرا(ص, ۔-۵٥)
ت جمہ:اددجودسو لکا خلا فکرے بعد کرت راستہاس پیل پگااور
ملمافو ںکی راہ سے جداراہ لے ہم اسے ال کے عال پر بوڈ دی
گے سے دوزرغ یش داق لک یی کے اورکیای برکیا کہ پکٹنھگی_
(کنزالایمان)
جنا بکن! اب ڈراو رکری یکرآ پ مس مقام پرکھڑے ہیں اور پکاز او
گا کیا ہے ۔قرآن دحد ٹک عخالفت مہ لآپ کت دلی ہو ہیں ۔ اہاسّ ت کا
عقید دق رآن دعد یٹ کےمطان ے یا آ پگا؟
کون تا رکآ 1 سرلم3ؤفمار؟ مصلحت وق تکی ہے س کے لکامیار؟
ک سکیہگموں یں سا ےشعاراخیار؟ ہو یک سکی جگ رز ملف ے بزان؟
قب میں سسو نیس رروں میں اص ام یں
بھی پنیا مھ کا میں پا نہیں
جاری ۃ مج یگزاہش ہک دولو ںگروہو ںکوذاقیفنض راد سے پاک ایک
دوصرے پرمربان اودر بک رضا اچ دالا مان لیا یا جا ۓےکیون اش تا ٰیٰ نے جج
”رْحَماء بَيتَهُم ”ا لَقوْ لایر الله رَرِمْرَا“ فرماے لزان دی
اضاء کےس با رکف ایاہے سی ای ککیےس او رحضوربی اکرم لے بھی
۰ً و٤
243
دونو ںگروہوں کے وگ کو ایک ىیتراردیا ے۔-اور جناب گی ای رض الم
"7 نےبھ یجف ال عثان یہ کے قصاصض کے من کو جن کک وجہ تایا ہے اورالی برقام
مت نے صادکیا جےگو با بجی اسلام ہاور بجی ایمان ہے اذا ےق لکر لیا بہت
ضرورتی ہے ۔کیونہاسلام وعدت امت چاہتاےفرقہ با زا رٹل چاہتا-
ےآ غیمر یت کے پردے اگ بادچھراشھاد یی
رو ںکو پچھ رط دمیں نت دولی ملا دی
اورزائی لف وعناد کےبفیرصرف خایڈٹھی ے اختلاف اورججکڑ ہو جن پفنن
نمی اورخلاف وا یھی نیس تی اجھ یارخانن٘ھی رت اض علیأقل فرماتے ہیں :
”ہت دع جنابگی منص ادستہفا مز ہرائیشی الڈشنایش
ای محا لات می شکررنگی ہو جال ی تھی ۔شہادتعثان کے دن نحضرتکل
لد نے اما ین لہ کے رخ شرف پیلماچماراکیغم نے تفاظت یش
مصسست یکیو ںکی۔ ایک بارحخرت عیاس لداو رض تی ین م شحفت
رن ہی جوحفر تھی نے دورکی۔( لم ش ربیل ہر تعاس
نے حض تی خی اشک ا کیلئ بہ تخت الفاظط اتال کے
(امی ماد ظا اک ظرل۵٦)
مول نا مودودگی ایک مقام پرفرمات ہیں :
”می انمان( “حا ہکرام )جب آئی م ںلڑیی جات تھے
قواا نکی ال لڑائی لگ ی”رحماء بیٹھم“ “ہو ےک ایک افوھی ان پا
جا تی بے کیک دہ کل وین می ایک ددصرے کےخاف جرد
زی ہو ئے ہیں مگ رکیا دنا کسی خان گی می آپ فرقی نکو کیک
ۓ سس ماب الماددایر با ب عم اھ اس حدی ٹکوہم مفیص رن دحدیث سےکیول
ار ےکیو نہیں ؟ کےمنوان کےیقق بن لکر چے ہیں-
(۸٥۱۷۱٥۱.
244
دوسرے کےسا اھلڑتے ہو بھی ایک دوس ےکا دواترامہگوظا رب
د یھ یں جوان بن دکو ںک لڑائی م نآ ہے دہ کیک تی کے مات
اپنے آ پگرتؾ یجاب ھت ہو اڑے تے۔نفمانی عرارں اور
اخراضل 0/1 0
دن ٹا تی ےلڑالی ہوچانادونو ںگروہوں نے ےا کےاسلام کےقلاف
بھی کی کہ ای کفکویسلران اوروومر۔ ےکوکاف رکہا جاےیا ایک تن پراورووصر۔ کو
17 پ کہا جائۓے یا ای ککوفا ب کان داراوردوسر ےک وکا رہ ریا جاے ۔کیونکہ ہے
ووٹو ںگروم بی اسلام پ گے اور وولوں بی واب پانے والے جے۔حرت جح
عبدافی محرث دولوئ و اللعلیأقل فرماتے ہیں:
نغمزدومنین میں ای کش سکوحضرت معاویہ لک وجوں
سے قیدکر کے لا ا گیا حا بین یں سے ای تن سکواس نز سآ گیاوہ
کین لا: خداکیتم! ش اسے جاغا ہو ںکہ یہ ملمان تھا اور اص
ملمان تھا۔اغ سو ںک را لک اراس عالت پ ہور پا ہے تحت کیچ
نے فرما اکا کچے ہو؟د وق ا ببھیمسلمان ہی ہے
( کیل ال یمان اررگےے١۱)
تل چک
”ایک روز سینا گی جیلد 22 کے وورانی اہر گےآپ گے
ات سای رسوگن سینا عدکی ین حائم لن تھے۔انہوں نے بقی لے کے ایک
مقتق لکوپڑاہواپایا۔ سی نا حدکی لہ کے من سے پیا افو ا مسلمان تر
اورآر جع کاف روک رمراپڑا ہے“ حر ت کی لد نے جب الن کے منرے ہے
سنانف رمایا:
”کا نس من وم مم شک بی من او رآ
(۸۸٥۱۴۱٥.
245
بھی مین ہے“ ۔اورتحضر تی لہ کے ساتھیدوں نے ان سے لو اک
معاوہہ کے جو اتی کین میں مارے سے ہیں ا نکاشر یم
کیا ؟کیادوم کن تے یا کافر؟ آپ نے بلا تک فر ایا :سم
امو یجن دوب ین یں'_
(ابین ماکز تہ یبارت رض گی زئ٤ص۴۶۰۷)
لہ جناب رسول ال ہلا نے خودحھی وونوں کے دوک یکو ای کہا (ازطۃ انظاء
اررورومص۵۳۰) اور اما 6 رذن کے کرواۓ وائی ردات ڈل روآولں گروہوں کو
تح خقطتََن هن المملیمیَ۔ (ہاری جک۶) کےالفاط سے مان قراردیا
رادتقا ٹی نے بھی دونوںگمروہو ںکسلمان بیقر مایا ہے۔ارشاد بای تھا طاحظہ
ہو
ان اٹ مز الو َاصْلِحُوا تَا .
(اگجراے_۹)
تزج:اوراگرلمانوں کے دوکرد ہیں می لی تذان یں کرو
اورظا ہر ہے اسلام کے وٹوکی کے ساتھھ جوجی ےگا و اب بی کا قدار ہوگا
گنا ءکانڑیں _ لیس دوفو ںگمروہو ںکوہ چو لمران بی تھے .نو اب بی ہوا گنا کو یبھی
نہ ہواگحققی منص رعلا مہ حا فا شفقات ات نقشندی نے اس برق رآ نکرمم سے ایک
ھا ندارولیل بچن کی ہے۔طلاحظہہدہفرماتے ہیں:
”اگ ری کے ول شی یی سوسہ پیدا ہوک جھابرگرام کے درمیان
الا فا ت بھی پیداہوے گی بک بھی ہومیں ۔بھران یس ےن
ٴ کون تا اود تال کےمتحل کیا ش رئیم گان وگ ار ہ ےک ھا ہکرام
. کے درمیان جوجھی اختلافات پیا ہو دہ اصول دن ےعلق ہیں
تھے اور نہ ہی ا نکی جچگیں اسدام دور عم نی یی یں بکمہ ان کے
۶ ٤
246
ال فا ت اجتا. ی خلطلیوں پا مض فلدھیوں پپینی تھے جس کا یمان اور
اسلام پ بھی پدتا ہی اکرعفرت سوک الام نے اپنایدے
بھائی الہ کے مر اردان علہالسلام سے خلت کی نا ڑا کیا۔
ق را تکقتاں ز ھن پہ ینک د یی اور ایک پاتھ سے حعنرت پارون
علیہ ا لام کےس کے با لی چو لے اوردوسرے ات سے؟ پک داڑٹی
1 رت باون عی السلام نے فرمایا“ ا َو لااغذ
لی ولا برای“ ۔ لم .۹۴ ءاعراف۔۱۵۰)اے مھرے ہما جاۓ
یرگ دای اوریہرے۔ رکے بال دیج لین اس مقام پرحعفرت موی
علیہ السلام کے ذ کو یکنا ون کیو ہآپ اس فلا تھی میں حعضرے
پارون علیرالسلام سےدست وگ یہاں ہو ے جےکشایدنخرت پارون
نے قو مکو پھر ےکا پہ جار نے ےم نیس فر مایا تھا عال ان مقرت
پاردن علیہالسلام اس سے برق لغ مہ تھے ۔اکی طر اگ سی سوا کسی
صحا لی ے ارے میںکوئی نااتی پیا ہوئی اورووان سے ہھکڑا ان
درتخیقت دہ صحالی اس الفزام سے برک ال مہ تق دوفو ںگروو قد ا کی
پارگاوٹ شلگنا رکیل ہہوں گے( من قب :ای رسای ڑا ۶۹
لی حور ہہ بات ےکہ جب ممصوم (نی) سے ای جات ہوجانا ا لک
غعمت کے خلا فی تو خی محصوم( ای ے لی مج اگراڑی بات ہو جا تو
کیامضما تق ہے اور جب اس پاتھا پا گی بر اللہ نے نخرت موک علیرالسلام ےمواغزہ
نیس فر ایا کیا خلڈٹی اوراجتمادی نا کے باعث سید اع کر اللہ وچہ سے ہگ
کر نے پرمواخذ ومترو کی ہوسکتا۔
اورک یی حضر ےکی یہ اورتحضرت موادیہ کا کن الٹی اخقیارکر نے
ےکی بجی نا ہرہوتا کہ جن کفکفرداسلام اور و بال یا وعنا کے یاعحعث
۴ "و٤
جامس وو نوتس وا اتی دسر ہس ےہ جٗہر'
247
نہیں ہولتی اختلاف راے اورفلڈٹ یکا یی مجر جب خارتیوں نے بی گر
کہفداکے دین میس لیم درس ت نیس ءخرو نکیا تق حض تی لن ےکیم کے جواز
اوداغبات پر رآا نکر سے استقد لا لک تے ہو ئےف مایا:
”الف تتمالی ایک مردوکورت کے معا لہ سکتا ہ ےکم ”ان
امْلكَا "ان یْةِصْلاحاهوقني الله یعكمَا۔ (۵ص.۳3)اوراگر
ان دوفوں کے درمیان اخلا فکا خوف ہو2 انی کعھم شوپ ر کے ال سے
اورای کورت کے ال ےکا وو دیون کرات کا اداد وک 2,1
گے خداان دوفو ںکو فقی د ےگا“ ٹیل امت ہللا ککورت دمرد
کے خون وقرمت سے بت بڑکی ہےقم بھ سے اس با تکو ناپ کر تے
ہوکری نے محاوی سے را کی“ (از لت فا راردوردم۵۳۴۱۔۵۳۴)
باب مین عم سید نی ال ھی دکی ٹن کردہ ال لآ یت مبارکہ کے مطاْق
صرف ان دومرد دگورت (شو ہراور یوگی) میں ش غکران ےکیل مع مقر سے جانہیں
کے جن میں ملمان ہدوت ہے غلڈٹھی کے باعت اختلاف ہوگا۔ گر دنو است
مردواورت می سکفرواسلامکا لہ پیداہوا تن دووں ٹس سےلوگی ایک معاذ لئ رت
ہوگیاقذان یش زع درست ہو اور زی کیل عمق ررکرنادرست ہوگا۔ گان ٹل
تفر لن ہوجا ۓےگی ۔گو یلیم کے فیصلہ نے مرددعورت دوفو ںکومسلمان مان لیا ت
جب ولا ےکا مات نضر تی لہ نے ام رمعاویہ شود تک اورا سک ےج مقر
رنے کے جواز واشا کیلع فکورہآیمت ے استعلا لگیا ےو ضرودی ہوا
یہاں گی دینوں بجی فرلیقو ںکا اسلام اور ایبان درست ہو اور مہا ں ھی ن اع اور
اختلاف کا بب صرف خلدٹجی اور اجتادی خلا بی ہو۔ لیس لی کر چیشی لین
دوٹوںگرورملران ہی بادر ےک حر تی انی اورامیر ماد (رضی اللہ
(۸۱۴۱٥٢.
248
مپھا) نک کی ابد موی اشعری اوران الحاص ری اڈ اکواپنا پچ مقرر
فرمای۔۔ تی ردان :زسیآیت 4آ )اور بھی ہوئی اورائل ک ےمم کے مطابی
یہو ارایا”وَانْ اق بن الْمَرييَ اَلَو َاصِْحُوا يھت“
(ارت۔4)اور جب فلیہ راش سی ای ال یکرم اد ججہن سخ مکی اے موا
صیکیصبت او خلا یکا دوگ کر نے والوکیاوجہ ےکی ہخرت ام رمحاوی ےک اک
۱ اس ما پرداشی نیس ہو تے ؟ بیج کون بت ےے؟ یتال یخلت ہے۔اکرکوئی
حعفرت کی مدکی میں ص رر ماق تکوجھی ا نکی محبت اورخلائ یبھتا ہے لو چھر ہے
فلہفی: نحبت مار لے پالا ے-
کے انی تع ہے سار زمانے سے نرانے ہیں
عاش یکو نس یٹھتی کے ارب رتچ والے یں
زراسو چے اجب حعف رتپ ال نی لہ کے نزدیک ام رسحادی ھچگ اسلام
یک دکدت دہیے دالے ہیں اور لی کے با عحث حضرت عان مل کی کے
ماش پراخلاف کے علاوءکوئی سبب اختلاف وفزا ںبھیکنی فو پل رپ لوگوں کے
ےکیوں جس صاف ہو تے؟ اورتحفرت امیررمحاویی لدکیل بل بال اورفال فا
ہو ن ےک کیوں رٹ ایی ے؟
سیداعلی ار یکر م اللہ جہہ سےلڑ نے والے ححضرت ام رمحادیہ چنا یلا
نیس ان سے بلندمرجبراودکش رہ یشمرہ می شا لکئی در بن بھی تر کل اتی
خلنہ سےلڑ چیہ جھےذ کیاکوئی ان س بکڑیھی بل پر ہون ےکا لو مرکا ہے؟ یئ
حضرت امام امن تج گی رم الشعلیفماتے ہیں :
”رت امیر مماوی رشی ایشر ع کی تفص الم ٢
النصائی ہ ےکیونردہاس جات می ا سکیس بکہ یبت پڑے بڑڈےحابہ
وشن ری ان شش اس میس ان کے موا فی ہیں یی کسی رووا ے
(۸۸٥۱۴۱٥.
249
معلوم ہوا ہے رنحضرت محادیہ ہے پل تحضر ت کی تاد سے د ولوگ
لڑ گے تے جوحضرت معادیہ دید ے زیادہبلندمرحبہ تےمضلا امل ون
عا تشد ایقہادر زجیراود الن کے ساتھ وا نسحا شی ال نب برسب
لی وا مل مس ححخرتکلی تہ سےلڑے یہا ںم کک رحرب تطلر
یل شہی ہو گے ادرتحخرت ز بی رلتدائیں جار ہے کہا ا راہٹل
تق کرد ے گ۔
اورتاو بل ان لوگو ںگی یش یکرت می یہ نے دارنان
طل رتخا نرقا جا نعنان کک کرنے سے روک دیاتھا۔ بی تاد یل
صضرت مواد نہ دک یگ ھی“ -۔(سیدناامیرممادیہ چچتار دو ضرالا ں۸۱۷)
کیا آپ کے ہا ںکوئی اصو لک با تی ؟اگ رآ پ حفرت ام رمحادے ج4
ےج اس لئ ادا ہی ںکاتہوں نے حریتہ الرنش کر الہ جہرے نگ
کی برای وج ے باقی عحقرات س ےکیوں با رائ یی اور اگر در بنارگوں سے
ححفرت ای نہ کے سا تل ائیلڑنے کے باوجودآپ دای ہی تب رنحضرت امیر
معادیہ ید ےکیوں رائض یا ؟ حا لان نخرت ام رمحاویہ لے معخرتگل حتلہ
ن ےگ بھی ف ریا پیا۔ومرت ات کے شن ناریو ںکوحضرت مو(ایگی دی 2ئ اور
تیم پہند ہآئی اس لۓ انہوں نے خرو کیا ت کیا آ پلڑھی ا نکاط رآ یی ند
نیس اکی۔ ختہ پداز مارڑول نے حضرت مولع یرم اش وچہہ کے فصلہ رے
الا فکیا اور کیل ےہ مکوشٹرک اورخلاف اسلا تقرارد ہے ہو رو عکیااور
امت سے الک ہو گی ےن کیا آ ب پان خارتو ںک ےیروئی یں سینا مر کر
الد وج ے اخلاف یکری سے بور تخس ننس ایک نم جس گے؟ ارے
جناب! اس طرع) ےآ پ بھی نخارتیو ںکی صف مج لکھٹڑے ہوجاتمیں سے اپذا
مناسب کی ہ ےکہخا تو کی پیر و یکی جیا ے حعضرت مولائی مکی پیر وگ یک سی
(۸٥۱۴۱٥٠.
20
یسید امام تن لد یبھی یرد کر یی جتوں نے غلیف ہو نے ک ےق راچ ماوبعد
تحفرت ام رمحاد یہ یت مھ الف کل ادرخلافت ان کے روک کے ان کے اتد
بتک ی۔
ححخرت مولاعلی دی خلیف“ راشد میں اورحنرت ام سرتسن خی غذا ے
راشدبین یٹ ار ہوتے ہیں جلہ حدیث پاک کے مطاق مصلمافوں پر خلا ۓے
راشد ی نکی سن کی پروی داجب ولازم ہے سے جناب رسول اللہ ہلالانے قمایا:
. 0-27 ٌ
تھ ہمہ خم میرک اود برا مت یافۃ خلا راشدی نکی سن تکو مٹہو ا پلڑو_ ۔
یں جومسلمان ہےاس پرحفرت مولاع یکم انشدد جج راورسید ناما من میٹدگ
پروی لازم سے ۔کوقی نا نپا ملاسلا ہوہی' ماع تکا ام ہدیا ”اسیو ںکا
کوئی عالم اور ےر ےسیا حر ت لی الرنشی اورسیدن امام جن شی ان نما کی
یروگ سے چا وی جب انہوں نے ععخرت ام رموادیہ خالدس گا فرمای نے پھر
س بکواے قو لک راونا چا بے اورتفرت ام رمعادہہ تل ےکک رلیئی چا ہے۔
خارحیت سے بے اورا ہق تکی متابعت پرکاربندہون ےکی راز حدضردرکی ے_
ے اندھی ریا شب ہہ جدا اپ قالےے سے سے
تیرے نے سے یراد وا ترل
٢شازتخا
آ پ کے ہیں دوفو ںگردواسلام پر جھےادردوٰوں ہی و اب پانے والے تھا
کالما نکوکوئی خل کا مکرنے پپگنا کیل ہوتا ؟ رت امی رمعادیی نے فلیہ برق
سے جن کی اود نرادوں لو گنی ہو ے ۔کیا انیس یرجھ یکول یممنا ویش ہوا اور جو
مق لین تھے : نکاکیا اگ ے؟
۰ و٤
251
جات
حدیٹ رسول متبول ادرف ما نپلی لن یکر مالڈرو ججہ کے مطا 51 وونوںکا
ٌ ضوکی ایک تھا۔ دوفوں الام پت یکی وت دینے دالے تھ اورق رآ نکرتم اورعد ہث
پک ے دونو ںگروہو ںکوسلیان تی زرایا۔ہذامم ہے یکا کردوڈو ںگروہ
۱ اسلام پر تا ق رآن وعد بیث کے مطا کہا اور بکردوفوں بیو اب پانے وانے تے
با من کہ جب کت رآن وحد یٹ کے نزدی کک یکام می شی ملما نکا کوک اسلام
اوراسلا مکی سر بلندی ہو برا سے اب بی ہوتا ہ ےکنا یں ۔اپند اناوت جب ہوتا کہ
ان ش ےگ یکا نوک اسلام کے خلاف ہوت اور وولقمائیٰ خوائشل سےلڑتا_ 7
دوفو ںکادگوی اسلاماوراسلا مکی س ریلنعدکی تھا لبدادوٰوں میا اب پانے وانلے چھے_
یدرست ہ ےک پرملمان دی نکا عا لیس ہوتا یجان یدرس تک لکل
ملما نبھی دی نا عاکم او رجچت نہ ہوجومسلمانو ںکی رانمائ یکر کے اورقن سے ےک
مسلافوں میں ا لمکم ف یچ ی نیبھی ہو اورخی رعالیم وی پچ ی نبھی_ جو عالم
نہیں ق رآ نکریم نے آنئیس چمچ بین علماء سے راہنمائی ت اور ا نکی اتا حکھرن ےکا
عھمدیاہے۔اللتھالی نے ریا
٤ -سمقوا ال الکو ان كنشم لا تَعلموہزئل.)
تج :نذاےاوگوکم والوں سے یوار ہی یمان )
۲( وَابع سِْل من آقاب اِلی۔(شس۔٥)
ترجہ :اودائ سکی راہ چل جومی ری طرفرجور لایا- (کزالیمان )
پیں خی رپچ بین؛ یی مت لجنھیں دونوڈکیش جانۓ اوراخ اتاد مخبط
نچیں ہو تۓ مسلران نمی ںبجھویں کت تچ رین اپ اجار سے وو مال معلوم
کرت ہیں اوران میس خیچ ی نکی راہمائی فرماتے ہیں شن ا ظا ش ریت 2
(۸٥۱۴۱3٢.
22
انبا کیل ےاج دضروی ہے۔ چیہ اجتچاد میں خطا کا اکا ن بھی بہوتا ہے۔ اتی سے
ضرور یی ںک مین ادرک کک شررر یکچ جاۓے_ہزاایا ہوک تھا ظاکی
صورت میں گنا وہ نے کے توف ےکوگی جا دہی تک رتا اورولراجفائ کے0
رچتے۔ف جناب رسول اللہ ڈلگا نے ای رکاوٹو ں کا ازالہف مایا اود اپتی اص ت کی
رامائی ےی نوا ہار تخب ریت ہد ےتا بک خ ری لوف
اگ راچا وکرۓ سے فیصل ہج ہوا دوگنا اب اور ایک رداعت کے مطا بی دی گا“
اب ہوگااوراگرخطا وا ہوک یذ ایک درج یڈاب پل ری لےگااور یڈ اب ا لا
خلو عحنت پاش خدمت امب طاوراجخاجع مال بہت ہے۔ جناب سول الڈر
خقانے فرایا:
"وا حَکُم الْحَاِمٌ فَاجْتَهَد تم صَابّ قَلَهاَجرَانِ وَاذَاِحَکُمَ
مد اَمْمائکہ ایگ ۱
(نسلم عم اھ جاب جیا اجراھاک/ء اریخ ۹۲ء تاب الاعقسام باب ا جا یکم ہکوج
کاپ الامار7)
ق جمہ: جب عا فیص کر و اہہتجادکرے پر کر ےھ ا کودو
اب ہیں اور جب یص کر ےو اہج دکمرے اورخ کک رےو اہ سکیل
ا اب ے۔
گویا کچ( کم ) ج بی معالمہرمش فی لہکر ےگا خوداپے اتا ے
کر ےگاگی دوسر ےکی پیردی نی سکمر ےگا جی الک رجات ا ارہ (عٹرے
ایام انم ابوضیزہ حقرت امام شافقی ضرت امام ما لک ؛عحقرت امام اص بی نیل
نشی ال نتم )نے اجتچادفر مایا رححضرت اما مر بای میردالف مان لن فرماتے ہیں :
ے علامہابن تج رگنل فرماتے ہیں: جب ججتجداجہتھادکرے و اسے دی اجر لے ہیں (صواعن
رت اردوگ۱۹ے) :
(۸۸٥۱۴۱٥.
23
”نٹ درب اجار پہ فائز ہوہ اہنتچادئی امور میں ا سکیل
دو رےکیاراتئے اورا تاد لی گنا ا اورتا روا ے۔
(ن بات رداق کو بب م۷س)
اور رکوہ بالا حدیث اک سے بیگی معلوم ہواکراجتچاد یش خطا ہو چان ےکی
صورت می لبھی ھچ دو اب کی ہوگا گناہ ہرک نیس ہوگا۔اورق رآ نکر یم نے جوف مایا:
کو وربور
ت جم :اددا سکی را ول جومیری طرف رجھ لیا
اس کے مطابق جنپلھ ی نکی یرد یکر نے والو ںکوکھی فو اب بی حاصل ہوگا_
یا کہاحاف وشواٹع ویروٹاب پا ر ہے ہیں۔عد یٹ وفقہ کے امام میدن ایام
مالک نل مو طاکتاب العتقو لی کس ایک ردایت اوں درخ فرماتے ہیں :( ترجہ )
”نک بن سعید نے سعید بن مس بکوفرماتے ہو ستناکہ
عفر تج شی ایشدعنرنے داڑھول ( کی دیت ) ٹس ایک ایک اون فکا
فیصلرکیااورتضرت معادی بن ابوسغیان نے داڑھول مل پایپایاونڑ لکا
فعاگیا۔
سید بن سیب نے فرما اک تعفر تم جن کے فیصلہش دیت
گح ٹگئی اور محاوہ خلہ کے فیصلہ یس ہو گنی ۔ گی ہوتاتے واڑھوں
میس دودواوئٹ دلاگیدیت برای ہوچائی اوراج ہیوت ۓ '_
( لا امام مان ککتا ب لوق لمت ریم )
ال ردایت سے ایک بات 2 موم ہو کاب پ مرکو متا ہے ۔ دوسری
بات ررمعلوم ہوئ یکرحعفرتعر دک رح حضرت امیرمعاویہ طٹیاجی جچد ے اور
اہوں نے داڈڑھو لک دیت کے پارے می جو فی ۔کیااس پراجہ کے غ بھی ہیں
اورتحخرت امیر ماد نہ اس درجہ کے عا لم عفقبہ او رجہ ہو دہ ایک تو ال بات
(۸٥۱۷۱٥٢٠.
24
سے اہر ہےکمہ اد کے رسول پل نے ا نکیل کاب انل ہکا عالماور اد دہدری
بنائے جان ےکی دعای کی ہیں جیا کہ مگزشمفیات می نف لک ہآ ئۓ ہیں اور
دوصرےحفرت این عباس دیشھی اما یلیم 07 /
کگواہی دی ہے۔ امام اہین تجرگی رت ال علیفنگل فرماتے ہیں ۔(7جھ )
تحفرت ابین عباس دشی ال کنہما نے سیدنا معادیہ ملھک
تر فکی اورائغ عیاس سرداران ابلییت اور جنا ےکی الرنشی (یچد)
کتا مین مٹ سے ہیں کے بای می رم ہکتے ہی ںک زنس نے این
عباس سے پا پچھاکہامی ماد و کی ایگ رکعت پڑت ہیں فرمانے گے
دہ بے گنک فقیہہ ہیں ۔ ایک ردایت بل ہ ےکانہوں نے تضور بای
عبت پاگی ہے ام رمعاوہ کے منا قب ٹل سے یی بہت بئی نقببت
ہے ا اس طر نیہ مللقا صلی عرات بک حائل ہوتا ہے بی وج ہے
کرسول اللہ بلپھا نے این عا کیلنے دا فرماتے ہوم ےکہا: ام اللد!
اسے دی نکی فقراورتا و لکاملم عطا فرب 'ادرتضورہڑقاا اوت مر یٹ
یس یں ہے:' الد توالی بن کے ساتھ بھلائی کا ارادوفرماجا ہے اے
دی نکی فقاو تا وی لکاعم عطافرماد اہ “بای لیم وص فکاحضرت
ام رمتاوہ نکیل اطلاقی ا ںشخلصیت نکیا ہے جوص الام ء7 مان
الترآنءرسول اللہ چا کے پچازاد پھائی کی الٹھی کے پچ زاد بھائی اور
جنا بی انف یکی زندکی اوروفات کے بعدان کے محاون ہیں لی سیر
عبدا بن عپاسس شی یما اور یہ بات کا بفاری شی بھی موجودغابت
ہے جوقرآ نکرمم کے بعد قری کراب ہے۔ لج حضرت امی رمعادیے
لد کے بارے می ںفقی ہکا لفط جظیم وف ہے موجود ہے اوراس کے
تال این عبا بھی فقہہ ہیں ورس بات پرتمام اصول دف روح کے علاء
۴ و٤
255
شفم ہی ںک رق ہحعفرات معا کرام اورسلف صانین اوران کے پور
والےےححفرات کے قزد یکا یکن شک وکتے ہیں جوپچیلق ہح ےی
(رشنان ام رای کا ان ۱۱۰۱۶۹ حوا را نل ۰۔1 رید امیر سوادے
کے ہس
”حعفرتی الرنشی لی نے ا نکت ری فک فمایاککیرے
انکر کے مقتزل اور محاوہے کے ففگر کے متول وونوں جلتی ہیں ا ںکو
من رای نے بسند کچ روا رت کیا ہے اس کے سب رادی ٹہ یںعرف
ضس می اختلاف ہے۔ بیقل طرتگ ل٤ ایامتاے رص
ری ای تاو لیس ہوکتی ۔معلو ہوا حخرت متاوب چییجتد ھے
ارمامشراؤا اتچاران تع تی ۔اود بل تفاقی ایک بچکودوسرے
مجچقدکتقلید جا نیس ہہوثی ۔گواس کےا لف پچ دکا اتاد بہت وا ہو
کیوئلہ وہای جھ بک ےکتا ہے لی سےکتا ہے ہاں اگردو دو ںکا
قول موافن ہوجاۓقذا سکوموافق تکہیں کےتقلیرکہیں گے_
فرت می خل کا بقل ایا ص را ےکی رح ا کی
اوہ ل نہیں ہوکتی۔ اس سے معلوم ہوتا ےک حخرت معاویہ دیلہ ایر
ا اہنچاد کےگواس اتاد میں ان سے فطا ہوگی جیا کاو ربچ بن
سے ہوثی بے موافی عدیٹث کے شی قذاب ہیں۔ دوجھی اوران کے
مقلد ی بھی اوران کے موا ف پگ یکیوکہ بہت ہے مھا رئیش ال نج اور
بہت سے فتہاۓ تا لن ان کے دکوٹ کی حیت میس کر حضت می
خلد ےل نے می بھی ان کے موافی تھے .لیس ا نکا نل پھاس وجر
سے ند اکدو و نظرتگپی تچ ےد رت تھے یاان پر یجنک کرتے
تھے مہ ہیا نکااجنچادتھا جوسی دیل ےا نکوعاصل ہواتھا کوک پچ
(۸۱۴٥.۰0
26
یل کا پابندہوتا ہے اس کواپلی دی لکی حوالفت پائزنیں ہولی ای وجہ
سےحعضرت مواوىہ ینادان کے پچ و خی قذاب ہی ںگوتق حضرت لی ٰ
یچ یرف تھا (سیدہایرسمادیر ھاردوت ہت لاگ ۳۷۶۵۸)
اس ےحفرت محاویہ یلہپ اختراخ یں ہوسا ہاں اگر
دەیکا م سی تا وی تخل کےکرتے توالت ایاتا اور یا مرتہثابت
ہو کا ےک۔انوں نے ایک تا ول تم لک ہنابہ کا مکیاتھا و دتعفرت
لی لے کےظام سے یہ بات معلوم ہولی ہے اور بجی ثابت × پا ے
کرد تد تھے فایت یہ ےگوہ پٹ تھے حا دقن اب
ہیں نہک تہگار- :
اس کے علاووحطرت مواو یک شی ایک رو ناانصانیٰ
ےکیوئکہدواا بات نٹ ا یی بلگہ بڑے بڑ ےصھاہروحا ین رش ی
انڈینمم اس می ان کے موافن ہیں جی اک ری روسوا٤ سے معلوم ہوتا
ہے۔حخرت ممادے خلضدے پیل نر تل التفٹی لہ سے دولوگڑ
2 کے چوحرت محاوے ے زیادہ بلند مرج جے_ ضا ل۶ موجن
عائکشراورز جیراوران کے سا ھدوا لے سای شی ال تجم بی سب لوگ واقمہ
۴ل میں حعفر تی لہ سےلڑے یہاں ت٠ کک رحفرت اللہ مشیر
ہو گے اورعخرت ز بر میلددایں جارے کہ انا راہ مقل
رد ےگ
اورا وی ان لوگو ںکی نت یک تفر تی نے وارما نع ننضرت
عثان یکو جلان ححضرت عثان کن لکرنے سے روک دیا تھا۔ کی
او لی حضرت محاد یہ یھی ۔لیں جاکمان پیل القد رسحارنے
پیج اس ماولل کے حطر تی تن سے لن جات بج لیا تھا۔ اس رح
۶ "و٤
27
صحقرت محاد ہیی الع نہادران کے ا ماب ت بھی ا ن کال چائ ایا
ھاادر با جو دب ود تحضر تی خلجد سےلڑ نا جائ کھت تھے ۔حع رت لی ید
نے ال نکی طرف سے عفدرخوا کی برای سےکہا نکی وی تی
یلان یی ۔جحفرت لی لہ نےفر ما کہ ہاارے بھاوں نے جم سے
فو تگی۔ ا کو ان الپاشیہ نے اپتی ند سے دوای تکیا ہے۔ ال
روات کے الفاظیہژ ںک:
”حعفرتہگلی لہ سے بتک مل میس پ اگ اک یل تل جو
آپ سےلڑ ےکیا مرک ہیں؟ حر تی لہ نے فربایا:شرک سے
دہ ھا گے ہیں ۔ بے چھاگیا ئل رکیامنافن ہیں ؟ ف ما اکہمناف اللدکی بات
یہ تک مکرتے ہیں۔ پچ چھاگیا پھر کیا ہیں؟ فرمایاکردہ جمارے بھائی
یں انہوں نے ہم سے بفاد کی ہے“
وٹ :حر تی لہ نے ا نکواپنا ھا یکہا۔ اس سےمعلوم
ہواکرا نکا الام کال اسلام بائی ہے اور وو حخرت می خلند ے
لڑنے می مور تھے --
یں اے صاحب شی !رسول ال پا کے اکا مکوج باخٹیوں
کے تلق ہیں اورخودحعضر تی یہ کےعھ مکو با خیو کی بای تو کر اور
ححقرت این عپاس دشی ال دممانے ج کبیا نکیااس پر خورکر تھے
معلوم ہوا گا کہ یہ بات با لکل صر ہے اس می لس یش مکی اویل
یں ہوک یک خوارخ کے عطاد ینس ق راوگ حرت بی لد سے لڑے
ووسب مسلمان اوردہ اپنے مرجبکمال پ اق تھےاورشس اجہتجادنے ا نکو
ححفرت لی چچند ےل نے بدا بکیا ال مم وو معزور تے-اوردہ
لگ اس اجچاد یس خطا بر تھے اوراگمر ا لا اجےان پک 2ت
۶ و٤
258
نادان کے رم کس اق کاٹس عائہوت تعفر بی اڑا
ہو نے کے بحدضرودران پوختا بک تے۔ ھالائکہ ای اننیس ہوا پگ یلڑائی ے
بعد منرت گی یلد ن ےش لڑنے دانے سے پڑت نی کیا گان ے
خبابت صلماوراحساان اوج ومنت کےا اتھیل ے'۔
نی زحضرت محاویہ "لوک یتریف مل دو حد یٹک ہے جھ
آ تد خر تع لہ سے عالات خواررع کے تلق مننقول بی _ اس
حدبیثٹ یل یی ےک ہآتحففضرت لق نے ححرتعلی اہ ےفربا یاک اخ
لو ںکوق کرو گے اس عائی م8 لکیئم بیرضبدت ان کے تن ے زیادہ
تریب ہوگ اس عدیث سےمعلوم ہو اک حخرت معاویہ جلکاگروم
بھی تم سے قرب تھا۔(ہاں !زیاد قرب ترتھا تفر تی ملک
مہم تقر یب تھا) پل اب الن پ ضر تی یہ سےلڑنے کے باعث
کول امت نددعی اکر چروولوگ پا قی تھے بوجراسل کےکدہ تد اور
جو یگ کرت تھے بیروا ہت ال با تکوصاف ظاہرکرری ۓ“_
آفحضرت ول اکی بہت کی عدیشں سے ثابت ہوا ےک
آنتحضرت لگ نے ایک ججماعت کے رو برواپنے صا جزاد ون مزڈ دی
تھریف ف ما یک می رابٹاسردار ہے۔امید ہ ےک انال کے ذر یرے
ملمافوں کے دو بڑ ےۓگردہہوںل می سج کراد ےگا“ اس ے صاف
(بتےہسابقہ ) صرف تسا کے می تھا۔خلافت دامارت مج کوئی اختلاف ت تھا ا با تکا
ایک ین مدت بینگیا ہےکہجتاب سید نا امیرمحاویے جتاب سینا فی جتاب سید زیم( خر
سیدہعا کشرصد یقہ شی ا نشم نے خلاف تک یکپشسلیمکر تے ہو ان سے قصاس لی کا مطالیہ
کی تھا گر یہخرات جنا بی الرلفی ولدکی خلا تکوقبول نرفر مات ہہوتے تذ پھر بنا ب سیدنا
ام رمحاد ہے یلجنا ب سید نا عثان ذوالنور ین لن کے تام کے اکا خود ارک ف مات
(منا قب سید ام رممادیے نل ۱۰۹_۰۸)
(۸۸٥۱۶۱٥۲.
29
معلوم ہوتا کہ برلوگککمال اسلام پہقائم تھے اورج پکجوان ےقلاف
صصادرہوا اس یل دو مور تےکوامام ریقح ححضر تک مہ یں -
یل مصفین دا نے حصرہے یی ید کل7۸ برعلاے
کما نک یرخیال تھا تعفر تہ نی نے قاحطان عثان سے قاع لڑل
لیا عالائک حفرت کی علہ ا سے بری تھے۔ باوجود اس کے پ رکھی
تعفر گی ریش الف عنہ نے ا نکومعرو رمچھا. بوجہ اس ک ےک ہحیت لی
لہ جا نے تےکہ یلوگ امام ہی ںخقیہ ہیں او رآحفضرت پچف رما سے
ےک جب مجچچرے اتاد یش لی ن ہوا ا سکود وکنا اب لے گااور
اگکراں فی ہو جا فذ صرف ایک می قذ اب لگا لیں حضرت
لی ح جج غی خی تھے لہذاا نکودوگنا مہ د گنا قذاب لگا جیا
کرایک روایت مل ہےاورحخرتبلی لہ ےل نے وا لے شُل جاک
لی ز ہیر موا ور ہرد مین عائ اوران مھا نشی انڈشٹ ہم کے جوان کے
بھراہ تھ جن میں ابل بدربھی شائل تھے بد خی تھے ۔اہنذرا ا نکو ایک
یقاب لگا“
(سید :ام رسماد نار دو جنیر نان ۸۳۴۸۰)
اب د بے ہی ںکرینشرت ام رمعاد یہ ماد رتحقرت موا یکم اللہ چہ کے
درمیان اتا ف کے گیا۔ جنابمغتی ا یارخا ن ھی لمت ال عیفر ماتے ہیں :
حطرتعثان این عفان شی ال عنہ کےگھ رکا مھ ریوں نے
حا وکیا ۔ تن دن با زیاد کک پالی نکچ دیا۔ اود لرگ میں دائل
ہوکرھ بن الوگرصد لی اور تیرہ دک رآدمیول نے انیل تہایت بے درد
سے شی دکیا ۔آ پک شہادت کے بعد ام رالمؤ مین می لن مہا جر بین د
انصار کے انفاتی رائۓ ے غلیف مقر ہو ےلکن چندو جو با تک بنا یر
(۸٥۱۷٥.۰0
<0
تن حا ن کن ے تھا ضلیاجاسا۔ یق شام مس امیرسماد یلا
تچ انہوںتے چیم بھ اک خی-ۃ الین کا نم م یدشریف
جس شبید مرو جانا ببت جی اہم محاطہ ہے ازراہکرم سب سے پیل
جن بر خصاصش جار یکیاچا ےنلکن یبور یںی ا تھا دنا
ج-ماا رھ امیرمحاوہ کےدل شس ہہ بات ذ ال نشی کر یک یک خی
“حا انقدد ید ودا سن اص لن می سک بای فر ارہ ہیں اودا گی می
جوز بائقہ منا نکا اھ سے يہ خود انی کے ت لی نکوپوفیس یافوج ںس
ج نی رلیاگیا ہے غرضیکہ پچ کےٹچضل مفیدوں نے ام رمواوں چچھ
سے ول ش ہہ بات جانشی نکرد یک یی مرصی یج دیدہ دا قراص
جار کر نے میٹ نم پچ فمارہے ہیں ۔امیرسعاويیکاطرف ہے بداھ
تسا کا مطالبہر با۔ انگ ینک نآ پک خلافتکا اکا رکیا تن اپ
وت ملیید کر نے کا خیال تھا۔صرف خون عثان جچہ کے قدا لکا
مطانتھا-
آ خرف یت یہاں ک کک کہا می رمعاد یہ کے دل لے بات
جاگزیی ہو یک لی مرنفتی خاقت کے لاک نیس اور خلاف تک زم
دار یو ںکو پوری طرع ادا نی لک سکتے کیوکہ ١خ بے ام خون کا
قصائس نلیا جاک نے دعکر اتظائی امو رکیا ادا ہوکنل گے۔ اخلا فک
ام یاد ین باقی مار الات ای ج ڑکی شا خی تیں ۔دمرقام
عاشیشٹر مق ندأی ہنس ۰۹ا ےکتقول ہے۔(نرج )
جن ب سید گی ال ری ان سے جتا بسیدناامیرمعادیہ خیلننے اس لے اختلا نپ سکیا تم اوہ
ہر تہ ماد کے ما لے ہس اپآ پکوخاف تک زیادوتن دا کھت تھے بکمہ ا لاف اس
شب جس ہوا تھاکہجناب امیرمعادیہ دہ کھت تےکہ جناب سید نا عثان ذوالنور بن لے ےآ یکا
ماش لی کے موجودہ عالمات مس فلیۂ وقت کے ساتھ جن ککرنا کے ہا نکااتلاف
۰ و٤
261
ححترا تکی وہنا لق تبھی ماعنا ن “_
(ا رادم پاپ رایکظرل٠۰عادء)
جحخرت امام خزالی رم الشعل کی شبرہ فا تن ' اتی العلوم کے توالر
سک کقرل ے۔(تمھہ)
”نوہ جھکڑا ج ام رمعاوہ اور الہنفی یھ کے ورمیان ہوا ٠
۔ائ ںکاداردمداراجتادپرتھا یک سکرام رمعاد نے انام تکی خاطرے
ککیا یکیو نت لی الرنشی کان تھا کرحقرت عثان سے
چاو ںکو جناب عثان ظللہ کے ورخاء کے سپ ردکرذ ینا خطرو سے نا یکنال
یڑک ان تقاتلین کے خاندان لیے چوڑے تے اوران کے بہت سے
افراوفجخ اسلام یس شائل تھ اذا خلافت کے ابتدائی دور یس اپچل رج
جا گیا۔ ا ہنا ہآ پ نے بیدائے قائمک کرس معامءکوذراموز
کردیا جاے۔ اوھ حضرت ام رمعاویہ کان يی اکا ر ہےماطہ
مخرکرد یا گیاباو جودائس کےکہ مہ بہت بڑاجر تھا لوگ کوچ راخمرد بین
سأ رن کی شہ(ت خیب )مل جائ ےگا اورخون ری یکا باذارگرم
بوجا گا“
(زشمنان ام رمواویہ یی گی ماس ع ال ۱۳۳۔۱۳۴ کوالشواہر لن ل۴۴۵۲۴۷۳)
صرت جح عحبداجن محرث دبلوئی رتمت ا علیفر مات ئیں:
”رت لی اورامیرمواو یرش الڈ نما کے درمیان اختلاف
کی یا دححخرتعثان ذوالنور جن لی شہاد تھی ۔امیرمعاوی کت
اورام الم نین سیرہ ع تترصد یقہ شی ا رتعالی عنہاا نکی موافتت شش
ہیں حفرتعٹان ید کے قاگوں سے قداص لیے می ںیل تک می
چا ےت اک رلوگو ںکوخلذاء پر جات ن ہو گر حر تی لد نے دمراور
۶ و٤
22
حا خیر میں معطت ریکھی سر سر خلاقت ج ال واقع تہ ہو_ ال
اتا فک نیاد یہ جات ہے جس کے بارے علاء ریف مات ہی ںکہ
اتلا فک خیاد انارک شک یی ررحىے رص
امام یف ماع یل بھانی رح ال علی لا تھی یح ل کرت ہیں ک٠
جحفور بی اکرم چا نے چم رواب قر مایا تھاک ہم صحابرکرام
کےاشتلاقات کے بارے شس اتی زان طرش ۔ان کے ورمیان جھ
لائاں اور افتکا ات داتح ہوے مجن کےسبب بہت سےسحابرشبید
ہد ئے فو ہرالیے خون ہیں جن سے الد ای نے جہمارے ہاو ںک وی
رکھا لہا ھم اپنی ز افو ںکوان سےملوٹ نی سک تے ۔ جع را یدرو یہ سے
مود سب اس بادرے مل ماجود(اجرد ہے گے )ہی ںکیوگگ ان ے جو
پنحھوصادرہوادوان کےاجہتچاد پپٹنی تھا ودنی مت لہ میس چنچتد اگ خطابھ یکر
جائےٗ تقوب سے ..(مکا تال رسول ,پل ۹ے تب الشرف الویر)
یمام وسف بنا ئل ھائی رم اش علامام ین ری ےق کرت ہیں:
''مملان پر لا زم ہ ےک ہنی اکرم پل کے سا براورکلل بمیتکا
ادب واتترا کرے۔ان سے دای ہو۔ ان کے فضال وو قی بچانے
اوران کے اشلافات سے با نکورو ک ےکیوگہ ان یی سےصی ن ےبھی
ا یے ام رکا ارطکا بن لکیا جشے ووترام کھت ہوں بگران ٹس سے ہرانک
جھجد کے ٹوس دو سب ابیے جج ہی ںکا نکیل قذاب ہے یق کک کپ
واے کل و ثذاب اور خطاککرنے وا لے کیلنے ایک ٹواپ ہے۔
خابءعلامت اون ان سب سے م فوع (لشتی اٹھا لیا گیا اےے
بات اتی ط رم ذ ہک نٹش نکر نے ورن تو گل جات ےگااورتیرکی بات و
فداصت می کوئ یکس رضددہ جا گی
۰ "٤
263
آمپئ کرت ہی ںکمعلالقالی نے ج جروکی شر نکی فر یا :
”نان سب لڑائو ںکا سبب بتاک معاعطات مشتبہ تھے ان
کے شد یداشتا ہکی بنا پران یس اہتباد یا لاف پیا ہوگیااورا نکی تن
میں موی یکم پاجھھارے یناہ راک تق اںطرف ہاور
حالف بای ہے لہاان پر واج ب تھاکہان کےمقیرے میس جوقن رتا
ان سک اداوکرتے اور پاٹ سے جن گکرتے چنا غانہوں نے ایادی
کیا ج نٹ کاپحالی ہوا روا نکیا کےقیرے می جولرگ
بای ہیں ان کے ساتھ جنگ کے موقع پرامام عاد لک انداد ےکنارہ
کش ”دوس یا تقاماموری میم کے بن تی ۔ت رضم دبتی
جن پر معاممشتبہہوگیااورد :رت میں جتلا ہو ئے سان ری چا بک
تياخ شہ ہولی و وہ ووثوں ڈریتوں سے الگ ہو گے ۔ا نکیلی نے
خی دگی ہی داج بت یکیونکیسی لان رے بک اس وق تک ات
ٹیس جب کک بی ظا ہرنہوجا ۓکمدہ ا ںکاسقن ہے۔ عاص لام
ےکردو سب معقروراود ماجور ہیں ای لے ای لک اورو و ضظرات چو
قائل اعخماد ہیں اس جات بر تفق ہی ںک تھا ممحابہ عادل ہیں اودا نکی
شبادت اورروا یت م ول ے“_
اور علامبسعدالمد کی ھت زانی أقل فر مات ہیں:
”اف لق کاانفاقی ےک ران تام امور می ححضرت “لی دقن
پ تھاورتتن بید ےک تما م“عابہعادل ہیں اورتا میں اوراختلافات
تادیگی پٹ ی ںان کےس بکوگ یبھی عدرالت ےار عگئ ںنکوگرردہ
ھی ہیں( کا تال رسول پ ۱۸۹۱۔۸۲ اردوت ج الشر فالوید)
خرت امام ر بای سی نا مب ردالف خا ید فرماتے ہیں:
(۸٥۱۷٥٢.
24
منرت محاویہ تھا ال معالہ یل نییں ہیں کم دہیٹی
آد ھے اصحا بکرام ان کے ساتھھ اس مواطلہ ٹس ش رکیک ہیں بیس اگر
حخرت ام ر(سید نامیا لہ کے ساتھلڑائ یکرنے وا ےکاف ریفس
ہو ں تہ ضف دی سےا داھ جات ہے جوا نکیل کے ذر ہے مک
پیا ہے اس با تکوسواۓے ذملقی کےج سکامقصوددی نکی بر بادئی سے
کو پننش/“_
اے برادر !ال فتنہ کے بر پا ہو ن ےکا شا عحفرت ان یکا
تی اوران کے اھوں سےا نکا قراص صطل بک ری ۓے“_
(نھ بات :ڈتزاول حہ چہار مک بفردہ)
”سا ہکرام ]ہم الرضوان کے درمیان جوبھگڑے اورجگیں
ہوئی ہیں شل تک مل اور نک مفین نو ا نکوا تھے موالی پگحو لک
چا ہے اورخواہشات او رنصب ےدوررہنا چا ےلان بزرگوں کے
یں جناب خی الیش رعلی الو ات وا لیم تک محیت مس خواہشمات
اورصپ سے پک ہو گے تے اورگل وکیدرے پالگل صاف تھ۔
وو اکر کرت مق کیلع اوراگمر جھزاکرتے تھے نذ دوبھی تی
کیلئ_ ا ا اناد کے مطاب کم لکرت تھا اور خواہشات اور
تحصب کے شائحیہ سے پاک ہوک رعخال کی حدافصکرتا تھا رت کا
اہتتاددرست ہوا اے دودر جج اور ایک قول کے مطابقی دل در ےکا
قذاب ما ہے او رج کا اناد درسلت نہ ہوا ےکی ایک درجنڈ ا بل
گیا۔ بی نعط ککرنے والا بھی درست اہہا کر نے وال ےکی طرحع
لام ت کا تخننیں سے ددگھی درجات اب شس ایک درج را بکی
امیزرکتاے۔
(۸۸٥۱۴۱٥.
:
١
265
علاء تن ےکھا ہکان جنگوں سح ححضرت ام رجنا بک
کرمالشرو جک طرف تھا اورالقو کا اتاد درس تتکیں تھا ن۱ ای
کے باوجودوول کر نے کے خی نیس ہیں اور لام تک تنک نہیں
رتچ جائیکرا نکوکافریافال کہا جا ۔عفرت امی رجنا بل گرم
الد جج نے نایا س ےکہ:* ہمارے بھائی ہم پ بای ہوئے ہیں دہکافر
یں ن فا یکیوکران کے پاس تاویل ہے جکفذراوضنق سے رولقی ۓے
اور ہار ےر الا نے ف مایا ہے جواختلاف مر ےعابرشش ہوں ان
میں زبا نکشائی سے پہتا لیس تقر خداٰلگا کےتناسم مھا رک را مکوہزارگ
جھنا جا بے اورسبکون سے یادکرن چا بے اوران مل ےکی درگ
کےکی میں برا نہ ہہونا چا بے اور نی بگائ کنا چاہے اوران ے
نلڑو ںکوووسروں کی ما یت سے کہت رکتھنا اپ ےنجات او رظان یکا
صرف می ریقہ ےکر نز مصظمکزہجرے>)
تیم الاسلامتحضرت شا دوک ان محرث دولوئی رجح ترائل علیفرماتے ہیں :
”امیرمتاوىہ کا جیچنی مرو ہونا اس وج سے ےک وہ
3ح سےج تھے اکر چمھیزالن شر ٹس ال سے وزن دارجت
موجوڑتی۔ یشل وی تھا جواصیاب جم لکوی لآیا ان اس میس اتا
اشکال اورھی بڑھا ہوا تھا کرام رمحاد یراورائٹل ام نے میصت نگ
و اش کی وضیاحت او رجات مولانا مودود لکی زباٹی سے دہ کے ری بھحا کا
حر ت لی ڑپلدکی بجعت سے ا نگ در ہنا ایی بیطلرزشل اگ چائن جن رکون نے انجائی نیک نق
کے۔اٹھیھضس فنہ سے ہی کی نا طراقیارفر مایا ھا لکن بعد کے واعات نے ماب ت کر دیاشٹس
کے سےدچناچا تج اس سے بدد چھازیادوبڑے نے ہش ا نکا ریش لألناھوگا ری نگیا۔ دہ
بہرعالی امت کے نہایت پاش لوگ تھ ان مس سے ہیک ایا تھاج٘س پچ راروں مسلمافو کو
ادا نکیل گی نے ولوں می شک ڈالی د ئے'۔(خلاضخت دلوکیے ل۴۳٠)
۶ و٤
26
ادرجا نے ےکس خلا تکاپوراہونا تسلط ادراککام ناف ہونے سے ہے
اور ہی بات ابھ یتفتی یں ہوئی_ پچ یم کے معاطرنے اس خیا لکواور
را گردیااورعد ٹک یش وارد ےک 3 ع وَتَهمَا وَاجذڈً
(ازل: اأفقاً ارر۵۵۱)
تن حفرت موا و بن الی فیا ری اما صحجاب رسول خدا
خاش سے ایک صالی اورروژمز کا۔ ن٭ەداش بڑے صاحب
فلت تھے ۔بگی ان ککےقی یس رکال نکر ادا نکی بگوئی یں جن
نرہوناور ٹم ترام کےم یلب ہو گے( ذالتاظ ءاررازل ل٣س
حقرتعلا شا عبرالعز ےپ اروگ رح تا علیففقل فر مات ہیں:
”حدیٹ مف رج الن ے۴ بت ہ ےک ھا اپنے اتاد
ےکوئی فیصاکر ےل اگروو وم ل ورست ےل ا سکیل دوہرا۱ز ے
اوراگراجنچادئی فیملیٹفی برخطا اذا ںکیلے ایک گی ہے۔ا حد یٹ
کو پیاری سم مندراجہ اداد نسائی ارت غرکیا نے ال ہریرہ لے
ردام تکیا ہے پھر باریء امہ نساگیء ابو دا ؤداوراین ماجہ نے نضرت
عبداللہ ای عمرد ابی عاعل سےبھی ردای تکیا ہے نز ای روای تکو
بفارکی نے ایس ےگا لکیاہے-
اتاد مصیب پر دواجج یں اورصرف اناو پہایک گی ے
اروں صھاب (حفرت لی رت ز یرہ ام المونشن عاتشہصدیقہ اور
رت ام رمواویہ )ئ٠ ہم الرضسوان اس نک می بیبقد تھے رتگران کے
اتا میں خطای حر تی مصیب ئ الا جتتاد تھے ۔ اصول میں ہے
بات مفمررشدہ سے کت کو برصورت اپ اجار پل ارتا بوڑاے۔
اس سلسلے میں مجن اوراں کے مقلد بین پرکوئی لام تأچی لی اس 2
(۸۸٥۱۴۱٥.
١
267
یس شبید ہونے وانے اور شی دکر نے والے وولول ذریقوں کےلویک
جلتی ہیں واھید دشر ب لین“
(ز مین اورتخرت امب رمعاوبہ ظپچچاردوٹر ج النا ہیرگ ٹن ای رمحاویل۰٢)
یں ححقرت ام رمواویہ چیہ جوفقیہہ وید تھے کے سا سے جب غلفاۓ
راشدین یس سے خلیق وم جنابعثان ذدالنور بن لہ ککےأگلی کےق مات کا محابہآیا
و اننہوںے اچجتادغرمایااو یت یچ بہاجتچادکرنا ا نکیل ضردری اوردرست تھا
جناب رسول خداب پک نے فرمایا:
ِا حَكم الْحَا کم فَاجَتَكَة_
(ہفار یکتاب الا خقسام “کک کاب الا مار تبکنزاہمالل جع نے حدی ٹٹہرے۱۳۵۹)
ترجہ :جب عاکم فیصلرکر ے2 اجتچاوارے۔
اب اگر دن یک بنا براجنتاد شش خطا ہوگئی اور ینک بی ہما اور ہزاروں
١ وك بھی ہو ےت ححضرت امیرمعاد یہ یوعد یٹ پک کے مطا کنا پکر>“ ت
ہوا کرٹ اب ہی ہوا ۔کیوکہ رضاۓ خداوخدکی اوراسلا مکی سریلندئ کی آپ پہ
صرف اہجتھادکرالازم تھا۔ اوراس می لپ نے بُ عو لکش فرماکی اور ا ببھی
ہر دھے۔د
کی اتجاغ اور محاون فک نی بھی قذاب بی ہوا۔ جا سے انہوں نے حالف مت
والو ںا کیا چا ے نو ہو گناو بھی خی رم مسلرا نکیل جوسی بچکا شع اور
مقلداجی ن ہو ٹ اب پراصراننی کر تے ۔لعکن بت2 اپنے اجتبادمش نل ہوجانے
باوجدداھی فذاب پا ےگا اود چھراس کےشتین ومقلد ی نبھ یک انہوں ن عم
خداودی کے مطا بی بی اس کی اتب مدکی ہے۔ اورامام انی مجر دالف مال رم
ال خلیفر مات ہیں:
(۸٥۱۴۱3٢۱.
28
7 یدک یتید اتال خلا اییصورت می بھی چ ل7 اورورست
ہوا چب ولاز 2 ےہ توبات فترا لک یلم <)
یں حخرت امیرموادیہ سد جوفقیہہ مر ہیں۔ فی رق فید راد
خر یکرم الشدوجہرے جگکرنےکی اناد کی خلا ے باوجودڑاب پاتے !
والے ہیں ۔ ای رع ان کے چم راو نے وانے ان کے مجاو ین بھی قذاب پا پۓ
ےی ال لاہ ری راز
قال عَلٌِ رَىٍی اللهُعَلهُقَتیَ وَقنلی مال فی الْجَنگ ہہ ظطرال
(زتفالاںل۷)
تز جم :حفرتی "لج نے فرمایا: مر اور محادیکی جنگ نکی ہونۓے
دالے(دوفوں رف کے اوک )یی ئیں۔-
قََلاتا وََلَاِهُم فی الْجَنَگ
( مسف ام ا ٍخ۵ا ص٣۳)
تر مہ: ہارے اوران ک ملین جنت می ہیں_
اور جب جفرت لی یہ نے طرفین کے مقتلی نکوجنقی فرمادیا ت2 گویا
ووول وآ بین اورشریی رزگ لک مب ملیف رمالا دوفو ںکوقاب گی
تقراددیا'اوردوٹے اب حاص٥ لکر کے جنت لے گئ ۔اکرف اب کے مقار
یہو تو می اکیے ہوتے اور جب سید ای الرنی یدن س بکویلتقی
فرماد ان محبت ادرظلائ یکا تقاضایہ ےکہآپ کے قول''کودرست مان
کرس بکوٹقی مان لیا جاۓ-
مد کیل امام این تجرگی درم ا لیف مات ہیں :
منرت معاویے لا فقیلت بر لال تکر ے والی وہ دعا
بھی ہے جوعدیت شی لآ پکیل گنی ہےکہئیںم لے اور ماپ
(۸۸٥۱۴۱٥.
269
سے بچاتے جائیں۔(لِلَهُمٌ عم مُاِيَة التبَ وَالْيسَاب وف
الْعَدبَ اور بلاش ِتضورعلی اص و والسلا مکی دعا ساب ہولی ے_
الس سے کیل پناچلنا ےحفرت موا مہ ٹپکوا جو لک وج ےن
عراب 2 ہوگا گاج ےگا یم اکہ پچ مابت ہو چک ہے
(افصداصن اھر داررول۲۳ے
یں دوفو ںگرووقواب پانے وانے تھے ای لئ طرفین سے متولدن شہیر
اوچشتی ہی تی کہمعقرت رین یا رحفرت لوا رجضرت ز بیرشی انلم رشن
کیشمہیدوں میس شائ ہیں جو جنقی ہیں-
3 ڑا نیں جادد مر یگبیر نے ترا؟
ہے تھ می کر جان ےکی جرات کر چا
اکر ض٣ (عن مودددی)
آ پت ےکا :محضر تک یمکرمارڈرو ج ہکاگر دواورخرت معاو یڑج )کگروہ
دوفوں با نے کے باوج شاب کے تن یق چرس جوحد یٹ پاک می حضرت
عمار بن با لے نر بایاکہ: لت مکو با غ کرد یکر ےگا“ اودبیگ یک ”خمارلوگوں
کو جن نکی دگوت دی گے اور ہما رگوش مکی طرف بلائیں گے کے جار ے میں
موا نا مورودگی صاحب کچ ہیں کہ
اس جک کے دوران می 1یک داقراییا جن لآمگیاہس نے
نع صرح سے مہ با تکھول د یکرفرلشین ٹس سے تی برکون سے اور
ال پرکوان۔ دو واقہ یہ ےکتحخرتکمار بن اص لے جوحفر تی مل
کی فوع میس شال تھے رت معاویہ و کی فورع سے لڑتے ہو نے
ہی ہوئ_حعفرت مار ید کے تق نی پلک ار شمادسھا شی انقد
نم میں شبوردمحروف تھا اور بہت ہے“ھاہیوں نے ا سک وتضور بقای
(۸٥۱۷۱٥۲.
27100
ذ باان مارک سے ساتھاکہ تقعلش افخ الباغیہ (تخمکوایک باٹی
ممرد وٹ کر ےگا) منداجدہ باری ممسلم ہت خی ء ضسائیءطبرائی :نت .
مندابودا ود طیا سی وخ رہکتب حد ہش -(ظا نت مارکی ےل )۱۳٣
مولا نا مودددیی صاح بکاکہنا ےک چون تقر ت مار چیہ رت مکی ڑل کیا
وج بیس شال ہوک رححخرت ام رمعادیہ کے مخالف لڑ تے ہو شمہید ہو ۓ جخے برا
حفرت ام رمواوی تا بائل پر تھے ذ اب بای لآ پ کے پا ال لکاکیاجواب ے؟
جواب
مم نے چودروں اہو ںکوٹو ا کا ات نکا ا نے لی می سکہا گی رآنو
حر ےث اورعا ے الہسق تکی تھا تکی رڈشنی می کہا ہے۔اود لف ہتعا یی الف
یش یہ جزا نمی کیک یکم دیل کے ساتحد ا لکا انارک کے بل ہآپ ن مھت
مار ےی لکردوتلعددد لال ٹیس ےکی ایک پراغتراف کن سکیا ہاں ای نئی روات
کر کےایک ما اھتز ات کرد یاہے۔_ ہم چندگز ارشات یلوج زین لکرتے ہی ں کر بلا
تحص بگورکیگیا امیر ےاصلا بج اوال' میں ضروریدد گی ۔(انقاءاش)
دگریم نۓےگزشتن٢فجات یل مق مات سھابراورفضائل امی رماد ہنی ائ رضم
ک ےکن میس جوآیات مقدساوراحاد یٹ مبا رک کی ہیں انیل ایک مرتب ہلا حظہ
فر میں٣ اکآ پکواں وعرہ جو خداورسول پللقا نے صحا کرام سے اپٹی رضا اکااوران
کےکامیاب اورچقی ہو ن کا کیا ہے پیش نآجائے۔ اور پکوا کی مفالقت سے
اب ہون کی تذ فی اورسعادت حاصصل ہو کے۔ علادد ایی ىہ با تھی یٹ نظر
ریس اور ہم پیل بھی اس طرف تج دلا گے می ںک عفر تک کر الڈدوجہہ ےلانے
وانے ایی حضرت امیر معاویہ جا یی لکفی دنگ رجعقرا ت بھی میں لرددعام لوگ
بھی نی بل یمور لگ کے صا کرام ہیں جیا کہ ام الموین سیدرہ حجاتترصد یقہہ
۴ًٔ و٤
2701
ا عفر لاو رحرت ز برای یی بھی ہیں جن کےجنقی ہونے می ںمرشین و
اش نکی اڑکا ری ۔اپرامضراٹھاکرا سے بذ کو لکودوزٹ یکھردیناگویااپے دنو
اما نکا خیڑ ہنخر قکرتا ے۔امام بای سیدن حیردالف خالی حضرت جن ادس بندی
یل کا ار شاوکر ا پان لکیاجاتا ہے فرماتے ہیں۔
منرت معادییتھا اس موالل ہم نجیں ہی ںکم وبی 1ہو ے
ا٤ا بکرام ان کے سا تج اس محا لہ سمش رکیک ہیں یں اگ رحضرتے
امیر( سیدن علی) خلن کے ساتھلڑائی لڑنے وا لن ےکا خر یا ذاسض نہوں تو
دف دین سے اعادلٹھ جاجا ہے جوا نک کے ذر بی ہھ مک پیا
ہے۔ اس با تکوسوائۓ زند لی کے جن سکا مقصودد بی نکی بھبادک ے
کوئی پیندنی سکرتا۔(کوات :فزازل حص چیا کو ہر)
اذا زطدقہ اور ےد ٹی سے “یچ کے ا کی ز با کور وکنا بہت ض روری ے
اں جسے ایماان می عز یز نہب یا ن٣ سکانتقصوداپے دی نکی ببادکی ھ۔اس زم بی سے
ابچھائ کی ہرز امینکیس اور ہم اس ےنفا لب چم ہیں
رید برآں ےک ہآپ نے یس روا تکواعت رات کی جیاد ایا ہے۔ ال
ےآ پکا مو قف ق خا ہیں بوتا الہ مقمات مھا کہ بیضرور مرو ںحکرنیٴ ے
حالائک رق رآن وحد بی فضائل عحابہ ےکر پڑمے ہیں اور جب بیروایتت رن د
حدیٹ کے بن مت مھا ہکا انارکرتی ہن ضرددی ہ کہ پیل ا لکا جاکزہلیا
جاۓے حر ٹپل امام اہن ججرگی رن العلیفرماتے ہیں-
تمویشا نکیخجروں اورسحا ہہ کے درمیان ہونے وانے اختلاف
وافطرا تحو-ص] راففج ں اوشیوںکی چاہلا تاد رگراپانہ باقآل اور
نو ںک یکتد چیزیوں سے اعرا کرت ہدئے الن کے بارے جیل
ما می افیا رکا چا بے ۔کیوگہ سو لکر چا نے فرمایا ےکہ جب
(۸۱۴٥٢.۰0
272
یر رےعھا رکا کر ہود اہول ا موش رہ اکرو-
یں جو سکوئی بات نے ا لکل ضرددبی ہ ےک دجن کسی
کماب م رمیا بات کے د بن ای ٹس سے ےکی ہج سے اے
مبوطی سے نہ پگڑے اور تہ بی ا ے 7 اک طرف فو بکرے۔ لہ
ا کاخ نکرے یہت ککراس یا ت کا عحا یک طرف اقتراب
ددرست ثابت بوجائے۔ بجی ا کے داجب ج ےک دہکوئی انج یىی
اویل کرے اود ٣کاکوئی اچھا مفپوم مرا ل ےکیوکہ وولوگ اس کے
ال ہیں۔ یسا کہ ان کے ہنا قب مس ہے بات مشمپور اور ان کے
کارناموں میں شر ہے“ (الصواضن گھر 3اررول۲اے۔۱۵ء)
”ہمارے امہ اصول نے بدتو ں کے اعتراضا بھی وکر
کے یں۔ جن میں انمہون نے حر ت می اورسھایہ شی الڈنشجم پر اف
پازیا کی ہیں ان امتراضا تکو ذک رک کے الیا ردکردیا ےکی
اتا میس مان بات نٹ ری ہمارے ا بد شن نے بیا نکردیا
ےک اکٹ با یں جوان اڑا ئیوں کےمتحلقمنقول ہیں موی ہیں یاا نکی
سند کو خرالی ہے ۔ جی اکٹ نے ا سکتاب میس !کٹ رعدریث نکی
بات میا نکیا ہے۔ مطلب ہ ےک ہعحاہکیلڑائیاں اط رر میا نک جن
نے پالنام عائد ہو یا عوا مکو پدگوئ کا م وع لے نہ جا ہے جس
جال لوگ ج نکی عادت ہہ ہک جج دکھ لیت ہیں نف کر لت ہیں
اورنظا ہیی مطلب راد لے لے ہیں ۔ نہد پفورکہ تے میں ترحدی ٹکا
کی مطلب بیا نکرتے ہیں ای یش باضماو و ے'_
(سید:امیرممادیہ لھا ردوت جییرالہنانگ۱ۓ)
گویاایں روای تق ضروری ےاور جب رف کی طرف قب کرتے ہیں
۰ و٤
213
انی امام ای نج یی رس ال عل ہک تص ر ا لاظ :وف مات ہیں:
”ہہ بات ال وقت ثابت ہوک جرح ی ٹکو مان لیا جاۓے
اور ا ںکی جا وٹ لکن تہ ہو گر بل حد یٹ ین ہہو نو ال سے
اتقدلا لکیوگر ہوسکسا ہے اور یہاں مج کیفیت ہےکیوکہا حدی کا
ند ٹس ایک راو ضحیف ہے اوران حبا ن کاچ کنا اورلوگوں کے
ضحی کین کو ری سک رتا ححصوصآس حال می لکہابن حا نچ کے
میں سست (غی رتا طط )نٹوریں“_
(سیدا ام رممادیہ جلناردوۃ ج را جانل۹ء_۸۰)
مفسرق ہن مو پ من یچخشطلواکی رت ال علیفرماتے ہیں:
”نم نے اس عد یٹ پا ککومحدشین او شقن کے اقو ا لکی
رڈ یٹ با باد ہما س ےک بعد یٹ چا یں ۔ اکر ہوئی تو علا تے
کرام ا سکی تا وی لکی طرف فوجرد یے۔ بع بھی اس خودساختحد یکا
جاو یکین سکرتے نراسے درخوراخنا جانے ہیں....
الی عاتم یی یقن نے اس حدی ٹےکوضحیف قراردیاے گرم
ال حدء ٹک ےک رصھا گرا مکوست شش مکرر ہے ہو ماب دکرا مکی
درلوں جماعتوں کا نک دفحال ااتتجادی تھا اکر چہ ایک جمامحت نے
ہچارم فلط کی تر لی درخوراہتر یں ہوئی۔ چھرجس
حدیث تم اتد لا لکرتے ہوا لکاگوئی سراود پا جی ئل ےا“
(افنارالامین زمالحا: یش ۴۲۱۴۱)
شیارح لمعلا فلام رسول سعیدکی مق راز ہیں:
۷ “٤
یم ہوتا ہ ےک لا ا ہستقت !ا ںکیححت سے الکارکہ تے ہیں اوراس کے راویوں
ہت ج کرت ہیں انس سے میددایت مرو خاہت ہولی ے۔ب سے پا
274
٠چ مارک کے علادہ دنک رکب عد یٹ مل یبحد یٹ اکا
رع ددع ہکن امام بنا نے حر ابویسحید شددگا لہ ے ال
حد بی ٹکو ال طل رح روای تکیا ہے ۔نمارلوگو ںکو جن تک طرق وورے
دی کے اوردہ انیل دوز رخ کی طرف ہلایں گے انی روامےت ڈل
”کلت ال لاڈ ت مک باخی جماعح تا لک گی سالفا
نیں.۔حافظ ان تج رح سقلا نی بازکی ند کےساتھ جو مسل مکی رط بہ
ہے ذک کر تے ہیں کنخرت الوسجدخدد1اخلەۓ اخزا فا ے_
انبوں نے رسول اللہ پلگاسے بہرالفاغیش نے ۔۔اىی لام بقارک
نے ایت سند مج مےالفاظ در ع نیس یئ _ ا سن کے ٹیش نظ ر
حافظ اہن جرف رما تے ہیں جن احاد یٹ ٹل ''نقعلك الفعة
الباغیهہ“۔ (ئ مک با گرڈ کر ےگا مکی ذیادن ہے دەمدر نے
نی رسول الل ےلاک امنیس ہے بک راویوں نے اتی طرف سے بے
تیاد لی مد یٹ میس طادی ہے۔(نابںت۳ص۸۹۸)
جب بی ایت ہوگیاکہاصل حد یت لیوں ہے عمارلوگو ںکو
چن کی گت دی کے اورووا نکودوز خغ گی تو ا ںکوتضرت مواوے
لہ کی طرفستو ہکرت یس ہے بک نشرک نکی طرف موجہ ےشن
خر کمارمش رکا نکو جن تک دکوت دی کے اور وہ انیل دوز رخ کیا
طرف بلائیں گے۔
نی زق رآ نکر یں ے: .ا
فقاتلوا اَی تبغی حطٰی تفتی الّی امو الله ۔(ا راے_٤)
اٹ گردہ سے جن ککرہ یہاں ت کک دواڈتھائی کے مکی طرف رہوں
کت
۴ًٔ "و٤
275
اگرحفرت معاومہ یل با تی ہو تےذ ححفرتیلی لن پرلا زم تھا
دو ان سے سمل ج کر تے یہا ںہ کک دو حر تم یل کی
خلا فتکو مان لیت لین ححضرت بی نے ایانم سکیا لہ ہگ س قوف
کروی اس سے معلوم ہوا ضحضر تی کے نز یک حقرت معاویہ با ٹی
ٹیس تھے ورنہفارغ خی راوراسداللرالغا اب ان بھی جنگ موقوف :ن
کرت بمڑقرآ نکرمم کےعم کے مطابق اتجرد کک ان سےلڑتے
رپ ے یہا ںت کک کا ضیاب ہو جاتے یاراوقی شش جیر+وجاتے-
ق رآ نکر مکی ا فص رع اد بفار یک روایت اورمند
بجزازکی تر ہے جابت ہو اک ففرت معاویمجاذ انل بای تہ خ بللہ
چر تےاور”من قتل مظلوماً فقد جعلنا الولیه سلطانا“۔ ُ٘ل
ملو] شہی ہواس کے ول یکو ہم نے قصائ کان دیا ہے کے “و جب
ہا عثا نکا مطال کرد سے تھے .(حتال تسیرلص۷۲٢٦٠۴)
مناظراسلام علامسییدج عفان شاومشہدی اہ مناظرہ ما چٹ رکا ذک کر تے
ہو ففرماتے ہیں:
مناظرہ ما چس میں ف رق حالف کے مناظ رکی بڑبی رٹیل
جن نے اے بہت خلیڈٹھی یس مت کر رکھ تھا بی دی چھی _ اس الزام
سے جواب میس“ طف کاب کیہ جان ےکی ضرورت ےگ یبال
اخنتماڑوظ رکھت ہو چند ات کی جاتی ہیں-
کی بات ییالامال دقتجٌّ بوگاجب ا لگ لَ+بل نل
چاسکتی ہو لیکن ماگ رج ین ہو راس سے امت لال ہی درست نہہوگا
”والامر کذالك فان فی سندہ ضعفا یسقط الاستدلال بہ“۔
کیڑنگ اہ سکی سند می توف ہے اس وجہ سے اس رداعت ے امت لال
۷" ٤
2716
ساقط ہوگیا۔دی ىہ با تک ران صبانع نے ان کان کی ےو ا نکی
وشن ا سک خی کرنے والوں کے ہم اننس ہوک کوگ ان حبان
ر یں بت سس ت مرو تے ہیں ۔(ت١فیر با نض ۳)
ای حد ی کی ند منعدوجہذ یگل درادئی ہیں ۔مسددہعبدالتز یز ین فتارء
مالدال2ز1ءاورکرں_
سدد۔اام ہیاس ک ےت کھت ہیں فان ا لْتَكَْبَىْيِْ
تسم قطائی ےہا : مسدد یس تسائل پایاچا تا ہے۔(میزانااخززل
۳۷۷۲۳)
مین ےئد یکسا ل کی مفت روا تک قایل ارات ے۔
۴ عبدال یذ بن عتار: امام ذ بی لص ہیں ان ز ہی رکچ ہیں راگ
یس بی ء دہ گی ۔(یزانلاظال۳۹ئ۴)
الاسلام این جج رع سقلانی کھت ہی کہ این الی خژہ ا نین سے
ردایتکرت ہیں ۔لیسس بشسی ۔ مہ اگ یں _(تزیب لچز بب
ض۷۴۳۵۲۰)
۳ )الد اأأزاء۔مام ذب کھت ہی ںکہابو عاتم ےکہا:”لامحتج یھ “نے
قائل اتا نیس ہے۔امام اص نول کے ہی ںکہ این علیہ سے اس
ری ک تلق ددیاف کیا گیا کہ خاللد ا لک روا تکرتا ہے او رہم
نے ا کی طر فکوکی نی دئی رتعف ابن علیرام لان علیرنے
خال یح کہا ہے۔(میزان:لاعزا ل گ٠ ٣تا)
کہم ول این ع اس :ا کا نا ممنکرمہ ال :گی وید اید مولا
اکن عال ہے۔ علامہاین جج رمسقلاّی لے ہیں ۔ کی کا کے ہیں۔
یس نے اہ گھرکواپے ش اردان سے ہی کے ہو ۓ متا اے نافع ات
(۸۸٥۱۶۱٥.
27
پا وںاڈرےڈرہ۔”لا تکذب علی کما کذب عکرمةعلی
این عباس'“۔ ججھپرھوٹ تہ با نجنا جج اکلتگرمدنے ای ناع با پہ
باندھاے-(جزوباجذ ب٢٦۲ نجد)
امام ذ بی کک ہی ںکمبداللہ جن عارث ۰- جن بدا جن
ععباسں کے اک یذ دیکھا رم دروازے پر بتدعا ہوا ےو وس
نے انا ےگہ اک ای کا و فک یں پذانوں ت ےکھا” ان ھذا الخبیث
یکذب علی ابی تبث ھیرے الد پرگھوٹ باندحتاۓ “-_
مصعب من زیر ےلہاکہ:”کان عکرمةیری رای الخوارج
تعکر یخوارر ج کا نظ ری رکا تھا (میزا نلاختزالش ۲۴۷۸)
ںیل سے زے بکٹث عدریٹ کے روار کی اصلیت و
تقیقت اورسیرت ورداروائّّ ہوگیا ہے۔ جودادی نا اٹل اقبار” لا :
. بھی من قا یل احتاع غی رنہ مجھو نے او مارگ ہو ں نے ا نکی ردایت
مقر ت ما وی یل کے خلا فتکیے استولا لکیاجا سا ے۔
مودودگی نے ا ںٰعد ٹ ٹ کےروات ٹیس الیک نا محفرت الو
اایپ انضار کا یسل کیا ہے۔ (خلات دطرکیےص۴٣) ضخرت علامہ
جلال الد بی ین نے پودی سند کے ساتحداس روای ت کش کر کے اے
موصسوع قرا تراردیاے۔علام ہی ال ردایت ےآ خرمی ںکیتت ہیں:
”موضوع والمعلی متروك یضع و ابو ایوب لم
یشھد صفین“ ساب لوالی اتوہ فی ال حاد یث الم وی
ص٣۲۴ )کہ بیس بک نکھت ردایت ہ ےکیونہاسل روا تک سند ٹل
اس بن ع دا رشن اییا راوئی سے جس کی روای تکومترو کفکہاگیا ے
کیوگ یا یرف ے عدشیں نا تھا-۔
۷" “٤
218
دسری با تکمابوالیب انصار جوا رواہت یں عرکزی اگ روار
شیلناہرے سے کن یس شائل بینجیس ہوۓ او خی رجاحبدا رجا
کےےگردو یش شال رہے۔
علا۔ابین جمرا لا لی معفی بن عبدالشن ےتا کت ہیں۔
نین کی ہی ںکراےہوت کے وت اتکی ےا اس
ن کہا شھے اپئی مقر تک کوقی امی کی ںکیوککہ میس نے حعر تک یکی
فضیلت مس ستراعاد بی کھڑئی ہیں ۔( تب یب اذ یگ )۲٢۸
کت بفار کی زی پٹ حدیٹ می دڈ٢شمون مان ہوۓ یں
ایل ”تع الفعۃة البساغیے“گمارویا کرد یکر ےگااوردومرا
”بدعوھم الی الجنة ویدعونہ ای النار' وذ قرو موجن کی
رف جقوت دی گے اود با فیگردہ یں جہن مکی طرف بل ر ہا ہوگا۔ ہے
مل گنی لوا آپ می کا ارشاد تاس لاتق حضرت ارد
کےابتدائی اورآز ای دوہ کے ساتھ ہے۔ جے راویوں نے اتی کرشم
سازپوں سے جنگ صفین کے ساتھ جوڑ دیا۔ یکن یقت پہ ےکہ یہ
جم ہار کے صن و نے می موجود ہیں اسے بعد سی
راوٹی نے اپت یسوی ذ جنیت کے یش نظ اصسل عد یی کا حصہ بنادیا_
علامران ہر سقلائی ھت ہیں سہہیں معلوم ہونا چا ہےکہ ڈکودالفا کی
ذیادلی حجیدئی نے اپنی تع ڈک نی لکا او رکہاکہ بفاری تے ادے
اگل بی کی کیا اور نیوں ہی الومسحود ن بھی کہ ایی دی کاکناے
مہو کا ہ ےکہ ہار کو مز یاد لی یی نب یا گی ہکن جان لوج ےکر
اسے ط فکردیاہھ۔ ہا اسحا می اود برقالی نے اس حد یٹ یس پرگورہ
(۸٥۱۷۱0.
219
زیادثی کی ہوم سک ہوں ظا ہر یلوم ہوتا ہ ےک امام بای نے ا سے
جائن بو کر حذ فکیاہے اورالیااتنہوں نے ایک با یک مق کی بنا گیا
ہے دہ سید خد کلپ انے برا عتز اف فکیانکہ بیذیادل مل نے ھا
کر علی الام ےی فی _”'فدل علی انھا فی ھذہ الروایة
مسدر جة'ف یا امک دیلل ےک ہمکودہزیادثی ال روایت ٹٹل بعد
یش در عکگنی اور جس روایت شس بیزیادی ذک رگن ہےدہبقاریکی
شرط پہ رئینیس اتکی اس زیاد یکو ببزاز نے داد جن ال ہندن ال
رون ال سعیدکی سند سے ڈگ رکیاہے۔ بعد یٹہ مس دک نی رہش ایک
ایک !نٹ اٹھاتے وقت ذکرہوئی اوراس مس بیجھی ےک الوسعی کت
ہیں جھدے می رےساقیوں نے بیذیادی میا نگا۔”'ولم اسمعہ من
رسول الله صلی الله عليه وسلم انه قال ابن سمیعة تقعلك
الفثة الباغیة“۔۔ اورمیں نے اےتود ا حضرت پل ےیل سا لآپ
نےف مایا وکراے این حیعہ کے اخ گر لک ےگا ۔ امام با ریانے
ای کر الفاظ عد یث بر اخنقمارف مایا یس رر ابوسعید مدکی لہ نے
آفحضرت بلاق سے نے تھے .اود کی ناس بات پردلال تک لی ےکلہ
وہک زیک ے اور حد ی کی علتتوں پر ای سکتنا عبو رتھا۔ (ں ایارک
ص۵۳۷۔۴۵۲۳١)
حطرت ابوسعید مدکی _ولنہ کے اس ارشاد کے مطا نی بات
صرف اتا یک رکارددعال علی لصا والسلام نے جب تما رکودوسرے
سبلوگوں سے زیادو مشق تم تے پیا اوردہزیادہجگے مان ےمعلوم
ہوتے تھے آ پک محبت نے جقش مارااودازراہ ہعدردی آ کے بڑ کر
ان کےکپٹروں ےی تھا ڈتے ہو مےفمرمایاز
(۸۱۷٥٢.۰0
280
اف نھا رام نے یکیاحالل متارکھا ہے اورشس اس کے1 گے
ارک عیارتاالاقی ہے کو ”یدعوعم الی الجنة ویدعونہ
ای النار“ کےالغاظصرفکگر مکی روایت شک تی پاے جات ہؤں-۔
اس کےعلادہکوئی دومرا داد الف نی شکرتا اورکر کا حال اوھ
تایاجاچاے۔
اب سوالل ہہ س ےک کیا عخرت عائکشرصد یہہ جعفرت طل,
ضرت زیر حطرت مویہ جحخرب تعمرو بن الحائل اور الع کے حائی
دک رسحا یرک دگوت جنت یا الل کی رف ر ایا ؟ کیا ا نکی دثوت ت رآ ان
اوراسلام کے خلاف کی کیا رت معاو بی نار کے الف ھھ یادہ
تما محابہوتالشی ن بھی جھ نک یل اورمفین می ان کے متقا بے مس
آۓ؟ ظاہرہ ےک مراپنے ال فکو جن تک طرف بلاتے ر ےکیا
.ای کک یکیل> لی برخیا لکیا اکا ےکرسسیرہ ما کشر صد یت عفر تطلی, ۱
صحفرت زی عحخرت معاویہ او رتحقر رت گر بن الحائل وی ہمج٭ت مکی
رف وت رتیے رہے؟یدعو ہم اوریدعونہ کے الفاظ تی ال کے
موضوۂ اور نکھت ہو ےکی شہادت دےر ہے ہیں۔ چحضرت
می سےیصفین کےمقولین کے بارے می ددیافتکیاگیا و انہوں نے
فرمایاقعلانا وقعلھم فی الجدة“ (سف مال ضریل۴-<عہ٤ لٹ
ہمار ےت لین اورمعادیہ کےمتولین دونو ںچلقی ہیں
اماممننفراپے باپ سے روا تکر ت می ںکفعفرت کی اپ
ساتھ ہچ گکرنے والوں کے تل فر مار تے ت کہم نے لن سے
ان ک ےکفرکی ہقا یہ کی کی اورندی انہوں نے ہار ےکقرکی بجر
سے بمعمارے ساتھ کک ئک ن ہم اپنے آ پکرقق بر کت جےاوروم
اپنےآ پل رق ات تھے( قرب الا خادےل1۵۴)
(۸۷۸۱۱۴۱٥٢.
281
ا حوالرجا تک رد گی زیر بث حد بی شکادومراجمل قاط
ایت بوتاے۔
(سی نام داد چا لت قکنظ رض ص۱۰۳ج۱۸١)
مشورمققی علام لی صاحب جامعہرسولیہشیرازی لا ہور نے بھی اچچ
تنب (دشمتان امیر مواوی پچکاملی اسب جس ۱۵۹۲۱۳) ٹیش الس تقر حکونہا بت یقعیل ے
ذکرکیاہے۔ جس سے اس ردای تکی تفیقت خوب ظا ہرہوجالی ے-
اورعلا مہاہ تچ رگ یی رم ال علیہ لو راو ہل فرماتے ہیں :
”اجکی تج جواس حد یٹ ےلگ ل مھا ہے یہ ےکتفرت
محادے جٹٹچاوران کے رای باخی ہوں اور میاو بی بین چا ہ ےک بای
ہوا نکی ےپ یں سے اور پاوجوداس کےبھی دوارک خیب
ہیں لگا ریس کیو آححضرت لا نے فرایا ےک بد جب اجتباد
کرےاورال سے خطا ہوجائے 2( بھی )اس سکو ایک و اب ملا ے اور
سی بات توب بط سے بیان ہوچگی ےکر رت محاویہ خیچ ہے اور
دوج ک ےب تھےانہوں نے اس حد یٹ تا وی ھی ا کی سے جھ
تقلمی الو نئیں ے“_
( سید امیرمحادیہ ارد جدیر ہنان۳ء)
علا رشفقا ت اجرلشمندی ای ٹف لکرتے ہوتے ڑقم طراز ہیں :
سے ہس این تچ ری کھت مہ ںکہ جب بر عدیٹ جناب
امیرمحاد سنا یئ ت2 آپ نے بیا:”اتَحْیْقَلَاهاِنمَا قَلَمَنْ
جَاء به فالُْوٰه ین را نا قَصَارَمِنْ عَسْگر مَعَاويَة“۔ تر
ان٢۳۳ یقت کرت غارکہم ےکی کا ان
کوق ان ہی کےاوگوں نٹ کی تھا جوان کے۔راصی تھے اور ولو گآپ
کے اور فی قواب جن تکا ار ہوتا ہے دوز رخ انیل _
(۸٥۱۷۱٥۱.
282
کوشمیدکر کے جمارے درمیان پیک گے_ اس رہ کات گر
معادمہ کے ذ مک گیا (یادر ہےممترقارریا اسلام سے ہہ بات خابت
بوئی ےک حر تی ید کحےافک می بچنوش رپیند عنا صریھی شال ہو گے
تتے۔ دراصل دعی جن کک سب ب بھی بن تھے۔ ہوسکما ےک ہانہوں نے
ىآ پکو وم میس شمیدکردیا ہو )ا رع ت2 موالہ ورلے دی پالگل
صاف ہوجاتا ےک جن شربپندوں ن ےآ پکوشہیرکیا تھا دای دہ باٹی
گر تھا جج ن کال خی طور پرحعف رر 92-0س/
جحض اخنفار پیر اکر ن کی خاطردہ حعقرت لیج کے نکر میں شائل
ہو ملئے تھے( ماق سید ایرسماویر طلاال١۰٠)
آپ نے علاۓے اسلا مکی ففررححات ملا حظہفر مکی ہیں جو مت ہکی وضاحت
کیل کان دشانی ہیں۔ بچریھی احا قح اور ابطال با لکیلے چندھز رکز ارشات
یک جال ہی آپ دکھیں کےکہ یردای تک دوہ سے درس کیل ۔طاظہ
فرمائیں:
١ دد مھا کرام یی انم جواس وفت خی جابداررے تے یاجھابگرام
یکین و 26 اد
ر سے تھے ان ہوں نے ححضرت تما رن یا رلک شہادت کے بعدرجو نی لکیاتھااور
فیصل تد کر کے حعفر تی یہ کے ساتجھ شائ نیل ہو سے تھے الاسلا م ایام
و وکی رت ال علیفرماتے ہیں:
اس وقت تی اتا مشت اور خی ردان تا مھا ر زی این مکی
ایک جماحت اس معا مل میس مرران در وگئی (کوئی فیصلہ تک ری دونوں
فرلیتوں ے اتک ررجی اورلڑائی میس ش یک تہ ہوگی او اکم ان صیا رض
انم کے سا نے اس وقتہ مق منی طور پر وا ہوچاتا تق وہ ا کی
۴ً و٤
283
فثرت سے چچچے درہے“۔
(فووی شر سکم +ص+۹س ماب ای )
اورتویقت بی ہے جو امام فو دک نے بیان فرمائی وص أدورسحا ہی کوئَی لیا
یس0 تا کہ جک فی میس فا رت تھارن اس کی شارت سے
٢ ان پرکوئی دیل دا ضہ ہوئی۔ اکر سی روایت ا برگرا مک یکر ججاعت ن ےک
وی اورائیس ا کی_حت پ رین ہوتا تق برا نکوفیصلہ پنرغا یک کناچا یی اور
ان س بکوحعض رت لی ریش الشعن ےگل جانا چا ہے تھا بی ایانس ہوا۔شودمولا نا
: مودودی صاح بھی ا ےی ایک ممال یکا می کہ گ ےک خلا عحالیٰ نے فلاں
آدت ر جو کا اعلا نکردیاتھااورفیص تیب لکرلیاتھا_
٣ تما جن یاس کی شہادت کے با ع بھی تی ال نشی یچ
نے اپنا مق نیل بدلا اورتضرت معاویہ چک اسلا مکا با تی قھرار در ےکران ے
7ھ؛
بک کیکوششوں کے دورا نبھی بیروایت اطور ول لنییں می لک یاگئی پھر
تع راو کے فیصلہ ےو بن لی ہرود ا ےکہترتتنماربن ماس کی شبات
ہق دبا کا اجیاؤنٹیس ہوا کیو یم (عالئی )کی ضردرت وہاں ٹن نی ے
ا چاں فر ین یش ےکی ای ککوت پ دب کیلنصر جن اور داع 7س
اوردوٹوں ططرف کے داائل میس سےیگح لکرواغح نہوتا موق کین ہےاود ال >ہ
ٰ کون پگ ہی مکا [ ۳ دوثوں ڈرلیقو ںکو بای پر اکھڑاکھتا ہے اور اگ رمولاتا
مودودی وغیمرہمت رین کے بقول جات سحا ہکرام پرائس شبادت سے بی جات دا ٹم
ہوئی ہوئی تق کس جاب جح رک ضردرت دی ھی عالائ مل ٣ئ
گویا حضرت تماد جن اسر طلئدکی شبادت سے 27 طور پر ظا ہرنہ ہوا او راو
الین یشی ال تم ابھ ی تک شبرجی سے دو چار تے۔
۷ ٤
284
۴ اکر ددای تج ہو اودارکرام تی ام می مشپویھی ہوتی نذا عالیا
منقام تحضر ت اما تن تہ نحخرت ام رمواویہ تپ ک ےق مل خلافت سے دتجردار نہ
ہو تے اورا نکی میشت شیکرت ےک باخیوں سے دوقی چا ئن ۔اہندابیردایت نیش _
۵ سید ملین سد ناما نع ےن تہ رسے انت کے جن دی
گروہوں ھا ہوگی حدیث اک میں ان دوفو ںگردہو فجن عویْعَِي بن
الشضلییْیع مل مان فرب اگیا ے۔لا حظہو:
الف ) ہفار یکتاب !رع کو وباب نا قہال ہے ف93 1
حھ جم میرامیہ بنا ( تن ) سردار ہے شاید ال کےذر یج اود تا ئی سلرائوں
گیادوبڑیی جماعتوں میم حکراوے۔
ایر ایک اورعد یث پاک میں حعضرت کی لن یداو رتحخرت ماد ہے
ےہ کےگروہو ںک یآ یں می ڑا یکاذکر ہے سغرمایا:
غَطيمَة وَدَعوَ ہما وَاجا۔(بفاری جا 1۵تاب ان سم وص تا ب افتن )
جم : قیامت اس وقت کک ان منیں ہوگی ج بت کک( ملمانو کی )دو
بی جھائی ال نہلیش ان کے درمیان شمد کیٹ ائی ہوگی ۔ دوگ ان کا ایک ہوگا-
اض ص جودوارت ای کی ای شی ال تہ
کھاگیا اوراا ںکیصححت می ںحخت اڑکارموچوو ہے۔جی اکرا و پٹف لکیاگیا ہے رج ۰
صدیٹ پاک شش تین حظیعَتِن نا ہرکردہکی اف یه فا یاگیا''فند
الیساغیۃ“ نیں۔ بلکحد یٹ اک کےعلا وق رآ نک ریم می بھی پا پل نے وانے
دوفو ںگروہو ںکسلمان بی فرما ایا سے ۔ لا حظہہو:
وَاِنْ کازقنِ من الْمُزِييَْ العَلَوا َاصِْحُوا تما
(الجرات_١)
۴ "٤
28
تج :اوراگرمسارافوں کے دوک روآ یں می لٹ یں ان یل جح را
(کزااان)
یں اب خو بگح لگ امش رت کااعتراض درستکئٹل ادرای کگروہکوانة
ا الماغیة“ راد ینا رآان وحد یی ٹکی الف تجگی ے اورحرت ام رمعادي مه اور
ان کے محاو ین سا ہکرام یا تا لان عظام پیر فکیر یھی جواکیش برا پھلا کینے لن
گالیاں دہ کے رارف ہے۔عالا اتک مولا نا مودودگیخود تصرف دوتوں ریقو ںکو
۱ تک می تاد ج, ہیں بیس برا پھلا کل( گالیاں دی کو بدیٹریبھی تر اررے
کے ہیں ۔ موم نا مودددگی صاحب ترما کے ہیں:
”ےک وہ جک تل یفن ٹیس آبیک دوسرے کےقلاف
نجرد آزما ہو ہی ںگ رکیادیا کی ادگ سآ پ فریشی نکو ایک
دوسرے کے سا تل تے ہو ۓےجھی ایک دوسرےکاددات ا رھ ظا رک
د یھ ہیں جوان ہنرو ںکیلڑائی می نظ رآ ہے دہ نیک نیقی کے اھ
اپے آ پکون بجاب بگھتے ہو لڑڑے تھے..... ان کے دلوں یل
ایک دوسر ےکی قد رہز ت عحبتہ اسلائی تقو کی مراعات اس شمد ید
خانشگ کی حالت م بھی جو ںکیتں برق ارددی ا یں سرموفرق نہ
آی بعد کے لو کی کے حائی بنکران جس ےک یکوگالیال دیق
انا اپی تی" ے 2ٗ“-(رےال و الخ +ض۱ے١۱٤ءا) ٠
۱ سیدن انا تس لک ادرحضرت ایرمعادی کات یں خلافت ے
قبرداریی کے بحدصا کرام اورجا لین عظام بل ہچ افراداصت نے خقرت امیر
نے سو مولای مودودی خوددی بی و ای فی الباخ دق ارد ےک برا بھلا کی یں اوری خر
۱ ؟ کی اورٹیرشر یف کا مرگب ہون ےکا اخزام دب ہیں ۔اتخظرالل اش مودودی صاحب
اپنے اس1 نے مم ئگ انا چرچ دکھ لی ۔
۴ ٤
286
معادہہ ینمی سلیمکیا فرقہ بند یش ہوئی ۔امت پھرسے ایک پر چم جلہتقرو
شلق ہو اورووسال' تھا اما کے نام سے موسوم ہوا۔ دیمح ٹیل ایام
ان جرکیتنفل ف مات ہیں۔
نیہ با تکس سے پیشید ہی کرای سےبھی ححقرت معاوے
کےشرف او رتقیقت خلاف تکوقة نی ت لی ےکآ پححفرت صن ود
نفبرداری جے بعد غلیذہ ہوۓ۔آ پکی خلاقت سے دبرداری اور
رت معاد یکا خلافت پر امتترار رق ال ادگ الادلٰا٣ِ وش
ہوا۔ اس سا لکوخلیفہ واعد کے پاتھ پراجمارغ ام تک وجہ ے''عام
ایجماعت' کھاجاتا ہے (ااصو بصن بھر ڈاررل۶٤ے)
اب د نے مولا نا مودودی وغی رکا اعتزا اورا نکی خٹ یکردو روای تکاحال
ک ہما برکرا مک بقول ان کے اس شپورروایت سے متاثر ہوکراورضحخرت مار ودک
شہادت س میق سی ےک رنحفرت ام رمعادیہ کی یت تچوڑنے کے بیائے تام
کےتا مھا نے ایس انام لی مکیااورا نکی اطاعت بالات رہے-
ے) حدیث پاک اورفربان جناب لی الرلْٰی یہ کے مطابن ان دونوں
جماشت کا دوگ اورذوت ای کی ۔متضاد با طلف نی دوبارہ ملا حظہ ہوعد یٹ
رسو لک۷ریم اف مایا:
مَفَلَة یم رام وَاجة ری تاب ان اسرب اتی)
ت جم :امت اس وقتکک تائننیس ہوگی ج بک کک (ملانو ںی )
دویڑی ہناعتمیںلڑ نرأیں_ان کے ورمیا ن شد تکیلڑائی ہوگی۔ دوگ
ال نکا ایل ہوگا-
او جناب سیدنا لی الف کر الشدو جہہ نے نگ “ین کے بعد اپ جیا مک
۰ًٔ ٗ ٤
بیفرمان جارک فرایا:
”'وَالطَاهراَؤ رتا وَاجة نَا وَاجة وَتَعْرَتَا ٰی انام
وَاجدة وَلا نستزیدھم فی ای ن بالله وَالتصِبْق برَسُرَلہِ
وَلا وَسْمَزيَدُوَنَن المْر وَاجا الا مَاختلفت فی مِنْ دم عُنْمَانَ
ہمد ھ تھے 0
ونحن منە براء“_
7مہ ٹاہرٹش ٹم سب کا پروددگار ایک تھا ہار نی ایک تھا مارل
شدت اسلام ایی نہہم ان سے اییان باللاودنقم لق ارول مج
کی اضانے کامطالبہکرتے تھے نددہ ہم سےکرتے تھے (ال مواطہ
اختلاف تھا عالائ راس نون ے ہم بالئل بر الم تے۔
(ن اع جم ترجا ص رب ر۹۸ ل۸۲)
اب جب دوفو لک ذکوت ایک ہیی تو انتا ہوگاکہ دوفو لگر دوہی جن تک
رف بلانے والے تھے۔ اذا یہاں خخرت ام رمعادیہ ظزلندادر ان کےگروم ے
بارے شی بپکن اک تحخرتنمارا نکو جن تکیطرف بلاتے تے اوردہ خر تار رد
کودوزر کی طرف بلا نے تھے تا درست ندد پا معلوم ہوا مض رض نکی ہی لکردہ
ردایت بی یش ہے اورک اکم بی کہا پڑ ےگا ںکونضرت امیر معاو اوران
کےگردہپ تل کر تادرست میں ے۔
۸ مت ری نکی ٹین کردومبردای تک مار وگو ںکو جن تکی دکوات د یی گے اور
وہما رک مکی طرف بلایں گے ۔نحقرت امیرماو اوران کے ماق صمابردتابتلن
پنتفب ک رن اس لیاظا ےبھی درس ت نیس کرسیدناعلی الرنشنی ید نے دونوں طرف
کےمق لی نکیچھق یف مایا ہے ۔للاحظہہ آپ فرماتے ہیں:
ا) تل وَقَلی مُعَارِيَة فی الْجَنَة رواہ الطبرانی۔
(۸۷۸٥۱۷۱٥۲.۰0
238و
(تلیرلان۹۱)
ت جمہ: میرک اورمعاد یک جنگ شأگی ہونے والے(ووفوں طرف کے
لیک )یی ہیں۔
(ب)قنلانا وَََلَاهُمْ فی الْجَنگ
( مصف زین ای شی ج۵ امس ۳۰٣۳ والہ شمناع ام رحا؛ يک مکی عاسہےع۶۲ص۵۲٥)
تر جمہ:ہمارے اوران ک ملین دوفوں جفت میں ہیں 4
فرب ے جب دوفوں رف کےمتول او کلت ہی ت2 جخ مکی ذکوت ری والا ۔
کون تھا_ ان دونو ںگروہوں مل س گیا ہرآی کک دحوت جن کی مر فی ای
لئے دوفو ںکوگلقی غرم گیا ۔اگرکسی ناخیارکو رت مولاعلی زونہ کے خر مان عالیشان
پرچھی یقن اورایینا ن یڑ تذ ہم اس کے بارے می کیاکہہ سکتے ہیں ۔ باب مد
اعم حضرت موزاعی و دکی ضبدت ان مخضی نکوردکرنا آسان ہے بآ پکا
ای کے مت رقی نکومع ان کے اعترا کے ردکرن ضروری ہے اس لن ےک
حضر تک لی کی حمایت در تق تن نکیاھامت ے۔
۹ رن وعد ث اور راۓ اہلسقّت کے مطاِ حضرت ام رمعاد ہے مڑعاور
ان کے معاوخین ماب وت مین دوزٹ یں 1 می ںو پچلرمودودی ام رضین
ےس وعنار پٹ خیالات اورگھٹیا اختراضا تک طرذدار اور شا تما ن حا کی
حای کیو ںکی جات ۔ ان کے اعت راخ کو درست ماتناگگویا ق رن وحد یٹ اور
مفنقرات ا اف تکوخل کک راہسقّت سے ارح ہونا ہے
امامر بای حضرت میردالف خالی لد فرماتے ہیں:
سب سے پیی ہآ د لکوفرت نا جیرابالنّت دجماعت رضوان
شیہم اہی نکی رائۓ کے مطاقی جک مسلمانو کی سب سے بای
بماعت ے عقیر ےکا درس تکرن لازٹی ہے کہ اخروکی خجات و
(۸۸٥۱۶۱٥٢.
289
کامیا لی تتمورہو گے اور بداعتقادی جواہپسقت کےعقیدہ کے غلاف
ےم تا ال ہے۔ ججوابدگی وت اورداگی عز بکک پچچانی ہےاوداگر
تمل مس پوکوتاہی اورسستی ہون2 ا سکیئتشت کی اید ہو تی ہے کان گر
عقید, یں ستی ہوا کی معانیکی امیٹنٹش ہے
(کتوبات لام با یوب ے۷ نزرمصمخ)
او رر ٹیل امام این جھرگی رم اشعلیفرماتے ہیں:
”حد یت پاک میں ححفرت ب کی پ"انے جودعافرمائی ہے
ال پفو ری کہ ”ا القد ا محادمیکو دی اورمہدی منادے'' ا رآپ
بی جات ہی ںکر بعد یٹ صن ہے۔جس ےحفرت مواو يک فقیلت
کے بارے میں ج تپڑی چائتی ہے اورانلڑ او ںک وج ےآپ پ
کو ی میں1 سکیا .کیو وواجتجاد ٹن یی اورا نک ئل ایک پار
ا نکی فضیلت پرد لال کر نے والی د٤ دعائچھی ہے جودوسری
حدیث مآ پکی ےی کیم ےادرعذاب سے بے
جامیں ۔ الله عَلمْمُعَارِمَة الب وَالْحسَابَ وِقه
الْعَدّتبَ) اور بل شر تضو رع لصلؤ قوالسلا مکی دعاصتیاب ہو لی
ہے۔اس سےئمی پت چلنا ےمجرت معاویکوان گو لک بج
ےکوگی عراب شہہوگا۔
۱ (الصوعن گر قاررزل2۲۳)
ریت عممن عبدرالعزج: ین جن میں خلا ۓے راشد بن می شا کیا جاتا ہے کا
ایلوا ھا ظہو- 7
”عَنْ عمر بن عبدالعزیز َآیِت رَسوَل الله صَلی الله علِ
(۸۷۸۱۱۷۱٥۱.
290
وَسَلَم گر رَعُمَرَرَوِ الله عم سان مد
الاب وَأجیْت عَلیِْهعا الاب ون الظرکََا کا برع
ِنْآنْ عَرَيعَلی رَهُوََقرلَ لی وَرتِ الكمَد رما گا
بََسْرَع مِنْ َنْ عَرَج مُعَاوِیة لی ار( وَهوَیَول عَيرَِیْ
وَرّب لتق
تر جم :ححفرتگم ری نعبدالعز یز "لن کتتے ہیں .یس نے خواب یل سرکار
دو عا لم پڈگاکی زار تک ادرالوگر ور شی انتا کپ کے پاس بن
ہو تھے میس نے سام عت کیا اور بی گیا ال دوران تحضر تک
انی اورامی رمحادی رنٹی الل ٹم اگولایاگیا- انال درواڑزے ے اندر
دا لکیاگیا اورورواڑو ینکر دیاگیا تھوڑ ای مرگل 27 _ثشل اہر
تھریف لاۓ اورکپرد ہے تھے۔ فندا ام امیر ےی یی فص کیاگیا
ہے۔ پچ کھوڑی دہ کے بعدامیرمعادیہ پگ یآ گے اورو ءکبرر سے تے
ر بکح اقم ا یما فکیاگیاے'_
( کا بل وع معنایی 9 ۳ و9
کرالات اصحاب رسول بلق ار دو جم الا سالیب الید میہف نل مھا واتقاغ شی ص٢۲۰ بواز
تاب النامات از انل الدیا)
اعترائش ۴ ( من مودوری)
آپ نے ععفرالت ھا کرام ری اللہ مہم کے کی اورعدالت پ رگج یکنفنک کی
سےاورکھا ےلب کےس ب ا گرا مق اورعا دل س٤اي ”الب
عثاود وو
کلم ول ابق ت کا جھائیمقیدد ہے۔جیمہ با جماعت اسلائی مولا نا مودددی
فرمات ہیں:
(۸/۸٥۱۴٥.
291
”مھا ہکرام کےکتلق می راقید ہبی ددی ہے جو عا ح شن و
بآ ادرعلاۓ اصتکاعقیدد کہ ”لعل * اہر کہم
کک دی ن ےکا ذ دی ہیں۔اگرا نکی عدالت می ذ دہ برا برنھی شی
پیداہو جا دن می مشت بویا تا گن شش ”الصحابة کلھم
عسدول“ (محاببسبراستبازہیں )کا طلب یل لٰتاکتام
معابہ ٹہ بے قطا اوران ٹ کا پرایک ہس مکی شر کرد یوں سے پالا
اوران می ےی ن ےبھ یکوئ یی سکی ہے. بی ا کا
مطلب ہہ لیت ہو ںکہرسول الد ہلا ے روا یت رنے یآ پکیطرف
کوئی بات مو بکرنے می کیا صحال یہ نے گی اتی سے ہرگزجچاوز
تی کیائے“(خلافت بط رکےض٣٠۳)
اپ ”لان مودودگی صاحب نے یہاں ج اما اقت ے اخلا فکیاے
ادا لگ رائۓ دگا ہے۔ ا کے بارے یسک پک یا ہیں گے؟
ماب
سم میکس کہ جناب رسول اللہ پلک سا کرام شی ال ھنم سب کے
سبف اور عاول تھے ال پرگزشصفات میس دروحنواعات' بد ےق اور عادل
ہیں“۔ او کفر وضن کا شا ئک کی ک ےت قرآا نکر مکی تعددآیا تک رشن
می فص لکن کو یی ہےاوریاکہ ”تام مع کل اہنت کااجعائں
عقیدہ ہو ا بھی اکابرعلاۓ اتکی مج رآرا سے مل طور پ با نکیاگیا کر
اوردپؤپ بات بی ےک اخترائل سے پیل سولانا مورورئی صاہب خودگجی امت
علماے ام تکاعمقید ہک گے ہیں اوراسے اما گی اورمتفقہکقید لی مکر گے ہیں ۔دہ
فرماتے ہیں:
۔
(۸٥۱۴۱٥۲.
292
”ححایلام کےیتحلق مرا خقیدویھی وی سے جو عا مھ شی ند
تا ءاورعلا ۓامتب عتیر, ے/۔ كُلْهمْعُدُوْلُ
(خلافت و وی ے ل٢٠٠)
مودودئی صاحب ا کی دضاحت می ال ےآ م ےککچے ہیں :
”ظاہر ہے( ین ا سک وجہظاہرہے ک۔بمکک دی کینکا ذ رد دنق
(صھا ہکرام ) ہیں گرا کی عداللت می ذدہبراریھی شبہ پدا ہوا ےت
دن بی مشتبہد جا جا جے '.(خلات وی ۔تل۳٣) ۱
گویا موا نا مودودئیٰ کے نز د یک صا کرام کے پارے یس حا دجن وف
اورعلاۓ ام تکا سوعتیر, ے/ ”لَمَحَابَة کَلَهھْہْ عُدُرْل گےوضاحت
ٹس بیکہناجا ہے ہی ںکہ چوک حمکک دی پٹ ےکا ذد یا ہکرام ہیں ۔ نان کے
عاول ہون کا عقیردرگنا ”ق ''الََحَابَة كُلهہْ عُدَزْلٌ“ انتا ضروربی ہے۔اگر
صحابرکرا مکی عدالت می ذرہ برابریھی شبہ پا ہوسا تو دبع دی مشتتہ+و جانا ہے۔
یں مودوںی صاح بک اس وضاحت کے مطا بی نس نے بھی صھابرکرا مکی عدالت
میں ذ رو برابرشیرکیا یی انی ںی طور پر عادل نہما نا ا لکاد بین مشتبہهوگیا-
من حرت ےک خود وا نا مودودگی س با پرگراملحھت کے سا تح عد یٹ
روا کر نے کے او ادن کین ماتے۔ ہیں ردایت مد یٹ کے علاوہ
اتی معمولا ہت زندگی میں صھا کرام ری انڈننہھم ےق کی ا ورحعدالت میس شد بشیہ
ہے ۔ کے ہیں: ۱
”لین ش”الصحابة کلھم عدول“ _( ایب
راست باز ہیں ) کا مطلب پیش لیا کہا م“حابہہ بے خطا تے اوران
یکا ہرایگ بش مکی بشٹر یکر در میں سے الا تر تھاادران ٹش ےک
نے بھ یکوئی خ او سکی'۔(خلات دفو ےضص٣٠۳)
۱ و٤
293
اب تو لے مودودگی صاح بکا ىہ ےک عدالت صحا ہہ ٹیل ذدہ برابر شیک نے
أ دال ےکا دین مشتتہ ہوجاجا ہے اورخود ہی ںکمصرف ذرہ باب عی شنی کر تے بللہ
سواۓ روایت عحد بیث کے نیش عادل ما نے ہینییں لینی روابیت عد یث کے علادہ
مورووگی صاحب' مرا االت “اہ بی شے ید شب اتی ے' ہدیا یقول تد موا تا مودوگی
صاح بکااپناد ین مشتتہہوکیاے۔ اب ج کا اناد بن دی مشتتہ وکیا ہو۔ اس کےےسی
اکر اض کی حیقیت یکا ے ےٗکہراسے دوک رن ےکی ضرورت جپیی؟ ے _
درک بات یک ہمودددئی صاح بک الک رس شی ایک شیب یکیا مھا سچھوٹ
اور اٹ فر یب بھی ایا جاا ہے۔ پل کھت ہیں صھا کرام کےمتعلی می را عقیدرہبھی
وی ہے جوما سی شن وخ اورعلیا ے ام تکاعقید و ےا کُلْهمْ عُدُوْل کت
ہیں کین می "اي حَبَة تلع هد (سا یسب راست باز یں )کا مطلب
یں لک ہام صحابہ بے خطا تھے اوران ٹل کا ہرایگ بی مکی شر یکندریوں ے
الا تر تھا اوران می ےسیا ےبھ کوئیکش یھی کی۔
یہاںمودودگی صاح کا وٹ اورفریپد کے ےہ جب ا ننہوں ن ےکہاکرمرا
خقید یھی دسی ہے جوعا می رشن وفقہااورعلاۓ ام تکا یدرو کے قذ رانا مطلب
ان سب سے ال کیو ںکھددیا۔ ج بکقیدہ ایک ہے تو ا کا مطل بھی ایک ہو٤
ضردربی ہے انگ ہوا ورس تی _ ا نکی اس نتطق سے معلوم ہوتا ےکہ با تو ا نکا
خقیدہ عا می شین وفقہااورعلاۓ امت والانأڑل اورانہوں نیت بپھوٹ بولا ےک
دی عقیدہ ہے پاغری ب کا مظا روک یا کرک ت اط پہدہ رہ جاے- عالائلہ جب
مطلب اگ ککک دا نذ حقیدہ ایک نہر با حخلف 6 گیا اورملما ۓ امت ے اخلاف
نا ہر وکیا ال ط رح اہجماع ام تک لت ہی اب مودودئی صاح ب کا مقیدد ایک
ہون ےکاراگ الا پناا نکا مھوٹ کا رک نے کےسواا نکیل چنداں مفیدضدپا۔
معلوم ہوتا ےک لانا وزوزیق لاف سا 7 روپ دہمارن ےکیلیے یور
(۸٥۱۴۱3٢.
294
علاۓے امت کےکقیرےاليحَابَة كُلْهُمْ تَدُوْل“ “سے اتقاتیکااطا ن/ناپڑا
ورنردل ش سا کر می فو پھاول مہا ےک جچچد چھپتھا ودان سے مریانہ
جچپ کاادرنھاہ رہ وکرا نکی میق تب ما ہرک گیا ۔ا نکی مرکار وچ ری سے خاہت ہوتا
س ےکڑعا سح دشین ونھبا اورعلا ۓ ام تکا عقیرداور ہے اورمودودکی صاح کا پت
اور یی مودودی صا حہاے ”الصحابة کلھم عدول“ کانیامطلبد ےکٗر
اپنے ایک تن عقیدر ےکا اعلا نکردیا ہے۔ ججیلہ اپےے بی سے عقید ےکو برعت
مفلاات کچھ ہیں جوم دودہولی ہے۔ ا لحاظ سےمولا نا ممودددکی بڑفی قرار اگ اور
جوقودکھوٹاءف ری اور بلق ہوال کی با تکاکیااخقباراوراس کے اعت راخ لک کیا یت
کہا لکاجواب دی ےک ضرورت ہو
یسرک جات یہکیمودودگی صا حب اتی اس برعت اوداعت سے انگ ثفۓ عقیرہ
کیاوضاحت می اپ ایمان (جومش تہب کا ہے )کی وضاعت م ل کچ ہں-
”کی ”الصحابة کلھم عدول“ (تحا سب رات
باز ہیں ) کا مطلب پنڈی اکا سحابہ بے خطا ت اوران ٹ کا ہر
ایک ہر مکی پشریکنردریوں ے بالات تھا اوران ٹس ےکی ن بھی
کو یٹ یہی کی گرٹش ١ کا ۔مطلب تا ہو ںکرسول الد ہے
ردای تکرنفے یا آ پکی طر فکوئی بات و بکرنے م می صھالیانے
تھی تی اون کے( خت زض۶
اا بای سید الف ملی ے خر ماتے ہیں:
''ترآن دورےیٹ کے اکا شرعیہ جب مکک بچیچے ہیں صحابہ
کرا سکنل وردایت اود واسلطہ سے پچ ہیں جب صا کرام مرن
نین گے ا نکائل ورای ت گی مطعون تیر ہوگی اورا ام شی کی
12 ودوایت چندسحا ہہ کے سات خی نہیں - کہا حابرعدالتء
(۸/۸۱۴5٢.
295
صدق اورک وین یس براج ہیں لی کسی ایک سحالی می اشن وعیب دین
می ںین کیب لیک رن وع زم ہے۔( توبات فا لک ببر۸۰)
اب معلو کس مولا ا مودودی صا ح نف سھا عو ھب ر1کر حا مو رین و
با اورعلا ۓ ام تکا راکرد سے ہیں یا( معاذ اللہ پت رآن دحد یث کا ماق اڑڈارے
ہیں ؟ کیوک ہق رآ نکریم نو ای نکی قرمار ہا ہے۔ای لے علاۓ امت کیل عادل
مات ہیںایکن مودددی صاحب ق رآ نکر یم کے نس سکجچے ہی نک نیس ما ہا
تقمام ما بہ بے خطا تھے بشر یکترددبیوں سے بالات تھے اوران یش س ےی ن بھی
کوئی نلظ یک ںکی۔ پھرحد یٹ پک ان ہلمح وش سے رو ہے ال نکا ادوپ و
اترامکر اعم دق ہے لین موددوی صاح بکی جرا تکىق رآن وعدم ٹک
بھ یکوئی پرواننی کر تے اورسحا کرام یی انڈٹٹہ مکی شر یکترور یں اور خطاٗ لکا
ڈنرا پے جار ہے ہیں ۔ عا اک ا نک یش اورا نکی اج نیم کا اعلا نکر نے
ال اتا ی ای سکناہوں سے جخفراورخطاول س ےو فاغ بت ہے بیو کت فق
عطا فرماجا ہے اوریھی ا نکی یو ںکویطو رفا وو لق ریسا ہے۔اودق کی شا فی
بدئی ےکوئی جانے تو جی مرف لک ری ںکاندتھالی ا لکی بدوات بند ےکی برائیو ںکو
تکیوں می تب ہیل ف ماد تا ہے _ارشاد اتی تھالی لاہ فرمایا:
مَنْتَابَ وَامَیَ وَعَلٌ عَمَل صَاِکا فأرقِكَ ول الله
سَيهِم حَسَنَابٍء(ائروں۔ے)
جھہ: جو بکرے اور ایا لائے اور اچھا کا مککر ےق یو لکی
پرائو ںکو ال ھا خوں ے بدل دےگا-
ادرائش کے پیارےرسول پا نے فرمایا:
التَیْبُ من الب كَمَنْ لا ذتْبَ لم
: (مککو تباب الا ستتفارءاین ماج جاب ذکرالقويہ)
(۸٥۸۲٥۲.
296
تر جم :گناہ ےو کر نے والا لیا ےو یا کے مکوئ گنال _
ین میٹ ت کی شان ہے یخلت یکرنے سےگھ بدایاں مث اتی ہیں-
رآ نکر مم ارشادیاری تھی ہے نف میا:
ان الْعَسَنَاتِ بن الشیابارآں)
تمہ بے شک نکیا گنا ہوںکوما یق ہیں
ال کے طور پر وضوارۓ گناہ مے ہیں۔ جمرنے ےآوگیگناہوں ا
سے ایے پاک بوجاتا ہےگو یا نی مال کے پیٹ سے پیدا ہوا سے کیا میں _
نی لی ساجھاالمصل والسلام حا یکر مکوحاعل ہوئ سےبھی بی یں _
ارے خداکا ین ہکہلانے والوارے اسلام کے ام تہا وھک رو! صحیت تبوگی اور زار
رسول فدابلقا سے بڑ لکوئی یی ۔اس پل ایک رح یکیادلایت,قلبیت اور
وعیت بھی قربان ہورہی ہے کیا نمی بڑی شا نکی مکی ” عحبت نبوئی ]شی سحابیت
سےگنا نہیں گے اور برائیا ںی تم بویں۔ جب آدٹیکوگناہوں رے اک
کردیتا ےا ز ارت نوئی جو ایک خکیاسب تکیوں سے بد کی ہے یقت عگناہوں
سے پا ککرد ہے دای ہے او رای نے معا کر ا مکو پک فمادیا ہے ہلل تھی نے
افو بکری علی اصلز لم گی شان ٹس خر مایا:ووائیٹس اک فرماتے ہیں۔
لوب یه ا لعران۔۱۹۴)ت ک۔الل تھائی وی سکائل سی اورکناہوں ےانفر
فا کا ےب ا نکیل ہش اوراج نی مکا اعطا نپ کر کا ہے۔ ملاحظہ ہوں چند
آیات مقدس:
رازم كلعة الَقُوی وَكلُڑا احَق ھا رَهْلهَا گا الله
کل شَیْوِقَلیکادِ:)
تر جم: اور( الہ نے یزگاریکاککنران (صحابہ )چپ مازم فرمایاد ال
کےزیادوسزاواراوراس کےائل تھ اوراش سب بجھ جات ے_
۷ و٤
297
( ال مان)
8 دہ ۶ ادہے۔و عھو ررعوو لط ویر
٣إ الَذِيْنَ يَفَضوْن اَصُوَاتَهُمْ عِنْد رَسُوْلِ الله أرْقِكَ
لی شع للهلَزيَهُم ری < لم ور ور عویم
(ارت۴)
تجمہ: بے کلک دہ جو اپ یآوازیی بیس ت کرت ہیں رسول الش (8)
کے پا دہ ہیںجئ نکا ول انشدنے پ ہی زگار لکل پرکولیاہےا نکی
تنشیش اوربواقواب ہے۔( مزال یان)
۳ ویو الله عیب اکم الايْمَانَ وَرَبََةِی للوِكُم وَكرَة
یکم الكُفْر وَالمسُوْق وَالِْسیَان < اَْقِكَ هُمْ لرَايِدَرْنَ
7 الله وَعْمَةٌُ وَاللّهُعَلیْمُ حَكيم۔(رے۸)
تج اعلی ححنرت :لیکن (اےصسحایہ) اللد نےصکیں ایمات پیاراکردیا
ے اور ا ےتہارے واول یں آ راس تکردیا اورکفراورگم عدولی اور
ناف انی تی چہگوارکردی۔ ایے می لوک راہ بر ہیں اد کاتفل اور
احمان اورائڈیگم وکلت دالا ے۔( مزال مان)
رمصاا مودوو یگ اللہ نے موا یما نک حبت دک اور للہا ا2
لئ ول پپتد بنادیا او رکف وف اور ناف مانی ےت مکوتفئ کردا ا یے ہی
لوگ اوقہ کنل واصسان سے داست رو ہیں ادرالڈیم وگیعم ہے
(تقبیم الق ران ازسول ا سودددی)
آپ نے لاحظرف مایا الف توا لی ام محا گرا مکش فربارہا ہے۔ ای سکرو
نی وں ق مانی سے تنقراورکفونافر ۸د ہے۔ ایس ”ادن“ مورووگی صاحب
کےتر جم کے مطاب' راست رذ کہدد پا اورعلاۓ امت ا یکوعدا نت ۓحیر
کرت ہیں پک ا وق صھا گرا مک یل ینشأش اور شی مکااعلا نج کرد اہے۔
(۸٥۱۷۱3۱.
28
تق جب الرتھالی نے مھا ہکرام کےکق کی او رن ہوں ےنفرت اود بچلرا نکی
یشیش اور تی مکااعلا نف رمادیاادرانیشش راست رواورراست با زج یقراردے دیات
کیا وج ے او رمودودگ صا ح بکاکیا طراورعنادر ے' کل یھی صھابکرا مک وگنانہوں
سے دورد بے والا اورراست رویاراصت بجی مات ؟کیااضہوں ن ےنیج القرآن
کے امم ےق رآ نکری کات ج اوری نی ںاھی ۔کیا نی اس سے بی نع یم حاصل
ہوئی ہےک۔الل تھا کی ال تک بر دا نہک یں ۔الڈ تھا لی محابرکر اس ریشی ایڈ نت میتی ٠
گنا ہوں سے جنقراورراست روف مار پاہے۔م یکچ ہیں یں ا کاب مطل ب کیل تا
کہتام ماب بے خطا تھے اوران شی لکاجرنیگ ہر مکی بش ریکٹرددریوں سے بالا 2 تھا
اوران جس ےکی نے بھ یکو میمش یی سکی۔ کرس ا کا یمطلب لیت ہو ںکہ
رسول اللہ لگا سے ردای تکرنے یا ا پکی طر فکوی ات مفسو بک نے مکی
سحالی نۓگحیرستی ےجھاوڈی کیاہے“۔
ق تر ٭سما گا ہرمحاطہ یش راست رواورراست با کیو کنل مات اورت رن
کری مکی صدات پکیو کیل ایمان لاتے ۔صرف روایت حدیث بی یش راست .|
پاکیوں مات ہیں؟ پیش رطق رآن نےن جا نمی لکی .ت رآ نکر نے فو صحا ہکرام کو
پرۓا زنریوں میں راست روف مایا حعلوم ہوتا ےم ولاتا مودودی یا تن ق رآن
سے نابلد ہیں ما راس پرایران یش ر متاخ نع کےطور بر یککھارنام لے لمت
ہیں و مکی رعب دی ےکی ےعلیم القرآن کے :ام سےت ج نیرک سے ہی ۔ما کہ .
رآ نکر مک یکذ جب ادرخالفت کےنتصا نکا وو فیس ر کھت تخظ راوشد
ببرعال ایک خائ بات ىہ ےگ انا مودودی ئے تفرقہ پاڈئ گا اور
مصرراوں سے لد ہ روش اور اتک راستہ اختیا رکرلیا۔ عا لاک انڈر ورسول وا ےْ ۱
ملمافوں یم ستقرقہ ڈا لے اوران سے انگ رد اخققیارکرنے سے تصرف تن فرمیا_
سے پلکہاس پر اب شد دی وید بی بھی ستائی ہیں ملا حظہہوادڈرتھا یف مات ہے: ْ
١
۰ و٤
299
ری
ااوَاعَتَصِمُوْا بَحَبّلِ الله خمیعا ولا تَقَرَلوَا۔(المرزن)
ج2 سس8ٗ0۷٣ءھ)
نے لسن الد دی وَیتيم عَْ
ول ال2 تو ماتوگی وَنسل عوٹم ۔ تا
تی را۔(اقاء۔۷۵)
م لان مودودی :گر جوننس رو لکی مز لشت پکربع 2 ہواوراال
ایا نکی روش کےسوا اکا اد دش پچ ددآل عالیکہاس پہراہراست
7 ا ہو یت ہم ا سکوای طر ف چلانیں کے جدھردہخود پچ رگیااورارے
جئم می ھوکیں کے جو تین جا ے تر ارے_رگمنرآ)
تھا چنداحاد یٹ مبارکیجگی لا حتف ما یج ۔فرمیا:
عَلَیگیْ بِالْحَمَاَ2 وَالْعَامَة (مکک اب الاخقسام کوال اھ )
مم اعت می ناووا ولا زم او
۴٣اید الله عَلی الْعَمَاَة َمَنْ شَذٌ شی ار
( مو اب الا سام کول تر ی)
آھ:ماعت پا شکرس تلم ہے جو جماعت سےا نتر بادودوز خ
مم نگ یا جاۓےگا۔
یں السمُوَاد ال عْكُمََِنَه مَنْ شَا شا فی الَرٍ-
( ملک اب الاخفسام محوالہاین بای )
تجمہ:بڑےکگردوکی پروی اکر وکیونگہ جوا گدہاودا اس یدوزخ میں جا یا پا
یقرآن وصدےٹ ہے مین معلوممول نا مورورگی مرکودہ آیات مقدس۔ اور
اعاد یث مارک کاعم رک تھے یانییں؟ یاا نک حاف ہک زردرتھایادہ خداورسول لاک
اطاعت لازئینجیں جات تھے ۔کیوگہانہوں نے الشدکی ر یکو مقبو م پڑنے میں
(۸٥۱۷۱٥٢۱.
300
امت (یینی عام می رشن وفقہااورعلاۓ امت ) کا ساتھ فیس دیااور تاب ایھا ن
روش اورراس وا نیا رکیا ہے نرحی سواواتم ا ہلسق تک اتباخ اخقارکی دوز ۸
سبھو کے جا ن کی وعید سے بے خوف ہوکرامت کے اجماگیقیدہ ”الصحابة
کلهم عدول“ کےظا ف یل یاعطل بگ ڑااورت رآ وھد یٹ اوراما امت
کےخلاف ایک انگ راواپنائی_(ا تغفرایٹ)
اختزال۵
لوکیت اسلام شی ائ نیس مولا نا مودودیی نے خلاقت وطلوکیت یس اس پ
بہت کہا ہے جیپ نے حقرت ام رمعاد یکا بادشاہ ہنا بھی فضائل میں ذکرکیا
ےآ تریوں؟ ۱
جواب
_متححس کسی ادشاہی اسلام میا اتا نیس ۔ مولا نا مودودٹی ال
کےا نار کو یکم دیل وا تن وعد یث ےکوئی ام ٹھ فیس پیٹ یکر سے اور ۱
بات یہ ےکا پر نکاکوئی بھی اعتراض مال ڈکنی ںک و سکامستفل جواب |
ضروری الہ یچ کہ بادشاہکوعادل ہو چا بے اورعارل ۷وت اع ث فقیلت ۱
بی ہے بج رآانکرمم یں فرمایا: .
وَاِقَال مُومیٰ ِقوٰمه رم اڈ کرو َمْمَة الله عَلیْكمإِذ جَعَلَ
کم انبا وَجَعَلکُم لوگ وَاكُمْ فا لم يرّتِ اَحَد ین
الْعْلمِٰنَ(۸كں-٣)
تر جھ مو لا نا مودودگی:یادکرو جب موی نے اپ اقم سےکہاتھاکراے
می ری قوم کےا وگو ارک ا لق تکا خیا لیکرو جوا نے ٹھہیں عطا گی
ای ےت می می پیدا ےن مکوف ال دوال بادشا ہ1 نایا اور مکودہ یھدیا
2 و٤
301
عغدیاش یکوندیا۔( تی اقآ ازسولا جا مودودی )
یہاں ملوکیت نجنی فرمانردائی اور بادشاہ یکو ال کی نقت فر مایا گیا'اور یج
مووودئی صاح بکا ے۔
عدعٹپا اک شل ارشاوہوا:
ان این عباس رضی الله عنھما قال قال رسول الله صلی
الله علیہ وسلم اوٴل ہٰذا الامر نبوۃ ورحمة ٹم یکون خلافة
ورحمة ٹم یکون ملکا ورحمة ٹم یکون امارۃ ورحمة ٹم
یعکادمون علیھا تکادم الحمیر فعلیکم بالجھاد وان افضل
جھاد کم ارباط وان افضل رباطکم عسقلان رواہ الطبرانی
ورجالہ لقات۔(ت۱یرالہاں۷)
ترچجھ: خرت این عپااس دی الڈکنیراسے مروکی ہے دہ کے ےک
رعول فدافظگ نے فرمایا سب سے پیل اس دینش خبوت ورہمت ہگ
رخلافت اوررحعت ہوگی پچ رملکیت اوررممت ہوگی چچھرامارت اوررحمت
ہوگی لوگ خلافت پر ا طر نگ میں گے جس عطر مدکی چتزہ
رت ہیں ہیں لوک جہارگواپے او پر لازم جھواورسب ےفضل
ادس رح دک تفاظت ہے اورسب مرعدول سے ال سرعد سقلا نکی
ہا عدی ثٹکطرائی س2 روای تگیا ہے اوراں کے سب راوگ تہ
یں۔۔(سید ام رمادی ظےفارووت دلو جانص۶٣)
۲)لاتَحئرا الک ول بر ری آڑزں۔
(کگزسال.۷ضص٦٦)
تر جھہ: سلطان (پادشاہ )کو برا بھلا کہ ھکیو دہ ز شلن پچ ال کا سان
(ت)ے۔
(۸٥۱۷۱٥٢۱.
2302
٣سُلَْان یل فی اللارضِ فَمنْ اَكرَمۂ اَكرَتَة الله رَنْ
قَاتَة اََائَةُ الَّهٌ(کرفول عیہ
ت7 جم :سلطالن ز من پرال کا سای( رت )ہے ششک نے ا ککاعز تک
اس نے الل کی عمز تک اود جس نے ال کی ااع تک ای نے الشدکی
لاخ فگی۔
۳)۔کمُنْکائ القایل طط اللرفی از ِس۔کرمرجی)
حھ ہجمہ:عاول بادشاہز لن الگا سای(رقت )اے-
اخ الشُذکا یر اللهفی ازس وی لہ کل معز
ہِنْ عِبّادہ قَإذًا عَدَلَ كَانَ َه الَجْرُرَعَلی الرَِكَة الشَگر وَإِدا
جَار گان عَليه لاصو وَعَلی الرَمَّة طبر
( سک کا با مار7:القنا ؛!کنزلہمال ع۷ص۵)
تمہ بے ئک بادشاوزشین یں ایل کا ساب (دمعت )ہے جن سکیطرف
ابد کے بندوں یس ے پرمظلوم اہ لیقا ہے نیل جب الصا فک ےل
ا سکیل ناب ہے اودرعایا نکر واجحب ہے اور جب مر ےتا پہ
بوچھ ہےادررھایارمبرواجب ہے-
)سُا رای مل وب آ.۔
( سن ابو داؤد نا۹۱ ہاب اکا باب لا )
ت جم : ج سککاکوئی وی ترہوائ کاو سلطان ے_
مل الج قلالةہ ذو سُلطان مُفرط مُوقق وَرَجُل رَحیُم
رَقِق الْقَلبٍ لِكُلِ وِیٰ قرلی وَمُسْلم وَعَيیْت مُت
تَا لہ با افص این باب ادا الال گوازسم)
تر ہ:چھتی تین (صسم کے لوک ) ہیں منصف اور نی دا گیا بادشاہ*
۶ و٤
303
ہیا نآدئی جن سکاول رش داروں اور(عام) ملمانو ںکیل ےرم ے٠
پک دای اود ما گنن ےگ یکر نے والاعیالدار-
یں بادشاتی اورملوکیت ہذ ات خود موم میس بگ یت رآن وحد یٹ کے مطا لی
تق ورعت ہےاورسلطان عادل خداکا سے رعت ہے۔ ہم نے جوحضرت امیر
محاویہ کا بادشاہ ہونا ان کے فضال میس ذک رکیا نو میگدیا بے چان سکیا ؟ میں
یہس دی ال ہکا سا یرمت اور جنت ٤ فی ہو بہت بڑکی
ات فضیلت ے۔ فو دحفور بی اکم لا نے یی وت کی اور یس بادشاہ ہہ|وتن ےکی
ری دکی ہے۔ اسے عم نے یشارت یافتۃ اد را لمران تھے کےمنوان ے
تفصیل سے بیا نکیاے۔ اود اسے ہم نے اس لے بھی فضائل مج شا رکیا ےک
ححفرت داد اور رت سلیران ہا السلا مبھی بادشاو تھ اورت ٣ رآ نیکریم ےا نک
تحرف نمی نی ہے ۔گویاجب اسلام ناف اعمل +واورعرل واتصاف اور ا و
اما نائۂ ہو خلافت ہو یا وک تین ور کی جا ۓگی اور سے فضائل می بھی
شارکیاجاۓےگا۔ اور بل رنحخرت امیر معادہہ بادشاہ ہو نے کے باوجودییل القد جال
بھی ہیں اورسحا رسب عادل ہو اذا آ پگ عادل ہے ۔اور چپ عادل
ہو ۓل مرکورہ اعادبیث کے مطاای زشن پر ال رکا سای رکمت ہد اور کی امت
بھی پک ادارت پرشع یق یک یک فضیل نی ۔' سوا نی شر بفاری ش
فرماتے ہیں کہ
۱ ”ام رمعاو من تق کا موم ہی ںای ط رح شر مسلم یس
ےکآ پکا شارعدول فلا ءاورسحابراخیار ٹل ہوتا ہے .امام مانی
فرماتے ہی ںک''آپ نباعت بد باد ہگ یہ مامتندانء صاح بشفل٠
سیاد تکا مہ کے تقراراورصاحب الراۓ جھےگو یک یعلومت کر ن ےکیلن
ىی بداہوۓ جے'۔
(۸٥۱۷۱3٢.
3014
(ترضین ورعضرت ام رمواد یت جم الناح یگنن ام رممادي خْل٭ال )٣۵
اورتحخرت امیرستاو ہہ یلھک باشا یی اا نکی شیا وشحکوت کے اختبار ےہا
گیا جیا اکووصر۔ ےخلبفہ راش د حر تگمر رفاروقی لہ ن ےآ پکوسواریں کے اک
بہت بڑےجاویں کے ہراہاتقبا لکوت ہو ہے کک رعرب کےکسریا ےت کیا
تھا_ (ازل ھا ءاردددوملش۰٢٣)ورت! مآ پکوخلی کنا بی ٠ پاے اور اکٹ تن کہا بای ے
حضرت اما تن لہ نے بی یس خلافت دی سی ردظراتی تفص لکیئے سایقہ
صفیات می شارت یافت ادرقی لجکران تھے نان ے جہارامضنمون ملا حظہ
فرائیں.. یہاں ہمآپ کے فضائل مش تارن ان خلدد نکی دضاحت ٹی کرتے
ہدے اپ جوا بل کر تے ہیں ۔علام ان رون کچھ یں
حضرت معا وہ ٹیش نکو ہوا برست لوک تیر ہرکرتے ہیں
او ریت ضکوتحضش ےتشخیبہہ د ہی ہیں ۔حاش لشدمعاویہ نان بعد ے
خلفاء تھی نیس د ہے جات ۔ بین خلفاۓے داش بین سے ہیں ۔الن
کواغا ۓ مروامشی ےتشلیہہ د ینا جوان کے بعد ہو اوران سے ھتہ
اورو ین می کم ہیں ہا ہنی سے اوراییا ہی غاطاۓ بی اس جوان
کے بعد ہو ۓے ہیں ان ےنشلیہہد ینا بھی خی رمناسب ے۔
اور یک لکہا جاسک کہ بادشا ہت رجہ ٹل خاضت ےم ے
ہی ںکیےخیفہ پادشاہ ہوسک]ا ہے۔ جو رھ کہ جو باوشا ہت تخالف خلافت
بلعانٰ لات دوج ریقوت سے توکسردی یرگ جال ے 7
اتی ری دہ بادشابہت جوخل رعحبدیت اورشوکلت سے حاصل ہونی ےوہ
خلافت اورضوت کے منائیٰ نیس سے ۔حضرت سلیمائنع اورخحضرت داوو
عم الام درول بی سے اور ارشادگی تے اورنبایعت دع دیاے
کا موں میس چست اوراطا حعت لی کے پایند جے-
2 و٤
305
سرت معاویہ لن ےفع دمیاودول تکی وبہ ےعلوصتکی
خواگش نی کی گیا نکواس پر ایک فطریی او ری خیال نے ابواراتھا_
اد رق عد وکا خلیفرادر بادشاہ جرد يک ثنا ختک بی ےلان
کے افعا لکوغ طورسے ویھواوروا یا ت ترافات کے کے نہ پڑو۔ یں
شس کےا قحال مطائ قکتتاب وسنت کے ہہوں وو خلیف ہنی اکا ہے
اورجئن کے افعال اس مقیاس ے خمارج ہوں دو موک دنیا میں اورخلیشہ
ا نوهازا اکہاجاے' رگا “. (جار زاین رون اروو ا للش۵۵۵-٥٥۵)
اعترآ ل٦
امیرمعادہہ نے بز انا خلیفہ نار دکیا جک اسلام ٹس بی ےکوخلیفہ نان چائز
نیس بچھری: ید فا دفا جیھی تھا۔اس سأ وٹ راوزللم نت مکی ذم داریبھی امیر
معادے پعا دو ے۔
جواب
اس اعت اتل ک جوا ب مفسرق رآ نصقق زینان حضرت مفتی اح یار خا نشی
رمیۃ ال علیہ اپ یکتاب' ام رماد چله پا ایکظ رر یی دے چچے ہیں ہم أسی سے
اخ زکر کے جی لک تے ہیں۔ ملا حظہہو:
السقّت کے ز یک خلیفراود چان ہون ےکیلئ اہلت ا لعلم اور لاکن ہونا
ہے اور ٹا ہوا عدم ال کی ول اور بیا کیل ۔ جناب نفرت اما تن تل دنخرت
ٰ سی لت کم وضو جج کےفقت کرو رظ را اورفرزن اک ہیں اوان کے خلیفہو چانشین
ہو گے ہیں۔ تصرف پیک حضر تی الرشی تل دک ٹا ون ےکا و ےا نک ایت
اورخلافت پرکوئی اختر اش نیس ہوا جلہ انیس خلا راشدبین اوران کے دو رکو
خلانتِ راشدہ می شارکیا جات ہے۔اگر بنا ہونا انی اورخلا ف تکیلئے عیب ہوتا ت
۷ “٤
306
معفرت اما مس نئی خلا ۓ راشند بن ٹس ہرگ شا رکیا جانا ارد یپ بات
ہہ ےک تحضر تعمرم ن ہدایز یق دچھی دی عبدکی کر یقہعی ےخلیض بن تھے۔
عالائہا نون یا پانچواں لیف راش کہا جات ہے۔اورمشاابقّت مس سے2 اکر
آ کل ابی اولا وا حیادٰشن بنا جات ہیں ۔ جس لیانا بھی او کنا یں
نہ جاتزی ے-
دکراپے بی ےکواپنا نشین بنا ننس ی1یت یاحد یشک دو ےبھ یلمنو ڑل -
اذا ہنا کہا اکر اسلام میں جائزنیں درست تو کی ۔ اپ بے یا بھا یکواپنا
ناب اورغلیفہ بنا نان حرام ہے اور زبکروہ چہا سک یکوشت کر نا اور کی دع اکر
رات انمیا ۓکرا مہم الال والسا مکی سقت ہے لی اک یرت موک علی الام
نے دھا ک کہ یا اللہ !مر ے بھاکی رو نکو میا وزسے بنادے اور عحضرت (کریا علیہ
السلام نے دعاک یکہ یاالد!شھے بیادے جومیرا اشن دوارثٹ جو ۔آیات مقدس
ملاحظہہوں ۔حخفرت موی علیرالسلا عق کر تے ہیں :
َاجْعَللِی وَرِيْرَايِنْ اَی ہ هر آجی ہ اہ ب1ز
وَاَشْرِكُُ فی اَمرِیٰ٥للا -۳۲۶۲۶۹)
مرجم اورمیرے لج میر ےگھروالوں یس سے ایک وڑکردے وہ
کون مرا بائی پارون اس سے میرئ یک رمفبو مک اوراے مر ےکام
میں ش ری کک( کن یمان )
ارآ پکی بردعاقول ہوئیاورمطو رمنصب ج کے دع کی اتال
نے پارون علی السلا موس پر فا مزفرمادیا۔ اگ پیلوش درست نہہوقی تو اڈ تھالی ال
دعا سے نارائ ہوا اورحخرت موی علیرا سلامکواس ےئ خر ما جا ین انتا لی نے
ا نکی دعاوق لیت ےو ازدیا-
بی ط رح حفرت زکر یاعلی السطا مد اکھت ہیں
٥ٰی
۴ًٔ و٤
307
قب لی مِنْلَدنْكَ وا ہ کی وََرث بِنْ ال تَقزبَ۔
(م6۔۵٦)
تر جم :ہیل مھ ا پی رف سےایک دارث دے جمیرااورآلل تقو بکا
وارثہو_
اورحقرت ام رمحاد یہ یلم حیا تمبا رکشل ب:یدعلیہا علیکانق و بورغ ۶
ٹیش ہواتھا. بلک وو سای امو رک یک ےکی صلاحت رکتا تھا یز یدکاضق وو رتضرتے
امیرستاد ہے خللاکے بعد اہ رھواادرآ تد نظ ہرہونے وا اض یکو الال فا نہیں
ہنا ۓےگا۔ بی ےکہ اتا ٹی نے شیطا نشی نکوا ۳اک راہ ہو نے کے بعد جنت اور
جماععت ملاگمہ ےبکالا۔ال سے پیل اسے ہ کرد ےک اجاز ت د یگ اوران کی
عمزت افکی ف ما یگئی۔ جب شیطا نکوا کاکفردعنادظا ہرہدنے سے پٹ کافرقرار
رد یاگیا نیز یدکوا سکافقی دٹٹو را ہر ہونے سے پیل هکسے فاس وف جرقراردیا جا کت
ہے۔اورنخرت ام رمحاد یہ دکسے سوردالرام مجن ستے ہیں ۔ان ےتلقفق ے
الطقا بکاگما نہ کیا جا سکم اکا نکی عدالت وصحاءی تکاشرف ال سے مان ے-
راس وت اکاب حا ہکی دہال موجودگی اور اس پرا نک سکوت اس با تگی کان
ول ےک حفرت امیرمعاو یج اکردارخش کی ط رح صاف اورمثا تھا
اوراگ رکوئی روایت ایل می جاۓ جج سے معلوم ہ وک ہام رمعاد ہہ خلچٹنے
بزید کےأمقی ٹور ےنردارہوتے ہوے اوراے ناائل جات ہو ےی اپنا خلیقہ
مر رف رما دیالوہ روایتجولیٰ ہے اور راوگ یا - ے اکوئی ٹن اصحاب۔ کی
روایت امیرمعاویہ لہ ای اورسحال یکا فی خاب تکر ے وو مردود ہ ےکیول یش رآند
حدث کےغلاف ہے تام صحا مقر نع ضقی رکف وض اور نافرماٹی ےخض
راسترواورعدالت ےآ راس ؤں-
اور چراڑسی روابیت جس می کوگی قا ٹل اعترائ بات واردہو جا اورای ے
(۸٥۱۴۱٥٠.
308
شمانمعاءبیت پر7 فآ جا ہو علاء کے نزد یگ ا لکی تاو یل ضرورکی ہے۔ مارگ راممکو
برا پھل ہنا عرام ہے۔ امام فو وگی رہم القد علیہ فرماتے ہیں _ اصل عیارات” 'فیصلہ
قرآن وعدرِیٹ سےکیوں مار سےکیوںنیں ۴ اور مققرات اہنت ے
عنوانات کت مھت تر جم لا جظہو:
”علاء کے ہیں جن اعاد یٹ بظاہ کیا صحا ٰ ب7 ف٢
ہا کی تاول داجب سے اورعلا ء کچ ہی سک ردایت می لکوت لی
باتنئیں ہے جس لک تاو یل نو گے
(ند وی شر خ سک مکماب لف انل باب فضا علیہ جز فاص )۲٢٥۰۸
”قوب جان لک سحا گرا ممکو برا پھلکہنا ترام ہے اور بہت
بی بے عیائی ہے اور ہمارلمھ ہب اور جمپورکاخھ ہب ہی ےک( جو مارکا
برا بھلا کی )اس سکوکوڑے مارے جا میں اوولنع مالک کچ ہیں اسے
تق کیاجاےگ“۔
(ن وی شر حسم با کم سب اصعلیۃ شی انذ تیم دای ص۰۰٣)
اورگیم الا لام ححخرت شاوو لی اللرحرث دالوکی رحم اللدعلی کےت کر وحیات
”لق ل ای ' ےپ یوب مت ریہ وش اگردشاوش عاش بھی ن ےآ پک
حیات مبادکہجی می مرج بکیااور شےآپ نے خودد یھ اورتحمد لن سے نوازا'ش
جا معقول ومتقول ححضرت شا وو رائشد کے عامات شس ھرقوم ہے۔
”اہوں نے جیا نکیا کہ یش نے ایک میشرہ یس دیکھا کہ
آفحضرت پل ا دولل کمدو یں ج یر ین منورہو یل تھا تق ریف فریا
یں اہم با برھٹرےآ پکانشریفآوری کشتق ہیں ایک ساعت
گزرنے کے بح دآپ اپنے دول تکمدہ سے باہرتش ریف لائۓے اودای
عقام پر جنشل دببان خانہ کے کے تخرف ف رم ہوۓ اور نے
۴ً و8٤
309
نس مند ہکا مب 7و فکا ام نےکرکہاتم اورایک دوس اش بہار م
ام ہے ا کیا عالی میں اعجازت یافۃ (حاضر) اورآ پک قربت و
شرف بجلویں سےمشرف ہواور ہم موا شریف مج لکوڑے می نک ہے
یش اکٹ حاضر ہوااورآپ کی قدمت ادس می عو کيا
تفورامحاد ی کے تن سآ پکیافراۓ یں؟
آفحضرت پل نے فرما کہاگ رکوئی برا یک ہے تو اس کے
لڑسےےی ہے اور کے کے اعما لکاوبال دثال باپ پیل ہوتا اور
ج فیس نے ہہاری صحبت اٹھائی ہے (س کے پارے می ) اگرکوئی
فیس بےادی ےت ماس سے خوش نیس ہیں ۔ او رگویا بر الفا اآپ
نے اس لے فرما ےکہااس نے صرف مواوی کہا تھا یخرس تھی
لف کے۔ پچھ ریس پیر ار گیا (اقو لبیی ارول ۵۱۸)
اکر ےط مرررول)
موا نا مووور یکا اض یلا ظر کت ہیں:
سناس ے بد چا زیادہ ظی رآ ئینی ط رڈگل دوس رے فرب یجن
حضرت معاوے جپلنکا تھا جومحاو ئن ال مفیا نکی حفیت سے یں للہ
ام کےگور کی حیشیت سے خون عثا نکا بدلہ لگ نکییے ا زی
وم کی اطاعت سے !کا رکیاگورنر کی طاقت اپنے اس مق رکیل
استعا لکی اور مطال بھی ین سک اکر ححضرت لی (یچ) این لثان پ
مقد وچ کرای مزاد بی“ بللہ کیاکی دہ ق لین حا نکوان کے توانے
کرد اک دہ خود ٹیش یکربیء ہے سب یکئھ دوو اسلا مک نظاق
وت کے بچاۓ ما تل اسلا مکی ای نی سےاشیر سے چ0
(۸/۸۱۴٥٢.
310
ححخرت ععثان یلو ہکا رشتہ جو وی فا محاد بے ہلن ال سفیان
سے تھا۔ شا مک گورٹری ا نکی رش دا یی ۔ اپ ال حیقیت مل وہ
خلیضہ کے پا مستفیث بی نکر جا سکتے تھ اور چجری نکوگ رفا رکرنے اور
ان برمقدمہ چلالے کا مطال یکر کت تھے ۔گور کی عیثیت ہے انی سکوئی
تناد ھا یذ ے ہاتھ پ با قاعدہ کن طریے ے مت
علاتے کیافے تی طاق تکوع رکب یلومت کے متا یس اسقعا لکرتے“
اورٹھیٹھ جا ہلیت لہ یہ کےطر یق پ بی مطال کرت ےکگگی کےملزمو ںکو
عدالیکاردائی کے ہجاۓ مدگی قصاص کے ھوالہکردیا جاۓ جاکہو وو
الع سے بدلہ لی (خلا نت رط ےگ )٢۴۷-٢۵
قفرماہیےآپ این کے جواب م سک یں گے؟
ماب
حفرات سا .کرام شی ا ڈیم رطع نکر ہرگ روانیش قرآن وحدیوٹ نے
ان یھ نکر نے والوں اوران ک اتا توخا تکو دک رقص ہم نے والو ںکی
ختزم تک ہےاوراس پم پھلہ ہ یکنشگ وک گے ہیں ےجا ن ہم مولا نا مودود یک
د بیس جھ و اوران یی رووں یچ بارے می لک اہی ںکہانہوں نے مقام
صحابی تکوجی نظ راندازکی کیا لہ خدادرسول پل کے احکا مکی بل پشت ڈال دیا
اورنخرت ام رمتاویہ لہ رف کر کے اپنے خصراور اما نکی یقت نل ہرکردگی-
مودودیٴ صا صائے:
ک7 جضرت ام رمتادیہ ٹنوف کین (خرٹرق )رف لک ھپ تراردیا-
بن کےع رز لکوتای نی ےاشیکہا۔
0 و٤
311
تی سنیٹ جااقی تق یکا طر یقہاختیارکرنے وا کہا
مورووگی صاحبي کےانداز یان ےا نکا خحص اہ رہوتا اور معلوم ہوتا
ےک ہیل حضرت ام رمحاویہ “داور منصبہ محایی تکاکوگی لیا نیل اورق رآ نو
عد بث گار کا طورے پیک یس ان پرا یا نیش اور دقع جوق رآ آن دعدءثکانام
لیے ہیں اورآتوں پر یی ںلکھت جا تے ہیں تح دکھادے کےطود پر ورت الفا کی
بولتوں مک رہ میں آے چم اشن کا زین لکرتے ہیں۔
مودودی صاحب نے ححخرت ام رمحاویہ "لہ پرخ مآ ین ین غیرٹری طرزگل
کاا ریا بکر نے اوزشھیھ القیت قب یکا لربیقہاخقیارکر نے کال نکاہے۔عالاکلہ
عدحثٹ اگ کے مطابی مھا ہرگرام تی ان نوم پنلت نکر نے وا نےانئی برا چھلا کیچ
1 دالےاورائییس خی رشرتی (غی بی )امو رکا مت بک ارد ےکر فی اہ رکر نے وانے
خود تن امت او لیلق ہیں تحص لکل سا بات لاحقہکر میں ۔ یہاں بر
کی کے مد ٹا ھ اک مل فرای:
ا آشراز ام اَجْرَءٴهُمْ عَلی اَصَخَابیٰ۔
(رام کن ۴ ارددن ے٣ کوالہاءن عدگی)
تمہ بے گنک میریی امت می سے بدت ین دو لوگ ہیں جو میرے
الاب پد مرج آیاتے
٣اِا عم الین مَسَبْوْنَ اَصْحَابیٰلَفوٰلزلمنَة الله علی
شوحكم(ت نی اواب التاقب بک وباق اسبہ)
تجہ: جب ق یں دیھوج می ر ے مھا رک بدا کچے ہیں کو ہار ٹر
پاش اعنت-
تی سیدن ام رمداوےے ننٹ رآ بن کے عم *بادکی دمبدیءنقیہہ وید ایر
ام وین اورییل القرسحالی ہیں ۔عھیپ خداتضور ن یکر پا ڈعافرماتے ہیں :
(۸٥۱۴٥.۰0
312
ٰ2 ودعہ ہے او زی پا ری ہد
ا)للهُمٌ لم مُعَاوَةَ الیک وَانْحسَابَ وَفه الْعَلَابَ
(منداحر ج ۱۹۴۳ء راج وت اردودد ل۹۳۲ الصواعق اھر آار۲۴)
ترجمہ:اے الا معاد یلاب دسا بکاعلم عطافر ماوراے خظاب بے
ھا۔
لئ اجْعَلٰهُهَاوِبً مَهَیًْا وَاهيِ7(4 نک اواب ٦ب)
تر ای ہرامت دکۓ والا رات یا تا اورالعٰ سے ہراعت
ر(ے۔
حطرت امیرمواویہ مدکی شان اقدل ٹل واردق بفاری شی فک ردایات
ملا ظہوں ححضرت ابن ال کہ ڈنف رباتے ہیں:
ایل لین عَبّاس هَلْ لك فِیٰ اہر الْهُوِيْنَمُعَارَِة ِه
ور ِا يِوَاجَدوقال اصَابّ اه ھی
(ہفار یکتاب النا تب ناش۵۳۱)
ترجہ: خرت ابن عباس "یہ سے پو چھا گیا آ پک اھر اون
معادی کے بارے می ںکیاراۓے ہے بجیلہد+و کی ایک می رکعت پڑت
ہیں؟ آپ نے فرمایا: بے قنک ووفقیہ ہیں۔-
۴)وتر مُعَارِيَهيَفْد الٰمقَاء برَكُعووَعِندة تَزلی لان اس
قاتی ان عم َال َ٥ه صَجتِرَسُْلَ اللہ صلی
الله عَليه رَسَلّمَ۔(ددلکب۸٘أبص۳٥)
ترجھہ :رت مواویے نے ہمازعشاء کے بعدو رکا ایک رکحت پڑی_
ان اے اس حضرت ان ع ا کا آزااکر دہ ظظا بھی تھا اس نے وائیں
آکرحضرت ابی ن عپائ کو بای آپ نے فرمایاان سے میھ ہنا کیونگ دہ
رسول اش ول کےا ہرویں۔
۷۷۸۶۵۲.
313
باحاد یث مبارکہ باد بادد یج وکیا بجی ہیں۔ رر نخرت اھ رممادے چھ
کوعال مق رآن, پادی ومبدیءامی لم ومن رفقیہہ وئچتد او حضور نی اکرم پڈلاکا حا
کجردجی ہیں مج ہمحارگرام دہ پاکباز اود پاکردارہتیاں ہیں شن کے افمال واقوال
اورا مال داحوال ام تکیلئ نشان راہ او رج نکی چیردئی باعث براعت ہے۔عرف
ایک ع ٹپ لک جائی ہے لاحظہہد۔الل کے رسول پلچقا نے فرمیا:
اصٰعابیٰ کَالْجُزْم ایم فَتُممتَلتم
( مو ہاب من تب اسطبت)
جھہ: میرے صحاہہارو ںک رع ہیں ہہت لن یس سے جم سکی
یرود کرد کے بدامت پا گے-
اب احاد یٹ پا گکیا کرت ہیں اورمودودکی صاح بکیاکجدر ہے جیا-
اعادیٹ پا کۃ اٹل ما لقن نیہ وپچ شی سحالی در اد دمہدی من ہرامت
دریے والا اور ہداءت اف کردی ہیں ۔ چ ولا نا مودودیی جو یہی سکالر مض رق کن
اورمتلوعمی سک یا یاکبلا تے ہیں ءا نکوغی رآ سن شی خی رشرقی طرزل او یش ارتیت
قر دا اط ری تکا مہب قراردر ےکر فاسکخ د چا لکھرد ہے ہیں دج رق رآ نکمم
بھی نیو ںکفر وف اوریافماٹی ےکا موں ےم رکہتا ہے۔ اب فرمایئےس کون
ہے تق رآلن دحد ایا مو ا مودودیی؟ یقینق رن وحد بی ٹکو سا ماخاڈ ےگا-اور
حدیث پک نے رت ام رمعادیہ نتم کہا اورفق. جال نیس ہوسماد بر
جاور برا نکا اجنتا تھا گر چراس مس خطا ہوئّ من باہتچادٹی خطائی اس لۓ
یں راع اض نکر جا یں .اب دامودودیی صاحب نے ا کی ایت ق یہ
کا کک بپ کرک رمھوٹ بولا اوران پرافراباخدھاادرجھبادئی دم ہد شش ہدا یت دیے
والا اور پرایت اف ہیدہ خی رآ سی اور خی شی امو رکا مب تر انی دیاجاستا۔اہا
حعفرت امیر معادبہ نل مودودئی صاحب کے اس افتزا ےبھی یقیة بک ژإں-
(۸٥۱۴۱٥٢.
314
اہلسقّتہترآن وعدیث پر پفتدا یمان رت ہیں او رام صحا ہکرام رشی ارڈ توم
حقرت ام رمعادیہ لیکو دی دم بدتی مان ہیں- ٰ
اور ہے جءمودودگی صاحب تن ےکیا ےک .رت ماد نے ”مرزی
توم کی اطاعت سے انکا کیا و بانہوں نے درس تن نکہاش رح عقائد سے
مول ے تمہ
جناب سیدناعلی انی لہ سے جناب سیدن امیرمعاویہ نے ال
لے اختلا فی سکیا ت اک دو خر تی لہ کے مقا لے ٹس اپ آپ
کوخلا تکا زیاد وق دارجگھت تے بللہ با شاف اس شبہ شش ہواتھاکہ
جناب امیرمعاویہ لی جگھتے تےکہ جناب سید نا عثان ذوالورین خٹھ
سکقلک قصاس لے نکیل موجودہ عالات یس خلی“ وت کے سا تھ
جن گک رن جائز ےا نکا ا حتاف صرف قمائص کےمتعلق تھا۔خلافقت و
امارت می لکوئی اختلاف ۃ تھا با تکا ایک مین وت پگ ےک
جناب سید نا ام رمعاوی جناب سید ناطلاجناب سید ناز بر( صترتسیرہ
عاترصد یق )ریشی انڈیٹھم نے خلافتگ لی مک تے ہو ئے ان سے
قصائش لیے کا مطالہ کیا تھا اگر ریرعفرات جناب می الرٹشی مل کی
خلا ف تکوقبول نفرماتے ہو تے و بر جناب سینا امی رمعاد یہ خلاجناب
سیدناعثان ذ والنور بین ین کے قصام کے اجکا خودجاری فر ماتے“'
(منا قب سیدبامیرستادیہ اش ۱۰۸۔۱۰۹کوالعاشیشرم خقائر۰۹۴۴٠)
گویا مو ا مودودگی صاح بکاىیٹتع ہرگز درس تل -
امتراش 0۸ض مررودل)
رت امی رمواوہہ لہ پر مولا نا مودودئی صاح بکا یک اورعن ما حظ کے
۹ ٤
315
الا جاب دج ےکچ ہیں:
”ححترت معاو چللهّی خاافت ا وی تک خافت جگ یک سلانوں
کے بنانے سے ووخلیقہ ہے ہوں اور اگرمسران ای اککرنے پر راضحی تہ
وت فو دو نہ نے دہ بہرعال خلیفہ ہون چاہج تے۔انہوں نے کر
خاافتعا ا کی ملافوں کے رای ہہوتے پان یاظافتکانارد
2 ۔لڑوکوں نے انکوغلینگں متاا۔و خوداے زور ےعلفہبۓ اور
جب دوغلیفربن گے تولوگو سکیل بجعت کے سواکوئی چا کا رز تھا۔ ال
وقت اگر ان سے بیعت نہکی جائی تو ا لکا تہ یرنہ ہوتاکہ دہ اپے
وص لکروو نصب سے یٹ جاتےء یلال ک ےصق نر دی د ہنی
کے تے ےامسن اوزظم پر تی نیس دی جاکڑیی۔ای لے امام تسن
لہ کی دست بردارکی (ر گج ال ۃ لمج ) کے بحدتا مسعابروتا لن خلا
اوسلیاۓ امت نے ا نکی ہجعت برا نا کیا اورا کو ھا م اجما عت"
ا ھتاپ تراددیا امیا بی غا نی 7 ضحم موی“
(خلات ول کی ےگص۵۸٥٥)
جقاب
مودودی صاحب نے اپنے خلاف امت نظریات کے باعث سید نا امیرمعادیے
لہ کی خطافت پلننکرتے ہوت ۓےکہاکردومسلمائوں کے بنانے سے خلیفہ ند بے
اورلوگوں نے اا ننکوخلیفینییش متایا بک۔رانہوں نے لک رخلافت حاص لکی اورسلانوں
کےراشی ہہونے پرا نکی خلاف تکاانھمارتھا-
ج بک تقیقت یہ ےک جناب رسول اللہ ولاگانے ححضرت ام رمعاودیہ چو
بشات دگی_ دوس رےقلیفہٴ راشدسیدنا زاروق انم ید کےپ مرخ نت شغام ے
گورزمررہوے خی“ وقت سےعرب ک ےکسرک ہہون ےکا خطاب ایا (ازوۃ ا
(۸۱۷٥۲.۰0
316
ارد +۱۳) نچ رتس رےخلیہ راشدسیدنا ا نگنی جیہ نے اپنے طول دو کو
میں ا نکوھصرف| ای ور نرک پر برتراررکھا پا اوررقی دیی۔مودووگی صاصحي
کےالفاظا یش سنی ےکھت ہیں:
ارت معاویہ م*لچدسیدنا عمرفاروق لہ کے زمانے میں
صرف ذش کی دلایت پر حےضخرتعثان یچچ نے ا نک یگورنزبی یں
نشم بنص ٹین ءاردن او رلہتا کاپ راعلا تگ کردیا“_
(خافت ولوگی ےی )٠۰۸
عإد2 جب ہو اورخلات 2 یں جب ی جب سی امام عائی مقاماا
نین چنا نے اس کے یی تترارہونے کے پاوجودخودمتبردار ہوک رخلا تا پرد
فرمادی اور اپ چا ار یما بروتا ین کے ان کے پاھ پیج ت کلت گر
مودووگی صاح کا یکنا اکلوگوں نے ا نکوغلیڈیل مایا کتا ڑا ھوٹ او رکتتابڑا
مغ اط ہے۔معلومیس لوکوں سے ا نکی مرا کیا ہے؟ ھا لان خودد یھ ر ہے ہیں 1 :
ماس تن مکی دست بداری (رق الازل )کے اعقام ماپ
جا تین او رسلا ۓ امت نے ا نکی یعت پرانفا قکیا'“- ۱
: (خلا نت یتگل )٥۵۸
اس طرح جب انیل خلاقت پپرد ہی اوراسل پ تما ممحابہوتا ٹن شی الد
نماد ریسلاۓ امت نے اتفاق*بھ یکرلیاظ آ پ تراممسلمافوں کےغلیف ہو ھئے یہ ۱
تام معابہ وتا ین رش ا نشم اوی٥لاۓ ام ت کا اتفاقی اس با تک نبا مت واٹج'
شض ےک رسب س۸ا نآ پک اطاعت براضی ہوک رآ پکوخل مل مکرجے سے
اورپ رآ پ کاپ صن طول دورحکوم بھی مسلمانو ںکی رضا مندگاکیا رژی رفل
ہے۔ بیاہتاکراس وقت لوگوں شی مھا کرام اورتا تن عنظا مم ری انج مکی بیعت
کےسواکوئی چا رکا :ھا اورانہوں نے قح خوفرببدبی سے جچت کیل کیا تھ ت2
0 و٤
317
ہاں دددی صا حب نے تصرف محابککرام یی اشنم مر ٦ تی رضامندی ے
یق کا انا کیا پگ تی دی غیرت ےہھروم اور بی جحبیت ہو ےکا اترام گی ر بے
یا تنفقراش۔
پچ حالائ یدن امام تسن لہ نے خلاقت ا یں سون پک ران 71 یو تکرکی 7
ا یں می ہوئی اود میں بھی ددی ے٦ وج سکی ہثارت خوزتضور پلچگانے دی ا0 اور
گٌ و ابی رضامند بھی ہی اورخو نیز یکا خدشیشج مم ہوگیا زی
: ےکوئی بای نہر ہ۔ امو دودی صا حب ےن مقا لطددیایاپپھرعدےثٹ بثارل
ناوا لیت اور جال تکا مظاہ رہ٥کیاورنہ دہا ں2 ال رتع اؤررضامندی ے
دہ تھا دی یں جک جس سال (رقع الال امج )یں ہوئی اد رقا محابرو
الین اوریملھاۓ امت ری ان ش نشم نے یک خلیفہکی اطاعت پرا نا کیا اس سال
اعم الاو یت رکیاگیا۔ک اس سال پور امت متمدتفق ہوک ر ایک خلی فی
اطا عت پ"ع ہوئی ورام ت تق پر ہولی ہےگمرای پیل ۔دانا ے خیوب جناب
رسول الل چان فریا:
"ا مع ایی عَلی الصّلال“_ رکرجرری
تج : میرک امت ہ کرای پر کی ہوگی-
شش امت جب بھی تع ہو یکن پر ہوگی اور ہیہاں امت ظاقت ام رمعادے
)رش ہنی لہذا آ پک خلافت کےتی ہدن ےک ش بھی ہوئی الف پالگل
شتم ہوکیاادرسید امیرمتادہہ لہ تق لور پر پور امت کےخیفمترد ہے ۔اب
لے دھے فارکی باب علامات وت من قب اص واحسین دش اوڈٹنما تناب اشن کاب اس
حضو علیہ ااصلوق والسلام نے سی اامتسن فکوجیلہ دہابھی چو نے ہے تکود یں نےکر
می رمترف مایا( جمہ )یراہ بنا سردار سے اور شای انل کے ذر یچ اللتواٹی مسلمائو ںکی دو
: جواعیتوں یمک راد ےگ“
۷ًٔ "٤
318
ققام حا الین ادرلا نے امت رش ا یڈ نیس امیرلم وین کے اقب سے یادٴ
کرنے گے۔ایککمان کے یچ چہادکا رکا ہواسلسلہ دہ باد٤ جار ہواادراسلا مک نشم
واشاعت پھر ےو ہگی-
در مودودئی صاح بکا ےکہتاکانہوں نے لڑکرخلافت حاص لک بھی غلط
عبت ہوا۔اس می شی نمی سکہانوں نے خلیۂ برق سید لی ال ری یچ ےلڑائی
کی ین بل ائی خلا ف تکیلئے کی اور ندجی دو ال ائی شش مرگ غلافت ے۔ہاں
ان سےاجتماویی خطا ہوئی اورلائ کی نوہ تکآنگئی ۔اوراختلافعر مل ان کے
تصائ پ تھا۔آ ہے ہمآپ کے سا نے سید عی لیت هکا وم نام جھآپ نے
بی صفین کے بعدراپنے حتال کے نام لجطور وضاحت روا نف مایا یکرت جیں-
اےم دونو ںکادکوی ایک اوراختلا ف قصائ عثان خثدب تھا کےکنوان کے نت
ےبھیات لکر چے ہیں یہاں صرف ت جھ یی کیاجاتا ہے ۔فرایا:
”ظاہر یش جم س بکا بروردگار ایک تھا۔ ہعارا نی ایک تھا-
٦ ری ذکوت اسلامایکجھی۔ نرام ال سے ایمان بالشاورتمد بن پالرول
می کی ا ضا ن ےکا مطال ہکرت چھ ضد ہم سےکر تے تھے (اس معالمہ
میں ) ہم سب ایک تے۔اختلاف تھا صر ف کان خلہ کے خون مل
اتا ض تھا۔عا لاک اس خون سےہم پالئل بر ال مت“
رہ زت7 مترح حر ص٣۸۲۲ ر۵۸)
را مودودی صاح بکا کن اکردہ بہرحال خلیفہونا اج چھ او کر اے
ان ےگ خلافت ہونے پنکرنا ہیی ہاں اس قد رت ہ ےگوہ ای کے
خوائش مند ر ہے۔اور ہہ خلبھ نکی تھا ہایس اس خلاق تکا خوائٹل من رونا
چا ےتا لۓےکرنئی جتاب رسول اللہ پگ نے ا کی شارت دی ۔ حرٹ
کیل حر علد۔ اب نتجری رم ال علینٹل ف مات ہیں: ۱
۰ و٤
2319
”اوک بن ال شویہئے ای ند ےحعقرت مداویہ لیے
روا تیأف لک ہج ےکہوہ کے جے جج اس وت سے برا خلاقت لی
امیدرردی جب سے رسول خحداہا نے مھےفر ا اکہ:”اے معاوي اجب
تم بادشاہہون نک کر ''اوراویئی نے انی سمند ےجس م سوی میں
اوران ک ےعلق پتھ جرح بھی ہےگمر وہ جرح معنزہیں ہے ۔حضرت
معادبے لہ ے رواع تک ہےکہدہ کے تے رسول خدائپطا نے (ایک
ہب) می کی رف د ریکھا اورف رمیا اک اے معاوی ارم یحلومت لے تو
اللہ سے ڈرن اورانصا ففکر“۔ححضرت محاویہ ”پچ کے ہیں ا وقت
سے مھ بیامیدرددیکہ جھےکہن لک یعکومت نے دا ی ے یہا ں کک
ححفرت عم ودک طرف سے بے شا مکی وم تلی۔ پچ رححضرت ایام
تن طلہ کے خلافت تر کفکردینے کے بحد خلا وت حاصل ہوگئی_ اس
حد یٹ کوامام اتد نے ایک مکل سند سے روای کیا ےگ بای نے
ا سرچ ہے موصو لکیا سے اس کے الفااضحضرت معاویہ نے
رد ہی ںک آحضرت بلاق نے اپنے اصحاب تلود ےفر با اک 'وضولر و“
یں جب دووضموکر کے آحضرت لاق نے میرک طرف دیکھا اوفر مایا
کی اے مواو !اگ مکی ںکیعلومت رق اش سے ڈرن اوراصاف
کر 'اورط رای نے' اوس اس قد یضمون زا دردای کیا ےک
”کرو ںکی عی قجو لکرنا اور بدکاروں سے درگ کر اور امام اتد
نے ایک دوس رک سندرنسن سے دداح ت کیا ےکہ جب ححضرت الو ہر شی
اندعنہ بیار ہو ےو ہیاۓ الع کے ححضرت معاوہے خلدانے پالی کا تن
اٹھالیاادررسول خدابفے کو وضوکرانے گے ۔حضرت ٹپل نے وضوکر نے
الیک مرح یاد دم رت را ھا یا ادرف مایا ا معاو !اکر کون کی
(۸٥۱۷٥.۰0
320
عکومت لے نے الل سے ڈرن اورائ ا گفکرب“۔ححضرت موادی تچ کچ
ہیں اس وت سے ھ برای بیخیال ۸ پا نترب غلافت سے دای
ہے یہاں ککی لگئ“۔
(سد بای رستادیہ چھاردوۃ جرنّأیرا مان ل٣٣-٥۳)
بجی حضرت علامہای جرگ رم ان علی ای بشار تک شرع مم فرمات ہیں :
فضرت الا نے ححضرت معاو یہ ٹن جایاتھاکدہبادشاہ
ہے گااورآپ نے ا ےن سلو ککاعمدیاتھا۔حدیث ج سآ پ ا نک
غلات کےورست ہونے ک تق اشارہ پا یں گے ۔اورنحضر تبسن
لہ کی بردارکی کے بعددواں کے متزار تے کو کآپ '_2ا٤ اٹل
اصا نکا عم د یناہ بارشاہ ہونے بر مترتب ہوتا ہے۔ شک سے ا نک
لات کے درست ہلوت ےکی وجہ سے شک ہما اب ؟آجان ےکی وج ےان
کی حکومت وخلاف کی حقیت مححت تصرف اورنوز افعال پر ولاللت
ہوئی سے ۔کیونلہ خو دہف وخلبہ حاص٥ لکرنے والا اك اور ع اپ پانے
والا تا ے دوخ خر یکا تا یس رکتا۔ اورشرتی ان ےم ن سوک
اعم دیاجاکتا ہے ہین برووخل حاص لکتا ہے۔ مم دو اپ نت
افعال اور ہر ےاحوا لکی وج ے زج وق اوراختا ءکا سخ ہوتا ے۔
ارت مواوىہ یی ہسخلب ہو تے تذ تضورعلیہالسلا ضرورال طرف
اشمار کر تے بای صراحت سے بتاتے۔ ج بآپ پل نے صراحت
کی باۓ اسطرف اشار ہم کگھینئی ںکیا تمہ با تآپ تل ھک یت
پرلال تل سے جس سے ہیں معلوم ہوتا ےکآ پ حعمر ت کنا لہ
کی قب رداری کے بعد اما ماود من خیف جے“-
(لصواصق أھر ڈارولض۲۴ء)
۸۸۷۸۷۱٥5٢.
اعت رائش ۹ (ملن مودددی)
مودددگی صاح بکا ایک اورنأھن طلاحظ و کھت ہیں:
”ناس دور کے رات ٹس سے ایک اودا ہنی ر يیتھاکرملاوں ے
ام اروف او رتیعن اننک یآ زادی سل بک رن یگئی۔ حا لئ اسلام
نے ا سےمسلانو ںکا صر فی بینٹیس بل ف رق ارد یا تھا او راسلائی
محاٹرەوریاس تکا ا رات پر چلزااس ب تحص رق ایق م کاخ یرزشواور
اس کے افرادکی ذ بای ںآزاد ہوں۔ ہرخلطکام پردہ بڑے سے بڑڈے
آ و یکوٹو کمکیل اور بات برماکہیکی ۔خلا فت راشدہ می لوگو ںکی
ہآ زادگی پوری طرح فو ڑتھی_ خلفاۓ راشند بین ا کی دصرف
اجازت د نے تھ ہراس پرلوگو ںکی چمتافزا یکر تے تھے ۔ان کے
زمانہرش بی با ت کین دانے ڈانٹ اور ھی ےنیس ریف وین
سےندازے جات تھےاورتقی کر نے والو ںکود با یٹس جا جا تھا ہا نکو
مقول جواب د ےکرملمن نکر ن ےک یکو کی جائی تھی مین دور
لوکیت مم عخمیروں پہتئل چٹ ھاد ہے گے اورز ای بنرکرد گیں-۔
اب اعد ہے وگ یاکہہنکھووڈة تھری کیل ہکھولوہ درنہ چپ رہ او راگر
تہاراخمیرایادی زوردار ےکر عق یگوئی سے بازکی رہ میھت تو قیراور
تل اورکوڑو ںکی ما رکیل تار ہو جا چنا ٹچ جولو یھی اس دور یق
ہو لے اورخلطکاریوں پٹ کے سے با نآ ا نکو بت بن انی دی
کی تاکہ پودری توم دہشت زد٭ہوجاے-
اٹ ایس کی ابتراضرت متا یہ دک ز مان یل تقرت
تر بن عدکی کے ل۵ سے ہ گی وت لک۷۴۷۳
(۸٥۱۷۱٥۱.
322
آ پا لکاکیاجاب دی گے؟
٭واے
مولانا مووووگی تضرت امیر مواوہہ یی جعیل القدر حا ی یں اور یکی
خلاقت پت صعارہوتا ین اورعلا ے امت بی ان شھم نے اتا یکیاادرائیل امیر
اخ ضلی یپ ضو رن یکریم لی افص لیم نے ج نکیلے لقن ادر ادگ
مہدبی ہو ےکی دعا می سکیس صحا ہکرام مو رین عظام اورعلا ۓے امت نکوفقیہہ ۱
بر سے ہیں ابق ت؟ ج بھی یی نقہ جچتتلیمکرر سے ہیں یس اکر اور
امر بالمعروف و نھی عن المنکر پ پا نکی نان کاالتزام د ےک رمعلوممیس
١پ ےکون ے دل یفن وعنا کا کہارکرر ہے ہیں اوراپ کون سے مرج ب کاپ چارکر ۱
مر سے ہیں؟ 1ے د ھت ہی ںک الیکا میں اورعلاۓ اسلام اس باارے ش٠ سکیا
کت ہیں ۔اما ماب نججرگی ر ال علیأٹل فرماتے ہی ںکہ
”حفضرت معاوہہ نہ کے فضال می ینچم دی 7
جمعہ کے دن انہوں نے ایک مرح خطیہ بڑ ھا ادرفرایا:” مال سب ادا
ہےاد مت سب ہوارکی ہے ہم ج کوچ ہیں دی “کسیانے انگ
ا سیکا جواب نردیا۔ چردوصرے بجعہ میں انہوں نے الا یکہا۔ی ری
سی نے ا نکوا کا جواب تد یا رحیسرے بحعہ میس ان ہوں نے ایبای
کین ایینن سکھٹاہوگیااوراس ن ےکھا:”ہرکزنیس مال سب جماراےے
اونأیجمت سب ہمارگی ہے بی وھ ہمارے اوراس کے درمیان عال
ہوگ ہم خدا کےسا نے اپنیکوارے ا کافی کر گے یک نکرانوں
2.0 کردیا۔ جج جب اپ مکان می پچ ا کوبویا۔
لوکوں تن ےکہا اب بین ماراگمیا۔ ٹیس لوک گے نے و یکھا کہ محضرت
(۸۸۷۸۱۶0٢.
329
مماویہ ددشت پر ٹیشھے ہو ۓ ہیں ۔ححخرت معاونہ لیدنے الن لوگوں
سےکہاا ین نے ھے زند+کردیا۔ الفدائ ںکوزندو رہ میں نے
" رسول خدا گے سنا ہے۔آ پ فراتے تج ےکی عتقریب میرے بعد
چندامراءہوں گے جب دوکوئی با تکہیں گے کوئی ا سکورد یکر سے
گا دددوزرغ مم ا طر گر می گے ننس طر عکلیاںگمرتی ہیں“ ش
نے جب پل حرش یہ بات بی اور نے جواب شددیا نے ے نوف
ہوا کیل بھی ان میس سے نہہوں پچوردوسرے جم ہی بھی ہیں نے
کہااو ری نے رد نکیا یجھے لقن ہوگیا کی انیس میس ے ہوں پھر
تیسرے جع ہم بھی میں ن ےکہا بیشن سکھا ہوگیا اود اس نے مر
با تکا کیا لی ا نے مھ زندہکیاالقد ان کوزند ور ھے۔
یں اس منت ےت جطیل ہو رکرو چزخصومیت کے سات و فضرت
محاون ظ_لنکی ذات مل مو جو شی دوسرے سےالی بات نقو یں
ہے تم جب اس جات فو رکرو سے اور فقیتہاری ساعد تر ےگ
قخ مکونواوکن اواعنقادرکنا پڑ ےک حضرت محاو یہ جائ کمالات تھے
اورقم ان سے خوش ہو جا گے او ول ےک انہوں نے جو یھ رسول خدا
پچ سے سنا تھا اس پگ لکرن ےکیلئے بڑ ےم ریئش تھے. جہا تک ان
کےامکلن میں تھااوروہال بات سے بہت ڈد تے جھےکران ےکوی خطا
صادرہو ٹپل ال نے یل پچ یااورالکند ران سےداشی ر ے '-
(سید؟ امیر محاد نے ینار دو جنن۲یرا جنانل٦٠_٣٥)
ابآ زادگ را ۓےکی اس سےعید ما لکیا ہوگی کیا رغاطائے راشدی نکی
اتا ںآ زادقی را پرلوگو ںکی مت افزا گنی سک یگئی یکن مول نا مودودی جھ
وف خمداوآغرت ے پالگ ل رد او مت لگا نے یں بڑے جک میں کت ہیں :
(۸/۸٥۱۴۱٥۲.۰0
324
فیروں پل بے اد ہے سے اورز بانیں بن کرد گئیں_
آپ تاعدہ یہ گیا کہ وو پ7 لف کیل کھواو ورن چپ رہواوراگر
تمہارافیبراداہی زوردار ےکی یگوئی ے بازننیس رہ کت فو قیداور
تل اورکوڑو کی ما رکیل تار ہو جا۔ چنا مچ جولو بھی اس دور می تن
ہو لے اورغلطکار ول پرٹو کے سے از نے ال نکو یدقن مزامیں دگی
گی اککہ ری تو م دہشت زدہہوچاۓ“'-
(خلافت وف وکی ےل ۱۷۳۔۱۷۳)
یہک کر مودودئی صاحب نے تصرف تقیق تکو چھپا یقرت ام رممادي
نہ کوگویا عق یگوئی کا مخالف اور سفاک ب اکر ٹن کیج حد بیث پاک می انیل
بہت زیاد فرب گیا جخرت علامہان جرگ رجمۃ ال عل نل فرماتے ہیں :
آححضرت پللق نے فرمایا: اور زلہ می رکا اعمت مل سب
سے زیادہرتم دل اود تق انقلب ہیں بعداس کےآپ نے بقی خلا ۓے
اربعہ کے منا قب بیان کے اوران میں ححضرت موادیہ یلیکا بھی ڈک کیا“
غرم کہ ”مھا وہہ جن ال مفیائن رشی الما میرک اممت مل سب سے
زیاد یم ادرٹی ہیں''۔
ان دوفو ںیم انان دفو ںکو جآ حضرت دللق نے ا نکی
ذات مٹش بیان کے ہیں ور سے دیھوق تم کومعلوم ہوجا اکس دوائن
وونوں رھفوں کےذرییےکمال کےم رت کک مج جج کی
دسر ےکونھی یں ہو اکیوکعلماور جو 'ررد شی ایی ہی ںکتھام
طوطط وشپوار تن سکومناد یی ہیں اس ل جک لیف اورشرت غمضب
کے وقت وٹ علمکرسم سے ٹس کے وی یں 3ہ برارشروراورظ
شس باتی نہ ہو۔ ابی وج ے ایکینش نعط کیاکہ یارسول اللہ یفقا
(۸٥۱۷۱٥3۲.
326
بے بھوصبیت ف رما ہے ححخرت پگ نے رای بھی قصہ نکر ناء ونس
بادپارآ رپ تار ہاکہ مگ پچ وصیت فر ما اور پ ڈفقنا ہر بارجی
فرماتے رہ ےکن غصہہ شرکرنا۔معلوم ہواکہ جبکوی سخ ثر
سے پچ جا ےگ تو دن کا ددسرئی خاشوں ےب پا جائےےگااورجھ
شف ٹن سک خاخوں ے بے جائۓ اس مس تما کیا جم ہو ںگی-
ایر سفاد تکاحالی ہے ما مگناہو ںکارچشثبب ریا ے جیما
کہ حدیثٹ شُل وارر ہوا سے یں ج سٹو سکو ال تھی عبت دا سے
بچاۓ اورخاو تکی مخت ا سکوع کر ےو کچھ دنا چا اس کے
لیس ذدہ انیس ہے نروولی فان یج کی طرف اتقت وکر
دمارآخر تکی فو ںک برباوگ رکم ےاور جب یکا قلپ ان دونوں
آفوں سے پاک ہو یجن خحضب اورگنل ے جوسرچش ہام اک اور
خیاٹوں کے ہیںتو ٹس تا الات اورتگیوں کے سا ھآرامت اور
تام برائیوں سے پاک ہوگا۔ ہ ںآتحضرت پل کے ا فرمانے ےک
محاویہ یلیم اورگی ہیں دو تام فضائل جو ش ے یان کے حطرت
معاویہ دی ذات یں خایت ہو گۓ - اب دہ پا تل جو ائل برعت و
چھاالت بیا نکر تے ہی ںکسی رح ایل تو لیس ہوییں-
ا رکا جا ۓےکہ بعد یٹ جونرکود ہوئی ا لک سنرضیف ے
پھراس سے اتد لا لکیوک رع ہوسکتا ےو جواب ہہ ہ کہ مار ےتام
انم فتھا اور اصوٰین او رح شین اس بات نف ہی ںکرعد یے ضیف
مناقب کےمتلق کت ہوتی ہے جیا کہ فضال اعالل کےمتحلقی
الا جمارع ججت ا یگئی ہے اور جب ا کا جت ہون ۴ بت وکیا کسی
موا کاکوئی شہہ باکسی جاسدکاکوئی لن بای ندد ہا متام ان لوگوں پہ
(۸٥۱۴۱٥٢.
326
بن یس بھاہلیت ہوواجب ہو اکہ ال لق کو اپ دل عچکد بل اور
بپکانے والوں کےےفریب میں نآ میں“
(سید :امیرسمادىہ ظنارووۃ جرت برا لجا نض )۳٣۷۲۹
گرم سا ہصلحات می مور بکرم کی رت ام رمعادی لد کت
میس بیدعاکہ: ادا پ دی اور مہدی کم اجْعَلهُ عَایثً مه
وَاهلِ ب 7 پ 2ی :وب لت قب کر گے ہیں فیا جےگیا”امر بالمعروف ونھی
عن السکر سے رو کے والا ایی دم ہدک ہوتا ہے ا ا لکا نفا کر نے وا اوراے
رو کل لانے والا ۔ ججیہ پادگی کا مطلب سے رایت د ہج والا اورمہر یکا مطلب
ہے ہریت یافۃ ۔اود می الل کے رسول بللوکی دعا ہے ہشن طود پہ با رگا٤ خداوندک ٹش
مقبول ہے۔اور جب ضحقرت ام رممحاد یہن ہادیی وم دی ںو یتیا ”اسر
بالمعروف ونھی عن المنکور 'کوفذکرنے والے ہیں وت
صولانا مودودگی صاحب نے یا انی ے نا واشقیت اور احاد یٹ سے چہال ت کا
وت دیا ہے یا ہچ راعاد یث اوردعا ۓ رسول وی اسایت وو لیت پرال نکا ا یمان
نیس ا پرفنض تحص بکا شکارہ" گے ہیں ورنرسید ام رمدادیے طلہ تس ت (اگراپنا
نا مہ اعمال سا ہشکر ے۔
امامماین ری ہم اللعلی راس عد یکو لکر تے ہو ہے فر مات ہیں :
”رت معاویہ ند کے فضائل مم ایک کی رشن حد ٹ
7 وو ےک کت گا نے رواء تکیا ے او رکا ےکہ بعد یٹ
سس صن ےکرسول خدالاقا نے حضرت محادیہ خل ےکی رعا اگ کنیا
الش! ا نو ہدابی تکرنے والا اور پرمت یاقح بنادۓے“۔ نیل صادقی و
حصدد قکی اس دعا و رکرو اوراس با تکونگ یھو آحفضرت پڈڈاکی
دو دعائمیں جھآپ نے اپی امت خصوصا اپ صحاب شی انڈ ٹہ مکی
(۸۸۷۸٥۷۱۶٥٢.
327
گی ہیں+متبول ہیں مکوفقن ہو جاۓ گا کہ بیدا جھآپ نے
ححضرت معا دہ تچ کس ا 2اگ مقبول ہہوگی اورالد تے ا نکو ماکز 2
والا اور پراےت یاقت :تادیا اود جس ان دووںمختوں کا چا ہوا 17
ضہ تک دو پا ا لک جائق ہیںہ جو اٹل برست معاند کک
ہیں۔رسول خداپفا ای جا ڈ عاجوقمام مراحب دمیاوآخر تکوشائل ہو
وا ا ے پاککرنے ال ہوسا کیک می کے جس
کوآپ نے بپھولیا ہو کاردا کال او رع سے
7 0/ والؤ اور برا مت
یافندہترادف پا متلازم ہیں بی نی پللگا نے ىہ الفا طکیوں کے :ٹوش
جواب دو ں ٹاک ان وونو ںلففوں مل ت7 ارک سے ندطازم یگل
اا نکی خود ایت بافۃ وت ہگ دوسرو ںکوئس سے پدای نیل
.حا لان عارش نکا ہےجنہوں نے سیا حت گنی انتا کر ل
ہے اورنسی الیا وت ہ ےک دوسرےلے ال سے بدامت ات ہی ںگرخود
رایت یافیڈٹی بونا۔ یحال ٤ٹ وامطی ن کا ہےکرٹنہوں نے بندوں
کے معاططا تکودرست رکھا ہے اور دا کے محاطا تکودرس تا نکیا
ٹیس نے بہت سے واعط ا یے وھ ہیں ۔ ت اوھ پروائں,ء یلوگ
چا ےجس جنگ یس جلاک ہو جاتیل ۔آفحضرت پللقا نےبھی فر مایا سے
کہ ایی ال دی نکی عدد کا دی ےگھ یکراو یا ہے۔اس لے
رسول خداپللق نے حخرت ماد یہ تل کیل ان ددنو ں نی الشان مرتوں
کے تعسو لکی دعا گی تک وہ خودیھی بدایت اف ہو چا یں اوردوسرو کو
بھی رای تک میں“( اودا سکیل ضردرکی ےم امر بالمعروف و
تھی عن المنکر “کون فف کم بس نکر اے روک دیس ۔ یس اکہ
(۸٥۱۴۱٥٢.
328
مودودٹی صاحب نے پان لگایا ہے ملف )
(سایرسادي کل4اردۃ عّ اد٥ ۷)
اعت راخ شا ( من مودددل)
مول نا مودودٹیککا ایک اورٹھمن ا حظہ مو کیچ ہیں:
”ما لغم تک تیم کے موالہم بھی رت محاوی لہ
ن کاب الشدوسفت رسول ال لھا کےص رم احکا مکی خلاف ورز یکی۔
تاب وس تک رو سے پورے ما لخخیصتکا پانچاں حصہ ببیت المال
یش دافل ہوا چا بے اود باقی ار صے اس فج مم تیم سے جانے
چ جن جولڑائی میں شریک ہوئی ہو ٹین حضرت محاد یہ لین ےمم دیا
کہ ما ل نیت میس سے چا ندی سوا نکیل انگ نال لیا جائے۔ پھر
بات مال ش رگ تا حد ے کےمطا نس مکیا جا '۔(خدت با کیے۶ء:)
مو نا مودودگی نے ضفرت ام رمحادہہ لہ پر بی جوشد ید ات رائض اورنلل نکیا
ہ ےآ پا کاکیاجواب دی گے؟
ماب
تم ملاسلا حضرت شا ودک ایرث دبلوکی حم الل لیف ماتے ہیں:
”یم صھاکرا مکا ج ببھی ذک کر میں یہی کے سا ہونا
چا وو ہب ہمارے دی چچیجوااورتققرا ہیں ۔ ان دو ےن 2
ساتھ بکقیدگی رکھنا اورا نکی بات برع نکرن انی برا بھ اکنا
سب تام ہے۔ ہم پر واجب س ےک ہم ا نکیپعلیم ومگرم) بہجالاتے
ریں''_ (میرمدے)
برقم اکا بر اصت می فرماتے ہیں _ لا حظہ ہو باب٣ ”مخنقرات ابسقّت
(۸۸۷۷۱۷٥.
39
اورتظریات :کا “اورعلقرت امھ رمحاویہ تل تتضور نب یکر یم لا کےٹیل القد حا ی
ہیں کو یافہا یت میپشظیم گرم کے خی ہیں اوران سے بدتقیرگی رکا پان ہکوتی
نکر م ہے۔ اورککا لکی بات ے یہ ےک خود ال تا فی ق رآ نکریح مل سب
صحابرکرا مکوکف رض اوریفرمانی سےعتف راو نی وعادل فرمار اہے ۔آیات مقد سک
تق ل کی اع تح فہ ”کا جواب ملاک یں ہ مکی ہیں متقرات ال تک
اترام مودددئی صاحب ج بک یں جب عق تداہسقّت اختیارکہ نےکااعطا نکر بی
ین قر نکر مکوق مان ہوں ےآ خرانہوں ن تفم القرآن کے نام سےا کی
تنیرآی ہے ین اغسوس صدافسول !انیس پھھ پروی ارے جب ق رآ نکر
کابکگرا مک بیعفات ما نکمتا کرد کفرش ناودرا ری ےجرد تق دعارل
ہی 2 ران پر خیاخ تکاافرا مکیوں ؟کیاوٹی مودددٹی صاحب تق رآ نکر پرایھان
نہیں رکت با پھر سکیننم سے مارگ ہیں؟ خر ق رآ نکی مکی بیا نکردہ صفات
صحابہ پرانہوں ن ےکیو نیس میقی نکیا اورانوں نے ق رآ نکر مکو چو کر اریٹی
روایا تکواپنے نظ ریا تک یا دکیول نایا ے؟ بر اوکرم ہیارا می ںکرددابتدائی عنوان
”فیص لق رآن وعدیث سےکیوں جار نم ےکیو ںکیں ؟“' گرا تطفررائی کپ
مووووی صاحپب کے اختراضات اورنظریا ت کا بطلان نب پر ہجاۓ گا۔
یہاں بم ات یگز ار شک می مگ ےق رکآن بے ال ہکا کلام ہے اکا سیا رسول پل لایا
ہاور یقودیگی ماف مایا ایب فل (ابقر1)اس مم کوئی کن ککی نیس اور
انان کٹل وکا شکا مہ جا ری واثقیات شئن کا یں وشہات سے خمالی ہوا
ضرور ینہیں' موی نکی بشر یکنرور یں ےکفوننپیں' اورمونع بموتع موجورنر
ہون ےکی صورت میں غیرمصدد ےہ معلوبارے او رتخصب راونول کےائی جذبات اور
طقالنن کے منانی خیالات سےمیر ا ہونا ضرورئینیس - پھر جب ق رآ نکر ہمارے
ایما نکی بجیاد تو اس کے متقا بے میس حا رن کی کیا حیثیت ہے؟کوگی یی ت یں ۔
۴ “٤
330
ہیں ؛ یی ریتی واقعات جوق رآ نکر مکی تھر جات اورک مآیات کے لاف ہولں-
یٹس ردکرن ہوگا۔ مودودیی صاحب نو ا گے جہا نتشرلف لے جا گے ہیں ت رآئن
کر مکی لق تکاخیاز نتر ے ہوں کے ۔آپ درف ٹف الہ لکہ
ا) جار ی روا ت ت رآن کےخلاف ہو دم دودہوٹی ہے اود دودبات
بیلورسن اور ولی ل نہیں بی کی چاعتی .اق رآ نکر مکوچھو ڑکرمودووی صاح بکا
ان راختا کر اورق رآ نکر کےخلا ف سی صوالی تصوص ا حضرت ام رموادے نل
پر خیاخت اوض کت ہت ان قط ما غوار مل ہے۔اگرمودودی صا حب کے نکو
ال اورمردودت مان جا اوراس کےکھیک ہونے پر اصرارکیا جا ذ ال ےک لن
کر مک یملف جب ادرا نار لاز مآ جا ہے اورا یمان بریاد+ەوچاتاے-
۴ ای ردایت شس سے بظاہ کیا مھا ی کول 7 ف٦٢ ہواگر چروہ ہوک
او لکی جا ۓگ اورسحا یکر ام یی ا ڈشتھم کے داسن ارس پ وی دعب قجو کی سکیا
جا ۓگا۔ا نام نود رم ان علیأشل رات ہیں ایگ جار را حظہو:
”علا مکتے ہی ںکشن احعاد یٹ شس بظاہ کیا محا لی پ7 ف٢٢
ہوا ںک تاوئل دا جب سےاورعلا کے ہی ں کی ردایات می کول ایی
ای جن لک حا ول نو ےت
(نودی شر ح سل تاب اف ال نضا لم طل ع ٣ص ۰۸د٥)
۳) عورودئی صاحب کے اس امتراش می سکئی عیب موجود ہیں۔ دج وہ
کھت ہیں:
”'حفرت معاویہ لندن کاب الڈداورسنت رسول کرت
اْا مک خلاف ورڑگا کی ...-۔ .. اوریعم دا کہ ما ل غیت میں سے
جاندی سنا ا نکسیلئ الک کا للا جاۓ پھر باقی ول شرئی ا عدے کے
مطا یت یھرکیاجاے“'۔
(۸۸٥۱۴۱٥.
331
مودووگی صاحب نے اع نکی سند یل موررخغ ای نکی رکی الیدايدالہایاور
ا دیکر چا رکتابوں کے جوالےدہے ہیں ان پاچ ںکتابوں یش ڈرکورہ تقامات کے
لاد یں اورگی طظرت اي رمماد بے مه" کول ایام صراحت ے ناب تل اور
:لے کیب یکورنرزیاد کے ناماییاکو یعم ام رق ممنیں۔ جس سے موم ہوکرکل
پا شرتی طود ری مکرنا ضرور ینیل سوا چا نی ھیرے لئ کا لک باقی مال شرق
قاعدے کے ماب یی مکیا جاے ۔م مودودکی صاحب کے دے ہو ئے جوال مس
مرکو 'البدایددالتہا کی عبادت یئ من کرد سے ہیں اس ٹس مہ با ت ہی بذکور
نی سکم اح ٹعا لک باقی مال شر ا عدرے ےس مکرکیاجاۓے-_
پھرمودودگی صاحب ن ےجس مطلب برار کیل حوالہمیش نرکو رکابوں کے
ال اققیامات ٹیٹ یک ھے۔ جار یل سے اخ ذکردہ وو واقعہ سے بیاد پناکر
مودودکی صاحب ححخرت ام رمحادیہ لدکی ذات اق پل کرد ہے ہیں ہھ وں
: ےکہزیادترت امیرمعادیہ خالدکی طرف سے بعھرہ (عراق ) کےگورنر تھے اوم
بن ھروزیاد کے ماححت خراسمان کے عا اکم تے یم تن گھردن ےمظارسے جہادکیااو رن
ہوئی تق یں بت سا ما لیت حاضل جوا عم بن جرد ن ےگورنرزیاوکو ا کی اط
دکی اورزیادنے آنییس ما نیس تک انیم کے بارے می اھ رالھ ومن ححرت امیر
ماد کچ کے حوالہ سےککھھا:
ان امیر المؤمنین قد جاء کتابه ان بُصطفی لە کل صفرا و
بیضاء یعنی الذھب والفضة یجمع کلە من ھذہ الغغیمة
لبیت المال۔
(الہر اید تا یع ۸گ ۲۹)
تر جمہ :ام رالھ وین کا خ ط آیا ےکا نکیل ا ںحزیمت سے سارا سونا
ند اکٹھاکر کے یبیت:اما لکیلت کرد یاجاۓے-
(۸۱۴۱٥٢.
32د
(جرں این شرأردو جع شمص۱۹د)
ب مککچے ہیں ای بات و جار نیش مندرح جلناکفر رک
صحضرت ام رمعاویہ خلکی ططر فعفسو بگیا ہے مان اس بات کا مودود صاحب
یلو رتول ٹپ لکردہ پا نچ سکنابوں می سپھ یکوئی ٹیو می سکرام لم مین حرت امیر
ماد ہہ پپانے وی ایام نام ہجار کیا تھا کوچ نک ا نکیل ان کک لیا جائے-
پھر بی روا یت نٹ ع بھی ہے۔ اس سے تو یمعلوم ہوتا ےک ہگودنرزیادنے یگ ایر
وین حضرت ام رمواوہہ یچچ ےمفسو بک کےخود ہی دیا ہے۔ اکر ا سکوتعت رت
امیرمحادہہ کات لم مان لیا جائے لی اہ ولا نا مودودٹی صاحب نے اہ ر/نا
1 او کیا ہےکہائل کاب وسفت کے رت اکا مکی خلاف درز کیک تو پھر
ضروری تھا کہ 7 درس بگورزوں کے نا بھی جار کیا جانا اوران تام پہ
سالارو ںکونگی جمیںحفرت ام رمواوں ملتود چہا رکیل روانٹرا ہے جب نایا
ھی خاب تئیں۔
اورال بھی خت تیرت ہج ےکیمودودی صاحب نے اتال کے گے والہ
جس سے یت المال'' کے الفاط ہر پکر لے اوراپے الا مکی تائید می 'باتی مال
رئیا عرے کے مطاب نی کیا جاۓ' کے الفاظ اپنے پا سے زائد بڑ اد ےہ
آتف ہےمودودگی صاح بکی ایی جددیا ا کیا لکاعگی جواب ماخ جار اہے۔
ردپ بات یہ ےلیم ی نمرج نکوگورٹرز یادامیرلھو سج نکی طرف سے
سیگ نار ہے می کون چا نان کیل ان گفکرلیا جاۓے نے اس پل ہیی کیا
بل انوں ن ےگورخرزیاد کےع مکی ا لق کی وووگی صا حب کےپف لکردواسی الہ
کے مطاب کل مال نیس تک پا نچواں حصہ بیت الما لکیل ال فکیا اود بقیہ جباد شش
شیک تا ف یں می کردا سودددگ صاح بک لکزہہابدای:اٹیق
م رم ہک
ِ
۱
(۸۸۷۸۱۷۱۶۱0٢.
333
وخالف زیاد فیما کتب اليه عن معاویھ(ابرایداتبی+؟۲)
تریمہ: اود جو پچھوزیادنے اےححخرت مواویہ کے جوا نے ےکھت ا
اش تکی.۔(ج رج کشر تشم سے
ا او ریب بات ہہ ہج ےکہباو جودخالفت کے گورنعراقزیاد ن عم بی ھرد
۱ یکو از یی شک اوران کےخلا فکوئی اتی کاروائی نی کی ۔معلو ہوتا ہے
: اص لچم امیر الم ون رت ام رمواویے لد طرف ےکی تھا ور پ2
ا گورنرزیاؤگم ہن کو تی ۔کر تے اد بچھرسد ا امیرمعاد یز ہگورزعراق زیارکی
بین لی ورام خراسالن جن بتکم ہناگمردک گی باز پی کہ تے ۔ اور ہوا رک بات
پا کی تمد لی دتا حیراس امرےکھی ہوی ہےکہای نکیجر نے 'خالف محاو یی“ کے الفاظ
ا نی ں کیب خالف ز یا کے الفا طکھے ہیں ۔ مطلب یریم رن مر نے ذیادکی
ا الس تک ام رمحادی زپلہ ےک یع مکی الف ت نی سکی-
اب ایک اورزاو ہہ سےد یھ ےک جوم بیا نکی ایا ےا و ھا ےک
ا مال نیت یش سنا چا ندی می تالمال میںئ کیاجاۓگا۔(ںجمع کلە من
ذہ الغنیمةلبیت المال) ج بک یمودودیی صاحب الام بیلگارے ی ںکہ
حخرت موادیہ جاندنے مییگم دی تھالکہ انی سوناا نکیل انگ نال لیا جا ۔ ىہ
مودددی صاح بک یکس قد بڑئی خلط بیائی سے ۔تقیقتکو چھپانا مو دودی صاحب پ
مس ہے۔ جب ا نکا بیان أ ٹیا کے شی کرد وحوالہ سے مطا بق یٹس رکتا و خود ہی
ردودہوگیا۔ یس چھ کین ےکی ضردرت ہچ یکیاے؟
ایک اورخائ بات جم اپ رن٣ لکر گے ہیں یہ ےک جب نخرت امیر
محادبی پچجدت “فو ب گل مک سون چا ند ا نکی ان ککرلیاجاۓے“۔ پل میں
۱ ہوا مودودگی صاح بکا ےکن اکہانہوں تن ےکوی قافن :نارکھا تھا او کاب وسنت
کے اکا مکی ص رر خلاف درز ٹیک ر سے ت کیا انصا فکا خو نکر نے کے مترارف
۱
(۸٥۱۷۱٥٢۱.
334
یں ارگیاان پ بتا نگل ؟ ۱
مودووی صاحب نے ےقلح اورخیرمعترجارجنی روایت اور 7 ل شل وارو
ضرییف اما لکو پیا نکرا ہق ور ےممورد لک یکھثر اس نکائی اورایر
رضح حضرت معاوہ لن پاب وسنت کےا ظا رص رت خلاف ورزیکاگن9:
ارام پگ اور تک بات یھی ہےکہجوا متا اب مودودی صاحبکوسوجھاہے
کسی صھال یا حا لی مر ککواپے امیر مر وسن م نظ نی ںآ یااورضہجی انوں نے کول
یی ہک کی اورنجی حضرت امیر معاوہ یکو فا قر ارد ےکرعم اتک اگھادگیا۔
رس ےبھی معلوم ہوامودودی صا ح بکااخترائ او رش ن قیلع]ا بے جیادادرا رداے-
ار تھا لی بھنےکی ت نی عطافرماۓے۔
اتا اا(ضن مودودی)
مودودٹی صا ح بکا ایک اورنشن لا حظہوء ہیں:
”اسب سے بی مصیبت جوطوکیت کے دور میں مسلمانوں پ
قد یی راس دورم سٹو نکی بالا بی کا اصو لئے ڑدیاگیا'عالاگ٠ہ
رووا ای من یادئی اصولوں یل تھا 07
خطافت راشمدہ ان پررے دو رک۱ اسم عد ےکی تی کس لے
سا تھ یابند ری اع یک مضرت عتان نچ یداو رتحضرت می *چہ نے انائی
نک دو رت اشتوال ایز حالت ش بھی حدہ دشرم سے قدم اہرن
رک _ ان راصت رو اما ءٹی' کی حکوم تک اتا زی وصف بیتھ اک دہ ایک
حددہ من توم یھی ےک ملق الزر نومے_
جے خوکی تک دو رآ یا تو بادشاعول نے اپ مفادء انی اک
رش :او سوب قلومت کےق و ہقاء کے ما لہ ش رمع تکی
۴ و٤
335
عادک ہو یی پان یک ڑ ڈا لئے اورا کا خرجی ہو کسی عو ھا نر
جانے مشںحامَّل تگیا۔ ...ال بادشاہو کی سیاست دی نکی جا شی
ای کے تقاتھے دہج جائتزو نا تزطر لق سے ند ےکر تے تھے اوراس
محا ہچ علال وترا مک یفیٹرروان رک جے ت
ہے ایی حضرت معادیہ کے کہدی ےشردرہہی''_
( خلا نت رطرلیے۲د۱٠۔۴د۱)
جماپ
آپ طاحظک گے ہی کرحد یٹ اک سیداامیرسعادی کورسول ال ولا
صحاڑ ابق ہے۔( فارگ کاب المنا تب ج۱ص۵۳۱)اورق رآ نکمم پرمھالیکاکفرڈ 1ھ
ناف بای ے“طفظر وکخو ڑاورراست رو انا ہے تر جم /ول نا مودددئ یی تیم لترآن*
ہے یی کیا جاتا ہت اکہسندر ہے اورمودودیی صاح بک جہالت وشقاو بھی خاہر
ہو جائے او لا حظ یی ارشاویاری تھائی سا کرام سے قطاب ہد پاے-
لکول عِب کم مان ورک یی ترک رک2
کم الکفر رَلق وَليمْیِنْ + ايك مم الرَاِدرنَ
فطل ین الله وَیَمْمًَ وَالله عَِیْم کیم (ظراےے۸)
ترجہ :ماشہ ن ےت مکوایما نکی حبت دک اورا ںکڑہارے لیے ول ند
یناد یا اورکف اضق اور فممالی ےت مکومتظ رکردیا۔ ا لے بی لوگ ایل کے
نفل داحصان سےراست رو ہیں اورانڈشیم کیم ے_
(نیمالقرآن ازمد ح مو رود )
ابا رآ نکر میم آپ کے ساسح ہے۔الل تا لی قامممحا کرام شی ادن مکو
کفرضق اور فرمالی ےمتظر وکفو ظط اورراست رہکتا ہے اورعد بیث پاگسیدناایر
محاد یہ طڈچکوصحا ارد تی ےن گو ماق رآآن وحد یث کے مطابق سید ا امیر مجادے
(۸٥۱۷۱٥3٢.
336
یہ کف رت اورپ فرمالی ےمم وتفوظاورراست رو ہییں-
لیکن مولاح مودودیی حقرت ام رمحادیہ -چےکرنقی ونافرالی سے ملوث قرار
دتے ہیں دہ کچ ہیں:
”جب موی ت کا دو رآیا نو بادشاہوں نے اچ مفادہ اپ
ساسی ارب او رخوص] اچکی عومت کے قیام و بقاء کے موا مہم
شیع تکی عاکدکی ہوکی سی پابفد یکو ڈڑنے اودال کی با نشی ہول کی
ٹن مودودی صاح بکھرد سے می ںکیحضرت ام رمحادی کےعبد ٹیل بیسارگا
پراناں شرو عکرد یگ گی اوردہ ذالٰ اورسیاسی طور پ مقاد برستہء اپ ساکا
خر کیل ش مج تکی پا بت یو ںکونو ڑنے وا :شر یج کی عددوکو پھاند نے وا لے
انی یاست کیل ہ رجا ئزونا چا زط رقاخقیارکرنے وا نے اوراس جی عطا لی وقرا مکی
تی شکرنے وانے اوران سارگی برا کی ابق اکر نے وانے ہیں -( معاذالش)
اب کیرب تھا یکاخ رآ ن سا سے پا مولا نا مودووی یکا فرمان؟ ائدکا تق رآن
یقن سے جوسی:امیرمعادپہ نکد رق وف انی سےمتظراوریفوفاف مار ہے اور
مودوری صا ح ببھو لے او رمفت بی ہیں جوتحضرت ام رمعاد ہش ےکی بکھوپ دب
ہیں اودقر آا نکر مک یجن ی بک کے اچ تام اعما لیکو یرسیاہکرر ہے ہیں۔
دیکرمودوگی صاحب نے پٹ یاکھاے:
حطرتعثان یداو رتحضرت گی ند نے انی نازک اور
سخت اختوال گی حالات م بھی عدووشرع سے قدم باہرضدرکھا۔الن
۴ً و٤
337
راست روخلغا مکی حلوص تکا ایا رکی وصف م تھا کہ دہ ایک حدووآشنا
عو تھی ملق الا نکومرں_
یہاں جیب بات بد بین می لآئی ےک جب ناغاۓ راشد می نیکوانہوں نے
عدودش رر کا پاندقراردیا اود یں راست ر کہا و ا نکی علوم تکو حدو وآ شا گی
فرمایا ین جببق رآ نکر نے تا مھا کون میں ححضرت امیرمحادیہ ڈچاگی شال
ہی ںلوورووشر کا پابندقراردیااور ایل ایمان سےعحب تکرنے والا او رکف ہی اور
نافرمای سے معظر فو ظط اور راست ر کہ تو ق رآ نک ری مکی بروا کک اف رضضطرت اھر
محاوہہ لوک کھرالی مخ تگھتا نے ال مات اگاد بے . ا نکی علوص کو حدو رآ شا
تلیم کیا1 ٹرکیوں؟ قت ہے ج نکومودددی صاحب راست روگی دب ا نکولڑ
نی طور ہپمدٹراے پان اوران کی حلوم کو دو وآ شنا انان اور یقت
کے مطال بھی ہے نین جب صا یکو اللدتھالی اپ ق رآن مم راست رہ کچ نل
ا نکوجدودش رکا پا ند ما نیل اورت تی ا نکیعکومتکودرست چائیں ۔(استفظرائش)
کیا(ماز اش )ا شا یٰ کے رن ے ان کے ارشادکی حیفیت ز زاددٰے
اورق رآن سکیا ا نکی رسواۓ زمانہکاب''خلاقت وموکہت' کا دیج زیادہ ے-
کوک ہجھ با ےکر انہوں نے ال جسدر کیو ںکی اددو وکس اجھ کے فی ہیں؟
انہوں نے حضرت امیرمعاد ہہ لہپ الیےالامات ڈگاکرآ خرلای مک ای ے؟
معلو یں مودودی صاح بکوت راع وعد یٹ سے بر سے با ٦رت ایر
ما یہ ند ےق رآن وحد بی ٹک یبھی ڈ فکرمخالشتہکر تے ہیں اور تحخرت امیر
معاد ہہ لن کے شرف معابیت ادردائ اق ر لکوعیب لگانے ےنیس چو کت ۔اور
خداکی قذرت د یھت ایق کی تو نی لے ال اسلام سے انگ نطریات نےکر
خر تکوسد ہار مت ہیں _ یق ٹن و کاخمیاز یت ر ہے ہوں گے۔
اگ رکوئی سے ہیک ۔کیاامیرموادیہ خللمعصوم تے؟ ہم کے ہیں متصو فیس سے
(۸٥۱۷٥.
338
لک نگ ہوں سے معقر وو تو ضرور تھے اللہ تھاٹی نے صا کرام رشی این مکو
گاہوں ےچخذرستنیکفوظاف مایا ہے اوراگ رکوئی سے کے ہکیادوشریکتروریوں سے
پک تے؟ ا لںکابھی جواب ہو چا کہ بہرحالی تقو اضرور تھے ملین پچ ربھی مودودیی
صاحب کی ایت اور ہکا تکرنے وا وگ معن نہہواوران کےاخترا اشات
کودہرا ا٤و ہیں یتر رآ نکر مکی مرکودہبالا آحی تک یتم بیاتش کردا ور چلراپنی
منط کا جواب شی کرواورق رآ نکی صدراقت اب تکرو؟ ق رآا نک ریم نے فو ان کے
مجھویکردارکوساف وشفاف جج ہو ے یس راسصت دوفرمادیا ہے یں مان بے
سک یھو ڑا نا مودودیی" کا لن درستتیں۔
اعترائ٣ انل مودودل)
مودودیی صاج بکافر اورملما نکی وراھ ش کی جذیاد رع نکر تے ہو ۓ کت
ہیں:
”لام ڈہر یکا روا یت ےک رسول اش الا ادد پاردں
غلفا ے راشد بن کے عم سفت پک زکافرملمانکادارٹ ہا
سے نرمسلما نکافرکا۔ححضرت مواویہ تلیونے ابنے ز مان ککومت ٹل
ملا نکوککاف رکا وارث قرار دیا او رکاف رکومسلما نکاوارث ترار تددیا-
ححفر تعمر نبال زی یا نے آکراس برع تکوموقو فکیاگ ہشام
نعبدا لیک نے ان انا نکی ردای کوچ را لکردیا''-
(خلات وط کے ل۱۳)
جاب
موراتا مورودگی نے ص بسعمول ام رمعاویہ ند بر مل وراش ت میں سن تکو
جج دم لکرنے اور برح تکورا کر ن کا الزام لگایا ےکہ لے فت یڑ یک ثکاظر
2 و٤
9د
ملمانکاوارث ہو تا ہے نمسلما نکافرکااورحخرت امیرمحاویہ نے اپ زمان:
عکومت میں ملا نکوکاف کیا وارثہتراردیااورکاف یلما نکاوار ث ترارتددیا۔عا لک
کاقراورمسلما نکی دراشت کا مت یا کرام یی ان تہم مج تخطلف ٹیر با ےاورحضرت
ام رمعادیہ کی طر کا ادرسھا شی اس بات کے ان ہی ںکیمسلما نکاف رکا وارثٹ
یکنا ہے۔ای لے اس دقت مھا برگرام و مالین عظام یھی انڈنتمم نے اےقو لکھی
کرلیا۔ ج پور کے خرہب کےخلاف ہو ن ےکی ہناپم رجوح ضردد ہے اوران (ت پیادیا
و گیا ) دتی جمپورکاخ ہب ےک تکاف لا نکاوارٹ ہوسکتا سے اور نمسلما نکاف رکا
لی ن لف فیاورا جتچادی ہہونے کے باعت پچ دکا اتی رکیا ہدام روح اع ربھی مقبول
ھی ہوتا ہے مرددد ہیں ہوتا۔مرمےگزارشات سے پیل ہم اس کلف فیرہونے
پردلائل چ یکرت میں غخ احام القرآن سےمتقول ے:( تج )
”می را ٹک لع صورٹس ایی ہیں جن پرقا مکااتقاقی ہے
اور پچھردوسرکی لف فیہ ہیں۔ تآصوروں شی سے ایک مہ ہ ےک اگر
کوئی ملمان فوت ہو جا و کافر انی کا وار ٹ یں ہوگا۔ دوسرکی
صورت یہ ہ ےک رظام دار ٹیل ہوتااورتس رکا ےک ظا کا تقاکل وارٹ
نیس ہوتا۔ جم نے ان لوگو ںکی می رثکا ذکرسور ویر( کے بیان شس
گرویا ہے اود وہاں اجماگی اور اشتا یا تی کی وکرکروئی یں-ان
صورناں بش ےک جن مس اخلاف ہے۔ ایک ہی ےک کا فرع کیا
ا ںکی وراشت ملا نکو لی ےگ ؟اورم رت کی میراے ہلوگ ؟ بہرعا لکافر
کی میراث ملا نکیل اس صور تپ ناکرا مکاانفاقی ہے
کہ دونوںطرف ے وراش تی وی اود می عاممجا ین اور جردور کے
فتبا کل ے۔
شعبہ نے عرہ ین الی اگیم انہوں نے ال باباہانبوں نے گی
(۸٥۱۷٥۱.
340
ان مھ رانمہوں نے اسودووٹی سے روای تکی ےک محاذ این پیل میلنہ
ج یھن کے 6ی( گورنر) جھےقذان کے پا ایک فیصلطلب مل لایا
گیا۔ دی ایک دی م ریا سےاورائ کا صرف ایک بھائی ای ےاور
وومسلرائن ےت کیااس ببود کی میرائث اس بھائ یکول ےگی؟ حرت
معاذ نے فر ما یک یں نے رسول پل سے سنا ےک الام ذیادودجاے
اورکپئو سکرتا زی اسلا مکی وج سےاس کے بھائیکووراشت ل ےگ )
(رشن امیر موا یچ کا می ما عم ۳۰۹۲۹۹ والہ ١ہام القرآن ب٣ سا" باب من رم
ال شئع جو ب)
”می رمظری ےأف لکیا لیا ےکر حعقرت مھا جن جیل٠
سعید ین المسیب اورامامٹی سےمنقول سےکرمسلما نکاف رکا دارٹ ہوگا
لا نک فر ملا ن کا وار نس ہوگا۔ جیا کیک مسلمان ای ککتال
عورت سے ادگ یک رکا ےکا نکتالی صرومل مان عورت ےنا
می ںک رح“
(شنان یوار اع ی یع اش ۳٣۱ بکوالنخی می سوروۃ صتص۴٤) ے
بیط ر تی کی رےممقول ہے:(تجمہ)
و و نات جومتلہ اٹ مس یی کے ہی ںکرملما نک
کافرکاوار نیس ہوسکماا نکی ول می(عد یٹ ےک تضور پلچلانے
ف مایا ”دوانوں وا لے ایک دوسرے کے ور ٹ یں ہو ستے'' اراس
کےغلا ف کے والوں (یشنی پک ملا نکافرکاوارٹ ہوکتا ہے )گی
وین ىیلاروایت ) ےکفحضرت مجاؤ لہ جب ئن یل گور چان
کے سا سے ایک یبودی کے مرنے اور اپنے تچجیچہ ایک ملمان بھائی
چھوڑنے کا ذکر ہوا (اور پچ چا گیا کیا مصلمان چھائی ا کا وارٹ
(۸/۸٥۷۱۶).
341
ہا؟) آپ نے فرما یا :کہ نے رو اللہ ولچ ے سنا ے' الام
بڑھاتا ے' پ کی سکتا رک اکیدکرتے ہو ےکھاکہاشا لک
ااريْرْمِیْكُمْ لی ارْلیِعُمْ 7 ۔ظاہر تا ض اک رتا ےلہ
ملمان او رکافر پا ہم وارث ہول: یگ ہم نے ا عھو مک نیس مور
آلا ے ای قڈل (مرےی) ےکا سے تا ”دو ملوں وانے ایل
دوسرے کے وار ٹنمیس ہو گت کیو ہآ پکی یوعد بیٹ ا ںآ مت
سے فمائ ہے ہنا کی نققر یحم ض ری ہے۔ ای ط رح یہا ںتضور اکا
بیو لک اسلام بڑھاتا ےک نمی کرتا۔آپ کے مابققو ل کرو
ملوں وانے با ہم وار ٹنیس ہو تے“ ۔ سے فاص ہے اذا کی تم
ضروری ہے۔ پا مہ یدوس ینعی بی یکاخہت اد ےکیوکہ اس ۱
حدم ٹکا فا: کور ہک یت کےعھوم ےتاکی ا 40-00 .
ایس ے۔
اورتضور لگا کے قول'اسلام بڑھاجا ےگ نمی ںکرجا کے
متعلق جو جواب می سکہاگیااہے دہ بالخ مہ ےکآ پکاارشا رای اسلام
بڑھاتا ےک ہیں وق می رات کے متائل می بوڈ ھی وارویں ہوالپزا
اس کا قاماحوال چو لک ضروری ہوگ“'_
(شمنان مر معاء پچ کا عم مھا سے رق ان ۳۰۴۰۳٣۰٣ و الہ ہی ین لاس ۳۰۹ ریت
پکظبات )
امید ےک ہآ پکو مکور٭تھ ات سے اطھینان ہو چکا ہوگا کہ نضرت امیر
معاوب اس یل مقر سکئی دج رسھا کا بھی بجی نر ہب ہسے۔ لمذ ای مستلہوراش ت گاب
کرام یشی اں ٹھج شخخلف فیہر پاادردونوں طر فقو کی دا ل بھی مو جود ہیں اور ہے
بات ت1ا لعم بر شید ہی سکراجتادٹی مائل میں بمچھ پا تادلرن او را اجتجا رپ
۷ "٤
342
لکرنالازم ہوتا ےاورفی یچ پچ کےاہارش ا سکقیدلازمہوقی جیا
کاطسفت کے اروں ا ہبیچھ من جرت لام نم ابو یز حضرت امام شانیء
محفرت امام ما لک او رتحقرت امام ات ین نل نشی ان نتم نے ایے سال مس اتاد
فر ایاج ان کےا ٹک انگ خرجب کےطور پرمحروف ہوا رایک اسلا مکی مراھبرااور
مان اسلام کے دائر٤ ےکو بھی پاہرض ہوا اوران خرا جب ار عہ کے مقلد ین تی
شافتی, می اورضھلی وغیبرہناوں سے بیچیانے جات ہیں ۔سب ای دائر الام کے
اندراورسب بی اپخّت ہی ںکوئی بھی جا نون اسلامکومچموڑ نے ىا نے والایں ۔ ای
طرح حخرت ام رمعادیہ پای اپنے اتاد کے بیاعت جمہو لہ ین مھا ہہ ے اگ
رائۓ رکٹ کے باوجودقاخون اسلام ھی کے رر ہے۔اودی بات ردنمس جس میں
28 یت ملا ےت چدے ب کت ہے اورضدکی ے' می ںکیاواسطہ-
اور ہ ات بھی ای نم جحفرات پر شید نیس ےک ہام پھچ بین ش اخطلاف
بھی دا تع ہوشی تو1 گنگ نا ہب راد ہاۓ لن اشتلا فک ابی عصودقوں کے
بااجدکی بچھ کےاچچاواورموٗن کک وخلاف مت ابع تک لگ اگیا۔ اود ارول
مد بین کے براہ بکوزصرف لطورتق قو لکیاگیا امت نے ایس امام )گی
لی مکیااو رج سماری با خت می کی شع ہے او رتفیشانی ای او ری ححقرات
اۓ اۓ ثاں کے ایک دسرے سے ملف اجہتا دک یتلید کے اوہ وی یی
ہیں لڑنی اغتلدقی اہتچادی سال میس ھچ ین کا اجتچاوختلف ہونے سے سن ت کیل
بی اورزی اے برح کہا جاسکتا سے ہا ںکسی خاصص ام رج ای ککووسرے پت یی
حعائصل ہو جا نا ا نک بات سے _گویا عحقرت امیرمواو یہ یلا کے الال ے زا سنت
تب ٹل ہوکی اور تی اسے برع تکہا جا سک ے۔
اور ہہ جومولا تا صودووگی ''البرا یو اتا ے؛ضص٣۶۳۲+“ کے جو نے سےککھا ے ےلہ:
”ام ز ہر یکی ردایت ےک.... جرب تمرم نمبدالھ زی نے
(۸۸۷۸۱۴٥5٢.
343
کرس بح تکو تو کیا“ ال بداییدالتہا یک عبارت مل“'برشت
کو تو فکیا کا جمانجیس ہے لاحظ ہوا کی اص عبارت اس می کر
ے .
فلما قام عمر بن عبدالعزیز راجع السنة الاولی۔
تر جم :بر ج پگ رج ن عبدالزی: خلیفہہ گے نہوں نے گی سن تکولوٹا
قے
آپ نے دیکھاکہاص٥ل عبارت ٹس بدرحت موقو فکر نے کےیں کی
سنت لوٹا نے کے الفاظط ہیں۔ بدرعت موو فک نے سے مراد ہ ےک امام زہرگی نے
حعقرت ام رموادہہ نڈاندک چارگا ئ ہو یت لکوبرعت قراردیا۔ اوراص٥ل عبارت
سے معلوم ہواکمودودگی صاحب نے نحضرت امیرمعاد یہ خپلہ پر بہتان باند ین کے
اتد سا تام ز ہربی کے سربھی الرام جییتھو پا ہے ور نہانہوں نے الیہانیی سکہا۔ لہ
اک رین عبدالز یز جب خلیفہ ہے ذانہول نے راجع السنة الاو لی ینیب لی
سفنتکولوٹادیا۔ جوا با کی دیل ےک جوسنت امیرسحاد یہ لن نے جار قکیای دہ
بھی درقیقت سنت ہیی بدعت ہرگز بی ۔ اب صولانا مودووگی صاح کی انل
شعبدہبازی اورعبارت کے موم شی تی فکود یا تکا نام دبا جا یا بددیا یکا ہے
فی لہقا ری کرام پدہا۔
پچ رامام نز ہی نے ىے فرت امیر محاویہ رٛھی الد عنہ کے شرف حابیت اور
شمان اہن دگوو ظط رکھا اوران کےعط رگ٥ لکو برعت ےلت رنج کیا کہ اسے ا کی
اتچادی اہلیت اورنٹی بھیرت کےطود بی کیا ہے ۔ اب ان کے اہے اہتھادی
رز لکوتانو نکی بالات گی کے خلا کنا اوراے برعت قرارد یت اگویا مودورگی
صاحب کے اہ ضس وس کا کال ہے۔ عالائ ہر تقیقت ._ ےک محضرت امر
محادے لچ خ۰جررلقے ھھے (ہنار یح ص٣٥۵۵۳)
(۸٥۱۷۱٥٢.
344
اور پچ اگ اتاد جس خطا بھ یکر جا تو ٹذاب ب یکاسشلن ہوتا ہے۔لپذا
حضرت ام رمواونہ خلبرصورت ناب ایا کے فی ہیں ۔ائم دش مو دودی صاحب
کا یٹم بھی پطل عابت ہھگیا-
محت ا ش٣ ا( نمررودئ)
مرلاتا مودودیی نے ححضرت ام رمتاد یہ لہپ ای کن نکویوں مٰ لکیا سے
”'حافظ ای نک کے ہیں کردیت کے موا لہ می ںبھی رت
ماد ہہ نے سقتکو بل دیا۔حخت ریگ یکر متا ری د یت مان ے
ابر ہوگی مگ رحضرت معاو ریہ نے ا سکوض فکردیااور ال ضف
خود لی شرو جکردگی۔ الب راید انح ل۱۳۹
(غانت طو لیت ل۱۶۳٥٤٥)
فا ےآپ کے پا ان ںکاکیاجذاب ے؟
چواب
ا عبارت سے میفالطتاثردیاگیا ےک حاخظدای نکی رنے تفر ت ام رمعاوبے
ہر سطت بد لے کالزام عاکدکیا ےکہ پیل نت پگ کرماہ کی دیتمسلمان کے
راب ہو یگرحضرت موادہ چان ا سکونص فکرویااد اتی لصف خود ملف شور
کروی جا لک ای نںکشمرنے دا سنت بد لن ےکا الفرام ایا اور دی ا نکاد یت کونف ۱
رح اجلو رط یلأخ لکیا پک ہا نکی اجتجادی ای تکو نما رکیا انا مود وو صاحب
نے جو جن د امج نہیں پگ یگ ایک مفالطد ہے۔ اور کی دی ہے ہ ےک ال یداہ
والتا کی بس عبارتککامود ودکی صاحب نے جوالمدد یا دہ سے ہے:
قال الزمری ومضت السنة ان دیة المعاھد کدیة المسلم
وکان معاویة اول من قصرها الٰی النصف واخذ النصف لنقس+
۴ً و٤
345
(الدا رد اتیل ۳۹)
تم زہرئی نے جیا نکیا اور وو سفنت بھی چلی گئی کہ معاہ رکی
دیت ملا نکی دی تکی طر ہوگی اورتخرت موادیے پیلنٹنش یں
جنپوں نے ا سے تص فک کک مکیااورص فخود نے لی-
: (جا رج ای نکی ار ور جع تك]ص۹۹۰)
اور خ کشیدہ القا طکومودودگی صاحب نے ”'اقت رمولیےگ٥ء'' ے
اش شر ہکا ہک یداش پا ایا کرت رسای
لہ نے دی تکونص فکردیا ان بیکجی کہا گیا کرست تکو بل دیا او نا گیا_ لپڑا
مودددی صاحب نے قوددی ڈ نکی مار ہے اورففض وتحصب کے مین دارابتقول
کوا نکی رکے س روپ دیاہے جم لکی ہت دا 2 ہےالہ تہ بطو رط نا 2/2
روایت یل دوہا یس خماعلطور پر جا تہ ین دای ہیں-۔
1رت ام رموادیہ اید پیل سطت یگ گکرمعاہ کید یتم لمان کے
یراب ہوگی۔
٣ رت ام رمعاد یہ نے ا لکونص فکردیااور بائی نصف خودلٹی روغ
کرد اورا سکیل ”وش لس“ کےالفاظہ لائے گئ۔
اب ہی بات لڑقی' نت ریگ یک ماہدکی د یت ملمان کے برابر ہوگی و ہے
ز ہرگی نے درست کش کہا بل خلا ف تحیقت با تکہ رد اود لپ اع یی ےک ان
اس قو لک تا خی می اس ن ےکوی بھی ہی می کی ۔ بکہاس ےبھی :لہپ بات
ىہ سےکہحقرت ام رمعاد یہ خفنہ کے عہرخطافت بت پچ یت نے مفاطہ می ںلولی
مین سنتہ عی نڑھی اور ہہ بات عد یٹ |ےکی طالبعم پنل یی سکدیت ک
پارو یں خلف اعاد یٹ دار وہوئی ہیں جم ان ٹس سے چند ای و یکر نکی
سعادت عاص٥ لک تے ہیں جناب نی ارم پٹ سرت
(۸٥۱۴۱٥٢.
36
كت دی دی سم( عق اض کبری ص٠٠
تر جمہ :کیک دیت ملما نکیاد یت کے برایمرے-_
٣دت المعَامدِ نصف دِیَة الٰحُر۔
(اودا وج ای۸۲ باب ف تلذ مک3 اب الرع ت)
7م :محاہرکیاد یتآ زارکی دمت ےآصف ے-
سس الكمّة يِف عَقلِ الْمْسْلِميْنَ رَهُم هد
و وَالتْصَار اھی۔ (ششن تساکیج سے" بعفل ال رآ این ماجہ باب دیےاکافر)
تز جم :کا خر گی ( بددی یا عیمائی )کید یت ملا نکی دیت کے لصف
کے برامرہے۔
اورامام شانتی لد ناف لکیاے۔
۳۴)قضیٰ عمر بن الخطاب و عثمان بن عفان رضی الله
عنھما فی دیة الیھودی والنصرانی بئلث دیة المسلم
ترجہ :حعضر تک بن خطاب اورتخخرت ان ین عفان شی الیڈکنهمانے
یبودی اورنھصرانی کی دیت کے بارے می ملما نکی د یت ے تھا یکا
فملگیا۔( کابالامع٦ض۱۰۵)
معلوم ہوا تضورسرور الم نی اکرم پل ادر خلا ۓ راشد بن شی الش تھے
مخلف رواعتیں ذذکور ہیں اور ان می دی تک یکوئی مقار نیس بل ملف ہی
ہے ۔کہیں برجہ ہت ہکہیں نصف اورکیں تھی و فرم ہے چپ رسول الد اور
خنا ۓ راشید ین ری الڈنشہم کےط نل سے ی تک کوئی خائ مقدا ینیل
ہوتی رت سکی مقدارکا تین نا لم صمعھی اوراجتچادی متلہ ہوا تی کہائ ہار بعد
(حفرت امام پئعم ابویغہ بجر ت امام ما لک بضرت امام ش انی اورتضرت اما ماد
ینیل ری اوڈنتھم )او راکش دنک بجی نکاد یت کے بارے مم اتاد اور رہب
(۸۸۷۸۷۱۷٥۱.
347
آییکگئیں۔ا ہام القرآن سےحقول ہے ۔(تھ)
امام ابوحفیذہ ابو اوسف ئحہ زفروعان سقیان ٹ ری اورسن
تاصائغ نے کافرک دی ت یلم نکادیت کے ببرقراریادرلام
لک بن الس نے ال لکتا بکد ی تکوسسلما نکد یت کان فتراردیا
اور یکی دی ت آھ سو دہ مکی اودا نکی عورقو نکی دیت ا کے
نصف کے باب رتراردی اور امام شافی تن ےکہاکہ یہودی اورنھرا ی کی
معابالے۔سی ای ری حر
جن نطاب مخ نے فر مایا بیبددئی اون رای کی دیت جار ارد ر؟ ے
اور ہو یکی دی تآ شس درہم ہے۔ سید بین تیب نے ہیک یکا *
حرتعان نے ذئ کا دیت پچار ہزارددم مقردکی ۔ ابوبک کے 21
حطر عمرادرعلٹان شی الڈہشنہما دوفوں سے اس کے خلا ف بھی مروی
ہے۔ ہم اسے ذکرکہ پچ ہیں ۔اورخالف نے اپنی ول میں دو روایہت
شی کی جومرد ین شعیب نے اپنے اپ دادا سے ددای تک ےک جب
سرد دک ات دٰلقائک یتلم داخل ہو ےآ پ نے من سک کے سا لک
معظ مہم خلیہ دی ہو فر مایا تھا کا فرکی دیت ملا نک دیت
کے نصف کے باب ہے '۔ انس کے علادہا نکی دیل عراش بن صا
کی روای بھی ہے دہ کے می ںای یز ید بن عببیب نے الد اشی اور
انمبوں نے عتقبہ جن عاعرے بیا نکیا رسول الد ہلان فر مایا: وی
گید یتآ ھسوددہم ہے
(رشمان امیرمواوی ھکاعی ھا۔ہ خاش ۳۰۸۹ء ۳۰۹ چوال اکا القرآن باب دیپ ال اک
۷۴۴ض۳۷۶۳٣)
احاد یٹ مبارکہ کے اتطلاف پ امام مکی نے ہوتجرہف مایا یی خدمت سے
۱ و٤
48
(7ھ)
”اس جاب میں صعفرتعبداللہ ی نگم چا روایت'' ”٣ن“
سے یہودگی اورنھص رای سد یت می علا کا اختلاف سے ض۱ لغب
رف ۓے ہس جو رسول اللہ پل سے مروکی ہے۔ حضرت عھمرمن
عبدال۱ز ہف مات ہیں جودی اورفھرالی کید یت مسلما نک د یت
کا نف ہے ام اھ ی نل بھی یی فرماتے ہیں ۔تعفرب تع رن
خقطاب یجن سے مر وکی کہ یپودی اورتھرا کی دحت چار ہزارددام
اور یکی دی تآ شحھسودرہم ہے۔امام ما تک شافئی اوراسحاق کہ ارد
کابھی یی ول سے بن ال لمکفرماتے ہیں یبودی ادرحیسا یکا دمت
صلان کید یت کے برابر ہے۔ فان اٹ کی اودا ي وف الا اںچے
جا یں'۔
( جائح تر نی م رق راول شھے۔ ہے ا
اب اس جات تذ شک نہد پاکہ بی ماف فیاددابنتمادکی ہے اوراییے
مال می مجنچ ین اتا دفر ما تے ہیں اوراس میں اجتھادفرایاگیا چومتدرجہ پااسطور
مایا بھی ہور ا ہے۔ اب اہتمادی منلہرٹس پچ ین کے اجتاد یش ےس یکو
ران اور یکوم رجوح کیا جا تا ےخلاف ستت نوک یکوئی سکیا جا سکتا .یی وعبدے
/ ک ہج تک معام کی صف دیت یا تھالی دعت کے نیہ کے پاوجودنقرت امیر
محاو بت ماگ > رن عبدالھز یز تحفرت !وا مالک او رضرت امام انی یھی اںڈ جم
یں رپ اتی رح کٹ ا دی الَكردِق والّضْرَايِيذا
قیل 7ٌ9:۵0۸) ضف وَیَة المسْلم: ےم
جم جب ودک ىی یا نھر نی ول مردیا جا ے تو ا نکی و یتآ زاوسا نکی دیت ے لصف
۱ و٤
2249
جم سک کو یک محدث ا مودررغ نے مض تکو بد لے ولڈئی کہا یں مت
ا دیت جوتفلی علیکش بگ لف فیہ ہے مش اگ رکو ینس صرف حضرت ام رمواوے
٦ لے پراکترائ کرے اورصرف ای لکوس تک بد لے والا کت میں رم ےک اس
: نیف دعنادکی وجہ سے ایا با ےکیجکہ ال کے پا ایا کیٹ یکوئی رٹل
١ یں ۔اوراگر ا ے حخرت ای رمعاد یہ ند ولف دعنا کس و پھر ایا جا ے
١ کا ریے بی شصف دیت کے فیصلہ کے بوجو دجخر تم ری مبدالھ یز او رتقرت امام
الک حفرت امام اھ ینیل ری دیہش مکوسنت بد ل ےکا الا مکیو ننس دج یا
ححخرت امام شانقی لکوت بد لے وال کیو ںی سکپا جش نک نم ہب تال یت ے؟
ارے جناب حعخرت ام رمعاد یہ ظز معاہ رکی دیت تصف ہوۓ کے یل میس
ایل یس ہو ںکی معاہ وشن بھی ددی موتف رت ہیں ئ0
۰ جخرتمرفاروق او رتضرتعثا نگ تی اکا ےبھی ردای ت کا گیا ہے_
الد مادرے فور یان سے ہے جام تآ اب جھروز بھی زیادہ رشن ہوکئی
کہ مسلمدیت ای ک ملف فیہ مہ ہے اذا محاہدکی دی تکی ینیشن مق ارکوٹحین
کک ےی ہناد یت سمل ہو ےکوتضور می اکرم بلقاودرخلغا ۓ را ش بن رش
اط وم تراردےکرا نک می حدت ردنا درس تو کوک یش
لف روایں وارد ہوئی ہیں ۔نخرت علامہقائتی نما ءال مظہرئی رحمۃ ایل عل ی7یت
ود مسلع ای ا( اضساء) کے تحت فرماتۓ ہیں:
”یت می کوئی ای دی لی ہز کی دیت ملما نکی
دی تک طرب ہے۔ دیت 2 (قرآن میں) گل سے اس کل 7ج
اعاد یٹ مج لف طور پرمتقول ہے۔م ددورت اورآزادوخظا مکی ریت
بی ا ختلاف ہے ہیں ہوسکتا ےک سکم اورک فرکی دیت می بھی اختاف
بے (تفی می ار ددم سوسمض۶۲۳)
(۸٥۱۷٥٢۱.۰0
350
1
۱
دگرروایات ٹیل دی تک مقدار ےیخنلف ہو نے کے اعت مت خمالششل“ مر |
اوراجچارگی ہےاوراجتچاویی مال میں ایک جج وی دوسرے چمچ کےاہتھا 7
پیر دی جا نیس ہو یراس پر خوداجتا وکرنا ضروری ہوتا سے اور جب وواجتادکرتا
ےو اپ علم وأہم اور قیاس کے مطالق ایل تز بی پبلوکدا یا رکرتا ہے۔ جیا کہ
ین اترار بعر ات ابسقت نے اہہتا:فر مایا ج کر حضرت امام عم اووضیزنے
محابدکی دی تکومسلمافو ںکی دیت کے برابرقراردیا۔نخرت امام ماک اورنظرت
ماما پیل نے نص فکہا اورامام شالقی کے نہب کے مطابتن مصرف تبائی
.ریش م)
حفرت امیرمعاومہ غتصر کیبل القدرسحالپی بیننیس تہ جب دبھی میں
پکیامرامومنین دورخلی“ۃ ُسلین یی ماک وق بھی ہیں .ین کے سا سے ایک
طرف ول کے ورا ہیں یں یتیا یتیااں 372 ےنمتصان ہوا نو دوسری طرف
سرکاری غزانہجچمی بت الما لگ ہے مس سکوججز مہ بن ہو جانے ےقصان 9ا۔اب
نیس فی ہک رب تھا بجی حد یٹ پاک می ںتضود خی 1کرم پلقاکار شاوگرائی ہے:
إِا حَكم الْحَا کم فَاجْتَكَة_
(ہذار یساب الا عتسام ۔ سک 7 کاب الا مارت )
ترجہ :جب حاکم فیاکر ےل اہتاررے۔
لہزاانہوں نے بشیت فقہہ وجت بھی اور عد یٹ پک کےعم کے مطا لن
بطور اکم وق بھی اس منل ہیں اجا دفر مایا اور پور اورصف دیت وا ی لف
روایات می ںیقی دس ےکوقاتل تر بی مھا اور بل تھا ٹی انل یں شا ندارتیق دی
آپد یت وصول ق پودی فرمات ےلکن اس یس ےنصف وارثو ںکواداکردیے اور
بای فصف اپ ہاں یت المال مت کرتے .اس لع رہش کے نز یک دیگر
فتی اھ یا نا نشی فرماتے ہیں:جچ یکر عرام ہے (جا اق اذلص٣)
۱ و٤
351
دی ن کا اناد جات ہے ا ںکونضرت امیر متاوہہ لہ کے اہج د پ چھ یکوئی
اخترائ کی بونا چا ے اور جب دوسرےجھچ بین کےاجتجاد نے سن تکوی د لات
رت ام رمحاوہہ خ کوسنت بدلل دہیے کا الام د بنا بھی رجات ے تابلد اور
جا لی ہون ےگ ول ے۔
اورمول نا مودودئی صاح بکا الا مبھی جج نی سکحفرت ام رمحادے ج
نے ممحاہدکی دیت سے نحف ود بیئی رو عکردی۔ پگ یی اک ای م ٹف یا
ےم بی س ےکر حقرت ام رمحادیہ لچہ پورگ دمت ضو لل رك دیٹ
وار لک داکر تۓ اور ياقی نصف ویت اکمال یں کر تے ۔کیونک مود ودگی صا حب
نے حافظای نکش رک کاب المیدایروالتہایکٹش سےامامز جرلکی ج ۔دایتاأئ لک
ہے ول اوریہم ہے۔ دامع او صلی ےک تصف دیت جواپنے پا رت
ا سکواستعالل می سکسے لا تے او رکال خری کر تے ۔اس بادرے مل امام ز ہرک یکی
ایک روا ت اام تی سے جیا نکاگئی سے جو مکی گل روای تک تفھی ںکرنی ہے۔
آئےوود ھت ہیں ۔طا جظ ہو۔
تن الزّهریٰ قال کات ِيَّة اَهوَهِي وَالصْرَانِيِفِی زتَن
وَعُمر وَعُنمَانَ رَصی الله عََهُم ما گان معَارِيَة می ال
لْمَفْْولِ لصف وَالقی اليْصْفٌ فِیْ بی الْمَاىِ۔
مز ہرگ سے ددایت ےکہ یہودگی اورتھرانی کی ریت تضور لا
کےدوری ملا نکی دیت کے برا تھی“ بیط یقہابوکربھراورخٹان
نی ان شیہم کے دورش رارگ ر گر جب امیرمعاو یخلیفہ بت آپ
نے اس پودگی دی تکا عو 0 ے وارٹو ںکوویا اور ڑ٥ شف
نے ذ ہرٹ کا اس خطاب رم پیل حی رشن ڈال چے ہیں۔
(۸٥۱۷۱٥٢۱.
392
بیتالمال ش لنھا۔
(رشنان می مواوی ای یا۔. جاص۴۴.٠.۳۰۷۰ ہوا تی ”اف نپکھبرتی ل٣٠ اب
وی اگلالذمہ)
دک سج مز ہرک تک ردایت ہے جوگویا می مل روای تک فی لک
ری ہے۔لڑنی منرت امیر متادیہ لیو یت دصول پور فریاتے لیکن اس یں سے
تصف ارڈ ںکود ۓے اور !ضف بیتا لال میں رکھت_ :موم مودوی صا جب
اما مت کیا لکرروںس روایت ے اواتف ہوں اوراہوں نے' اس نکبریی نہ
بکھی ہو یا اف ظگرورہواور بادنددتی ٭*- ببرعال ہم نے بی کرد سے وکس اور
اطمینان حاصصل کی اور اگرانہوں نے نی شی کا مطالع کیا ہے اود چان و چ ےکر
اسے پچھپا ما ہے اک ا ن کا لن مضبوطے ہو کتمال نی اور بہتاان بد کا گنا ان
کہرے۔
اورز ہریا 20 رت اخ النصف تفہ شس کے زور پرمودودگی صاحب نے
امی رمحاویہ لہ پر نصف دیت اپنے پا رک ےکا انرام لگایا' کا تزمولانا دع
صاحب جامحہد< لی شی راز یہلا ہورےسیئے ء دو لچ ہیں:
اس الرا مکا آخریی حح کہ امیرمعادیرنے باقی نف اپ
لئ رکھ لی و اس مفبوم وم با یئ ع ری لف نف“ کور ہے۔ مرلفظ
بے مفموم کے فحاظط سے مہراا لبھی رکھتا ےک انس سے ھراو انی
زا تکیلے' ہو یی اپ مصرف می لاا جا ےی ددصر ےکا ال شل
تصرف وی نہر ہے۔اوردوسرامی ىہ ےک ینعی نے اسے اپ پا
رکھا ہین ا کشر دوسردل پرکیا ا اورآپ ا لکیاگرا یککرے۔شل
رم بیتالما لکینگرانٰ اورفاعتخلیف وق تکی(ذمداری )اہول ہے لو
اس ط رع می ہے ہواک رت ام رمحاد رتصف دیت بیت الال ٹل اپڈا
۴ً و٤
233
گگررنی یز خکرادیاکر تے تے او ریگ را سے ات صوابدید کے طال ق خر نکیا
مر تج ٌ
(دشمناب امی رمواویہ لا ی اب ما ۵ ۳)
گویا سودددیی صاحب کے دامن می سوا ےنوس وعزاد کے او رھ یی _
اخ لہ ا( مل مرروزل)
مودوئی صاح بکا ایک اورشمن اورگر وہ1 ندازمیلا حظ کیہ کت یں
”ایک اورتھا یت روہ برع تحعحخرت محادی “لچ کے ع رٹل
بیشروغ ہولی ارد خودءاورائن کے“ لم سےالئع کےتھا مگورخرخطبوں ان
بر رم رتعف تی سەپرسب بش مکی بو چھا کر تے تے۔ جاک حر
وی یس تیر رسول بلق پرٛیلن روغ نبوکی کے سا تن تضور بلق کےکہوب
تر ینک زی کوگالیاں دی اتی "یں اورخرت کی مدکی اولا داوران ے
ریب تر ین رشتداراپ نے کانوں ے بیگالیاں ضنے تھے کسی کے مرنے
کے بعد اہ سکوگالیاں د ینا ش لیت 2د رکنارہانسا نی اخلاقی کےگھی غلاف
تاور اح طور پ مہ کے شطےکوا سگندکی ےآ لود وک ناو بن واغلا ں
کے فیا ےس تھا ا نول تھا ۔ حر تدع ین عبدال زین ےآکراپے
انا نکی دسری فلط روایا تکی رح اس ردای تکوگگی برلا اورپ
جع تک جات پا شرد کاڈ لیئر
بالکٹل زالختاد وکا دی رش زوں عر متا
وَالْمگر وَالِعيَ يمشکم لَعلکُم تَدگرزن(کل 0۹۰
(خلافت دو یتگ٥۰ا)
امش نک جواب د تیچ _
۶ ٤
34
اتب
مول با مودود یکا عطرت امیرمعاوىہ ہپ ریش نکردوخوداودان ےگ ے
ان ےتا مرن بس رمنبرا ہے خطیوں میں سیدیای لن کم الشد جہہ پطاعیسب
پش مکر تے۔ یہا ںب کک سحینبوکی م یل روضہ پاُک کےسا کن کچھ یآپ برسبد
شی و اڑ ہول تو یےمووووی صاح بکا ارام ہے۔آ سے د یت ہیں قرآن و
حد یث ان کے بارے می سکیاف مات ہیں او رتفیق تکیا ے؟
تضورٹی اکر ظا کیا مھا کرام تی انم عدول او تی ہیں او رنضرت
امیرمتاوہ ای یں جس ے ا٥یم ا رت سنا ی ہیں مامت می تین
بھی ہیں دیکھے ق رآ نکرمم صحا کرام تی انغ تم کے اوصاف جیا نکر تے ہو ے
ہی ںکف رف اورج فرالی ےتنق روط او راست رومشنی سیرگی راہ یچ دالا فا پا
ہے اور نعخرت امیر محاویہ جٹادگو“حالی ہونے کے نام ےکو یا ان تمام صفات سے
متصف ترارد ےرہ ہے۔ا ار ے می ارشاد ادگ ائی پیل کی مرن لکیا
جاچکا ے۔ ایک مر بفرد جرایاجاتا ہے فرمایا:
لک الله عَب يك اْمَان وَژبة فی فلکم رَگرَة
کم کر رَشرت وَلِْسْین ايك مُم لرَجنزْنَ ٭
فَصْلَایِنَ الله مل َاللَهُ لِم کیم( رات ے۸)
تر جرمودودئی صاحب :ال نت مکوایما نکی عبت دکی اور ال لکوہارے
لئ دل پند ہاو ہا اورکف رف او ناف مالی ےت مکومتظ رکردیا۔ اییے ایا
نوک الہ سکنل واحسان سےراست دو ہیں اورانڈییم وگیعم ہے۔
( نیم الق رآ نازموڑا ب مودووگی)
اورصر ٍث پک میں حفرت امیرمعاویہ یگزامت شں سب سے یدام
(۸۷۸۱۶٥٢.
355
فا اگیاء ری
”مث مگ اسامہ تے روای تکیا ےک ہآفحضرت بلاا نے
فر مایا ادگ ھی ری امت مشش سب سے زیادووئم دل اور ر تی القلب
یں اس کے بحدآپ نے بیقیہقلفا اد ہبہ کے متا قب بیان گے اوران
میں حقرت محاویہ یکا بھی ذک کیا اورغ مایا کہ محادیہ جن ا سفیان
می ری امت ش سب سےذیادو م اورگی یں -وَمُعَارِيَهْنْ ابی
سَفْياَ تَخْلَم أِیٰ وََجَوْذُهَا۔رظیربجوریء)ء
(سیدناامرساد ي جفارووۃ یر ا جا ںش ۲۹)
آپ نے دیکھاکرعد یث پاک می ںححخرت ام رمحاویہ طٹلناامت ٹل سب
سےذیاد٣+لم رفرما گیا ہے کنب شتم خقص او رض بکوظا ہنا ے اور برد ہار
کی نی سب بش مکرنے وان ےکا می سکہا اکنا ریم ءبردباراو تم مزا کو
کچے ہیں جوخص کہ برداش تکرتا ہے ۔ ا ےےملیمکیس کت جوخوا ہن وی پ رص تا
ر ہے اود تک یآنگ میں چ لکرسب دش مکرتا بچھرے .اور جب نحضرت ام رمفادیے
خللہ عد ٤ث پاک کے مطابقی سب سے زیاد 0یہ ہیں نے پچ رسب ےزیادہبردپارہ ب
سے ذیادتقمل عزاج اورسب سے ذیادہبرداشت والے ہو ہے اہر سب رشحم کے
الرام سے قلطبری ہو ۓ-
دوسرے مقام بعد یث پا کآ پکوعا ق ہکن قرادد تی سے حتضور نی اکرم
ڑا نکی وی طور پردعافرماتے ہیں ملا حظہپو:
الله لم مُعَا و يَة الْكلبَ وَالْحسَابَ وَقه الْعَذّاتَ_
(مندا جق۴۳ص۱۷۶)
تزجمہ:اےالقد! ماد وناب وا بکاعلم عطاظر ما اوراے عذ اب سے
کیا۔
(۸٥۱۴۱٥۲.
356
او رتضورسرورانیاء جیپ خداب کی ہردعا تباب اورمتبول ہوثی سے جب
اشارء ابر و یتید بل ف مایا جانا ےل رہ کیوں معتبول ہوگی۔ارےتضور ہی دعا
کید وشمان ےک الد تھائی خودف راتا ےکراے رب اپنے فلاصوں کےےی دعا
فرما ےکروککیتہاری دعاان کےسکون او رچشی نکا با حث ہے ۔ ارشاد باری تال ےٗ
لا جظ ہو :
رح عتخ +یز مارتت نکر اہ
تر جہ: اوران کے تن شی دعاۓے خی رکرو بے پک تہارک دعا ان کے
دلو کا چیشن ہے( کنزال مان )
تھا یکا تضوراقرس ےقکودعا کر ن کان د ینا ا سے باعحث سو فرمانا اور
صیاکرا مکواس سے سکون حاصل ہوچا نا نل کے مقبول ومسباب ہوتن ےکی ول
ےت اہر ہو اکر حضرت امیر محادمہ لہ کت می بھی آ پکی دعامیں متبول
ہونیں اپ حفرت ای رمعاد یلعا تاب وصاب ب اودعالم دہ ہوا ےج
ےتلم پگ لپ کر ہے۔صدیث یاک طاحظہو:
ا عُمَرَبْنَ ُمرَبْنْعَطب رَجیٔ الله َه التپ مَْاَرَابُ
الم گان الَذِيْنَ َعْمَلُوْنَ تَا بلق کرووبم)
تج :ضر تعمراکن خطاب اہ نے جرب تکكحب سے فر مایاکرائ مم
کون لوک ہیں انہوں نے فربایاجھاچےمعلم پہ لکرتے ہیں۔
یں جب ححضرت امیرمعاویہ زلدعا لق رآن ہو ےت آ پت رن اورتلیمات
7 قرون پگ لکرنے رنے ہے۔ پر قرآ نکر ایھ نوم و ریہ
فُوْلُوا لس غست (لرآن)اوررےالقاپ ہے ےنام رکنےاورسب ڑم
کھرنے سے وکا سے مایا :اق برا باالقاب۔ (القرآن )مجن اک
ہے ےت ےکا فو وک ق رآ نکر مک نیل دنر کر
۲ وہ٤
37
ہے -حد ث پا رمیا
ا ا
( یق کتاب الدب ئن ت فک باب اجاہ را این یت مہب سم ١
ترجہ :مسلما نکوگالی د نانمتی ہے۔
یں بحیشیت عاگ مق ران حفرت ام رمعاویہ اھ یکنخشگوکرنۓے واے اور
سب یتم سے پ ہی زکرنے والے ہو ے ۔ اب فرما ہے جوعاول وی صحالی ہو ق رآن
کریم ا ےفریضق عق روکفوباورراست رو(هع الرافدوْن )فراۓے۔
حد یث پاک الکو عا لق رن او تھ یما توق رآن پش لکرنے والا فرمائۓے جک
حدےثٹ پک اے ہار امت ے بڑ ھک ریلم بردہارھتفل عزاع اورغ کو
برداش تکرنے والاغرماے کیا دو سب بشعحم ایی ےغمت او گناہ مم ملوث قرار دیا
جاک ہے؟ جب خرت ام رمعاویہ ہمان سب صفات میا رک ے متصف ہیں ل
جم ران بر سب ٹۓ مکرن ےک انرام لگا کیاکی دیندارآوٹ یکا کام ے؟ مورودگی
صاحب نے جن تارگی رولیات پر ا2ک کے ق رآن وعد ی کرای ہے۔ا نکیا
قرآن وورےٹ کے سا کیا حیثیت ے؟ اگ ری کا ایمان سلاعصت ے7 و یقبا
ت ران وحدیث ب یکو یگ دےگا۔ اورق رآ نک ریم کے مطا بت حضرت ام رمعادےے
یچ نونف ای ےتفوظطاورراست رومشی نیک رات پہ لے دانے اور اختیار
کرنے وانے ہیں ۔ لہا جوجھی حعد بیث یا روایت صطرت امی رمعاو یہ لہ یا اور
صحال کافس او رگن میں عوث ہونا جیا نکرے دومجھوٹی اورمردود وی و وق لکل
کی جا گی ۔جی یسل مکی ایک حدبیث شس بیان ہواکِتحنرت عباس مچندنے
07 0 0 ی۸۶
”اض بَینی وَنَیْنَ هٰذَا الگاؤب انم اور لان“
ً (ییسعلمکتاب اہادد لیر بابک انی )
۴ ٤
38
تر جہ: میرے اور ال مو ہجرم دج کے باز اود ئن کے درمیان
نکر جے_
اس می راوگی نے حضرت عباس سےمفسو بک کے حر تی ال نمی جن
کے تلق نما یت ناز یبا تح کسی ہیں' ھا لامک دوٹدں ہہتقیاں ای باناں ے پاک اور
جلنلدو الا ہیں ۔اسی لے ا سکی شر مس ححفرت امام فو وی رتمت نعل قرماتے ہیں-
(2م)
”نقاضی عیائ ن ےکہاکہ مار ز یکا تولی ہ ےک حدیث کے بے
الفاظ کے کا ہیی طور پر عطرت عباس یہ کے شایان شا نننڈل اور
صحفرت بی مہ اس سے بہت بلندمرحبہ ہی ںکران مل ان اوصاف مل
ےنت ہوں چچا مہ مسب ہوں اگ چہگمرف بی اکم ولافا ویر أم
انیا ریہ اص واسلا مکی ععمت کے انل ہیں ۔ لکن حعفرات سحابہ
نل کےساتھ نین ر کے اوران سے قاممادصاف دذ یل ہکان یکر ےکا
یکم د ایا ے۔ اور جب اس حد کا تاویگی کے سار ےرا سے
ند ہوجا تی تو ماس کےراو یو ںکوجھوٹا قراردرے دی گے۔ تی زفرمایا
کہ بی سبب سےعض محدشین نے اپنے فسخہ سے ب اللفاظ ٹا بی
وئے'۔(سی لمع شرح ما دی وس* تاب الحہادولسیھ با کم ای )
لپذااسی روایت جوکسی صعال ی کافس وگناء یش ملوث ہوا اورراصت رو ہونے
گی یجاۓ نے راہردہونابیا نکر ےا کےرایو لکوھٹلاک را ےچھوٹی اورم دووقرار
دیاجاگا۔
اورسودودگی صاحب کے الئرام میں جیب بات ىہ ےکاخ ول نے سج نکماوں
کےجوا نےد ہے ہیں ان می ادفی اشار ہنیس لمکم حخرت ام رموادیہ لٹ داگی
حطرتگلی الرنضی یی پرسب دی مکی بوچھاڑکر تے تھ اور اپ ےگورنرو ںکوٹھی
(۸/۷۸٥۱۶ )٥٢.
39
انہیں ۓ مج یکم دےرکھا تھا او رتخیقت بی ےکم ودودگی صا حبکی ا خود
ساختتعبار تک حیثیت ای کبھو نے الراماورا فا سے زیادہ پل _
اورااگرست ےعرادوست صم ددتّذیل عد یٹ گل وارد
ہواہاذدونن بیان ے ضردر ےن برائی ہرکزنیش ہے لا ظہر(تمے)
”ابو عازم لہ فرماتے ہی ںک ایک1 دی خر تکمل بن سعد
کے پا ںآیااد کے لاکرامی رم ینٹنبر یہی ےکر تحضر تملی یکو برا بھاا
کت ہے۔انہوں نے وھ آخرد تا کیا ے؟ جواب دیا۔ دہ انکر
'الوترامب'کپتاے۔ یڈ پڑے اورفر مایا قدا اش !ا نکامینا ق نمی
کر للا نے کا اورخو حر تی لک ینام اپ صلی :ام سے
گی فزیادہ پیار اج“( کا فا ری باب مت قب ابن ال طااب س)
اورنخرت ام رححادے یلد کے اخلاق اوردویے ک تلق ایک نمہایت د لہپ
دای کیاجا ١ے جو تصرف قرآا نکرب کے ارشادرحمَاء بینم کا ئیزدارے
کیم دودد یم نکافع وق بر ن ےکی ےھ کان ہے۔طاجظہو۔
”ام رمعادمہ لودنے ایک بارقرارائنتمزرہ کہا شھےکی ان
الی طااب کے اوصاف ستا2 انبوں نے عش کیا جھے اس ے معاف
رکھو۔امی رمعاوی لٹ کیا ہی خدا کیا قرددسنا. ار نج زدنے
نجای تیشم دی ور برمعنرتبکی مدکی منقبت متا بی کا لاصرحب
نے
صحفرتٹ٦ی لد بڑکی سخادت دا نے سج ت قوات وا نےء مل
ملح با ت کے تھے ۔عد لکا فیعلکر تے تے۔ا نکی جواب ےل مکی
ہیی بہقیحیں ۔ ا نکی ذبان پعلم و تھا۔ اوردنا کی ٹیپ اپ سے
مر تھے را تکی تھائی اود وعشت پر مال (مانوسں ) تے۔ رات ںکو
(۸٥۱۷۱٥٢.
30
رو تے تھے ۔ اک رہ خر ٹفنک یکر میں رج جھے۔ موا میا صمول یکھانا
پنرکر ے تھے ۔لوگوں می امت کی ط رر تھے۔ جب ان اے
ھجت فو راجواب دیے جب ہم آیس بل تن فورا آجاتے۔
اں ے : کے باوجودا نکی خداداد بی تکا یبعال تھاکہ جم ان ے
گنو نکر سج تھے۔دیندارو ںکرپظی فر مات ۔مینو ںکواپنے سے
قریب رک تھے ۔لی طلہ کے در بارشریف مم سکردر مایویں نہ تھا تی
دلی رنہ تھا عم خداکی میس نعل یکو ببت دفعہ الا دیکھا کہ رات کے
ار غاب ہوجاتے تھے ۔ اس حالل می سک آپ الییاروتے تے جے
کس یکوپچھوکیاٹ نے اورروروکرفرماتے تھے انسوں! فسوی ا عرتھوڑی
ہے فرلیا ہے۔ سا ما نتھوڑا سے راس خط راک اور پک داڑھی ے
1نسووں کے در ے کے جھاورفرباتے تھے ۔افنسویں !افسویں!
ام ماد خی یک نکرزارزاردنے گےےاورفرماتے جے کم
خداکیابوائسن (عی )ا یىی تے۔ا یىی تھے ایی تا
(امی رما یلان برای نظ ے۵. ۵۸ :صصق اھر 3ار دہش ۴۴۷ ے۴" ءاز ھا
اردد روم ۶ل۵۱۹۔ ۵۱۸ مترضین اور حضرت امیر مواو یہ اردوت جم الناح یگ ع شع امیرمعادیے
۷ص۵۵)
پزا ٹرآن وحریث اور زگورہ واق گی رش میں مورووگی صاحب کے اس
چھو نے اورلقواعت راخ کی ترد یی ہم می پھ کی ےکی ضرورت می ٹس وی کر تے ۔
اعت راش1۵(مضمنمردودل)
مورووئی صاح بکا ضرت امیر مواوی شی قد عنہ پر ایک اورٹنن طاحظہہ
کے ہیں:
۷ و٤
361
تزیاد بن مت کا تلی ق بھی ححضرت معاوے ئلدےان
افعال ٹش سے ہے جن میں انہوں نے سیاسی اف رائ کی ش لیت کے
ایک سکم قاعد ےک خلاف درز یھی ۔زیادطائ فک ایک لوڈ ی
سحتہ ناگی کے پیٹ سے پیا ہداتھا لو ں کا بیان بیتھ اک( مات جابلییت
میں ححضرت معاویہ “لک واللد جناب ال وسفیالن “لن نے ال للونڈ کی سے
نز ناکاارطکا بکیاتھااورای سے و٤ حا لہ ہوئی ۔ححقرت الو فان ان نے
خودیھی ایک مرتبہاس با تک طرف اشار کیا تھا کہ زیادا تھی کے نطقہ
سے ے۔ جوان ہوک ٹس اللی در ہکا مت ٹنم فی لیڈ رادرغیر
مم لی ا یلت ںکا مالک ایت ہوا ححضرت لی لن کے ز ما ہہ خلافت
یں وہ پکاز بردست ای حا ادر اس نے بی انم خد مات امام دکی
شجھیں_ ان کے بورحضرت موادمہ لیے ا ںکواپناھائی دعددگار بنانے
کیل اپ دالد ما جدکی زا کاریاپشہاوج لیس اوران لکا جو تم ایا
گہ(یاداٹ یکا ولدالرام ہے۔ رای ہفیاد پہاسے اچا بھی اورپ
خاندا نکاف وق اررے دیا۔ ٹل افلاقی حیثیت سے جیما پچھکر دہ سے
وول ظماہری ہے رتخد حیشیت ےگھی م ایک ص رر ناج ترٹ ل ھا
کیونکیش ریت م کوئی نبا ےباب نکی ہجتا۔ نمی اکا صا نگم
موجود ےکی پچ را ںکا ہے جس کےسترپردہپداہڈاورزانی کی ےگر
چم ہیں''ام وین ححخرت ام یہ (رشی الشدعتہام نے ای وجہ ے
ا سکواپاپھائیتلیمکرنے ےانکارکردیا اراس سے پردوف رمیا“
(خلافت رط و یتگل ۵ء۱)
ال کائھی جوابدکے-
(۸٥۱۷۱٥۱.۰0
32
جواب
مولا نا مودودگی صا حب نے ا لفن می پعلعا تی ز یا وکا مج ملہ ال اک رحعضررت
معاویہ خطہ پر اپی سای اخرائس پور رن ےکیلے ش ریم تکی خلاف ورز یکا الزام
لگایاہے۔اوران شرف عحامیت ان کےکتق کی وعدالت اورق رومنزا تکو روح
کن کیپھ ربچ دکوش کی ہے۔ بیس با نےکگواہوں نس عاول ھا یی
شائل تھے ک یگواہیوں اورشہاوو نکونھی ردکردیا ہے البتہ اپنے اا٠ نیکوخویت
ری کے مار کےلنض حوانے, ہی ےکس بھی میس رآ نے یاسفوا کان کے نا
ضرور ےج
اس سے یی ےکم ا ملع نکا تج ز کر یی صب دستورساب در ذ یی امورکی
جاابل9جردلاناضروری ھت ہیں۔
)رن ٤ح یٹ نے صحا ہکرام یی انڈپی مکی ف مایا اوران کےشرف
صحامی تکا ات را کرت ےک برای تکی ہے۔لذاصحا ہکرام کے مقام وم رتو جروح
کر نے وائی یا ان پترف ڑ یکر کےان کے دان قد کودا دا کر نے وا یکوئ بھی
ردایت ہواگر چا کی سند پت یکیوں نرہ 1کردیی جا ۓگی-
۴ز یا ین سح ےکومودددٹی صاحب ولدافھرام ہو نےکاالرام د نے یلجنا
ک یجہت کے مو تکیلے چار عادل اوریشم دیدگواہ ہونا ضمردرکی ہیں او اگ رتہست
گان دالا ا لیےگواہ یی شکرس اس پرعد تق ہےاورقر تک بات بے
کہ مودددی صاحب کے پا الیے چا رگواونیل ہیں ۔ اور یہ ہ ےک جناب الو
سغیان نے دور جاہلیت مل مرذ رح طر قہ کے مطاقی سحیہ سے نکا کیا اور زیاد ای
ہکا ح کی اولاد ت اکر رز مان جابلی تکاووطر یق اح اسلام نے مطسور خعکردیا من
ال ےنپ 2 اورثا یت ہی رہا۔ام لم مین حفرت عا تقر صد یق رش اللہ خنہا
(۸۸۷۸٥۱۶٥.
23
فرمائی ہی ںکہزماضجابلیت مس ہا کے پا رطر یق تے-۔
الیک نیا تو ای عطر کات اک جیلو کآ خ بھی نیا ںکرتے ہی ںکہ
ایک آ رد دوسرے کے پاس ا سک ولیہ اش کیل پا مکتا نچک رمبرادا
کرتااورائں کے ساتھ وا حکر لیتا-
۴ ددسراعلر بقع نا تھاکہ ج بکوئی عورت تیا مے پک ول 2
یاوطداس س ےکہت اکم خلاں کے پان پگ جا ورس سے فائدہ حاسل
کرد چتا مچرفاودا کی بیوکی ےکنا ون ہوجا تا او یکر ےی پا تح نہ
لگا تا ےہا ںت کک ےج٢ سک1 دب ے فائمد دا ٹھایاجا تا ال سکاتمل ظاہ رہ جاتا-
جب ا لکاتمل ظاہرہوجاجا ف ماود اتی وگ کے پا لآ چاتا جب وہ
چا ہتا۔ادرایاچھا پچ عاص٦ لکرن ےکآ رز وی سکیا جاجا۔ ا سکووولوگ
”فا استضاع“ کت سے۔
) یا کی تس رم رٹ کرد ےک افراداکھے وک ری عورت کے
پاکی جات اددسمادرے اس کے ساتح رحب تک تے ۔ جب دہ عاللہ ہوگر
پچچنقی اور کو پیدا ہوۓ چندروزگز رجات فو وہ ان سب کو پغام
تی .ہیں ان یں ےکوئ یفن نے سے انی سکرکتا تھا۔ یہاں
کک دہ اس کے پاس من ہوجاتے و دہ ان سےکقی آپ ا
محاملات جا نے ہیں اورمییرے پا للڑکا پیا ہوا ہے .یں اے فلا لے
آپکا نا ہے لیں جو پکو ند ہے ا لکا نام درکھ مج .لیس دہ برا کا
شارہوتااورد ہآ دٹی ان جات سےاٹکا ری سک رسکتا تھا
ئا چیم بی یک بہت ےآ دی ایک ورت کے پا جاتے
رتچ اوروو یکو اپے پا آنے سےےتعن کرت تھی ۔ درف ایی
عو ریس طوانئف ہو تی عھیں اورنشا کیل ابنے دروازوں بیجن انصب
۴ ٤
364
کرد کر نی جییں۔ ٹہ جو چاہتادہ ان کے پا جاتا ٹس جب الن ٹل
ےکس یکا لہ جاج'اوردہ ال کو جن لیذ دہ ساارےائس کے
پا جع ہوک قیافشنا لک بلاتے۔ دو جےکوشٹس سے مشا ردنا ال
سےکہددیا جات کہ ےآ پک بنا ہے۔ چنا خچر دہ ا یکا بنا کک پچاراجاتا
اوروواس سے امنکارزی سک رسک تھا
لن جب حضر ےم فی لت کے سات وت ہو گت
زمانت جاہلقیت کےسارے ا ضحم ہو گے اور وی ایک رر یقہ اح رہ
میاجوآج موجودرے“۔
( ری ج ص۱۹۹ کاب الگا )
اس عدیث پاک سے معلوم ہداکہزمان جاہلیت مں نتاح کے پارظریق
2 تے۔اسلام نے ز ماشہ جابلیت کے ثاحو ںکوقو ملسو خغکردیالن ان ڈکاحو ںکی
ولا کو ا لی مکیاے۔
اورزیادگی پیدائُش کا واقدتا رت نے اعم رر یا نکیا ےکہ:
”ایک مر ابوسفیان اپ نا یکا مکی خوش سے طاکف گے
ہو تے۔ دہال انہوں نے جاہلیت کے م روما ںار نے
کا کیا اورال سے مباشر تکی اوراکی ےہ کے بیہاں ذیاد پادا
ہوۓ اورال نے زیادکوالوسغیان سے مفسو بکیا۔ از وسفیان ن بھی
اض بکا اق ارکیائیک ن نطو رپ“
(ج را ںظرن ج ٣٣٤ا
معلوم ہوازیادنکا کی اولاد تھے اگ چردہ نکاح جا لی طر یق کا تھا لکن جاط
طرلیقوں کے کا کی او وی یچ الب قراردیا گیا اور جب چاہلیت کےا ںکا
اولا وع اور طا لی ہے تذ ز یا دی ابوسفیا نککع اورعلا کی اولا دہی تھے ہم اتشاء الہ
(۸۸٥۱۴5٢.
365
اسے ری شہاونں بھی بیا نکر سواے۔
ین رت اس بات پہ جےکمودودیی صاح بکو یل پھیکئی سک حا یکوتا ی
کہنا نات یجہت لگانا چےادراسل کے عد وت پرعد خر فا ہے ملاحظہ ہوایام
ینضرت امام ما لک لف رات ہیں:
"الم نک اڈ فی رَل رجلا ن آيکڈ عللهِلعة
وَاِنْ انث ام الَِّیٰ تی مَمَكَة َو عَليه الٌَْ_
تم: ج بکوئ ینف سس یکی اس ے انچ ےق یکر ےق اس بعد
جارگی ہو اکر چےائ لک دالدولو کی ہوت بھی عدجارگ ہوگی''_
(+ ملا امام ما تک مت رت ص٣ ۶ کاب الیددد)
ابآ یے مودودبی صاحب کےبلع نکی طرفککتے ہیں :
”زار بن مک ملعا بھی ضرت معاد یہ کے ان افمال
می سے ہے جن یں انہوں نے سای اغ راخ کے ش یت کےایک سلم
تقاعدر ےکی خلاف درز یک یی زیاد طا ت شک ا ایک لونڈی مم 2
پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ لوگ کا بیان م تھا کہ زمانہ جاہلیت میں حخرت
محادبہ میچد کے والد جناب ابوسغیان خلنہ نے اس لونڑکیٰ سے زا کا
ارتا بکیاتھااوردہای ے عاطط+لی''-
قے اس بارے میس جہادی ع ہہ سےکہ جب معاذ انڈرلوگوں کے بیان ے
مطابقی (اگر چلڑگو ںکا لفظ یہاں گل یم ہے اورایے مل اور قول ےزنا
ا بیس ہوتا)ز یادولد ال رام تھا اورمولا نا مودودٹی کے نز دی نحظرت ام رمعادیے
لہ کا نلج نیس تھا 2 پھر یہ جیا جا ۓکراسل سےمحضرت امیرموادیہ ند
کو نىی عزت بے گنی دہ نما وعام للوگوں ) ی مز زت کیک ہو گے او رای کون
سای فا تد ہوا_۔ جب بقول مودودی صا حب لوگ ز یا دکوز نا کی اولا کھت سے پ24
(۸٥۱۷۱٥٢.
36
یٹ٠ ل نع سے( موا اللہ )ا نکوسحا یہ وم تین ریشی انشنشہم مہ جملیسلمانو ںکی
نروں کر جانا چا ہے نھااورا نکیا سای س اہ ہو جانا چا پیج ۔نہ کال
ےال نکا سیا کی ق دکاشھ اور ھ جا تا گویا مودودئی صاح بکا لزا نٹ طور بھی
ہا یت کیا اوران ے_
بھی نہیں ام رالموستینخلییہ اسلیں کاپ وراز داو یت ونیم سال
رسول جناب حیحخرت ام رمماویی ظٹچننخودفرماتے ہی سکیس نے زیادکو ماک رفل تکو
کرت نو سجن ی اورنہذا تکوعلزت دک بکہ جب شی نے می جان لیا کہ برا کا جا
ایی نے اسےاپے مقام پر رک ےکاحم دبا یکن مودودی صاحبذعامملوگول پہ
اعاد ے ٹیہ ہیں اورا کنل وہ رو لکی جفیاد براپے اعترائ کی ظمارت استوارکر
ر ہے ہیں۔ انیس ا جا تک کیاروا ہےکہامی الم ومن اوشٹیممعالی رسول (ا)
کیاکھدسے ہیں۔
آ گے کے مودودںی صاح بک معتقدتا ران خلدون می رککھا ے:
لنٹ کیہکیت اس باتکار گی سادا رمعاویہ
اس ےاختراضل پداکرنی ہے یہاں کک ہام ر(زیاد) کا بھائی الوگر١
بھی ۔ اسیک مرحبراسی زیاد نے سییدہ ھا ئکشرشی ال دن ہاکوائس نام سے رقحہ
کھا۔''ز اد ینا لی سفیان'گوادہبرافا ظلکوکران سے اپتے ای نس بک
صداقت چاہتا تھا ت کہ بوقت ضردرت بی مت ہو گال کے جواب
میں سیردما اق یی الف عنہانے اسے مو ںککھا:”'عائکٹرام الم ومن اپنے
بے زیادکوفالگوددی ہے (یشنی اس کے مطلو رن بکی میتی ند )۔
عبد بن عاعرکوز اد ےپنخ تھا ایک دنع ال نے اپنے ساتھیوں مل
ےک کوک کون ہے عبد ایس این سمیہ جومیرےکاموں می سکیٹڑرے
کن ے اورمیر ےکارنروں کےآڑ ےآ ہے۔ میں نے ترلیش سے
(۸/۸۱۶۱0.
2307
. اکس جات پڑ یں مل ےک ٹھانی ہےکرالو۱فیان نے سمی نا کینوڈ یکو دیما
جک ئیں۔ جب یا ؤکوا کاخ یں نے معادہ چگو یہ جایا۔ ا پ
ماد لن ےگمدیاکآ خی دورد کے درداڑے سے اے وائی لکروو_
اکیاتے یذ کے پا ا لکا شگای تکردی-بیزید ا کو لن ےکرکھوڑے پ
سوار ہوک رتعترت محاویہ کے پا لآیا۔ جب امیرمعاوی نے لے
دیکھا کرک رتریف لے سئے. یی کنا م7 پ کے ہا ریف
ان کک انظارکرتے ہیں پر دہ بعد اعبر با رتش ریف ا تے اور
ائ عامرنے اپکادی بات لکنا شرد عکردی جو پی ایس ۔امیرنے
اکی پرفرمایاٹ نے زیاوکواپنے سا ھھملاکرل تک کشر ت نیا ہنی اور نہ دی
ذقتکوکزت دی ہے یلکن جب مل نے ال ای ان لا اسے اپنتے
مقا ام درک ےکا جم دےےی“۔
(جار ںان فلرون حخ ۱*۳ کوالہ وشمنان ام رمواد نے "ئل ابع ال )٦۸۹_۱۸۸
اورکائل این اشخرسےمنقول ے:
”رت ام رموادنہ “لاد نے فر مایا : اے ازن عامرل نے زیاد
کے بارے می جو پھھبادہ جم ن ےکن لا ہے ۔ فدا کیم !تما موعرب ال
با تکو جات ہی ںکرائدتاٹی نے مھ جاہلیت جس عز ت عطا فرمالیگی
اور اسلام کے بد میرک عمزت شی اضافہھی ہوا ہے می نے زیادگو
ان ساتحھمماکرفل تک وک تی ہی او نری ذل تکوعزت بایا کان
مس نے ا کان جات ہد اسے اس کیا کہ پر مر رکیا۔ یک نکرا من
عاعر ن کہا: اے امیر المو نین پم اس با تکیطرف لو سے یں اورقول
کرتے ہیں جوزیادوکو ند ہے۔امی رمعادہے خلینے فر مایا گر ایا ے7
رہ متمہارتی پچ دکی طرف رجو جک تے ہیں ہ کک رح بدالش بن عامر
(۸٥۱۴۱٥٢.
38
وہاں ےالا اود ذیاد کے پا آکراے راش یک ریا“
( رشان می سواو یکا مکی وا اس۰ ۲۹. وا کال ابی اخ رح ۳ص۴۳۲)
آپ نے لا حظفر ایا حضرت امیرمعاومہ -یلتقودفرمارہے ہی ںکہشش نے
کثرتوزت ای اورفر لکن این کیا لٹ تھان یکا ی بج کرت لکیا اور
اےاپنامقام دا ہے۔ ال تھالی کے کو امو اق شیج تک پاسدار یکا
نال ے .لیکن را وص بکاکیمودودٹی صاحب ان پ سای خرن لیے شی کی
خلاف ورزیکالزام _گار سے ہیں ۔تخصب بد ےکوی اتد اکرد اہے۔
او لوگوں کے ہملفغطظ کے جوالنے سے بیکہن یقرت ابومغیالن نے سحیے
زی کیا ےزیاد پا ہوا تذ لیے ز اکا الام لگانا درس تریس اورا یکا یقت
ے دو رکا بی وا س نی ہم پیل بھی عون کر چچے ہیں اب مودودکی صا ح بک مھ
جار این رون ےر ےأفححبل ے با نکر تے ہیں۔ل(تجمہ)
سی ماددزیااضرث مج نکندوطجیب یلو یی ۔ جس زانہ
می سیر حرث کے پا تھی فیس وفوں اس کییلن سے الوگرہ پا
ہوۓ تھے اس کے بعدرمرث نے سمی کا عقد اپنے ایک لام سے
کردیا۔ نس کےگھرمٹں زیاد پیا ہوا۔ الوسفیان زماتہ ابلیبت ٹل
طائنف یئ ہوۓ تھے والبی کے وقت صب( ناب )رم جا لیت
سیرے ۴ شستز ہو ۓ یل روگمیاادراس سے ہیذیادوجود شس آیا۔ ال
وزہ ےنسا یابوسغیا نکی طر فمفسو بکیامیا چنا ٹچراوسغیان نے ایک
سوعپ الاو یش ا کا اقر ارکیھا''۔
(ج .مغ این رون اردو صر1م(لض٣۳۲)
”می لو نین حفضر تی ابن ای طالب لن کےشمہیدہونے
کے بعد زیارنے امیرمعادیہ ند ے مال تکرکی۔ مصقلہاب نچ رہ
۱ً و٤
39
شییالی نے ام رمادے _لے سے سار لٹ یک زیاولوسباابوسفیا نی
طر فقو بکرو چنا چرام رمماویے متای فقلواب ےخال ے
ز یادکوالوسغیا نکا بنا ھن گے اوراس ام کےنھو تکی خرف ے جولوک
ااوسغیان اور ہے کے نعلقات اور زیادگی یں ے واقف تے۔
پلاۓ گلتےاوران ے شبادت لیگئی لن شیا نعگی جن الی طالب جن
اننب سے انارک تے ر تی کا کے بھاگی اور ویگی'۔
(جرًا, ىغلرو ناو رت روہال٣۳ 1
خاکشیدہالفاظہ سے ہہ یا ت خوب ظا ہر ہو جاتی ےک اتلحاق ز یادکیت ری کی
دراصل زیاداورال کےلڑکوں نے خودمی شرو تی ۔حفرت امی رمحاویہ نے
رو نکی سک یکاسے ا نکی سیامی غ مق اردیا جاۓ پال الہ اے پا یت لتک
سیدناامی رمواد ہے نکی نے پہچچبا ا ورشری تقا نے کےئح تکواہیاں لیے کے بعد ا کا
اعلا لن فرمایا۔ یہاں ے ایک بات رمعلوم ہوئ یک شحقرت ام رمواویہ لہ پہ سیا
خر کا ال زا مودددی صاح بک ذیادل ہےاوردوسرے بی زیادلٰ س ےک ہن عام
سگوا بیو ںکااجتما مک کے شی تام پپبر ےکر نے وانے پ٠ بی ش یج تک خلاف
ورزی یکا انرام لگادیا جا ۔(اتفقراش)
رت علا تی صاحب (جامعدسو لی شی راز یلا ود )نے الاصای فی
یم وت
ُجلھا یکا داق ہام ٹس ہوا۔ ا لک یگوای دی وانے ہے
لوگ ہیں زیاد بین اسماءالھ ما زگیء ما کیک بن دب السلولی ءال من راہن
ز برا نکا ام دای نے اپ ندوں کے سا ذک کیا گواہوں یس ان
لوگو ںکا بھی ذک کیا جومریہ بت الی سفیان ہمسور بن الی قد امہ ال اس ٠
ان الی ان رٹ٠ “زی جننخیل اذ دی شعبہب نیتم از یی عھرومین
۷ “٤
370
شیبان اور نی طحق کا انی ک ایک آدیی ان قام نے ابوسغیان کےُتعلقی
گوای دک کہ یادال کبیا ہے۔صرف مند نے ہےگواہی وٹ یکماتہوں
نے حعضرر تی الرنشی ےہ سے سنا ہے۔وہ کچ کہم انس با تک اگوی
دبا ہو ںکہز بادکواپوسفیان نے اپا نا کہا ہے۔ ا نگواہیوں کے بعد
مضرت مواو یہ “لپنے خطبردیااورزیاوکو ان نب شس طالیا( “نی زیاد
اتلیا قکرایا) پھر زیاد نے پچھےنفشک دی او کہا گرا گواہو کیکوای
بی ےت ال کا شکر ہے اوراگر ال ہے و ٹس نے اپ اوران کے
درمیان الل رتا یکورکھا (قی اپئے اورائہ کے درمیان النلوگو ںکوڈم
داربنالیاے )-
( رشان ام معاو ین لی عحاب ال ل۴۹۳ کواالاصا ری تی اصحلیۃ جال یل" ۸تدترف الزاء
اقم اٹ )
گویا س٦اق زیادکا اعلان شع عام یش ہوا ۔گواہول نے زیا وو حخرت ابو
سفیان یدک بی اکہا۔ ٹس سےمعلوم ہوا ےک ابوسفیان نے ذ مانتت جا لیت می حیہ
ے ز نا نی سکیا تھا. لہا کیا تھا تھی تو عاول اور ہگواہوں نے بھی زیاد کے
اولادابوسفیان ہو ن نک یگوابی دک البتہ بیز مان جاہلیت یں لاح کےط ریو میں
ے ایک نما طریقہ پر لیا ہوا اور یہ جاپتیت مس جائز مھا جات تھا او راگر خدا
نخواستہ بیزن ہوا تذ رت ما لک بین ری سلولی اورمضرت جوبی نکی شرف
صحابی تگھی عاصل جے ای یگواہی ہد نے کیونمہ دو مودددی صاح بک جی یکا
جانے دا ی عدِث پک مودودگی صاحب ےہر جا تن 1وی ےکی اکم ا
نے فرمایا: ”برا کا ہے جس کے پستر وہ پا ہواورزاٰی کی ےنگ چچھ ہیں یں
جب ہعادل دیما یھ یگوائی د ےر ہے می ںکرزیادحضرت اپوسفیا نکاٹا ےل
میادہ بین گکہرے ہی ںکزیادفانں٘ے پیرا ہوا سے لیں مودودی صاح بکو
۷ًٔ وہ٤
371
سواۓشرمندگی او بت لگان ےکی زا کے یھی ات آیا-
اور یھی معلوم ہواکہ بہت سار ےگواہو ںکی مع عام می ںگواہی پر اجضححاتی
یادہوا۔اورا نگواہول یں جع اک پیل ع رف کیا حور خی اکرم للا کے سعال بھی
ہیں درو عرول اورشہکفررغق اوریاف انی سےجخف روط ون ےکی بنا رف دگوای
ٹیش دے کت بکلہا نگواہوں شی سے جناب منذر نے تی ارت یکرم
الشدو ج ہک یگوا یبھی یی ںکی ۔ ان عالات ٹس حقرت امی رموادیے ملدکا زیا وگ اپنا
پھائی مان لوا خلا ف ش نیع یٹس ب یق شیع تکو بنا اور نچک راس کے مطا بی زہادکو
ال کات دیاے۔
چھر جب اٹپ رواتوں ٹس گی خابت ےک حضرت ام رمعادیہ خلانے
نب باب ہون ےک گوا بیو لکی بنا پرذ یاوکواپنا بای قرارد بات جراخترائکیوں؟
کیا ححفرت ام رمعادیہ دج خو یھی “ھالی اور عادل ہیں اورگواہوں می سبھی لنض
صحالی در عادل ہیں مع عام مم تصوروارہوکرشرمندکی اٹھانےکاخو فی رکھتے جے
ای اود نے ا نک یہا لتصور وارھ را ہے جوآپ ا نکیگواہیا لی نی سکرر سے
اورکیا نع عام میں ا یٹ لوگ ںکیگوات یکوعلاشی دک رن چائتزاورآسان ہے بل اور
ھا مو عاول لوگو ںک یگواہیوں کے مطا بی فی ہک نال زی ہوجاحا سےتذ پھر نضرت
امیرمحاو ینا لاق زیادکا رفص لکیوں شکر ۓ ؟
دیگراعت را اورنل نکی اتی عالت د کھت مودددی صاحب کے ہی ںکیلوگوں
کا بیان بتاک مان جا بلیت شل حطرت معادیہ ان کے والد جناب ابوسفیان نے
اس لوڈکی سے ز نا کا ارطیا بکیا تھا۔ سے مودودبی صاح بکا براعترائش بیوں بی
ال ہوجانا کین عام می ایا کو فی یں اجس نے ایا کہا ہو مودودی
صاحب نے معلوم می سکیس یجان لیا دوصرے ہیاحتر ا یو ںبھی با ہو جات ہے
کہ یہاں ”لوگ ںکابیان' ٹس جج اکہ پیل عون کیا جا چکا سے لوگوں کا انیل اور
(۸٥۱۴۱٥٢.
3772
مم ہ ےک دوکون لونک ہیں اورانہوں ن ےکب ا کیا ےاوران سےمیانے ناسے
کیاان میس ےکوئی ہاور عاول صحال یھی ےکس لوکوں ایی ےہ ملف سےتوز نا کا
خجو ہیں چاتا اورنتی لوگو ںک یک حالبا9آں سےڑناکا الرامما بت تا ہے۔
تیب بات ہ ےک ستائی باقوں پ لق نکر کےش یع تک خلاف ورز یکاافرام لایا جا
اے اور عادل دٹلوگو ںکی علایگواہیکوقو لی لکیا جار ا ۔ یں ریش معاو دق
کیکارستالی نہیں ے؟
اور بک ناک یتحخرت ام ال ومن سید دام یی شی الدگتہانے زیادے پدہگیا
نی انہوں نے زیا وا نا پھائی لیم کیا تال ری لک وجہ بی ےک ج بک
یں و تی نہ ہوا۔انہوں نے پردوفبایا۔ بجی ححخرت ام رمعادیہ ڈگ عام
یی گواہیاں لنئی ایس ین مدک یکن بک ہے ہذاانہوں نے تلیمکریا
درنہا نأ یگواہیوں سے پل ححضرت ام رمواد یہ یمن بھی اس پر لقن شگیااورنہ
بی ستلھاقیز یادکیا۔ہرحال مودددی صاح بکا یلع ن بھی باطل طاہت ہوگیا_
اعحتراش۷ انلم ن موردرل)
مودودیی صاح ب کیچ ہیں-
”دو ریوکیت مہ رخمیروں پل بے ہاد بے گے ادرزبانیل
بن رکرو یککیں_ اب آاعدہ یہ ہوگیا کم نکھولوة تعربی کیل مکھولٴ ور
چپ ہواوداگرقہا راشیبرایبا ی زوردار رر سے انیل رہ
سح نز قیراوڈنل اورکیڑو کی ما رکیلئ تیار ہو جا چناغچے جولو بھی اس
دور بیس تی ہو لے اور خل طکار ول پرٹو تن سے پان ہآ ے ال نکو بدق بی
سزانمیں دئگکیں کہ پو دیقم دہشت زدہہوجاۓے-
ایا لی یکی ات را حضرت مواو کے ز مان می نقرت
(۸۸۷۸۱۶0٢.
3713
تج من عدی کےک ۵ھ سے وگ ج اک ذاہد عایدسحالی او رمیا
امت یل ایک او مرے کی تھے۔حضرت معاویہ جچ کے
نادش جب منبروں پرخبوں میں عطام خر ت مکی لہ پرلعنت اور
سب ڑتمک۷ا سلسلیشرد) ہوا تھا ملماول کے دل ہرگ تی اس سے
ھی ہور ہے ھک رلک نو نکاٹھونف پےکرخاموش ہوجاتے تھے ۔کوذہ
رر بن ععدکی ےبھبرتہ ہو کا اوران ہو نے جواب یل تفر تی جن
کیتھریف اورترت معادیہ لد خممت شرو عکردىی ۔حفرتمخرہ
ج بک ککوقہ کےگورز رہ وو ان کےساتددعایت بر تے رہے ان
کے بعد جب ز یادک گور نرک میش لعرہ کے سا ت ھکو ھی شائل وکیا تذ اس
کے اوران کے درمیا نکش بر ہا ہوئی۔ وہ طط میں حفرت لی جدکو
گالیاں د بتاتھااور بیاش کر ا لکاجواب دی گت تھے ۔ اس دوران ٹل
ایک مرج انہوں نے نماز جعہ یں جا تر ری ا ںکوٹکا۔آ خرکارائس نے
یش اوران کے پارو ساتھیو ںکوگ رق رکرلیا اوران کےخلاف بہت ے
لوگوں کی شپ اس ا فردجم پیل انمہوں نے ایک ھا لیا ے-
خلیفکوعلاعیگالیاں د نے ہیں ۔امیرالمؤوسنین کے خلا فلڑ ن ےکی وحوت
دیے ہیںں ان کا دگوکی مہ ےک خلافتآل ال طالب کے سواس کی
ورس اش ہے۔انہوں نے شہ ری فاد بھ پاکیا ورام رال من کت
عا للووال باہ رکیا۔ بیابوظراب (حخرت کی خلنہ کی حا تر تے
ہیں ۔ان برجم ت کے ہیں اوران کے اشن سے انار براء کر تے
ہیں ا نگواہیوں میس ے ای کگوابی قضیش کی بھی شی تکاگئی مر
انہوں نے ایک اک خلا مم نضرت محاو ہہ ٹول بھی اک جس نے سنا
ہےآ پ کے پا تن عدکی کےخلاف جوشھا دی پک کی ہیں ان یں
۱ ٤
374
ایک مب ری شباد بھی ہے میربی اصل شمباد تچ رک تھلق یہ ےکردہ
انلوگوں مج سے ہیں جوم زقائ مکر تے ہیں ء زکو ود نے ہیں ءوائم ا
وع ور تے ہیں : یکاعم د ہے اود دی سے رو کے ہیں ا ن کا خون
او مال ام ہے۔آپ چا ہی ق ئآ یکر ور نسحا فکرد ی''-
اس رع بیطزم حضرت معاویہ لد کے پا کییجے گے اور
انمہوں نے ان کے یکلم دےدیایٹل سے یلج دوں نے ان کے
ساۓ ھ ہا ت پیش کی دہ یش کی یکم دیاگیا ےک رق عی"چھ
ے بر تک اتگہازکرواوران برلصنتچھچوت شھہی ں پھوڑدی جاۓ در نل
کرد یا جاے''۔ ان لوگوں تے مہ جات ماۓ سے الگا دکرد یا اورتچرنے
کہا: ”ہش ز بان سے وو بات نین کال سکما جور بکو نا راف کر ے'-
آ کر وواوران کےسات سك لکردتئے یئ ۔ ان یل سے ایک
صاحب عبداارکن بین حا نکوجضرت معاویہ چنا نے ذیاد کے پا ئل
وا پچ ینیج د ی اور ںکونکھ اک انیل دق بین مر یہ ےا لکرو۔ چا نال
نے انیس زند وا نگرادیا۔
اس واقعہ نے اصت کے تما ملا کا ول ہلا دیا۔۰خر تکبوالند
جن عھمر شی ؛ینعنی اورمحضرت جا کش تی ارہ عتہاکو یق رک فک رت را
ہوا تقر ےا یی ارت عنہا نے حضرت محاومہ کو ئل سے پاز
رن یئ پل می خرطانکھ تی ۔ بعد مس جب ایک مرح نحقرت موادے
یچ ان سے ہے ؟ے قوانیوں نے فر یا خ دبا فیس ٹ کول
مر ہوے دک را توف ہو ۔حضرت موا وہہ یچہ کےگورنر
خسان ئن می زوا رثی ے جب یق رق پا را تھے 'خدایاگر
ےھ مر میرےاندر تر دی ےن شید نیا سے اٹھا لے
۷ًٔ و٤
375
(خلاقت وط وکیت )۱٦۵۲۱٣١۳
مودودگی صاحب کے ا لم نکاآ پکیاجواب دی گے؟
کا
مہا مودودیی صاحب نے امی رالموسنشن ححضرت ام رمعادہیہ تن پہ ینکش نکیا
ہ ےکن کم ےایک زاہدعاب دحا عفر ت جم بن عد یکا کیا گیا عالائک وہ
ملا امت میں اوج مرجے یتنس تھے اورتصب فشا خلاف دادجا قائم
رن کیل انہوں نے نے حوالوں کے سفن ویفپوم یش ذف واضافرکر نے سے
یکر ینمی سںکیاشل کے :
مودددی صاحب نے ابےعم اورضرورت کے مطا تی یت لکودیاک جرب
دی ایگ زاہددعابمالی ا وا ۓ امت می او نے مر س ےننس رجھمان نہیں
رمعلوم نہ ہو کاک رت ام رمداوہ نان سے زیاد نیل القدرعحال یب کاحب
دی ای راز دا وت عال ق رن بفقیبہ بد اور ہادکی دمہدکی تےاورانیں شا بڑاں
بات کا بھی شعور حاصل نہ ہو ۓ اک آسا نکاتھوکا نہپ ہیآ جا ہے “ہنا نمکودہپالا
اوصاف و مالات کے حا حضرت ام رمتادیہ لوالا رب منرت تق پر ھ
ناپارگھی اک اٹڑ ان ےک یکوشن کر ےگا ا کا انچ ہی ا کآ لود ہوگا'ا نکا بے
نہیں ہکڑےگا۔
اب اس سے پیکراس ساخنگی کےاسباب وقوائل پر ہش دکی جاے چند
گزارشما تما نظ ظا تجے-
۱)مودودںی صاحب نے ححفرت تج بن عدئقکویلی الا لا قی صھالیٰ اورم٥ماۓے
امت مس او چم کان کہا عالائکا نک سحا بی ت حالف نیہ ے۔عافظ ان
کٹرآ پک سحامیتکا تک روکرتے ہوے الواح وکس ری کاقو نل ف مات ہی ںک:
(۸٥۱۷٥۲.۰0
76
اکثر المحدثین لا یصحون له صحبة۔(ا برای اتبایع۸٠۵)
تج :اک رح ٹی نآ پک عبت( حا ھنا) تر ای رت۔
(جا راب نکی راررو تشم ص۸۸۰)
گویا مودودیی صاح بکا تج جن عدککویگی الاطلا تی اور بلاقید وش ر ما یترار
د ینا درس ت ہیں اودانہوں نے صب فا 3 ان مرن کے وی مارک ہے۔گھر
انہوں ن ےک اکک ہو ە+ملھا ۓ امت می او ۓچے ھر۔ سے وص تھے ھالائہ اٹپ کی مد
ق ارت کےمطابی جنا بت بن عد کی بغاد تگگی ثابت ہے اورآس وقت ےگل
التقررسحا ہکرام یش ایڈنتم او رفا وحن نے ان کے خلاف بغاو تک اگوی دی
ہے۔لپذامودودی صاح باج بن عدک یکسا امت یش اوج مرےکائخصس
ترارد ہنا ھی شایدسو فصو ورس ت نیل _اگرانہوں نے الیاتا ری شواہ رکا علم ہونے
کے پاو چو دای کہا ے7 بھی فرجب دیا ہے او راگ رانا ری شواہرسے چچہالل تک :تاپ
کہا ےت بلریھی یقت کےخلاف ج کہا ہو یا: مت
جات بی نے درکھا سے صداقت کےخلاف ا نکو
ابد یگ ہ ےکسوہ بڑے اہروعابد تھے اوران کے اس وصف وکا لک دور
دو رک شر تگھیتھی لی کل ١ن کے زارد عابد ہو نے سےالن کم بغاد تل
عطائی نیس ہی اور بذاو تکی مزا اپنی مہ بر ہ ےگا۔ یی ےککوگی صا اور
نمازگیآدی معاذ ایند ز نا ا لی بے یائی اور برائ یکا مب ہوجاے اور اس پرشرگی
شہادتیں قائم ہو جا یتو ا ے 'حد گائی جا ۓگی۔کای 'ح سے دوخودا گناہ
سے پاک ہوگااوراسی حد سے معا شر وکوکفو اکیاجا ۓگ
۳گ بقول مو نا مودودیٴ تر بن عدیی''صھالی ہو ےکی حیثیت سج نکا
صحالی ہوا ضف علی او رشن یبھینئیں شرف صا یت کےاحت رام می ال کرطت نیت
دنام رمعاویہ یش نکی صحابی ت تحت علیہاو رشن بھی ہے یہا لک کک ایل امیر
(۸٥۱۷۱٥3۲.
377
مین اورخایت ا سلمین ہون ےکا بھی اعزاز مل ہے دہ اپنے شرف عحامی تک
وج ےکیوں قفا ات رام كنیں_ الن پراکترائض اورتققی ہکیوں اور ان پہ مطائگ نکی
و پچھاڑادرگبارکیوں؟
۳) ودودگ صاح ب کاخ بن عدکیکوزاپرو عاہرگمنا الین دریافت طلب
اریہ ہ ےک ۔اگر ایل زہددعحباد تک وج ےمسلائے امت مس او تج مرج ےکا
حائل تقر اردیاگیا ےت حخرت ام رمحادنہ ظچوکوجوز اہر ھا بد یکیا رکا پ وقا الہ
ا قرآن :لہ کچداورددم ہد بھی ت ملا امت ہاو در کا
حال کیوں کی مان جاتا؟ الاک یلم دفقکوز ہد وعیادت پر جودرجوں فقیلت رفوقیت
اور بر ری عال ہے دوائ یلم سے پپشید یں ۔مودودی صاحب نے مقرت امیر
مواوے ہے کا اس قررزیادرف٠یلوں ےا ات ریوں نکھیں موبر 1 یں اورا نکو
صاحب م رت شضلیمکرنے کے ہجاۓ ان پیل کیو ںکر تے ہیں؟
۴ جتاب تر ان عد یھی دک راقراوت او سے امت کی طرع اظمار
را کیل آزادی حعاصس لی لیکن مودودٹی صاحب کے نز د یک ا ہار رات ےکی
آزادئی سے مراد کیا مسلمانوں کے جذ بات سےکھلنے اورفتنہ وف دکی گب ڑکانے
کی امھ را ومن پہ بیس عام سب بش کر ن ےک یآ زادمی ہے؟ اس وقت کےملاۓے
امت یش ےکی نےگوا ای اکھاردا ےکآ زا یج اعد قک رح استال
نی سکیا ہف رکیوں ؟ کیا مجاذ ندال وقت تا مسا ۓ امت می کوئی ای کبھی ایا تھا
اس مل نگوئ یکا حجذ بہوتا؟ النمسلائۓ امت کےاس روش ن دوش نکردار ےق ہے
معلوم ہوتا ےک تج بن عد کی خودساشت آ اد کی در کو نت دہ ارگ اناج ی بت
تاور نت ایی اکر جائز جانۓ تھے بکلہ مو ںکہنازیادومناسب ےک تاس مسا
امت مطرت ام رموادیے لیک وراست با زبج کان کے مددگار نے ہو ئۓ تھے ۔ اب
ری امت اورتھام م٥لاۓ امت اس سطلے می ایک طرف او رج جن عدکی دوسرکی
(۸٥۱۴۱٥٢۱.
278
طرف ت3 جنا ب بجر ت امت سے ال تھلک ا موق کوکو یف ل کا ند حا ین
گوئی ےج رکا لیک اس رح سار ام تکا وف پل اورگرادی قرار
پا ہے جکع یٹ پا کس رو سےا تگرادی پیش نیش یق ہفرمایا:
لا تَجْع اتی غلی السّلال کہ توی)
جم ہھیری اص تگرانی ری نیس ہوگی-
اپاجنا بت ربن مد یکا م تف جح تھا جوفقن و ضسادکامو جب بھی :نر ہاھا-
٦ایک ہوئی ہے اظماررا ۓکیآزادی“اورایک ہوٹی سے عکورت وقت
کےخلافشورش و بذاوت “اہر رات ۓےکی آنزاوگی یس اصلاح احوال او رمصسلحجت
امت ٹیش نظ رہوئی ہے خی شورش یا بضاوت میں صرف زوا ل حکومت مت نظ رہوتا
ہے۔ا سےامت ٹیل اننشا روافتزاقی پھیلتا ہے فتنروفماد بر پا ہوتا ہے اورفو ہت
اح گی بک جاپچق ے۔
اظہایرا ےکی آ ز اد یذ نیقی ہرشمہرکی اور ہرفر وط تکا صن سے لیکن شور اور
جفاوت بر پاکرنان کسی کا ہے اورتدعی ا کی اجازت دگا اعت ہے .کیو
اسلاما نکا دائی ہےاوراتوادات پا ہنا ہے فسادامت نیل ۔ائس لے ای شورشل
اور بناوتکں سےامت می فتن فا بر پا ہونےکااند یش کنا ورام تکواسل
کیشرے یاناس یراو یاست اورکوصت وق تکی اون ذ میدای ہولی ے۔ِ
ازھراربنی حوالو کو یچھا جا نے ىہ بات ات ہول ےک جناب تر یی
عدی ذاہرو عابدہونے کے پاوجودسپائی یہ پردازدں کے رای بے دۓ تھے۔جھ
ا نکی جذدگی سادگی اوج اتی بن سے اد داٹھاکرانجیں امت می اجتظاردافزاتیق
پاکر ن کیلع استعا لکررسے تے۔ پچ فرما یا تضورقی صادق بی اکم لان ےک
مر عَلی وین لہ للِنطُر َحَدُكُمْمَْبُعلِ. کر
تر جم :آدٹی اتنے دوست کے د ین پر هتا ہے لی ہ رای ککو وکنا جا بے
0 و٤
79و
27 ا لکادوستکون ے؟
جاب تر لن عدکی اپنے سبائی ساتھیوں کے اکسانے اور ا شتحال دلانے پہ
اننٹس کے ساتحو لک امیر الم وین حضرت امی رموادیہ ودک ی حکوصرت جال وتت
واہداورمخبوطاسلائیحکومتہھیء کے خلافشورش ہر پاکرد ہے ھت کان پان
نکرتے ر ہے تھے۔ ای ےط رزگ لکوت نگوئیننیس بلکہ بضادت ادرفساد دی قراردیا
جاۓگا۔
ھجناب تج رن عدکی اوران کے سماتھیوں کے ساتحوصرف بیس بدا انی
کلکررموت کےگھاٹ اجار دیا گیا ہو بمہ ای سنہ ےکسلے طل بکیاگیا تذانبوں نے
ےییے سےا ٹا کرد یا تی کل ائیبھ کی نت تل زا بذاو تکاشمدت دیا۔اورا نکی ال
بغاوت پٹر 3 ےکوفشن کی بلنلرم رح مھا برکرام رش اللہ نم اور لہا مد شی بھی
شال تےء نے ان کے خلا کواہی وکی. اور ای لگواہیو کی جفیاد پ امیرالم ون
ححفرت ام رمعاوی یلوج جن عدکی اوران کے شر پندماتھیوں کے لک فم ل/٢
پڑاادد یاٹ یکی مزا وت ی ہے اود حا مکیلے اٹ یکوصو تکی زادنا جا بی ےت
ضنئ اوک ءا انگیری یں ے:
”جوٹنس باخیوں میں سے اسر (گرقار) ہوگیا ق ام
می نکویددٹنی ںکر ا سک کرد ے بشرطیکہ یر معلوم وک اگنگ نکیا
جا ےگا وا لیےگروہ ےنیس ال جا ےگا مش نکوقورے مندےں ا۰ل ے
اوراگر یمعلوم ہوکہ اگرٹلی زرکیامگیانذ اہیے باخیوں کےگردہ ےیل
جا ۓےگاج نکوق تمععت عاصل ہل امام ا کو کرسکما ہے" کذا
فی المحیط“( :اق حا لیر ی ودج سم ل۸۲٥ ابد )
ابآ بے اس سان کی ضروریتتعیدا تما حظدکر تے ہیں :
جنا ب ہمجن حدی جع اک ہم پیل وخ کر چچے ہیں حعضر تی ان یکر ماش
(۸٥۱۷٥۱.۰0
380
وجچہ کےشیحوں میں شائل تھے اورسبائی شر پنندو ںکیکئی جزاعتیں انی ںگیرے
ہو تھی ب یلاگ امیر الو مین سینا امیرمعادی جلکوسب بش کرت اورا نا
وت ے پنزاری یکا ا ظمہارکرتے ج حافطظای نکش رلکھتے ہیں:
”وقد العفت علٰی حجر جماعات من شیعة علی یتولون
امر ویشدون علٰی یدہ ویسیٔون معاویة ویتبرؤن منه“-
(البرا ید تایح ۸ل۵۰)
ترجہ :اور تحضر تی مل کے پیر دکارولں یں ےکی جنائتیں جرب
ہولکی جوا نکی امار تک با تکرں اوران کے پت مخبو کرت اور
صفرت مود بیلوگا لیال دحل اورآپ سے بینرارک یکا انارک رت '-
(جرجاا کرت۳ ص۸۷۳)
بہ حا لکوفہ یں اج می حفرت مقیرہ بین شع امیر الموسجن عطرت اھر
معادي خلکطرف ےکور رمق ررہوۓ۔وواپنے خطبہ یں حضرتبعثان ذوالنور ۰-
یچ جوتہا یت مفلو یکی حجالت میں شبیر ےئ نے جم کیلے مت ومخفرر تک دعا
مرح وو الین عثان براعن کیج ترجن عدیی جواب می مغیرہ من شعب ہد کی
26 پگ ححخرتعثا نکنی یٹک یبھی غرم ت کے اور گیا ا یکا اوران کےسپاکی
ساقیوںکا ای کر ح کاصممول بن چنکاتھا۔عافطدائی نکش کے ہیں :
”انھم کانوا ینالون من عثمان ویطلقون فیە مقالة الجور
وینتقدون علی الامراء یسارعون فی الانکار علیھم ویبالغون
فی ذالك ویتولون شیعة علی ویتشددون فی اللین۔
رای اتبلیع۸ل۵۳)
تر ج:وولو کرت عخثان دک وگالیاں د ئے تےادرآپ کے بارے
میس الما نہ بات کر تے تاورام رآ( جکام)بنتقیدکر تے تے اوران پ
2 و٤
381
عیب لگانے مس ججلد کر تے تھے ادراس بارے مشش بہت مال دکر تے
تھ اور خر ت گیا لہ کے پیردکاروں (شیحان لی سے) د وق یکرے
تھاوددہ ین می ںتشدوکر تے تھے“
(جا رمآ ای نیکیٹرار دوش ص۸۸۹)
ارتا رن ریا کے مطابی تین عدکی جناب مغیرہ بن شع کا جب وہ تین
ا معن پت کیچ ءیوں جو اب دی ےک
”نلم لوکو ںکا خدایراکرے اوراعنت" ے... لین میرہ
درلزراورہم پڑی اکر تے““۔(ج رت فی روحم چا ۳أل٥۵٥۹)
جنابمنیروین شع کےا رو یکوا ظہایرا ےکآ زاد تر اردیاجان چا ہے_
رد بھنراش یٹس جن ب مغیرہ ین شع ےکا اتال ہوگیا اوران کے بعد زیاوکو کا گی
گورنر ہوگیازیادنے جب حفرت عثان ذوالنو بن ڑل دک یتھ نی کی اوران کے
قاوں برا نگیو جرب عدک ا نکی مر دی رکیل بھ یکھٹزے ہو نعل طبرکی
کیچ ہیں:
”ذیادنے عثان ھلد اوران کے اصحا بکی سانش اوران کے
قاموں پنفری نکی مرک فکراٹ ھکوڑے ہو گی''_
(جار نظ رک ارددحصہ چہا رہل )۹٦
اورحافطڈای نکش رھت ہیں:
”وذکر فیٰ امحرھا فضل عثمان وذم قتله او اعان علی قعله
فقام حجر۔(ال برای ایج ل۵۰)
ت جمہ :اور ( لے کے ) آخر ہی اس نے حضرتعثان کے فضائل میان
کے ادرائی اخ لکر نے والوں اٹل میس احاع تکرنے وا لو ںکی ندمت
کی ہج رکھرے ہوم
۷ “٤
382
اور ری عدگی ن ۓےکھڑے ور ودی با قیں جونضرت مخیرہ ےرت سے
ترت زیاد سےبھ یکبردمیں ۔ اب زیاد نے یدگ می جلاک ول چھیا۔
علا رای نکش رطبقات امن سعد کے جوالدسے بیا نکر تے ہیں :
انی زان کنٹرد لکزت اگ رتیرے لن ےکان اود یھر
تھے ہے جوجی شس تگاہ ہے سیک ضردد یات میرے نز ”کیک پری
ہویگی ہیں۔ انس کے بارے مل بے باز( من )کررے۔
یتور کیل کو جا ضا ہوں اورمیس کے تی ٹس کے بارے مال کا
واسطد چا ہوں _ا عکینوں اورامقول سے انتا بکمرکہ ىہ گے تر
را چھوڑ نےکوکہیں کے جج رن ےکہا کچھ کا ہوں۔
(ح رن اہ کرو خ ش٣ص <۸۸)
پجرازال چپ ڈیادگرہ بن می ےکوکوف میس اپنا خلیفہ ب اکر لص رہ وائی ںیا
اس دورا جن عدی جب بھی میرم جات تذ ان کے ریشیعہ ھی بھی ان کے
ہعراہ ہوتے ۔عرد بی نم یٹ جو اتیل القرسھالی اورائم مق مکورنر تھے نے ات
سے کپ ھا اک (۔ اق یو ںکی مہ اع تآپ کےسات ھکیو ںگی ہوئی ہے-تدہ
کوئی ایا نکنل بواپ ددے کےاورا یکارو یدن بد نگٹتا دبا نت ا راک
مر جب ذیاد کے جا انی نرہ بن یث نے جم کا خطہرد اھر ین عدئانےاپے
اقیو ںکی شہ بر دوران خی ان زنک بن کک را کیو ین وی کفکرڈالیبھرد
بن تر یٹ نے اس صورت عال سے یاولگً کرد یااو کھا:
علامہابین ظمدو نکھت ہیں:
”زا گور کوفہ ایک مرجبراپے با ۓےعمرو بین ھی ثکومقرر
کر کے بصر ہآ یا پچ عرص بعد اسے یق رت یک تجھرکے پا شیعالن
عل یکا نی متا ہے اوروہعلامرامی رمعادیہ لہ پل مت نکرتے ہیں جزر
۱ و٤
383
ان لوگوں نے جرد نت بی ثکونکریاں مادئی ہیں ۔زیاد ہے ضن : یکو زگ
روانہ گی“ : ۔( حا تام ظرون رورض ورمل )٦۹
رت علامظ ری کے ہیں:
”نوہاں جاکرائ(ذیاد نے یق رک کیج کے پا ضیعانئل
کائ رتا تا ہے بیلنگ لان معادی لہ کن اور جزار یکا انکھارکرتے
ہیں اوران لوگوں نے مرو بن تر ٹکننگر یز ےا ھی مارے ہیں“ ظ2
(عا رجا ری ارد دص پیا مل ۹۷)
می علامہامن ج بیطظبرکی عز یدھت ہی ںکہزیاد جب دای ں؟کر بمعہ کے روزمیر
پآیا۔ااس دق تر :کناعدکی اپنے شیع ہساتھیوں کے ہمرادایک علقہ میں بی چا :
”زیاد نے مر وصلؤ ق کے بع دکہا تندی وگراد یکا اقدام ر١
ہے۔الن لوگ کی ای تک کی ت2 ات ا گئ اورمیری طرف ےمعلمشن جو
ہوۓ متاخ ہے اعم خداکی گرم لوک سید ھے پہ ہوۓ تو ه۶
تھاریی دا ہے اک تمہ راعلا غکرو ںگا۔ اگ تج رکاسرز شی نکوفرے
ناپ ن۔کردوں اوراسے مس دوسرو نکیل عبرت ( کا نثان)د پتاروں لا
بے یھنا (جا رجا طبر ارددحصہ چیا ہل ۹۰ے۹)
اورعلا مرای نکی رھ ہیں :
”ذیاد نے خطیدی اورص وصلو کے بعد کہا: بلاشہہ باون تکا
ایام نا خوشگوار ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے شے امن بنایا سے اور رھ پر
باتک ہے حم جندااکرم سید ھن ہے ے شتہاراطار خکروں
گا۔ مگ رکہا اگ می سکوذہ کے چو ککوہراود اس کے اصحاب سےتفوظ نہ
کرووں لو یس بھ نیس اورمیش اسے اس گے بح رآۓ وانو ںکسلۓ
عہرت پنادو لگا“ (ج رد نپ سیر دو تشخ[ ص۸۷)
(۸٥۱۷۱٥٢.
384
فیس خطاب نناتاک جم بن حدی خت ضے می آ میگ ریزو ںک ھی نے
رز یا ووشگی دے مارکی او رکہا:
کذبت عليك لعنة الله (ا ایا تباین ۸ك۵۱)
ترجھ :نون ےکھوٹ لوا ےھ برا انت ہو-
(جارج نکر رو ن”خص۸۳)
اس وا تہ کے بح رگورڈرکوفہزیاد نے عحترت امیرمعادی "ٹر بن عدکی کے
تام عالا ےتفصیل کے ۔ات ھک ےکرکجج د ہے۔ جب امیرمعادیہ ظز حالات ے
آ گا ہوئ تو انہوں نگم د اہ 'اے ہیڑیوں میس چکرکرمیرے پان نےآ1'-
( رہ کی مھ ص۸۸۳ )گور رکف زیادنے اپے ام رشرطد(لولاسپپرنٹنڈٹ )شداد
این ا یش مکوما مورکیا تر بلا لا ۔علاطب رکچ ہیں :
”فرن صاحب ش رط رکے پا لآیااورکہا امیر کے پا لوق
اان کے اصحاب تن ےکہاایانہہوگا۔ ہم ا لکالھا فی کر تے جم اس کے
پا یں آے'۔
(رڈڈ ط رک اردوحصہ چیار ۹۸ جا ر ناکرا دو تش۳ ص۸۸۳)
بر رکا ااکاروں اور کے سراقھیوں می لڑائ بھی ہوئی
۳ رص ی(زارولقیدق روش ہو گے اورائل ش ران پ4
قابو پانے ے ماج آ گے اگر رعاش کی ٹنیس ارک ر ہیں ۔آ خرکار
جچرخودبی شرویاطور پرزیاد کےسا تن پیش ہو سے اوران فک راماان کے
طیالب ہو ۓےک نہیں حضرت محاویہ لہ کے پائس اج دیا جا شی
ا نکی را ہواسی ط رح دہ پھ سے ٹی یآ میں اورزیادرنے ریمتظو رکرلیا
او یں قیرگرو اجچجاں د ود روزککر تقر
(ج رڈ طری ارحص چیا رب ٭٭۱ا۴ءاا رای نکی راردوجلرضتم ۸۱۳)
۶ً وہ٤
385
”'علاووا یی زادنے بار وی اسحاب تجرہش سے(اویی ) زخران مل
کرد یئ( جار اط رکا ارد دح ارہل ی۱۰
ا بگورترکوفہزیاد نے تربع عدئی پر قردجرم خودجی ع مکی ںکی بر ان کے
کردا پر عرول مھا برگرام ریش اٹم اورعقتررفتہ دح شی نک یبگواریاں کر ن ےکا
اما ممکیا'علامرابن جرمیط ریککھت ہیں:
”ذیادنے دوسا اد با غکو بلایا۔ ان س ےکہا کیج رکے جو
افحالئم نے دچھے ہیں اس کےگواہ ہو جا (مڑقی ا سک گواہی دو) ال
زمانہیش پیلوگ رو ساۓ ادا (ام ران لہ ) تھے ۔عرہ نٹ ز یٹ
رٹ ال مین پا خالدبن۶رفطرر تیم د مدان ٗ 7 یں بن وپرربچہو
کر پراودابوبردو این موک یل مج واہر پرممرر تے۔ان چاروں
ریسوں نے اس امرکیگوای دک کہ
”ججرنے اپے پا لوگ ںکوش عکیا۔خلیفرکوعلاش برکہا۔ امیر
ال نشین سے جن کفکرنے پرلوگو ںکوآماد ہکا اورا نکا یرد ےکآ
الی طااب کےسوال مر ظافتکی کے ایا نیس ہے اورانہوں نے شر
یں خرو کر کے امیر ال ومن کے عائ لکو جال دیا۔ اور ابوتر ا بگا
رف سے عراوران پت رت مگیا۔ان کےزشین اود الب سے برآت
کی اور یلوگ جو ان کے ساتھ ہیں ان کے اص٢حاب کے س کر دہ ہیں۔
کا ساخقید ای لکیہی عالت ا نک یبھی ہے“-
(ج رج ط رک ارد دص چارمل۵٥۱)
دوس رکی روایات شی شہادت (گوای )کا حعالل ا طر حککھاے:
مم الد الین ال رم ابو بردو ین الو مویٰ رضائے ال یک
7 علامابین دن ن بھی ایی ضمو اخ لکیا ے١ یھت ار این خدردن أردوحص دومل ۳۱
۰ٔ “٤
386
شہادتد تا ےک ہت رین عدی نے طاقت و جماع تکور گکیااورظیقہ
پا نکی اور بتک وفنہ برلوکو ںکوآماددکیااوراپے پاس لوگو ںکو کیا
چھ۔ مورک وس
گوادی وگ ای اردو تصہ چھار“ ا
دس کے بعد زیاد ن ےگواہیو ںکوم بد پخعراو رمبول عام بنا ےکی دوسرے
لو ںکویھ یگواجی یس شائ لک رن چا ہعلاطم رٹ کے ہیں:
”زیاد نے سب لوگو ںکو بلایا اوہ ات س ےکہا کک دک سائۓے
اریاع ے ہش لم بھی شبادت دواورسا ری یت مرا نکوپڑ کرسنادی-(اور
لوگوں نے ہار ار یگواہی دگی).......... اس طرع مت رکواوسب تھے
اس پر زیادت ۓےکہاکرالن لوگوں کے سواجوصاح ب تب وویندا یں اور
سب کے نام نال ڈالواورابیای ہوا“
(ز ارچ طیری ارد وحصہ چہارمل ۱۰۸۔۱۰۹
حضرت وائل ین تچ رک رن شاب عاص رہن مسعود تے
ین سلمماحضر می ویبرہ عدول ما کرام یی انم کےعلاد ھا پنکیل الق رج بجی ن بھی
مگوا ہوں میں شائل جھے_
خر تقا ضا ش رلجعت نجابت وشرافت کے لیاظا سے محروف اور جرگ
4ستیو ںکی کو ہیں سکوقامبن دگیاگیا یا اورپ رگوا ہوں رشقلمینٹ؟ گی اصول کے مطابن
وائل من راورکیر جن شہاب شی ال تہماکے پپرد وکیاگیا حا وف تس وک رایر
نین حفرت ام رسعادیہ ٹکو چاو یی اوج جن عدگی اوران کے بادہ سا یگگیا
انیو مد ےکرستمنحن د ئے گے ۔علاددازی کور وف جتاب زیادنے امیر
اون حضرت ام رمعاوی چٹ کے نام ایک خنای یکھج سکامضمون رھ 2ھ )
۱ و٤
387
”سم ال اشن الرتم ۔ بد خدا امیر الم ومن معاوگوزیار
جن الوسفیا نکی طرف سے خدانے اس بلاکوامی رالھو سن ے فو بی کے
ساتحدد کردیا ہے اور باغیوں کے دق رن کی زحمت سے انیس >یالیا
ہے۔ اس فرقہ خر ایی سایہ کے شیا ین نے ہج ن کا سرگردہ تر ین ع
ہے۔ ام رالھ وین سے خالقت (باوت) اور یدع سلمین سے
مفارق تک اورہم لوگوں سے ین ککی ۔دانے می ان پرفلب دیااو رہم
نے انی لگ رق رکرلیا۔ش رکے اشراف داخیار حم رودیندارلوگو ںکو مل
نے بلایا۔۔انمہوں نے جو پچھھدریکھا تھا ا سک یگواھی انہوں نے دی میس
نے ا نکوامی الم مین کے پا گج دیا ہے اورھیرے ایخ کےتقت
مس یصملھاواخیاشھرکیگوابیاں مندرخ ہیں“
( جار طبر ارددحصہ چہارمضل١۱۱۔۱۷۱) :
اس طرح حضرت ول بین راو رخر تکیٹربن شہاب شی ابڈنہمانے ٹر
جن عدگی اور ان کے ساتھیوں کا یر مقدمہ ام رالمونشن رت امیر معادیے نیچدگ
خدمت می پیش سکردیا اور ہہ دوفو صا یپ یگویا بات خودطو رگواہ یی ہو یئ _
ضحخرت امیر مواد ہہ نیلدکو جرب عدگی اوران کے ساتھھو ںکیاشورش اور بغاو تکی
اطلاعات و پیل یع یکس ۔اب ان کے پانس چوالیس تابلي اعت ءگواہیاں ان
کی با فیا ہمرکگرمیوں کے وت کےطود پک گکیں یگواہوں می جج اکہ پ یلاخ لکیا
جا چک ہے تود ایل القد سا رکرامماو قد ر تھا وشن ا ہیلا ے امت کے ام
جج بن دی اوران کے اتھوں ک ےرم بفاو کوٹ بت رن نکیل کان ی تے۔ مکی
کی گواہی سندکادرجہ رم یھی ۔اہنراا نکا جم بات خاہت ہو وگیا۔
لین حفرتامیرموادبہ ہنی طود پر بڑ اور بردباردا تع ہو ہیں
اورٹخھیں الل کے پیارےرسول پلالانے اکم اتیٰ تی امت شں سب سے زیادہ
(۸٥۱۴٥٢.
38
عیم لیر لین ص۱۶“ ف مایا ہاور جو بہت بڑ ےنقیہ او رجھجرچھی تھے نے اپ
علماورشان خقا ہت واجتتادکی بنا ٹل کے جیجلے جس چنداں دی ںکی بل
خو فور وخ یق لکیات کراپ ےگورترذیاد کےنام اپنے خط شی اکھا-۔(2 جمہ)
تج رین عدکی اوران کے احاپ اوران ناف جوشباوت
تمہاری جانب سے موصول ہوئی ہے۔ ا جاب می جو یھ ما نکیاگیا
ےم نے مو رکیاق بھی بیراے ہو یکر نکرچوڈد ہے لن ری
2 سےاورحی بی رائے ول کان کی کرنے ے موا فگرد یا
2 ے ع( حر طبر ار اردونص چیا ر مل ۱۱۱)
زیارنے حضرت ام رمواویہ “چک خادنیکھانذ ان کےملیما ند جواب پرقجر تکا
افظمہارکر تے ہو ئے ای دو ہاو خھیانکھاکہ:
”نس نےآپ کے مک پڑھااورآ پک را کو ھا۔ بے
تچب ہوتا ےکیتمراو راس کے اصحاب کے بارو می ٢آ پکوکیسااشتیاٴ ہوا
جولویگ ان کے احوال سے زیاد تر واقف ہیں انمہوں نے تو ان کے
خلاف می ںگواہیاں د یی اورآ پن ہے ۔اب اگ رآ پ ا شر رض
نا چا تے ہیں تو تمراوراس کے اصحا بک یرے پا دائیں نہ
کے گا (ح رم طبری ا ردوفحضہ جب عص۷۷)
”اس کے پاوجود امیر الموسشین ضرت امیر معاویہ یچ نے
بن می کر یڈنم کےمشورہ پر چوافرادکویچھوڈدیااور اق افراد
ےھ ای جن عدئی کے پارے مس ایک صاحب نے
س رت ام رمتادے عڑچدے 7ت ر بس توم ےا مرا ےکھوڑ
ےت ےر ےکسار ےش رکوہ ے بج تیر سرد د ےگا اورک یکوگور
فآ رہ کے سج ہ ےکی پچ رھ یوقم اصواب سیت عراقی میں
(۸۸۷۸۱۴۱0٢.
389
یہنا پڑ ےگا ( جار طری ارد دح چار+ص۷۳)
ام الم تن سیر,ما شرصمد یق رشی الع تہاکومعلوم ہوا ترت محادی یل
نے جج رین عکی جن کے ہد وعبا تکی بڑئی شر تھی کو کر نےکامم دیا ےا
یں نے انکو پیام با کچ بن عد کور اکردریی ۔کیکن ہہ پا عضرت امیر
محادنے لوا اس وشتلاجب وب لک عم دے پے تاد رعلا مج بط ر؟ 1 کت گیں:
ححفرت عا لکش کے تا ص دع بد الکن بن حارث جب مواوے
کے پاس ق2 ددلون ہو بے
(جا رط رکیاردوحصہ چہارمضع۱۷)
بے تر مجن عدی کے کا وا تاور جب اے بے لاگ نظروں سے دیکھا
جائۓے معلوم ہوتا ہہ ےکی ولا نا موددد یکا یکہن کہ تج جن عدیکوضرت معادیہ مہ
نے ب ےکنا ادرف سو ےب فص مآ کیا تو یہفرت ام رسعاویہ پہ بے جاالزام
کے سات ساتھ عاول وہ ما ہکرام شی انڈ مک یواح یکور وکرنے اور تا یکو
تٹلاۓے کے مترارف ہے۔ چیک ہج ربجن ععدکی اوران کے نسماتھھوں نے عامیطور 7-
صحخرت ام رمعادہہ ڑل دکی اسلا یحکامت کے خلاف بغاو تکیاشی اور تحرت امم
معاویہ لقتقا لی دوا بات او رگواہیو کی ررشنی جس بی بگھت جھےک اگ راس وقت ا نکو
تی نک یاگیات نما نے بےکتقافت ضماد بر پاکرد بی اورنہجانے سکتن لوگ ںکا خون بہہ
جاۓ۔ججی اک بھی ہھ مار طبر اردوحصہ چھارگم ۱۳ا کے جوالہ سے رڑننی ڈال
گے ہیں۔
ری با تگودشر اسان ری بن ز یادحار کت جب انی تج ربن عدکی کل
کی اطلاغ گی تق وہ اس وق ت قراسان ش تے۔انہوں نے اطلاع لیے کہا کہ
فدیا!:اگ رج رےکم ٹیش میرےانددکوگی خر باتی ےل جھے ریا سے اٹھا نے '۔اور
اییاخایرانہوں نے تج بن علد کی زج وحباد تکی شر تکی بت پ4کہا تھا اور شاب ا
(۸۷۸٥۱۷۱٥٢.
390
لی یکہا و وک انی تر کے برکور ہکرواراو را ا پرلوگوں 11 اگواہیوں کے ارے
۱ اوک لم تمواو-
در جب ت کےموقع پرام'ھ و تین سید :جا تشزصد یت رن ا شخن+اے ارم
محادىہ کی طاقات ہوئی ا مالمونین رش اد رعنبانے یش ف مایا محاویی!
” جرواصحا بجر کے کر نے می توف خدائم رکونآی“
صحفرت ام رمحاو یہ نے جواب ش عق کیا:
انی نے نی ںفف نی ںکیاجتبوں نے ان کے خلا فگوابیاں دیی۔-
نے ان لب یکیا“_
(حا ری طبری ارروحصہ پچارع لے" ابلاؤخ 7ج رج رج صا لل۲۵۲ 1
حعفرت امالمومنین یی ارڈ نسانے رت امیرمعاد یی باج افرمایا:
جب نے ترک کیا ق ت اع مہا خاعب ہوگی تھا آپ
ن ےکہا: جب مرگ قوم یس ےآ پگھصی بستی بج سے طاب ہت
اںوتحورا اعلربھی نا مب گیا( جار ای یراز دوج لم ص۸۷۸)
یہاں ف رت سیدہ عائٹ نشی اید منہا کے اس استفسار ےک ہار اع مکہال
چا گیا تی 'معلوم ہوتا سے کرامالمومین کے نز دک جج جن عدی کاسی شر تقاضوں
کےخلا فیس تھا پگ صر یلم کےتقاضسوں کےخلاف تھا ان ال
حافظ ار نک رع یف کرت ہیں:
” عبدالرتشن مین حارٹ نے رت محاوی کہا یا اپ
کے رج( ینس اک لکردیا ے؟
جفرت محاوبہ لد کہا کنل بش ایک اکنا دی کے
کرنے سے یادوکیوب ہے“( ]اگ رخ ئیل جاحا اورلڑائی ہو جائی ت
بہت جانیںلف ہو چا قیل )..(جاررناہ کراررہ ت تضم۸۸۷۸۷۔۸۱۹)
(۸/۸۱۴۱5.
391
اورایک روابیت کے مطا بی حضرتامالموخن نے نحضرت معادی نے ہے
بھی فرمایا:
”اے معاویہا گے تج اوران کے اصحاب ک ےگل بک بات
نےآمادہیا؟
رت محاویہ نت کہا: یاامالوستین ایس نے ان کےأئی یس اتکی
میتی اوران کے را اعم تکافرادد یکا سے تہ
(جرم ا پکی رع کشم صمم)
پزا تر ین عدی کے یکاکوئی ار مآ حابھی ہو گور زرکوفہزیاداوا ناب و
جا لین شی انڈینٹھم پر گا جنہیں جج رین عدی سے معالمہ پی لآ یا اورجنوں نے
مگوائی درا ورای کے اتی با شی ہو گے ہیں کیو سی مقد مشش خل گواہیوں
کا بارکناءگواہوں پرہوتا ہے۔ان کے مطا بی فیص اکر نے وا لے قاشی یا اکم پیش -
یں یہا ںبھی ححضرت امیرمعادمہ لہ پرکو یگنا ولا ز من لآ ۓےگا-
اور ہے جومودودگی صاحب نے تقاصضی شر کامگواہی دا یں لین والا شوش گچھوڑا
ےو اس می کوئی تق ت نیس او رکب تار ںی کے مطا بی ا نکا نا مگواہوں میں شال
یں اس صورت میق لزا خود ہو باطل ہو چاتا ہے۔ یں تردیدکی ضرورت ىی
ٹنیس اود اگ ذف عھال انہوں ن گواہی وا یں نے ہی لی نکیا دی رجیم القد دحاو
جا لین ریشی ا پیٹ مکی گوا ہیا ںکانی نیس ؟ دنر تحفرات نے اپ یگوا بیو ںکوبرقرار
رکھاصصرف ای کگوا یکم ہونے سے بات یگواہیوں اور فیصلہ پہ وا نی پڑت
جتاب جج من حدٹ کی سرگرمیاں دنگ سلاۓ ١ ام تکی رع رت ار
معادیہ لچ کے نز د یک ھی بذاوت کے زمرے می سآ تی تی ججی اکرانہوں نے فرمایا:
”اےاملموین !ہش نے ان کی مم اص تکی میتی
اوران کے تچھوڑ نے مم ام تک خرالی دیھی* 5
(۸٥۱۴۱٥٢.
92
اس ےبھی اورز یا اتی طرف ے خ ھن اوراس یس اپکی سومع ہیا کاذکر
کے ےکھی رمعلوم ہوتا س ےکن لکاعم دی سے پیل ےحعرت ام رمعادی لہ
نے مقدے کےتتلف پہلدوں پر خو بوروخوق لکیا۔ اورعد یٹ پک یس حاکمکواییا
ہی رن کا اعم موجود ہے۔فرایا:
٣ِوَاعَگم الْحَايِمْ گا 2 جْتَمَدثُم اصَابّ فَلَه أَجْرَان وَاِذَا عَکُمْ
فَاجْتَھد ںُ اَخْطَاءَ فَلَه اَجْر
( ہقارکی ٣ ص۹۲ ٭ 1کناب الا سام باب تر اکم ہسلم ع٢ ےباب میانا زا یا۴ )
تزجہ: جب عاکم فیص کر و اہتچاءکرے پر کر ےفذ ا سکودو
اب ہیں اور جب فیصلکر ےق اجہتمادکرے اورخ اکھرےقو ائ مکی
ایب ے'۔
سی ال سلامضرت شاو لی ایرث دوک رمع الل لف رماتے ہیں:
”'خلیزک چا ےکم افو ںکی اصلاح اوراسلا مکی لشر تکینکرکرے
اور ںو روخیش سے جوراۓ پدا ہوا پش لکرےاگ را کیا راۓے
درست ہہوئَی فو ا ںکود وکنا اب ہوگا اور اکر ال کی رائۓ نے خطا کیا
الکو ایک نو اب پہوگا(ازفۃ اٹم ءاردود مل ۶۹ك۴)
زا ححضرت امیر متاویہ ہجو اگ وق تھی جھے او رھ وفظی بھی ان 7
مترے کی نوعیت او رگواجیوں کی حیفیت پحورضروری تھا-ا ورورست فیساک کے
کسلع اجچارلا زم قھااوروودکی برد ۓکارلا اوج نیا ت میس بی یھی ای
کے مطائی فیصلددےدیا۔ چوک ہانہوں نےججربن عد یکو ا فی شی نکرلیا اوران کے
تچھوڑ نے میں فماداص تکا خو سو ںکیا' ہز اق اعم دے دیا۔ اور جب ٹر می
عدری بای طاہت ہو ےو دو تما نون ش را بت کے مطا بی ان کےا کافیص اکر نے میس
منرور تھے اورعدیثٹ پگ کے مطاإتی ال می کسی خطا کی صورت می کی ان پچ
۷ً و8٤
393
کوک مواغہواورکوئ یکنا ٹس جج اک ابھ یآ پ نے ملا حرف ایا
اور ہوک کہ جناب جج یکن عدئی ن بھی کیک نیقی کا داسن تبھوڑا ہکن
وواصلاع احوا لکیلے متبول عام اورمنا سب ربق ایا رکرنے سے چوک گے ہوں
اورانہوں نے جو کیاکی ناو کی ہنا رکیا ہھ۔ بای بھی مو رب وک ران
کاچھی ا حر ا مکیا جا ۓگا۔ادرا نکی لف فی ایت کا لگ اترام کیاجا ےگا-
ببرعال می جات دوز روش نکی طرح عیاں ہوچی ےکم ودودگی صاحب ۓ
جاریٹی تا نکواے الفاطا کےتقالب میس ڈ ھا لکرامیرالمو نین ححضرت ام رمواوے
لہ بر ول نکیا اور جوالزام نادان کے قائل ا دذراگع شی مرکو ہک تب ارت
سے ہرگ ہابت نہیں ہے۔ اذا ا نکابلاشو تعن دجھےکر میں ان کے اس ڈوگی پہ
رت ہولی سے جو انہوں نے اپنیا طاشن مجر رسوائے زمانہکتاب ”'خلافت
ولوکیے“ سکیا ہے۔ا نکاڑگو کی ےک
”نہ کی جرگ کےک یکا مکوخلاصرف ای دق ت/ہتا ہوں
0 جب دو تقابل اعادذ دانع سے خابت ہواورکسی ممقول رٹل سےا کی
ایی نکی جاعتقی مل“ (خات لوک ےژ-)
اب ا نک طمرزل د بے اود برا ن کا دشوکی کی ا ن کا دوک ان کےطرزگل
کے الیل خلا فنیں؟ اور جب ا نکا دوک ان کے ط گل کےخلاف ہت کیا
جھوٹ اورفر یبُیں؟
اور جب ا نک وگو گی یہ ہ ےکرد ہی بذرگ ک ےک یکا مکی شموت کے ٹلہیں
کے پھرا نکوان اس ھن کےموت کے طور پرائصل وا قعات دعالا کن دن
خلں چا بے تھا۔ اض رٹبوت سکیل لک کےگویاانہوں نے اپتے دگوک کی خود می
جب وترد یکر دی اور ہہ جھآکھوں میں ہو لجھو گ ےکی انہوں نے ایی کے
جال ےکا عندبیدیا ہے۔لے ہم نے ای یکوئی او نیس دکھی جوانہوں ن ےکی ہو یا
(۸٥۱۴۱٥٢.
34
او ٹل یک یکوش بی یکی ہو نہیں تو جرعقام پرصرف الام دی ےکی جلد لگ لإذ ۱
انبوں نے اترام دے دای قدد یھ کال سےال نکا اپنا منرت یکالا ہوگاگہ” آسان
کاتوکا مضہ پر یآ تا ہے 'اورجی پاجوان کے رات ہوا (استفظ رارق )
(۸۸۷۸۱۶5٢.
(۸٥۱۴۱٥٢.
397
کمایات
۹٦( سے زان آ یا ت ش رآ ماور ہ۳ اےزانداحاد یٹ مقرسہ)
ولغ الف تھا یک آ غر یق ںکاب
کنزلا یمان تر اع یقرت مامامدرضاخاں کچ بھا کی لاہور
نورالترفان عاشیطق اح یارفال نشی 7-0
نیاءالترآن تج تی ٹک شاوالازہ ری فیا ءالترآن پل یکیش زگ نل روڈلا ہور
تیرتی مفتی ایا رفا شی متہاسلام یکگثرات ا اُردوپازارلا ہور
تقی رطری عل اضی شا ان ڈمطظبی عیددیی ات ای سعی دی ادب منزل پاکتان
تر جمیمبدالدائ طالی 2+
تفیرمن 20 وارالتصنیف لمٹیڑ شاہراہ لیاتت عدد
کاپ
تقیسوروی ڑتقیمالقرآن) مولاجاابدالاعیٴمودودگی فی دزن یٹلا ہور
گنی امی لم وحن نار یٹ نگ کب نخان تام لآ رام جا کرای
اما مھ بن :سکنل جفارکی
کیم آمام لم ین تا ع نی کت دارالفرقان دالھ یش خان
صن الودا ود اماماوراؤٗر گجظہتان
جا تذنا امام الو یھ منص یت فک فری کیک سال اأردہ پاڈارلا مور
مب محرصدبل ہزارول
انناج امام ابوھبدراف یز ران بر تحت دا راف رقان ولیہ یش ختان
مو امام الگ ۸م لک بن الس تج عبداگیم اختر فریدیک سال اُردہ پازارلا ہور
شا چجھاچوری
منداھ امام این بل دی اشعد
زاہمال علا نی جن سام ال بن بن
گل السا ول لد ین ٹھ بن کیداشہ ا مصاع اردہ پا را1 ہور
ریا انصائین شا سلام مام کک ین شرف نود فمری یف ا لد دو پا ارلا ور
(۸٥۱۷۱٥٢.
یش ابری
نم القاری
تفییںدیفاری
شرنسلنودی
شر نس مسعیری
عو لاو شرع “لوم
روش مظکزہ
رن گر
کتاب الشفاء
دارخ لوت
انل ااء
۳
شف وب
یۃالطا ٹن
ردب اقاوے
تحت اامر اتی
ےی لد
شواہ انی
یا میٹ
38
علا ہیودا رش وی کت ضوا نک پش روڑل ہور
می شر فان اعیری فرد یک سا لأُردوپازارلا ہور
طاسظظام ول رشرقِ تی ایفاری پ یکین زی لآ با
شالاسلام امام کیب شرف دی مہ دارالرمائ دلید یث مان
علام فلام سول سیر فری یک شال أردوپازارتا ہور
جن عبدان رٹ :لوک فری بک سال أردہپازارلا ہور
تر جرمول پا شمرسعید اح رتقتقمنری
ماج با خیش نیک ا نکررت
عافالی یٹ این رسقلائی .. ش فلا اینڈسخزل ہوزحیددآبا کرات
تر ب یتو رالوجیری
تاضی عیاض انی 7ۃ جرمحھا نشی تو بیٹن ہل روڈلاہور
جن درگ محر ث دبدی ھ ین پاش کم کرای
جمفلامممشن الد بیشی
جت الاعلام شاء ولی اث دبلوی محھرسعیراینڑ سز قرآ ری کرای
تج ج مو ج عبرالشکو توانر
ےناد و سس یں
تر جس ابو اسنا ت سی رھ ات درگ
سیب حوث عمش عبدالقادر جیلا نی فریربک شا لأردہ پا ارلا ہور
تر جم لام محدصد بی بزاروی
جج الاسلام ا فزالی گج اسلامیات ائررون دک ورواڑجلاچور
تر مار یش عطا ءاش
ححضرتبررالف انی اس رمندئی ھ یبالگ سکیف یک رای
تج م وڈ :محر حید اححنقشندری
ام نوسف ین! ایل نجھانی حا ای کی رر پازارل ہور
تج علا مھ اشرف سیالوی
امام لوف من شتیل نجانی کت تاور بیلابور
ت لا کیدانی شرف تادرل
(۸۸٥۱۴۱5٢.
399
کمالات ساب ہو یمام یت من سام لجا فریظءيج لن مّخڑررزو ہر
7ج یروفسرشراوا تھے
٠ ارماطری علامیھھجربیطری یس 1کیڈڑی ارد اذ کرای
تیریدگ بل
ارچٌأفظاء ایام جال لد بن سیوٹی یس اکیڈی رد با ارک رارق
تج ۔اقبال الد ین اھ
تار قلرون اماک قلرون: یس اکیڈی رد بازارکرارق
ت یم این ال آبادی
امن نئھبربی امام الونگر اتی نمی ننتقی نان جیردن بوب کیٹ خان
اک ر(تجذیب ببواٹا نل من شانق ررتلبنان
جارمازشق می)
اہرایداتیلے مالین ای نک شی رات
جارجاای نکر عمادلد بین ای نکی شی یس ایگ ارد اذ کرای
ایرد 7ھ1۷:انزنّاپرل
اأدالقایر ام وا کی زی دش مج ینا جو رز
تر جریجرعبد اشکورفاردتی
ا بلافھ(اشاعتیشم) سشریف الد ین جا می ایڈسخزل ہو ید پا کرای
افصواعق گر د3 علامرابن جرگ یی گج یرادرز ُردو پازارلا پور
تماخرتاہری
تلید لوان( سی مدا۔ :ین ج رگ7 جعبدالفکولکنوی ک کنا بگھرآردوپازارلاہور
ارماریچف)
یلوا یمان علق مر تد دی کت بو یں تل روڑلہور
تر ھچ ز ادوا تال ا اروگ
تھا کرے شاو داز حر ث دولوئی.. دارالا شاعحت ہرد بازادگراچی
تج مو فلی الین انی
عبروادے تمالا سلام شا دو نمحر ت دای ف ید کال اردہپازارلا ہود
ادرا تنم ابواأضنا ت رگا ھقادری یا ءال رآ ن مل ی ینغ کش روڈ :ور
شا ن کا علام وداج رضوئی مج رضوان در پارروڑلا ہور
(۸٥۱۷۱٥٢.
400
اقو لی سو مھ ماش بلق
سرت شا لالہ تر یجوکتی نو رعلوی
ا رسپ وی
تج شرع عقاننی
رارق والگبریاُردد ترجہ لاح سیدامیرٹی
بارش راہت عو( ادگ ادرک
اما متر لیے اعلی ضر ت اما مات رضاخان
ون پانضیل تہ لقول یل حضرت شاو :فی ان محرث :بد
ترجرفریل
مویہ اینظر مفت ات یار فان شی دو
سیداامیرمحاد ا تق کی ٠ علام سح رک فان نشج دا
نھرں
مین دنت یرسواویہ بنا یدگ ریپ ہرد
07 /. ری
اترام ینز ماد مض رقآن مول تا نیپ طوائی
9 و و
حیداورکیو ان غد. پروف رک نآ یا
کےکمالات
مقالا تید علام فظام رسول سدق
خلانت ول وکیت صوز ح اہو الا صودودگیٰ
رسائل وصائل مو جا ولاک مودودگی
فلس گناو( مواعظ اش ری ) ترحیبعبداائشن خان
عوا ئک یلا صدرافاضل موم با شش الد بین
مرادآیادگا
گن الپداے( اردو) سیدامیرگی
من تق سیامیرمعادر یٹ علام عاف شفقا ت ات لقن
نبیان غیرد ےکی رفا یتر ج فراص عمانی
تر جمالیربانمویھ
مل اویل ہور
بی کنب فا رام ما کر اتی
قر یریک ثال ارد پاڑارلا ور
گج اسلا ےآردوپاڑ ادا ور
م یپا کک کرای
سحد ا ای مکپنی پاکستان چو کک ابی
نج یکب نا رات
کی بحم ت لام طاعےاپاکتان
درس رولوۃ لقن نشمت منزل موی لن
گراپی
بد ینم روڑلاہور
گور تی با لألابر
ااعونی بک مر ریلوے روز شف رگ
ارروال
فر یریک ثال اردوبازارلاہور
اداروتر مان الق رآ ن اُردوپا ارتا ور
اس بک پل یکیشم لھڈ لا ہور
اراروتالیفات اش ران
ین ہانگ نی مو رگل میگلوڑ رو
کراپ
افو کت نما نہ چب ری روڈلا ہور
وا راغ ضر ۓمیدیانوالش ریف گوترانوال
کت تھاندی بندردہ ارات
۴ً و٤
۷۸۷۷۰۳٥)